محنت کر حسد مت کر


adnan Kakar

آپ نے اکثر ٹرک کے پیچھے لکھا پڑھا ہو گا کہ ‘محنت کر، حسد مت کر’۔ وقت آ گیا ہے کہ آپ کو یہ کہانی سنا دی جائے کہ یہ کیوں لکھا جاتا ہے۔

دور شمال میں پہاڑوں میں کہیں ایک جگہ پر ایک ٹرک ہوٹل تھا۔ اس کا نام تھا ’قدامت پسند ہوٹل‘۔ شاہراہ پر وہ نیا نیا کھلا تو بہت سے ٹرک وہاں پر رکنے لگے۔ جو ٹرک والا بھی وہاں رکتا تھا، ہوٹل کے مالک پرویز علی منشی اس کو چائے یا کھانا دینے سے پہلے اس کو ہوٹل میں اٹھنے بیٹھنے کے آداب بتانے کے علاوہ، اس کے لباس میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتے اور بتاتے کہ کسی دوسرے ہوٹل میں بیٹھنے سے اس کا اخلاق خراب ہو جائے گا۔ جو ٹرک والا منشی صاحب کے پسندیدہ حلیے میں نہیں ہوتا تھا، وہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتے تھے کہ وہ دوبارہ وہاں نہیں رکتا تھا۔ کوئی بس یا کار وہاں رک جاتی تو منشی صاحب اسے سروس دینے سے انکار کر دیتے تھے۔ گاہکوں کو وہ ایک چمچ چینی ڈال کر ہی چائے دیتے تھے، خواہ گاہک دو یا تین چمچ پینے کا عادی ہو یا چینی پیتا ہی نہ ہو۔ گو کہ مینیو انہوں نے چھپوا رکھا تھا لیکن کھانے کے متعلق وہ خود ہی فیصلہ کرتے تھے کہ کس گاہک کو کیا کھلانا ہے۔ دوسرے ہوٹلوں میں اٹھنے بیٹھنے والوں کے متعلق پرویز علی منشی صاحب کی رائے بہتر نہیں تھی۔

ایسے میں وہاں سڑک کے دوسری طرف ریاست علی خاکسار نامی ایک شخص نے ’فری وے ہوٹل‘ نامی ایک ہوٹل بنا لیا۔ وہاں ہر گاڑی والے کو خوش آمدید کہا جاتا تھا۔ خواہ بس ہو یا ٹرک یا کار، سب کو ہی وہاں جگہ دی جاتی تھی۔ ان کو خوب احترام دیا جاتا تھا اور خوش خلقی سے ان کو اعلی درجے کی سروس دی جاتی تھی۔ گاہکوں کو ان کی خواہش اور ذائقے کے مطابق چائے اور کھانا دیا جاتا تھا۔ پھر ہوا یوں کہ فری وے ہوٹل اس شاہراہ کا مقبول ترین ہوٹل بن گیا اور قدامت پسند ہوٹل پر چند گنے چنے بھوسہ بھرے ٹرک ہی نظر آتے تھے۔ فری وے ہوٹل پر اتنا رش ہونے لگا کہ وہاں گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ ملنا بھی دشوار ہونے لگا۔

پرویز علی منشی اب اپنے ہوٹل میں بیکار بیٹھے مکھیاں مارا کرتے اور فری وے ہوٹل کے چلتے کاروبار کو دیکھا کرتے۔ آخری ایک دن وہ ریاست علی کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ ’ریاست صاحب، آپ اپنے ہوٹل میں ہر طرح کی گاڑی کو سروس دیتے ہیں اور گاہکوں کو ان کا من پسند کھانا ان کو کھلا دیتے ہیں۔ اس طرح تو لوگوں کی عادتیں خراب ہو جائیں گی اور وہ تباہ ہو جائیں گے۔ آپ لوگوں کو اپنی مرضی کا کھانا دیا کریں۔ جو چیز زیادہ پکی ہو، اور بدمزہ ہونے کی وجہ سے اس کا آرڈر نہ دیا جا رہا ہو، لوگوں کو پہلے وہی کھلائیں۔ اس طرح آپ کا کھانا ضائع نہیں ہو گا اور خوب منافع ملے گا‘۔

ریاست علی خاکسار کہنے لگے کہ ”منشی صاحب، آپ کی رہنمائی کا شکریہ۔ آپ اپنا کاروبار چلائیں اور میں اپنا چلاتا ہوں۔ آپ کا کاروبار زیادہ چلے گا تو میں خود آپ سے پوچھنے آﺅں گا کہ آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے۔ بھائی صاحب ہمیں تو وہی ساری کتابیں یاد آ جاتی ہیں جو فٹ پاتھ پر مبلغ بیس تیس روپلی میں بکتی ہیں اور عنوان ہوتا ہے ’کروڑ پتی بننے کا گر‘، ’گھر بیٹھے لاکھوں کمائیے‘، ’کلید کامیابی‘، ’جھٹ پٹ شہرت پائیے‘، ’زندہ رہیے، خودکشی مت کیجئے‘ وغیرہ وغیرہ۔ بھیا مصنف اگر آپ اتنے کامیاب ہیں تو بیس روپے کی کتاب لکھ کر کامیابی کے نسخے بتا کر پوری قوم کو امیر کرنے کی بجائے خود ہی گھر بیٹھے کروڑ پتی ہو جائیں۔ نصیحت اسی شخص کی سنجیدگی سے لی جاتی ہے جو خود کامیاب ہو کر اپنی فکر کو صائب ثابت کر چکا ہو“۔

پرویز علی منشی کہنے لگے کہ ’ریاست علی خاکسار صاحب، آپ ٹرک والوں کو گمراہ کر کے تعیش پسند بنا رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ٹرک والوں کو کیا پسند ہے، تو پھر ٹرک والوں کو خود سے کچھ پسند کرنے کی اجازت کیوں دی جائے؟ کہیں آپ کے لذیذ کھانے پیٹ بھر کر کھانے کے بعد وہ دوران ڈرائیونگ سو ہی نہ جائیں‘۔

ریاست علی خاکسار صاحب نے کہ اگر آپ کے مینیو میں آج کل کے ٹرک والوں کو دلچسپی نہیں ہے تو بہتر یہی ہے کہ آپ ہی اپنے مینیو پر غور کر لیں۔ دل کو تسلی ہی دینی ہے تو بس یہ سمجھ لیں کہ اس شاہراہ کے سب راہی دیوانگی کے چشمے کا پانی پی کر دیوانے ہو چلے ہیں، اب آپ ہی بچے ہیں تو اس آب شفا کا ایک پیالہ آپ بھی چڑھا جائیں۔ ورنہ پھر ان ٹرک والوں کے ساتھ آپ کا گزارا مشکل ہو جائے گا اور تفکرات کے بوجھ تلے دب کر آپ کی صحت تباہ ہو جائے گی۔ حضرت آپ کی کامیابی کا نسخہ جو بھی ہو، وہ ہماری سمجھ میں تو نہیں آتا ہے۔ ہماری پالیسی تو بس یہی ہے کہ جو چاہے مینو کے دائرے میں رہ کر اپنا آرڈر دے، اور ہم اسے پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہم تو وہ ہیں جو دوسرے ہوٹلوں کے مقابلے میں اپنا مینو سب گاہکوں کے سامنے رکھ دیتے ہیں اور ہمارے متعلق شاعر کہہ گزرا ہے کہ

رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں
ادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے

ہماری فکر مت کریں حضرت، ہم تو بس شمع جلاتے ہیں، باقی کام پروانے کا ہے کہ وہ کسی کی کامیابی کے جشن پر جلائی گئی شمع کی طرف آتا ہے یا کسی کی امیدوں کے مرقد کی شمع پر۔ بس اپنے مینیو کے بارے میں یہ سوچیں کہ کیا وجہ ہے کہ ٹرک والے، بس والے اور کار والے بھی آپ کے ہوٹل سے نظر بچا کر ’فری وے ہوٹل‘ پر آتے ہیں۔ خدانخواستہ کہیں اس کی وجہ آپ کا مینیو تو نہیں ہے؟

صاحب ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے کامیاب مینیو کے متعلق جن مشوروں سے ہمیں آپ نوازتے ہیں، وہ آپ اپنے ہوٹل پر آزما لیں۔ وہ کارگر ہوں اور آپ چاند ستاروں کو چھونے لگیں تو ہم خود چل کر آپ کے پاس مشورہ لینے آئیں گے ورنہ ابھی تو ہمیں ایک مشہور کہانی یاد آتی ہے جو آپ نے بھِی بہت مرتبہ سنی ہو گی۔ چلیں ہم ایک مرتبہ پھر بیان کر دیتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں ایک گاﺅں میں ایک کمہار رہتا تھا۔ کمہار میاں کا بزنس اچھا چلتا تھا۔ اپنا گدھا تھا، اپنا چاک تھا، اپنی دکان تھی ، لیکن انہیں بس یہ غم کھائے جاتا تھا کہ ان کی گاو?ں میں کوئی عزت نہیں کرتا ہے۔ حالانکہ اس دنیائے فانی میں کامیابی کے سارے گر انہیں آتے ہیں لیکن آگے دوسرے نکلے جاتے ہیں۔ کمہار میاں نہایت صالح اور نیک شخص تھے لیکن دن رات وہ یہی سوچتے رہتے تھے کہ کب وہ وقت آئے گا جب لوگ ان کی سواری کو آتے دیکھ کر دور سے اشارے کر کر کے ایک دوسرے کو بتایا کریں گے کہ اعلٰی حضرت کمہار صاحب اپنے مرکب پر تشریف لا رہے ہیں۔

ایک دن اسی سوچ میں غلطاں و پیچاں وہ اپنے گدھے پر سوار دریا کنارے کی چکنی مٹی لینے جا رہے تھے تاکہ چکنے چکنے طوطا مینا بنا کر گاو?ں کے بچوں کو رجھا سکیں کہ سڑک پر انہیں چار سوار نظر آئے۔ گھوڑے ان کے ایسے تھے کہ ان پر سے نظر نہ ہٹے۔ کپڑے دھول مٹی میں اٹے ہونے کے باوجود اپنی شان دکھا رہے تھے۔ تلواریں میان میں لٹک رہی تھیں اور نیزے ہاتھوں میں چمک رہے تھے۔ یعنی کامیابی کی مجسم تصویر تھے۔ کمہار میاں نے یہ دیکھ کر اپنا عصائے کامیابی گدھے کو رسید کیا اور ان سواروں کے قریب پہنچ کر بولے ’حضور آپ کون ہیں اور کدھر کا قصد ہے؟‘۔

ایک سوار بولا ’رہنے والے تو ہم دہلی کے ہیں لیکن اب دکن کے نواب کی ملازمت کے لیے جا رہے ہیں۔ سنا ہے کہ ان سے بڑھ کر شاہسواروں کی قدر کرنے Don-Quixote-Windmillوالا کوئی اور نہیں ہے اور ان کے سپاہیوں کی خوب عزت ہوتی ہے‘۔

کمہار میاں نے یہ سن کر فوراً ان سے درخواست کی کہ وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں اور راستے میں ان کی خدمت کریں گے، بس ان کو دکن کے نواب کی سپاہ میں شامل ہونے کا موقع چاہیے۔ وہاں پہلی پوزیشن تو ظاہر ہے کہ ابھی ان سواروں کی ہو گی، لیکن مستقبل قریب میں وہ پوزیشن کمہار میاں کو اپنی نظر آ رہی تھی کیونکہ کامیابی کے سارے گر انہی کے پاس تھے۔

شاہسوار ان کی درخواست سن کر مسکرائے اور ان کو ساتھ شامل ہونے کی اجازت دے دی۔ اب پانچوں چل پڑے۔ راستے میں جو بچہ بوڑھا جوان بھی نظر آتا، کمہار میاں اپنا عصائے کامیابی نیزے کی مانند لہراتے اور چیخ کر اسے بتاتے ’میاں ہم بھی ہیں پانچ سواروں میں۔ ان چار سواروں کو اپنے جیسا کامیاب کرا کر ہی واپس آئیں گے‘۔

تو بھائی بس ہم ‘فری وے ہوٹل’ والوں کی طرف سے آپ کے لئے یہی مشورہ ہے کہ اے تدبر کے پانچویں چراغ، اے عقل کے پانچویں سوار، ’محنت کر، حسد مت کر‘۔

اسی اثنا میں بہت سے ٹرک والے بھی ان دونوں کے گرد جمع ہو چکے تھے۔ انہوں نے یہ بات پلے سے باندھ لی اور اپنے اپنے ٹرکوں کے پیچھے لکھوا لیا کہ ’محنت کر، حسد مت کر‘۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 327 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “محنت کر حسد مت کر

  • 16-02-2016 at 4:20 pm
    Permalink

    Good one

Comments are closed.