ڈاکٹر نرگس موال والا …. کامیابی کا راستہ



mujahid aliگزشتہ ہفتے کے دوران امواج ثقل کی دریافت کے معجزانہ انکشاف کے بعد پوری دنیا کے سائنسدان اور کائنات کی تخلیق کے بارے میں دلچسپی لینے والے لوگ مسرت اور حیرت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ تاہم پاکستانیوں کی خوشی کا آغاز اس وقت ہوا جب یہ خبر سامنے آئی کہ جس رصدگاہ نے دنیا بھر کے ایک ہزار کے لگ بھگ ماہرین کے ساتھ مل کر یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے، ان میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر نرگس موال والا بھی شامل ہیں۔ وہ 1984 میں ہی اعلیٰ تعلیم اور اپنے دل میں اٹھنے والے سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لئے امریکہ چلی گئی تھیں لیکن اہل پاکستان کے لئے یہ بات باعث فخر و انبساط ہے کہ صدی کی سب سے بڑی دریافت کہی جانے والے تحقیق کرنے والے ماہرین میں ایک پاکستانی نژاد خاتون بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر نرگس نے ایک انگریزی اخبارکی طرف سے انٹرویو لینے والی رپورٹر سے پوچھا کہ پاکستانیوں کی اس بے پناہ خوشی اور ان کے کام اور نام میں دلچسپی کی آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ رپورٹر نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے عالمی شہرت یافتہ سائنسدان کے اس معصومانہ سوال کا کیا جواب دیا تاہم اس نے ڈاکٹر نرگس کی جو باتیں اس انٹرویو میں درج کی ہیں، ان پر غور کرنے اور یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ترقی اور کامیابی کا راستہ کس طرح عبور کیا جا سکتا ہے۔

امواج ثقل کے بارے میں ماہر طبیعات آئن اسٹائن نے نظریہ پیش کیا تھا۔ ان کا قیاس تھا کہ نظام شمسی میں دور دراز کہیں دو بڑے سیارے ٹکرانے سے جو لہریں وجود میں آتی ہیں، انہی سے ہماری کائنات کی حقیقت کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ ان سیاروں کو عام طور سے بلیک ہول کہا جاتا ہے جن کا مطلب ہے کہ ایسے مرتے ہوئے ستارے جن کی کشش ثقل اس قدر شدید ہوتی ہے کہ روشنی بھی وہاں سے دور نہیں جا سکتی۔ آئن اسٹائن نے ان امواج یا لہروں کی موجودگی کی اطلاع دی تھی لیکن سو برس بعد ایک امریکی رصد گاہ نے جسے لیگو LIGO کا نام دیا گیا ہے، اب ان لہروں کا مشاہدہ کیا ہے اور اس مقصد کے لئے دو آئینوں اور لیزر کی مدد سے ایک خصوصی آلہ تخلیق کیا ہے۔ اسی لئے اس دریافت کو صدی کا سب سے بڑا سائنسی انکشاف کہا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر نرگس موال والا کہتی ہیں کہ یہ دریافت دراصل درجنوں دوسرے سوالوں کو جنم دیتی ہے اور یہ کائنات اور نظام شمسی کے علم کا صرف ابتدائیہ ہے۔ البتہ اس دریافت کے بعد ہم مزید معلومات حاصل کرنے اور پھر ان لہروں کی آواز سننے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ جن امواج کا مشاہدہ کیا گیا ہے ، وہ کرہ ارض سے 1.3 ارب روشنی کے سال کی مسافت پر واقع دو بلیک ہولز کے ٹکراﺅ سے خارج ہونے والی لہریں ہیں۔ یہ بلیک ہول یا مردہ ستارے بھی حجم میں ہمارے سورج سے تیس گنا زیادہ ہیں۔ یہ دریافت انسانی علم کی دسترس اور اس کی عقل و ذہانت کا ثبوت بھی فراہم کرتی ہے۔ تاہم اس راستے پر عروج کی اعلیٰ منزل تک پہنچنے والی ڈاکٹر نرگس نے جو باتیں کی ہیں، وہ اس وقت پاکستانی قوم کے لئے رہنما اصولوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سائنسی تحقیق اور اس کی تفصیل میں جانا تو ہماری استعداد سے باہر ہے لیکن نرگس موال والا کی باتوں کو سمجھنے اور اس راستے کو اختیار کرنے کی کوشش کر کے ضرور اہل وطن کے لئے آسائش اور فخر مسلسل کا سامان بہم پہنچایا جا سکتا ہے۔

56c099ڈاکٹر نرگس موال والا نے اپنی اس ناقابل یقین ترقی اور کامیابی کے بارے میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے جو باتیں کی ہیں، انہیں اختصار کے ساتھ ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے:

1) میں ایسے خاندان میں پیدا ہوئی جہاں صنف کی بنیاد پر رول متعین کرنے کا رواج نہیں تھا۔ اس لئے جب میں ہوش سنبھال رہی تھی تو میں سوچتی تھی کہ ایک عورت کچھ بھی اور سب کچھ کر سکتی ہے اور اسے یہ کرنا بھی چاہئے۔

2) میرے والدین سائنسدان نہیں ہیں۔ نہ ہی انہیں اس بات کا پوری طرح اندازہ ہے کہ میرے کام کی نوعیت کیا ہے۔ لیکن انہوں نے ہمیشہ میرے کام میں میری حوصلہ افزائی کی ہے۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ اگر نرگس یہ کرنا چاہتی ہے تو اسے وہ کام کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہ بے حد حوصلہ مندانہ ماحول تھا۔ میرے والدین مجھ سے اپنے خوابوں کی تکمیل کی خواہش نہیں رکھتے تھے۔ بلکہ وہ چاہتے تھے کہ میرے خواب شرمندہ تعبیر ہوں۔

3) پاکستان میں جو لوگ میری کامیابی پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں، میں چاہتی ہوں کہ وہ یہ جان سکیں کہ ہر شخص کامیاب ہو سکتا ہے۔ خواہ وہ عورت ہو، مذہبی اقلیت سے تعلق رکھتا ہو یا ہم جنس پرست ہو۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جو میں نے کیا وہ کوئی بھی کر سکتا ہے۔ کیونکہ میں اس بات کا ثبوت ہوں کہ مجھ میں یہ تینوں خصائص ہیں لیکن میں پھر بھی کامیاب ہو سکی۔ مناسب مواقع ملتے گئے اور میں کامیابیاں سمیٹتی رہی۔

4) جستجو کرنا اور سوال کا جواب تلاش کرنا کامیابی کی کنجی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر نرگس بتاتی ہیں کہ بچپن میں انہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ آسٹرو فزکس بھی کسی مضمون کا نام ہے۔ لیکن میں فزکس کے بارے میں جانتی تھی۔ اور مجھے یہ پتہ تھا کہ آسمان ستاروں سے بھرا ہے۔ میں چھوٹی ہی عمر سے اجرام فلکی میں دلچسپی رکھتی تھی۔ میں کلفٹن میں اس عمارت کی چھت پر چڑھ جاتی جس میں ہمارا فلیٹ تھا اور رات کو ستاروں کا مشاہدہ کرتی۔

5) میں ہمیشہ سے کائنات کے بارے میں دلچسپی رکھتی تھی۔ میں جاننا چاہتی تھی کہ یہ کیسے معرض وجود میں آئی۔ میں اگرچہ بچی تھی لیکن کائنات کی تخلیق کے بارے میں مذہبی توجیہات کو ماننے کی بجائے میں خود یہ سراغ لگانا چاہتی تھی کہ سارا نظام کیسے تخلیق ہوا۔

6) ہم نے بلیک ہولز کے ٹکراﺅ سے پیدا ہونے والی لہروں کا جو مشاہدہ کیا ہے اس کے نتیجے میں کئی نئے سوال سامنے آئے ہیں۔ ہم نے جن مردہ ستاروں کا سراغ لگایا گیا ہے وہ ہمارے اندازے سے کہیں زیادہ بڑے ثابت ہوئے ہیں۔ وہ اتنے بڑے کیسے ہو گئے یہ بھی ایک جواب طلب سوال ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہر دریافت ایک نئے جہان کا دروازہ کھولتی ہے اور بہت سے نئے سوالوں کو جنم دیتی ہے۔ ہمیں ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی جستجو کرنی ہے۔

کراچی میں پیدا ہونے اور وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے والی نرگس موال والا کی یہ باتیں عام فہم اور سادہ ہیں۔ لیکن ان پر عمل کرنے سے انسان ترقی اور کامیابی کی کسی بھی منزل تک پہنچنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔ نہ صرف فرد بلکہ معاشرے بھی تجسس اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سوالوں اور ان کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرنے سے ہی ایک قدم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ نرگس چھوٹی عمر میں اپنا سائیکل خود مرمت کرنا چاہتی تھی۔ اور گلی کے نکڑ پر واقع سائیکلوں کی دکان سے اوزار مانگ کر لاتی اور سائیکل کو درست کرنے کی کوشش کرتی۔ اس کی ماں کو یہ بات ناپسند تھی کہ نرگس اور اس کی بہن اس کام میں ہاتھ کالے کر لیتی ہیں۔ لیکن انہوں نے بچیوں کو اپنا شوق پورا کرنے اور تجسس کی تکمیل کرنے سے منع نہیں کیا۔ آج دونوں بہنیں دنیا کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں میں پڑھاتی ہیں۔ نرگس کا نام اس رصد گاہ سے وابستہ ہے جو سال رواں میں فزکس میں بہترین دریافت پر نوبل انعام کا سب سے طاقتور امیدوار ہو گی۔

اہل پاکستان کے لئے اگر اس کامیابی میں خوشی کا صرف یہ پہلو اہم ہے کہ اس گروپ میں ایک پاکستانی خاتون بھی شامل ہے۔ اور اس لئے وہ بھی فخر سے سربلند کر کے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان دنیا میں کسی سے پیچھے نہیں ہے، تو یہ ایک شکست خوردہ اور ناکام ذہنیت کا اظہار ہو گا۔ نرگس موال والا کی زندگی اس مزاج اور رویہ کے برعکس ہے۔ اس کی باتیں اور ترقی کے بنیادی اصول ان نام نہاد اخلاقی اور سماجی روایات کو غلط ثابت کر رہے ہیں جن کو سینے سے لگا کر ہم ہر نئی دریافت ، اجنبی روایت اور نامعلوم منزل کو جاننے اور اس کا راستہ تلاش کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ ہمارے سماج میں مذہب اور ثقافت کے مسلمہ ٹھیکیداروں نے سوال کرنے کے سارے راستے بند کئے ہیں اور نئی منزلوں کو شجر ممنوعہ قرار دیا ہے۔ پھر ایک ایسی خاتون کی کامیابی پر ڈھول پیٹنے سے کیا حاصل ہو سکتا ہے۔ ہم صرف اسی صورت میں اس کامیابی پر خوش ہونے کا حق رکھتے ہیں اگر ہم ان اصولوں کو تسلیم کرنے اور ان پر عمل کرنے پر آمادہ ہوں جنہوں نے نرگس کی ترقی کا راستہ ہموار کیا تھا۔

کیا یہ ممکن ہو سکے گا؟ یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ ایسا ہونا چاہئے لیکن ذہن سازی کے ٹھیکیدار پاکستانیوں کو سوال نہ کرنے، خود اپنے خواب نہ دیکھنے اور نئی منزلوں کی جستجو نہ کرنے کا سبق پڑھاتے ہیں۔ یہ سبق منزل کھوٹی کرنے اور زوال کی طرف سفر کا راستہ ہے۔ اس راستے کو ہموار کرنے والے قدم آگے بڑھانے والوں پر تہمتیں لگا کر انہیں خود سے علیحدہ کرتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام اس کی تازہ ترین مثال ہیں۔ احمدی ہونے کے ’جرم‘ میں انہیں ان کی پاکستانی شناخت سے محروم کرنے اور مسترد کرنے کی کوششیں اب بھی روز افزوں ہیں۔ ڈاکٹر نرگس موال والا کو کیوں کر استثنیٰ مل سکتا ہے؟ وہ تو عورت بھی ہیں، پارسی بھی ہیں اور ہم جنس پرست بھی۔ ہے کوئی جو راستے کے یہ پتھر اٹھا سکے اور نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا موقع دے۔ یا پھر اس قوم کو ایک نیا شکار فراہم کیا جائے گا جسے مطعون کرکے قومی وقار اور مذہبی تفخر کا احساس پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہو سکے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

3 thoughts on “ڈاکٹر نرگس موال والا …. کامیابی کا راستہ

  • 16-02-2016 at 2:08 pm
    Permalink

    Very well written article

    • 19-02-2016 at 12:16 pm
      Permalink

      great

  • 16-02-2016 at 8:03 pm
    Permalink

    ” ان کا قیاس تھا کہ نظام شمسی میں دور دراز کہیں دو بڑے سیارے ٹکرانے سے جو لہریں وجود میں آتی ہیں، انہی سے ہماری کائنات کی حقیقت کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ ان سیاروں کو عام طور سے بلیک ہول کہا جاتا ہے جن کا مطلب ہے کہ ایسے مرتے ہوئے ستارے جن کی کشش ثقل اس قدر شدید ہوتی ہے کہ روشنی بھی وہاں سے دور نہیں جا سکتی۔ ”

    کہیں سیارے کہا جا رہا ہے اور کہیں ستارے ۔۔۔۔ اور اوپر سے “نظام شمسی میں دور دراز” ۔۔۔۔۔۔ امید ہے یہ کتابت کی ہی غطیاں ہوں گی۔

Comments are closed.