حاجی ویلنٹائن کی تلاش ….


arman yousafارمان یوسف(برطانیہ)

دنیا سچ مچ ایک’ گلوبل ویلج‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے ، اِدھروائٹ ہاﺅس میں اوبامہ کو چھینک آئی اُدھر ملا عمر کے جانشین افغانستان کے پہاڑوں اور پاکستان کے ایوانوں میںخیر سگالی اور برکت کے طور پر منہ ول امریکہ شریف با آوازِ بلند ’تبریٰ‘ بھیجتے اور دل ہی دل میں ’یرحمُک اللہ ‘کہتے ہوئے سلامتی کی دعا کرتے ہیں کہ کاروبارِ گلشن اسی سے چلتا ہے۔دنیا کے کسی ایک کونے میںہو نے والا واقعہ پل بھر میں آخری انسانی سرحد تک نہ صرف یہ کہ سفر کر لیتا ہے بلکہ متوقع ردِ عمل بھی فوری طور پر سامنے آجاتا ہے۔انسانی ضمیر کو جھنجھوڑتی سمندر کی لہروں کے تھپیڑے کھاتی ایلان کردی کی بے گور و کفن نعش ہو،چار سالہ شامی بچی کا صحافی کے کیمرے کو بندوق سمجھتے ہوئے سرِتسلیم خم کی صورت بے بسی کی تصویر بنی ہو یا پھر میڈونا، اڈیلے کا نیا نغمہ ،سٹار وارز کی نئی سیریز ہو یا ثقلی موجوں کی دریافت پل بھرمیں ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھرپہنچ جاتی ہیں۔یہی حال نیو ائر نائٹ اور ویلنٹائن ڈے جیسی ’خرافات‘ کا بھی ہے کہ جو اب کسی ایک ملک،کسی ایک سرحدیا کسی ایک قوم کی نہیں رہیں بلکہ دنیا بھر میں متفقہ طور پر نہ صرف یہ کہ منائی جاتی ہیں بلکہ اب تو قریب قریب قومی تقریبات کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ مگر چونکہ بحیثیت پاکستانی یہ کہ ہم نہ صرف ایک زندہ بلکہ پابندہ اور عظیم قوم بھی ہیںلہذا اس عظمت و بزرگی کا تقاضا یہ ہے کہ اپنی الگ چال ڈھال اور روش کو دنیا کی ہوا بھی نہ لگنے دی جائے۔

یہی صورتِ حال ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے ایک بار پھر سامنے آئی۔کل شب ہی ٹی وی پہ مخالفت کرتے ایک مولانااورحق میں دلائل دیتی ایک شمع محفل خاتون بر سرِ پیکارتھیں۔جائز ونا جائز،گناہ اور ثواب کا معاملہ توبعد کی بات،ذرا اندازِ تخاطب ملاحظہ کیجیے۔ان کی صورت نظر آنے پہ غزل کہنے کی بجائے مولانا کا رویہ ایسا تھا جیسے ابھی محشر کی گھڑی میں ہوں اور خدا وند کے جباری و قہاری روپ دھارے لمحہ بھر میں ’گنہگار‘ کودوزخ کی اتھاہ گہرایﺅں میںڈال کے ہی دم لیں گے۔دوسری انتہامحترمہ کی طرف سے دیکھنے میں آئی ،یوں لگتا تھا جیسے زندگی کی ڈور ویلنٹائن کے سینگ ہی پر ٹکی ہو اور نہ منانے کی صورت میں ایسا بھونچال لازمی تھا کہ جس سے سب کچھ تہہ و بالاہو کے رہ جاتا۔ یہ دو انتہائیں معاشرتی رگ و پے میں زہر ہی تو بھررہی ہیں اور ان دو انتہاﺅں کے درمیان بیٹھا ڈور ہلاتا ایک صحافی بھی اپنی الگ داستان رکھتا ہے۔چند سال قبل تک کسی پھٹیچرسے سائیکل یا موٹر سائیکل پہ کان میں پنسل اڑسے یہ صحافی رپورٹ کی تلاش میں مارے مارے پھرتے۔ ہر شام دفتر کو لوٹتے ہوئے کسی کار مکینک یا رکشا ڈرائیور کو ان کی دیہاڑی کھری کرتے حسرت سے دیکھتے اور بارہا یہ فیصلہ کرتے کہ بس بہت ہو گیا۔ اب کے قسطوں پہ رکشہ لے لیا جائے آخر کو پیٹ بھی تو پالنا ہے۔مگر مشرفی میڈیائی انقلاب کے بعد یہی اب سینیئر صحافی و تجزیہ نگار بلکہ سپر سٹار بنے غیر ملکوں کا دورہ کرتے پھرتے ہیں۔ایک ایسے ہی سپر سٹارگذشتہ برس کے آخر میں برطانیہ تشریف لائے تو شیکسپیر کی قبر پہ حاضری بھی دی اور اس گہرے راز سے پردہ بھی اٹھا ڈالا کہ ”شیکسپیر نامی کسی لکھاری کا اصل میں کوئی وجود ہی نہیں بلکہ چالاک انگریز قوم نے اپنے معاشرتی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے فرضی شیکسپیر گھڑ لیا ہے“۔ خیر، بیان کردہ دو انتہائیں صرف مذہب یا معاشرت ہی میں نہیں بلکہ سیاسی مباحثے چلتے ہی اسی دم سے ہیں اور اب یہی میزبان صحافی اپنے اپنے بندر تماشہ پروگرام کی تعارفی ڈگڈگی بجاتے ہی فریقین کے مائیکرو فون کھول دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ اپنے اپنے محاذ پہ ہوں تو محض گالی گلوچ ہی سے کام چلانا پڑتا ہے اور خوش قسمتی سے سٹوڈیو کے میدانِ کارزار میں ہوں تو تھپڑ ،لات مکے اور ایک دوسرے کا گریبان نوچنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے،کسی پروگرام میں ہاتھا پائی اور گالی گلوچ جس قدر زیادہ ہو گی،پروگرام کی مقبولیت اور ریٹنگ بھی اتنی ہی بڑھے گی،زیادہ سے زیادہ کمرشل آئیں گے،سرمایہ دار کی چاندی ہو جائے گی۔اور پھر تماش بین عوام بھی تو یہی چاہتے ہیں ’لگیاں نیں رونقاں تے لائی رکھیں سوہنڑے آں‘ وہ بھی کیا دن تھے کہ بندروں اور مرغوں کی لڑائی کے لیے شائقین طویل سفر کر کے جاتے ، کھلے میدانوں کی مٹی چاٹتے اور پورا پورا دن بھی تو لگ جاتا تھا۔اب یہی تماشہ گھر کی چار دیوری میں چائے کی چسکی لیتے ٹی وی پہ مل جائے تو کوئی کافرہی ناشکری کرے گا۔

مولانا سے بر سرِ پیکار خاتون نے تو پھولوں اور غباروں کی پیش کش بھی کی مگر انہوں نے پائے حقارت سے ٹھکرا دی، کوئی ان محترمہ تک ہمارا پیغام پہنچا دے کہ قدر دان تو یہاں بستے ہیں ۔غبارہ نہ سہی، ایک اچھی سی کتاب ہی بھجوا دیجیے اور پھول رکھنا مت بھولیے گا، مگر آج کل نہ تودرختوں پہ نام لکھنے کی روایت زندہ ہے اور نہ کتابوں میں پھولوں رکھنے کا دستور۔بلکہ آج کل تو پھول سے بچوں کو بستوں اور کتابوں سمیت بارودوں سے اڑا دیا جاتا ہے۔اور پھر ان معاملات کو سلجھانے کی حکومتی کاوشوں کو بھی داد دیے بغیر رہا نہیں جاتا کہ ملا عزیز تو آزاد پھر رہا ہے جبکہ سخت سردیوں میںاکثر شال اوڑھنے پہ پابندی لگی ہوتی ہے اور ویلنٹائن کے ساتھ ساتھ بسنت و بہار پہ بھی ۔

ایک اور سپر سٹار اور مایہ ناز صحافی کی انقلابی تحقیق ان کے فیس بک پیج پہ نظر سے گزری،جنہوں نے مغربی چال چلن رکھنے والوں کے دانت کھٹے کرنے کے لیے ویکی پیڈیا،گوگل اور بریٹانیکا انسائیکلو پیڈیا سے ثابت کر دکھایا کہ ویلنٹائین ایک زانی تھااور زانی کا دن منانا کفر نہیں تو اور کیا ہے۔اول تو زانی کا تصور مغربی دنیا میں ایسا ہے جیسے ہمارے ہاں کوئی یہ کہے کہ فلاں آدمی دن میں دو بار چائے پیتا ہے اور دوسرا یہ کہ ان سے گزارش ہے کہ کوئی حاجی ویلنٹائن ہی دریافت کر دیں کہ دن ہی تو منانا ہے، رات کہاں اور اس سلسلے میں ہم نے مولانا بشیر بدر سے فتویٰ بھی لے رکھا ہے،جنہوں نے کہا تھا

رات کا انتظار کون کرے
آج کل دن میں کیا نہیں ہوتا


Comments

FB Login Required - comments