ہنزہ کا قابل فخر سکول جہاں بچے کو ایک اچھا انسان بناتے ہیں


ہنزہ پاکستان کا حیرت انگیز اور قابل فخر علاقہ ہے جہاں تعلیم کی شرح بہت زیادہ بلند ہے لیکن انسانیت کی شرح اس سے بھی زیادہ بلند ہے۔ آپ نے بہت حسرت آمیز انداز میں اکثر یہ پڑھا ہو گا کہ جاپان کے سکولوں میں بچے خود سکول کی صفائی کرتے ہیں۔ لیکن آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ ہنزہ کے بچے بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں۔

پچھلے سال وہاں گرمیوں میں ہنزہ کے گاؤں گلمت کے الامین ماڈل سکول جانے کا اتفاق ہوا۔ بلکہ اتفاق کیا ہوا، وقار ملک نے زبردستی بھیجا تھا کہ اگر ہنزہ میں الامین ماڈل سکول نہیں دیکھا تو کیا دیکھا۔ وقار ملک کے خیال میں ہم ایک بڑے عالم ہیں اور ہمیں ہنزہ کے نظام تعلیم کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس خوش گمانی کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ملک صاحب ویران پہاڑوں میں اتنا زیادہ وقت بسر کرتے ہیں کہ ان کو ہر انسان ہی عالم دکھائی دیتا ہو گا۔ بہرحال ہم ایک مشکل چڑھائی چڑھ کر اور درمیان میں تین مرتبہ رک کر اپنا سانس بحال کر کے سکول پہنچے۔

ہنزہ میں ہمارے لئے جو چیز حیرت کا باعث تھی، وہ یہ تھی کہ ہر شخص نہایت خوش اخلاق ہے۔ تقریباً ہر شخص پڑھا لکھا ہے۔ جرائم ناپید ہیں۔ خواتین کو تنگ کرنے کا معاملہ دیکھنے میں نہیں آتا ہے۔ آخر یہ ہنزئی اتنے اچھے انسان کیوں ہیں؟ کیا اس کی وجہ تعلیم ہے یا پھر معاشرے کی روایات؟

الامین ماڈل سکول کے پرنسپل نذیر احمد بلبل سے ملاقات ہوئی۔ مل کر نہایت خوشی ہوئی کہ نہایت سلجھے ہوئے انسان ہیں اور ان کی باتوں سے ان کا علم جھلک رہا تھا۔ وہ مقامی وخی زبان کے شاعر ہیں اور اس زبان کی گرائمر اور اس کے حروف تہجی پر بھی انہوں نے کتاب لکھی ہے۔ وخی زبان ضبط تحریر میں نہیں آتی تھی۔ نذیر صاحب نے پہلے اس کو عربی حروف تہجی میں لکھنے کی کوشش کی مگر بالآخر ان کو رومن حروف زیادہ مناسب لگے۔

نذیر صاحب نے سکول کی سیر کرائی۔ پرائمری سیکشن کے بچے جا چکے تھے اور صرف ہائی سکول کے بچے موجود تھے۔ ہمیں دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس دور افتادہ علاقے میں کو ایجوکیشن ہے اور بچے اور بچیاں مل کر والی بال کھیل رہے ہیں۔ ایک طرف چند لڑکیاں کرکٹ کھیلنے میں مگن تھیں۔

پرائمری کی کلاس میں داخل ہوئے۔ کلاس ایسے سجائی گئی تھی جیسے لاہور کے ایک مہنگے سکول کی کلاس ہوتی ہے۔ مانٹیسری کی جدید تعلیم کے اصولوں کے مطابق مختلف سیکشن بنائے گئے تھے۔ ایک طرف کھلونے پڑے تھے۔ دوسری طرف کتابوں کا شیلف تھا۔ تعلیمی پوسٹر لگے ہوئے تھے۔

ایک طرف دیوار پر جماعت کی اخلاقیات پر مبنی ایک ہدایت نامہ لگا ہوا تھا۔

کلاس میں شور مت مچائیں۔ کرسیاں میزیں توڑنا منع ہے۔ ایک دوسرے کو ٹانگیں مت ماریں۔ کلاس میں لڑیں مت۔ اپنے اساتذہ کی بات سنیں اور ان کی عزت کریں۔ صفائی کا خیال رکھیں۔ خود سے چھوٹوں کا خیال رکھیں۔ بڑوں کی عزت کریں۔ بہنوں بھائیوں کی طرح رہیں۔ لگن سے پڑھیں۔ جب استاد کلاس میں نہ ہو تو باہر مت جائیں بلکہ پڑھائی، لکھائی یا ڈرائنگ جیسا کوئی کام کرنے کی کوشش کریں۔ یہ ضوابط مت توڑیں۔

اس کے ساتھ ہی ایک دوسرا نوٹس لگا ہوا تھا جس پر ڈیلی روٹین لکھی ہوئی تھی۔ اس ٹائم ٹیبل پر دو چیزیں ہمارے لئے خاص دلچسپی کا سبب تھیں۔ کانسیپٹ ٹائم اور پلاننگ ٹائم۔ اور جو چیز دلچسپ تھی وہ تھی صفائی کا وقت۔

جب بچے اپنے کام سے فارغ ہو جاتے ہیں تو وہ کلاس روم میں بکھری ہوئی چیزیں سمیٹتے ہیں اور ان کو واپس ان کی جگہوں پر رکھتے ہیں۔ اس کا مقصد ان کو احساس ذمہ داری دینا ہے۔

کانسیپٹ ٹائم میں بچوں کو مختلف چیزیں سکھائی جاتی ہیں جیسے ٹائم دیکھنا یا ایسے ہی دوسری نئی چیزیں۔ پلاننگ ٹائم میں دس منٹ تک بچے اپنے استاد سے ڈسکس کرتے ہیں کہ وہ کیا کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کچھ بچے کھیلنا چاہتے ہیں، کچھ لائبریری میں کتابیں پڑھنا چاہتے ہیں اور کچھ کچن والے کونے میں جانا چاہتے ہیں۔ استاد ان سے مل کر پلاننگ کرتا ہے کہ کلاس کے ان گوشوں میں وہ کیا کریں گے۔ سکول میں مقامی زبان وخی بولنے کو ترجیح دی جاتی ہے لیکن بچے انگریزی میں روانی سے بات کر سکتے ہیں۔

ایک دیوار پر پوسٹر چسپاں تھے جن میں بچوں کو خطرات سے عام فہم تصویروں کے ذریعے خبردار کیا گیا تھا اور احتیاطی تدابیر بتائی گئی تھیں تاکہ وہ خود بھی محفوظ رہیں اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی حفاظت بھی کر سکیں۔

آگے ایک دیوار پر ہمیں صدائے الامین میگزین چسپاں دکھائی دیا۔ معلوم ہوا کہ بچے اس اخبار میں کہانیاں لکھتے ہیں، اس کے لئے تصویریں بناتے ہیں، اس میں نظمیں لکھتے ہیں۔ اخبار کی ایڈیٹر نتاشا اکبر نامی محترمہ تھیں۔ ان کی کلاس میں ہم نے نوٹ کیا کہ بچے بچیوں میں تفریق نہیں تھی۔ ایک ہی میز پر بچے اور بچیاں دونوں بیٹھتے ہیں۔

معاصر میگزین ’صدائے الامین‘ کی ایڈیٹر محترمہ نتاشا اکبر

ہمارا خود بھی ایک سکول کی انتظامیہ سے تعلق رہا ہے۔ اس میں ننھے بچے بچیاں الگ الگ میزوں پر بیٹھتے تھے مگر ایک دن قضیہ کھڑا ہو گیا۔ علم ہوا کہ پریپ کی بچیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کا بوائے فرینڈ کون کون ہے جبکہ بچارے بوائے فرینڈز کو یہ خبر بھی نہیں تھی کہ وہ بوائے فرینڈ بن چکے ہیں۔ وہ تو کرکٹ کھیلنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔ ہم نے نذیر صاحب سے پوچھ لیا کہ سکول میں کو ایجوکیشن کے مسائل نہیں ہیں؟

وہ کہنے لگے بالکل نہیں۔ بلکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کو ایجوکیشن کی وجہ سے مسائل کم ہو جاتے ہیں۔ ہم نے یہ دیکھا ہے کہ جب ہمارے پاس بچے دوسرے سکولوں سے آتے ہیں جہاں کو ایجوکیشن نہیں ہے تو شروع میں ایک دو مہینے کے لئے ان کی عجیب سی کیفیت ہوتی ہے۔ لیکن پھر ایسا ہوتا ہے کہ جیسے ان دونوں میں فرق ہی نہیں ہے۔ تو ان کو دیکھ کر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جب وہ دور ہوتے ہیں تو احساس شدت میں ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ آپس میں بیٹھتے ہیں اکٹھے کام کرتے ہیں تو ان کو احساس نہیں ہوتا کہ ہم کوئی الگ صنف ہیں۔ نئے ایڈمیشن کے وقت میں نے خود تجربہ کیا ہے کہ جو نئے آتے ہیں وہ بعد میں گھل مل جاتے ہیں۔‘

ہم نے پوچھا کریم آباد میں تو غالباً کو ایجوکیشن عام نہیں ہے۔ وہاں خواتین کے احترام کی کیا وجہ ہے؟

نذیر صاحب کہنے لگے کہ ہماری کمیونٹی میں بھی ایسا ہے۔ ہماری نماز میں بھی ایک طرف خواتین کی صفیں ہوتی ہیں اور دوسری طرف مردوں کی۔ کوئی بھی گیدرنگ ہو ادھر مرد عورت سب ملیں گے۔ اس وجہ سے ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

ہمارے ذہن میں ٹین ایج کی محبت گھوم رہی تھی۔ ہم نے پوچھا کہ کیا یہاں ارینج میریج ہوتی ہے؟

نذیر صاحب نے بتایا کہ شاذ و نادر خاندانوں میں شادی کراتے ہیں۔ لوگ جینیٹکس کے اثرات کا بھی خیال کرتے ہیں۔ زیادہ نہیں ہے مگر کچھ خاندانوں میں اندر شادی کرنے کا رواج ہے۔ شادی ارینج ہے۔ پہلے تو والدین ڈیسائڈ کرتے تھے مگر اب بچے زیادہ فیصلہ کرتے ہیں۔ والدین مانتے ہیں۔

خواتین کے احترام اور پرامن معاشرے کے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ مرد عورت کی تفریق نہیں ہے۔ یہ روایت میں بھی ہے لیکن ایجوکیشن کا رول زیادہ ہے۔ بزرگ الجھ بھی پڑتے تھے۔ ایک آدھا مکا بھی لگا دیتے تھے۔ مگر اب وہ چیزیں نظر نہیں آتی ہیں۔ کیونکہ جو گالم گلوچ ہوتی تھی اس میں تعلیم کی وجہ سے بھی بہت کمی آئی ہے۔

ان سے پوچھا کہ آپ کتابیں تو وہی پڑھاتے ہیں جو ہمارے بچے بھی پڑھتے ہیں، پھر کس وجہ سے تشدد اور جرائم نہیں ہیں؟

انہوں نے بتایا کہ دو چیزیں ہیں۔ ایک تو ہمارے فیتھ کا بھی زیادہ حصہ ہے۔ دوسرا ہمارے گھر کے ماحول سے لے کر سکول میں بھی یہی ہے۔ ہماری زیادہ تربیت کمیونٹی کے اندر ہوتی ہے۔ مثلاً کمیونٹی میں بہت سارے گیدرنگ ہوتے ہیں۔ جب لوگ جمع ہوتے ہیں۔ پہلے تو ایک دوسرے کو قبول نہیں کیا جاتا مگر جب آپ بار بار ملتے ہیں، بار بار ملتے ہیں، تو آپ کے اندر اپنائیت آ جاتی ہے۔ ہمارے کچھ مخصوص دن ہیں۔ ان کے اندر ہمارے پلے گراؤنڈ میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔ ناچتے ہیں۔ دوسرے پروگرام بناتے ہیں۔ جس کی وجہ سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بچوں میں مینیجمنٹ کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ اپنی تخلیقات پیش کرنے کا ٹیلنٹ بھی بنتا ہے اور اتفاق اتحاد میں بھِی اضافہ ہوتا ہے۔

دو چیزیں ہمارے لئے بہت اہم ہیں، تعلیم اور صحت۔ ہم یہ انتظار نہیں کر سکتے ہیں کہ گورنمنٹ آئے اور یہ کر دے اور وہ کر دے۔ بچوں کا ٹائم جو ہے وہ ابھی ہے۔

چھے ماہ کے بچے کی والدہ اور اگر والد بھی آ سکیں تو ان کے لئے ارلی چائلڈ ہڈ ڈیویلپمنٹ پروگرام ہے۔ ان کو بلا کر سکھاتے ہیں کہ بچوں کی پرورش کیسے کریں۔ بلکہ اب تو حاملہ ماؤں کو بلا کر بچوں کی تعلیم و تربیت کے بارے میں بھی سکھایا جانے کا پروگرام ہے۔ یہ کمیونٹی کے پروگرام ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے پاس معذور بچوں کی تعلیم کا انتظام نہیں ہے۔ ان کے علاوہ سو فیصد بچے سکول جاتے ہیں۔ بزرگوں کے زمانے میں تعلیم عام نہیں تھی اس لئے ان میں ان پڑھ  پائے جاتے ہیں۔ خواندگی کی شرح 78 فیصد ہے۔ ہم پڑھا لکھا اسے سمجھتے ہیں جو کہ خط و کتابت کر سکے۔ اگر ان لوگوں کو پڑھا لکھا کہا جائے جو اپنا نام لکھ سکتے ہیں اور ٹوٹا پھوٹا اخبار پڑھ سکتے ہیں تو یہ شرح 90 فیصد ہو گی۔

ہمیں پھر بھی شبہ ہو رہا تھا کہ ان کی کتابوں میں ضرور کچھ ایسا ہو گا جس کی وجہ سے ہنزہ کے بچے اتنے مہذب شہری ہیں اور وہاں تعلیم کی شرح ایسی بلند ہے۔ نذیر صاحب سے پوچھ لیا کہ آپ کس بورڈ کی کتابیں پڑھاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے فیڈرل بورڈ تھا۔ پھر قراقرم بورڈ بنا تو اس کے ساتھ ہوئے۔ اس سال آغا خان بورڈ کے ساتھ منسلک ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سکول کا معیار دیکھ کر ہمیں یقین تھا کہ یہ انتہائی مہنگا سکول ہو گا۔ لاہور میں ایسے سکول کی فیس کسی صورت بھی آٹھ دس ہزار سے کم نہیں ہو گی۔ ہم نے ان سے سوال کیا کہ سکول کی فیس کیا ہے؟

کافی شرمندہ سے انداز میں بولے کہ اس سال فیس بڑھا دی ہے۔ پانچ سو نرسری میں لیتے ہیں اور 2300 ہماری لاسٹ فیس ہے۔

پانچ سو فیس میں ایسا اعلی درجے کا پرائمری سکول ہمارے خواب و خیال سے بھی باہر تھا۔ یہاں سائنس لیب، لائبریری اور کمپیوٹر لیب اچھے درجے کی ہے۔ شروع شروع میں اس میں باہر سے اساتذہ آ کر پڑھاتے رہے تھے مگر اب زیادہ تر اساتذہ کا تعلق اسی علاقے سے ہے۔

اس سکول کی مالک گلمت ایجوکیشن اینڈ ویلفئیر سوسائٹی جس کے ممبر گاؤں کے عام لوگ ہیں جو کہ چودہ رکنی بورڈ آف ڈائریکٹر منتخب کرتے ہیں جو کہ پرنسپل کے ذریعے سکول کے معاملات چلاتا ہے۔ سکول میں دور کے علاقے سے تعلق رکھنے والی بچیوں کے لئے گرلز ہوسٹل بھی ہے جس میں 40 بچیوں کی گنجائش ہے۔ اس کی دوسری منزل بن رہی ہے۔

نذیر احمد بلبل صاحب 2004 میں الامین ماڈل سکول سے وابستہ ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم اسی علاقے کی ہے اور انہوں نے اعلی تعلیم کراچی سے پائی۔ ان کی نفیس شخصیت کو جاننا ہو تو اس کے لئے ان کے چند اشعار کا ترجمہ ہی ان کے مزاج کے بارے میں بہت کچھ بتا دیتا ہے۔

بلبل، میرے تاریک آنگن میں چاند اتر آیا ہے
یہ دکھانے کے لئے کہ میں کتنا غریب ہوں
لیکن کیا یہ کافی نہیں ہے کہ چاند اترآیا ہے؟

آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ یہ سکول محض سوا دو ہزار نفوس کی آبادی والے گاؤں نے اپنی مدد آپ کے تحت بنایا تھا۔ سکول کی تعمیر کے لئے رقم بھی مقامی لوگوں نے دی تھی اور اس کی تعمیر میں مزدوری میں بھی گاؤں کے تمام گھر شریک ہوئے تھے۔ اپنی مدد آپ کے اس بہترین منصوبے کی یہ کہانی آپ کو اس سلسلے کے اگلے مضمون میں سنائیں گے۔

دوسرا حصہ

ہنزہ کے لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر حکومت کا انتظار نہیں کرتے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 631 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “ہنزہ کا قابل فخر سکول جہاں بچے کو ایک اچھا انسان بناتے ہیں

Comments are closed.