انتظار حسین کا ریڈیو پاکستان کو دیا گیا آخری انٹرویو (3)


dpس۔ آپ کی کہانی ”مور نامہ“کو پاک و ہند میں بڑی شہرت حاصل ہوئی تو اس کہانی کی تخلیق کے محرکات کیا تھے؟

ج۔ پہلے بھی جب موروں پر پہلے خبر آئی تھی کہ تھر میں رانی کھیت کی بیماری ہو گئی ہے تو میں نے اس وقت کالم لکھا تھا کیونکہ آصف فرخی نے مجھ سے کہا کہ تم مور مور بہت کرتے ہو پاکستان میں ایک ایسا علاقہ ہے جہاں مور بہت ہیں تم میرے چلو تو میں سوچ رہا تھا کہ کبھی میں تھرپارکر جاﺅں اور دیکھوں کہ یار پاکستان میں بھی مور ہیں تو جب میں نے یہ خبر پڑھی تو واقعی میں بہت پریشا ن ہوا اور موروں ہی کے واسطے وہ کہانی لکھی گئی جب میں نے ایک خبر پڑھی تھی اس زمانے میں کہ ہندوستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تھا اس کی فضا میں جو اثرات تھے وہ موروں پر پڑ رہے ہیں تو میں جا چکا تھا اس علاقے میں ایک مرتبہ اور وہ مجھے وہاں مور ہی مور اتنے نظر آ ئے کہ میری طبیعت باغ باغ ہو گئی راجھستان میں اور وہاں وہ جو ہے سرکٹ ہاﺅس اس میں ہمیں ٹھہرایا تھا انہوں نے۔ تو دوپہر کو توزیادہ پتہ نہیں چلا شام کو جب میں نے کھڑکی کھولی تو دیکھا کہ مور ہی مور ہیں جس طریقے سے مرغیاں ہوتی ہیں، کبوتر ہوتے ہیں ہمارے ہاں ویسے وہاں مور پھر رہے تھے تو میں تو بہت اس علاقے سے انسپائر ہو کر آیا تھا میں نے کہا کہ ارے اس علاقے کے مور مر رہے ہیں پھر یہ کہانی بنی اس طریقے سے۔

س۔ آپ نے غیر ملکی ادب کے شہرہ آفاق ناولوں کے بڑے شاندار تراجم کئے۔ ترجمہ کرنے کے لئے کن خصوصیات کی بنا پر آپ کوئی بھی غیر ملکی ادب کی تخلیق منتخب کرتے ہیں؟

2ج۔ دیکھئے ایک تو وہ ترا جم ہیں جو میں نے اپنے طور پر کیے مثلاَ چیخوف کی کچھ کہانیاں اورترگنیف کی ایک آدھ کہانی، ترگنیف کا ایک ناول۔ تو یہ جو ہے میرا جی چاہا کہ چیخوف کو میں پڑھ رہا ہوں۔ چیخوف سے میں انسپائر بھی بہت تھا تو میں نے کچھ کہانیاں ترجمہ کی تھیں ایک لمبی کہانی تھی اور بہت اچھی تھی تو میں نے کہا کہ یہ چھپنی چاہیئے اور وہ چھپی۔ ”گھاس کے میدانوں میں“ اور مجھے فخر بھی بہت ہے کیونکہ مجھے داد بھی ایسی ملی بلکہ وہ آئیں تھیں روس کی ادیبہ لڈمیلا جو بائیو گرافر بھی ہیں فیض صاحب کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ تو ترجمہ تمھارا بہت ہی اچھا ہے اور تم روسی زبان تو نہیں جانتے، میں نے کہ نہیں میں نے انگریزی سے کیا ہے۔ کہا کہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ہمیں لگتا ہے کہ اس زبان سے ترجمہ کیا ہے تو میں بہت خوش ہوا۔ خاصی داد ملی مجھے اور پھر یہ جو میں نے ناول پڑھا عطیہ حسین کا۔ ارے میں نے کہا کہ یہ تو اردو کا ناول ہے جو انگریزی میں کیا کر رہا ہے اور وہ ناول مجھے بہت اچھا لگا۔ پارٹیشن پر جو لٹریچر میںنے پڑھا تھا میں نے کہا کہ اصل ناول تو اب آیا ہے۔ جب انہوں نے مجھ سے کہا مسعود اشعر نے کہ آپ ہماری کسی کتاب کا ترجمہ کر دیں آپ۔ میں نے کہا کہ اگر میں اس وقت ترجمہ کروں گا تو اس کا کروں گا اور کسی چیز کا نہیں۔ اس طریقے سے کہا۔ لیکن کچھ ایسے تھے مثلاَ سٹیفن کرین کا ایک ناول کیا، کچھ کہانیاں کیں۔ جو ان اداروں نے کہا اور میں نے اس وجہ سے بھی کہ بے روز گاری کا زمانہ تھا۔ لیکن جب سٹیفن کرین کا جب میں نے پڑھا۔ میں نے کہا کہ یار ٹھیک ٹھاک اچھا ناول ہے، کہانیاں بھی اور اس کی ایک کہانی تو مجھے بہت اچھی لگی THE VOTEمیں نے کہا کہ کمال کی کہانی ہے۔ تو وہ ترجمہ جو ہے وہ اس طریقے سے ہوا یا اس زمانے میں ایک امریکی ادارہ ایک کام کر رہا تھا جو اردو ترجمے کرا رہا تھا انہوں نے ایک فلسفے کی کتاب مجھے تھما دی ”فلسفے کی نئی تشکیل“جس کا میں نے عنوان رکھا۔ میں نے کہا کہ پتہ نہیں فلسفہ تو میں جانتا نہیں ہوں۔ جب میں نے اس کتاب کو پڑھا تو میں نے سوچا کہ میں اس کتاب کو تو پڑھ سکتا ہوں۔ کتاب تو مجھے بھی اچھی لگی تو وہ ایک کتاب یعنی غیر ادبی فلسفیانہ موضوعات سے متعلق تھی لیکن وہ آسان PHILOSOPHY MADE EASY قسم کی کتاب تھی تو وہ میں نے کر دیا۔

س۔ جب آپ کو بکر پرائز کی نامزدگی کی اطلاع ملی تو آپ کے کیا احساسات تھے؟

ج۔ وہ تو جب مجھے ٹیلی فون آ گیا آصف فرخی کا کہ انتظار صاحب وہ جو بکر پرائز کی فہرست شائع ہوئی ہے اس میں آپ کا نام ہے میں نے کہا کہ میرا نام بکر تک جائے گا؟ وہ تو انگریزی ناول نگار جو ہیں ان کے لئے ہیں۔ کہا کہ نہیں نہیں میری بیٹی نے ابھی کہا ہے مجھ سے کہ ٹی وی پر آ رہا ہے ان کا نام۔ تو میں ابھی پہنچتا ہوں کراچی پھر آپ کو بتاﺅں گا تو میں نے کہا کہ غلط فہمی ہوئی ہے۔ تمہاری بیٹی کو کچھ اور ہو گا تو اس نے کراچی جا کے کہا کہ انہوں نے ایک نیا پرائز شروع کیا ہے بکر والوں نے۔ انٹر نیشنل پرائز ہے اور اس میں جو انگریزی کے علاو ہ دوسری زبانوں میں لکھ رہے ہیں اور اگر ان کا ترجمہ کچھ انگریزی میں ہو گیا ہے تو انہیں بھی CONSIDER کیا جائے گا تو اس اصول کے تحت ہندوستان کا ایک نام ہے، ایک نام آپ کا ہے ایک کوئی افریقی ہے تو میں بہت متعجب ہوا اور خوش بھی ہوا کہ بھئی میں تو انٹرنیشنل ایرینا میں پہنچ گیا۔ تو پھر ان کا لیٹر بھی آیا۔ لیکن مجھے پورا یقین تھا میں نے آصف کو بھی کہا کہ مجھ سے زیادہ توقعات مت باندھو۔ یہ انٹرنیشنل مقابلہ ہے کیونکہ اس میں یہ شرط نہیں ہے سو جو بکر پرائز ہے اس میں تو دائرہ محدود ہے کہ ایشیا افریقہ کے وہ لکھنے والے جو انگریزی میں لکھتے ہیں وہ اور یہاں یہ مقابلہ ہے کہ کوئی انگریز ہے کوئی امریکہ کا ہے کوئی فرانسیسی ہے اور ان کے درمیان ہم اردو ہندی اس قسم کے لکھنے والے اور میری کچھ کہانیاں ترجمہ ہوئی ہیں ایک ناو ل ترجمہ ہوا ہے تو ہمارا تو مقابلہ ان کا ہے ہی نہیں۔ ویسے بھی نہیں ہے انٹرنیشنل مارکیٹ میں تو توقع مجھ سے زیادہ مت رکھو۔ تو بار بار اس سے کہا کہ کہیں یہ واقعی نہ سمجھ رہا ہوSERIOUSLY تو جب میں لندن پہنچا تو میں نے اپنے دوستوں کو بتا دیا کہ مجھ سے توقع مت رکھنا اور مایوس مت ہونا اس کے بعد کیونکہ میں پہلے سے ہی مایوس ہوں (ہنستے ہوئے) خیر اور وہی ہوا NOMINATION کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے یہ طے کر لیا کہ یہ دس لکھنے والے جو ہیں یہ ہمارے اسی سال کے منتخب لکھنے والے ہیں تو آپ کا ایک اسٹیٹس توبن گیا۔

1س۔ اگر ہم بچوں کے ادب کی بات کریں، ایک زمانے میں بچوں کے بڑے معیاری رسالے نکلتے تھے لیکن اب اس میدان میں تاریکی نظر آتی ہے؟

ج۔ دیکھئے ایک تو کلاسک ہے بچوں کا اسمٰعیل میرٹھی۔ سبحان اللہ اور اس کے بعد کوئی چیز ہے تو وہ اپنے صوفی صاحب کا ٹوٹ بٹوٹ ہے وہ بھی کلاسک میں شامل ہے اب۔ لیکن باقی جو شاعری ہوتی رہی ہے بچوں کے لئے وہ ٹھیک ہی ہے۔ اس میں کچھ اچھی ہے کچھ ٹھیک ہے چل رہا ہے معاملہ اور کہانیاں بھی آتی رہتی ہیں۔ محمد حسین آزاد نے کچھ لکھا ہے اور اسمٰعیل میرٹھی نے بھی نثر میں کچھ لکھا ہے تو یہ کمال کے لوگ تھے انہوں نے جہاں ہاتھ ڈالا ہے اس میں کچھ کر کے دکھایا ہے۔

س۔ اس میدان میں اب کیا صورتِ حال ہے؟

ج۔ کوئی ایسا رائٹر پیدا نہیں ہوا جسے ہم اس طریقے سے کہہ سکیں جیسے ہم اسمٰعیل میرٹھی کا نام سیدھا لے دیتے ہیں کوئی ایسا نہیں ہے لیکن لوگ لکھتے رہتے ہیں اچھی تحریریں بھی ہیں یہ ہے کہ چل رہا ہے سلسلہ۔

س۔ آپ جب اردو ادب کی گذشتہ پچھتر سالہ سفر پر نظر دوڑاتے ہیں تو اس میں مختلف تحریکوں کے کردار کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

ج۔ دیکھئے ہمارا جو دور ہے سن تیس اور چالیس کا جو عشرہ ہے اس میں ایک تو ترقی پسند تحریک ہے ہی ایک جدیدیت کی تحریک یہ سب اکھٹے آئے تھے پہلے پھر ان کا ڈویژن ہو گیا کیونکہ نظریاتی مسئلہ آ گیا ترقی پسندوں کی انجمن ترقی پسند مصنفین قائم ہو گئی اور انہوں نے آئیڈیالوجی پر بہت زور دیا۔ تووہ لکھنے والے جو تھے جو آئیڈیولوجسٹ رہے۔ مثلاَ ن۔ م راشد تھے، میرا جی تھے تو ان کی چھانٹی ہوگئی تو پھر وہ جدیدیت کی تحریک بن گئی اب یہ تحریک بڑی زوروں پر چلی۔ ترقی پسند تحریک واقعی چھائی ہوئی تھی۔ ہندوستان میں اور اب میں اسے کریڈٹ بھی دیتا ہوں کہ ہندوستان میں یہ تحریک تو بین الاقوامی تھی نا لیکن ہندوستان میں اردو لکھنے والوں نے لیڈ کیا۔ لیکن یہ جو سجاد ظہیر اور علی سردار جعفری یہ لیڈنگ فورس تھے نا باقی زبانوں کے تو ان کے ساتھ تھے تو ان کا اب کنٹری بیوشن اب مان لینا چاہیئے۔ اب تو وہ دور گزر گیا جب لڑائی ہو رہی تھی ہماری۔ مجادلہ تھا کہ ان کا، اردو زبان وادب کی تاریخ میں ان کا ایک کنٹری بیوشن اور یہ کہ انہوں نے ادبی سطح پر بھی بہت کنٹری بیوٹ کیا۔ کچھ نئے مو ضوعات دیئے ایک نیا شعور دیا لیکن ان کی جو آمرانہ روش تھی کہ آپ کو اسی طریقے سے لکھنا ہے یعنی ”باقی کافر مومنین ہم ہیں“۔ وہ اسلام کا نیا ورژن تو وہ جو ملائیت آئی ان میں اس نے خراب کام کیا نا تو اب اس کی وجہ سے اب دیکھئے یہ ہوا جب انہوں نے یہ پابندیا ں لگائیں کہ ہمارے یہ لکھنے والے جو ہیں۔ جو دوسرے ہیں غیر ترقی پسند ان کا بائیکاٹ۔ بائیکاٹ کی جو فہرست تھی تو میں حیران رہ گیا کہ اس میں قرةالعین حیدر کا بھی نام تھا۔ بھئی منٹو صاحب سے اور عسکری صاحب سے تو آپ کی لڑائی ہو رہی تھی وہ تو مجادلہ تھا وہ تو ٹھیک ہے لیکن وہ قرةُالعین حیدر تو سافٹ کارنر رکھتی تھیں۔ بنے بھائی اور فیض صاحب کے لئے تو انہوں نے بائیکاٹ کر دیا کہ ان کا تعلق زمینداروں اور جاگیرداروں سے ہے اور اس وقت ریویو بھی لکھا گیا تھا جو پہلا ناول تھا ان کا کہ قرةُالعین حیدر فیصلہ کر لیں کہ وہ یہاں کے مزدوروں کے ساتھ ہیں یا جاگیرداروں کے ساتھ؟ وہ بےچاری فیصلہ نہیں کر سکیں۔ تو اسے فہرست میں ڈال دیا تو یہ ان کا آمرانہ فیصلہ تھا۔ لیکن تحریک جو ہے انتہا پسندی سے شروع ہوا کرتی ہے۔ یہ ایک نارمل بات ہے اب تو میں یہ کہتا ہوں تو یہ ہونا ہی تھا لیکن اس کے بعد یہ خود نارمل ہو گئے جب تحریک  کا رواج شروع ہوا ہے۔ عجیب بات یہ ہے بعض لکھنے والے ان میں ایسے ہیں جن کا سارا کام اس وقت ہواجب وہ تحریک سے فارغ ہو گئے تھے۔ سبط صاحب۔ اپنے خود سجاد ظہیر۔ انہوں نے اس تحریک  سے فارغ ہونے کے بعد کام کیا اور بہت اچھا کام کیا پھر علی سردارجعفری وہ تو اس زمانے کے DICTATOR تھے ہماری مجال نہیں تھی ان کے سامنے آئیں۔ میری مڈبھیڑ ہو گئی ان سے دو ہا میں جب گیا تو میں نے جا کے انہیں بہت آداب کیا اور میں نے ان کی ایک کتاب کی بے تحاشہ تعریف کی کہ آپ نے جو یہ ایک کام کیا ہے کہ کبیر کو EDIT کیا اور میرا بائی کو یہ دو ہمارے پسندیدہ شاعر ہیں اور اردو والوں نے تو کبھی ان کو گردانا نہیں۔ کبیر تو اردو کا شاعر ہے میرے حساب سے اور اردو کے مورخین اسے خاطر میں نہیں لاتے یوں ہی نمونے کے طور پر کہتے ہیں کہ فلاں جو ہے وہ بھی کچھ اردو سے ملتا جلتا ہے تو وہ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے کہا کہ میں نے غالب پر بھی ایسا کام کیا ہے میں نے دل میں کہا کہ مجھے اس سے دلچسپی نہیں ہے آپ نے جو کبیر اور میرا بائی پر کام کیا ہے تو انہوں نے مقالے بھی بعد میں لکھے اور بہت اچھی تحریریں ہیں ان کی بعد کی۔


Comments

FB Login Required - comments

سجاد پرویز

سجاد پرویز ریڈیو پاکستان میں نیوز ایڈیٹر ہیں۔ ان سےcajjadparvez@gmail.com پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

sajjadpervaiz has 14 posts and counting.See all posts by sajjadpervaiz