جناب اختر علی سید صاحب کی خدمت میں۔۔۔


aasim bakhshi

          جناب اختر علی سید صاحب نے اپنے آپ کو کم علم قاری  کہتے ہوئے بلا کی کسرِ نفسی سے کام لیا۔ یہ طالب علم  اگر ان کے مضمون کے نیچے ایک مختصر سے تبصرے میں  صرف ان سے اتفاقِ رائے  بھی کر دیتا  تو شاید ان کی غلط فہمی کا ازالہ ہو جاتا لیکن  چونکہ موضوع دلچسپ ہے لہٰذا  یہ مناسب معلوم ہوا کہ  اپنی کچھ ایسی گزارشات کو ایک بار پھر پیش کر دیا جائے جو شاید محترم اختر علی سید صاحب کی نظر سے نہیں گزر سکیں۔ پہلے تو یہ وضاحت قبول کیجئے کہ راقم کے محولہ بالا مضمون میں  امواجِ ثقل سے متعلق  عبارت آرائی کو  سیاق و سباق میں رکھ کر بغور دوبارہ پڑھنے پر یہ  باآسانی واضح ہو سکتا ہے کہ  راقم نے  کسی حد تک جوابی طنز قابلِ احترام مصنفہ کے اسلوب ہی سے اختلاف کرتے ہوئے  ہی کیا تھا  جو شاید  اس فقیر کی مفلس الکلامی کے باعث کہیں زیرِ متن  رہ گیا اور   قبلہ اختر علی سید  صاحب کی حیرانی کا باعث بنا۔  لیکن مضمون کے شروع میں موجود اس  بجا طور پر  مبہم جملے کا جواب خود راقم نے آگے بہت وضاحت سے پیش کیا جس کا لبِ لباب یہی تھا کہ کسی سماج  کو سخت سے سخت لفظوں میں بھی فکری بانجھ پن کا طعنہ دے کر   نفسِ علم میں  ایجاد  پر مائل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ یہ طعنہ دینے سے پرہیز کیا جائے لیکن  بہرحال  طعنہ دینے والے پر یہ بھی لازم ہے کہ  وہ سماج کی نفسیاتی تہوں میں جا کر تشخیص کا حق ادا کرے تاکہ مسئلے کے خدوخال واضح ہو سکیں۔ راقم کے  اس طنزیہ اظہار سے صرف اتنا ہی مقصود تھا کہ   کسی راہ چلتے درویش کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر  محض  کششِ ثقل کی اہمیت پر ایک طویل درس دینے سے اسے سائنسدان بننے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔  آپ اس سماج  کے غالب حصے کو یہ درویش سمجھ لیجئے تو بھی    فقرہ  اپنی جگہ بامعنی ہی رہے گا۔ میری جناب اختر علی سید صاحب سے  ایک طالب علم کے درجے میں گزارش ہو گی کہ اب اس وضاحتی  تناظر میں مضمون میں آگے پیش کی گئی متعلقہ گذارشات کا از سرِ نو جائزہ لیں اور راقم کو اس کی پریشان خیالی کے بارے میں مزید آگاہ کریں۔

          لیکن راقم کو بخوبی اندازہ ہے کہ  اس نسبتاً غیر اہم ذاتی مکالمے سے بہرحال  مسئلے کی وہ تمام  ان گنت جہتیں تو   اب بھی حل طلب ہیں جن کی طرف خود محترم اختر علی سید صاحب نے ہماری راہنمائی کرتے ہوئے اشارے  کئے۔ اختر صاحب کا  جوابی تبصرہ بغور پڑھنے سے دو اہم نکات گرفت میں آئے جو تفصیلی بحث  کے متقاضی ہیں۔ ان کا اول نکتہ  یہ سوال ہے کہ ’’امت مرحوم کی تقدیر میں ایسا لکھا تھا یا مسلم معاشرے ان اقدار کی حفاظت نہیں کر سکے جو بڑے ذہن پیدا کرتی ہیں؟‘‘۔وہ اسی سوال کو اس طرح بھی اٹھاتے ہیں کہ’’ مسلم معاشروں میں موجود وہ کون سے عوامل ہیں جو نئے سوال اٹھانے اور نئے جوابات ڈھونڈنے کی راہ میں مسلسل رکاوٹ ہیں؟‘‘۔ ان کا دوسرا نکتہ  یہ قیاس آرائی ہے  کہ بڑے ذہن  کی پیدائش’’ معاشرے کو یہ یقین فراہم کرتی ہے کہ آنے والے وقت کو سو برس قبل بھی علم و عقل کی بنیاد پر انسانی گرفت میں لایا جاسکتا ہے۔‘‘ راقم کی رائے میں دونوں نکات اپنی جگہ اہم ہیں اور فلسفیانہ  تناظر میں   سیر حاصل بحث کے متقاضی ہیں۔ گمان ہے کہ  فاضل تبصرہ نگار اس بات سے متفق ہوں گے  کہ ہمارے مخصوص سماج میں   ان دونوں نکات  کی تہہ میں  موجود مفروضوں  پر  ایک بڑا طبقہ  ان سے بنیادی اختلاف رکھتا ہے۔ اس لئے راقم کی رائے میں مکالمہ اسی وقت آگے بڑھ سکتا ہے  جب اس اختلافی طبقے کے وہ مفروضے دریافت کئے جائیں اور پھر ان کو  نشانہ بنایا جائے۔ بدقسمتی سے ہمارے سماج میں یہ نشانے بازی خطرے سے خالی نہیں  چونکہ  اس نشانے بازی کا  براہِ راست  ہدف بہرحال الہامی متون کی کم و بیش پانچ چھ صدیوں پر محیط   متحجر مذہبی تعبیرات ہی ہوتی ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ردعمل کی بجائے  مکالمے کو بتدریج  مناظراتی دائرے سے نکال کر   خالص علمی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ لیکن یہاں مسئلہ  دو چند ہو جاتا ہے کیوں  مکالمے کے دونوں فریق تو سرے سے علم کی تعریف پر ہی متفق نہیں ہیں۔

          راقم کے  حقیر مطالعے کی حد تک اس صورت میں یہی راستہ  باقی بچتا ہے کہ سب سے پہلے تو علم  کی تعریف پر اتفاق  کے لئے رائے عامہ ہموار کی جائے۔ اس سلسلے میں پہلے قدم پر  تمام اختلافی طبقات کے منطقی مقدمات واضح ہونے چاہئیں تاکہ  بحث میں وقت ضائع کرنے کی بجائے  اختلاف پر اتفاق کر لیا جائے۔ روشن خیال خرد افروز طبقہ  مسلم سماج کی نشاۃ ثانیہ کے لئے کام کرے اور خرد دشمن عناصر  وقت کا  پہیہ واپس گھمانے کے لئے نظریہ بندی کریں۔  یہاں واضح ہونا چاہئے کہ کم ازکم ذاتی حیثیت میں راقم کا  قیاسِ احتمالی (hypothesis) کیا ہے  تاکہ  اس قیاس کی جانچ کے لئے مناسب ضابطہ بندی  پر بات ہو سکے اور اس کے ردو قبول کی  راہیں ہموار ہو سکیں۔ اس فقیر کا  مفروضہ یہی ہے کہ  مسلم ذہن قرونِ وسطیٰ سے  علم کی ایک ناگزیر دوئی کا شکار ہے  جس کی دونوں انتہاؤں کے درمیان موجود خلیج کو پاٹنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے مخصوص معاشرتی منظرنامے کا اپنا ہدف بناتے ہوئے    یہ طالبعلم اپنے تئیں مسئلے کے خدوخال پہلے ہی واضح کر چکا ہے لہٰذا  ایک پرانے مضمون کو جو  ’’ہم سب ‘‘پر پہلے شائع نہیں ہوا  مدیرِ محترم  کی اجازت سے یہاں بحث کے لئے پیش کیا جاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس طویل عبارت آرائی کے بعد بھی  محترم اختر علی سید صاحب کا دوسرا نکتہ یعنی کائنات کو اپنی گرفت میں  لانے کی خواہش  بحث طلب ہی رہے گا جس پر بحث کو  کسی  اگلے وقت تک مؤخر کرنے کی اجازت چاہوں گا۔ آئیے اب  جائزہ لیتے ہیں کہ نفسِ علم   کی حد تک ہمارے سماجی تناظر میں مسئلے کے  خدوخال کیا  ہیں۔

’مذہب پسند‘ کی  اصطلاح کو ان سب  طبقات تک محدود کرتے ہوئے جو اس قضیے سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں کہ  معاشرتی ڈھانچے کے سیاسی و سماجی  خدوخال مرتب کرنے میں تن تنہا مذہب ہی ایک  واحد بامعنی  قدر ہے، اگر  ان تمام طبقات کا  ایک عمومی سا جائزہ لیا  جائے تو ہمارے ہاں فلسفہ و سائنس کو لے کر دوقسم کے فکری دھارے  دیکھنے میں آتے ہیں ۔ ان مذہب پسندوں میں سے ایک تو وہ ہیں جو  اپنے علمی منہج کو غزالی  سے منسوب کر کے ’تہافت الفلاسفہ‘ میں مشغول ہیں  اور ’جدید مغربی تہذیب‘ نامی کسی ایک  ٹھوس اکائی  کو نظریاتی طور پراپنے مقابل  فرض کر کے  اس  سے جہاد کا  فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔ روایتی جہاد  و قتال کیلئے  چونکہ ہتھیار مغربی  تہذیب  سے لینا واضح شرعی عذر کے کارن مباح ہے لہٰذا اس تنقیدی   معرکے میں بھی ہتھیار وں کی سپلائی کا کام مغرب کے ان مارکسسٹ اور پوسٹ مارکسسٹ نقادوں سے لیا جاتا ہے  جن کی ’سرمایہ دارانہ  لبرل ہیومنزم‘  پر  ہونے والی پچھلی نصف صدی کی تنقیدوں کو ان کے خاص  سماجی وسیاسی تناظر سے نکال کر  کسی حد تک کامیابی سے ایک چوں چوں  کا مربع تیار کیا جاتا ہے جو ہمارے ہاں کے لبرل طبقات(جن میں سے کچھ اپنے ردعمل پر مبنی  استدلال میں ان مذہب پسندوں جتنے ہی علمی متشدد  ہو چکے ہیں) کے  سامنے کھڑے ایک سادہ لوح  ’مذہب پسند ‘ کو تقریباًٍ اسی طرح  استعمال کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے جس طرح مناظراتی تربیت کے کورسوں میں  طالبعلموں  کو  ’مخالف کو زیر کرنے کے دس اہم ترین ہتھکنڈے‘ سکھلائے جاتے ہیں۔اس طبقے سے اختلاف کے ساتھ بہرحال  ہمیں یہ تسلیم  کرنے میں  کوئی عار نہیں  کہ یہ طبقہ کچھ  مخصوص نفسیاتی مجبوریوں  اور  عارضۂ نرگسیت  کے باعث  تہذیبی مباحث   کا تجزیہ  کسی عالمگیر انسانی تناظر میں کرنے کی قوت  ہی نہیں رکھتا لہٰذا مجبورِ محض ہوتے ہوئے حلق کے ایک حصے  سے تو  ’سرمایہ دارانہ تہذیب‘ کی  مئے فرنگ  کا تہہ  جرعہ تک  اپنے اندر انڈیلتا رہتا ہے اور اسی حلق کے دوسرے حصے سے  تیزی سے تنقیدیں باہر اگلنے کا کام جاری رکھے ہے ۔ سچ پوچھئیے تو ہمیں ان سے اس کے  علاوہ کوئی شکایت نہیں کہ   وہ ہم جیسے کیوں نہیں، یعنی مان کیوں نہیں لیتے کہ  جدید دور میں تہذیبی سرحدیں تیزی سے انہدام پذیر ہیں اور  کم از کم اتنی دھندلا چکی ہیں کہ  مشرق و مغرب  کی تہذیبی  دوئی ایک ایسا  قصۂ پارینہ ہے جو بس تاریخِ فکر کی کتابوں میں ہی ڈھونڈنے سے ملتا ہے۔

دوسرا طبقہ  پہلے طبقے کی نسبت کہیں زیادہ دلچسپ اور تخریب ِ ذہن و فکر  کی ہلاکت خیزیوں میں اس  سے کہیں آگے ہے۔ اس کی وجہ اس کی تجاہل عارفانہ میں ڈوبی وہ  رجعت پسندی ہے جو فلسفے کو تفکر ، تجسس، جستجو، تحقیق،  خرد افروزی، ندرتِ فکر وغیرہ جیسے  انسانی خواص سے  علیحدہ کر کے  اس  کو  مذہب کا  روایتی حریف گردانتی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس طبقے کے نزدیک سوال کا ذہن  میں پیدا ہونا تفلسف کی علت نہیں بلکہ فلسفیانہ ذہن کی تربیت ’بےجا‘ سوال اٹھانے   کے مرض کی علت ہے ۔  ہماری  رائے میں  علتوں کا یہ  الٹ پھیر اس لئے  پیدا ہوتا ہے کہ اس طبقے کےنزدیک  فلسفہ  چونکہ  سوال اٹھانے اور عمومی طور پر اٹل سمجھے جانے والے مفروضوں  پر تشکیک و تحقیق کی دعوت ہے،  لہٰذا وہ  ایک ایسے ذہن کو تیار کرتا ہے  جو اپنے طرف پھینکی جانے والی اٹل  مذہبی اور صرف مذہب کی بنیاد پر سماجی  تعبیرات کو  فکر پر حاکم ماننے سے انکار کر دیتا ہے  ۔

انگریزی محاورے کی رو سے اگر ہمیں ایک لحظہ  شیطان کی  وکالت  کرنی ہو تواس  مخصوص  مذہبی تناظر میں جدید (سیکولر)تعلیم و تربیت کا سارا   ڈھانچہ ہی از سرِ نو  ترتیب کا تقاضہ کرتا ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جو ہماری رائے میں نہ صرف  روایتی مسلم ذہن کو ’تشکیل نو‘، ’تجدد پسندی‘، ’روشن خیالی‘ وغیرہ جیسی تراکیب  کو ایک مخصوص شک  کی نگاہ سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے  بلکہ ذہن میں موجود نظریہ ٔ علم کے خدوخال کو دو  مختلف خانوں میں  تقسیم کرتا بھی نظر آتا ہے۔قرونِ وسطی کے مذہبی متون کا ایک سرسری سا جائزہ بھی  ا س مخصوص مسلم ذہنیت کے تخمِ اول  کی  جانب نشاندہی کے لئے کافی ہے  جب ہمیں ابن رشد  فکرِ غزالی کے خلاف فلاسفہ کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔  گوراقم کی رائے میں جدید مسلم ذہن کے لئے  اوراقِ تاریخ  میں دبی  ان بحثوں   سے چند  مبہم اشاروں  سے زیادہ  کچھ خاص استفادے کی امید نہیں لیکن یہ  مبہم سے اشارے بھی  پچھلےدو سو سال کے روایتی مسلم ذہن کی  کسی بھی قسم کی خردافروزی کو شک کی نگاہ سے دیکھنے  کی کیفیت سمجھنے کے لئے  بہت کافی ہیں۔

یہ ایک ایسا مسلم ذہن ہے جو ایک طرف تو اپنی تمام تر پسماندگیوں کا الزام مغرب بالخصوص مغربی استعماریت  پر دھرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتا اور دوسری طرف  اپنے نظریۂ علم میں ایک       وحشت ناک  قسم کی دوئی  میں بٹا ہے۔ وحشت کے اس احساس کا  تجرباتی جائزہ لینا ہو تو   مذہبی  کتابوں کے کسی بھی  اسٹال سے’ حصول علم کے فضائل‘ یا ’علم کی برکتیں‘   نامی کوئی بھی رسالہ اٹھا کر  تلاش کیجئے کہ  ایک اوسط مسلم ذہن علم کا کیا تصور قائم  کئے بیٹھا ہے۔ مثالیں ان گنت ہو سکتی ہیں لیکن اگر سند ہی  کی تلاش ہے تو ابن رجب حنبلی  کے رسالے  ’’ورثہ الانبیاء‘‘ کو دیکھ لیجئے جس کا انگریزی ترجمہ The  Heirs of the Prophets  کے نام سے مغرب کے اعلی تعلیم  یافتہ مذہبی عالم  زید شاکر کے ہاتھوں ہوا ہے اور ہمارے ہاں  پیٹروڈالرز سے چلنے والے  مشہور سعودی کتب خانے  مکتبہ دارالسلام  میں موجود ہے۔

مقصد یقیناً ابن رجب یا مخصوص سلفی فکر پر تنقید  نہیں بلکہ صرف اتنا واضح کرنا ہے کہ روایتی مسلم فکر، چاہے اس کا تعلق کسی بھی تعبیراتی دھارے سے ہو ،علم کو   حقیقی اور  اضافی کے درجۂ اولی اور درجۂ ثانیہ میں بانٹتی نظر آتی ہے۔ چونکہ اول الذکر کا تعلق  خالص مذہبی متون یعنی قرآن و حدیث اور فقہ  وغیرہ سے ہے   لہذا  طبقہ  علماء کی تعبیرات میں   ایک ایسے خدا   اور رسول کا تصور ابھرتا نظر آتا ہے  جو ایک فقیہہ اور ماہرِ طبیعات میں ان  کی علمی  ترجیحات کی بنیاد پر لازماً فرق کرتا نظر آتا ہے۔ آپ کسی بھی روایتی مذہبی گھاٹ کا پانی پی کر دیکھ  لیجئے،  اس مخصوص    طبقاتی بھاشا  میں  خدا اور اس کے نبی کا ’ مطلوب انسان ‘ کبھی  ریاضی دان یا کیمیا دان  وغیرہ  نہیں ہو گا۔ لہٰذا یہ ہرگز حیران کن نہیں کہ  ہم  قرونِ وسطٰی کی مسلم معاشرت میں کبھی الخوارزمی یا ابن الہیثم وغیرہ کےناموں کے ساتھ ’امام‘ کا سابقہ  نہ لگا سکے اور یہ بھی خارج از امکان ہے کہ مستقبل بعید کے مسلم معاشروں میں کسی چوٹی کے سائنسدان یا فلسفی  کو کسی دینی مبلغ یا فقیہہ جتنی پذیرائی میسر آ سکے ۔ صاحبو، ہود بھائی اور تقی عثمانی کا کیا مقابلہ۔ بھلا دنیا اور آخرت بھی کبھی ایک جتنے اہم ہوئے ہیں؟

اگر بات یہیں تک رہتی تو کچھ ایسی وحشت کی بات نہ تھی ۔ ہم اپنی  جدو جہد اسی سست رفتاری سے جاری رکھتے اور اپنے مذہب پسند دوستوں کوریت   میں ’مسلم نشاۃ ثانیہ‘ کے خیالی محل تعمیر  کرتے دیکھ کر  مسکراتے ہوئے منہ دوسری طرف کر لیتے۔ لیکن  مسئلہ اب صرف  اپنے مخصوص آدرشوں  کے لئے جدوجہد  کرنے کا نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کا ہے۔ وحشت ناک امر یہ ہے کہ   انسانی ترقی کے ایک مخصوص جدید تصور  سے ظاہری طور پر اختلاف کرتے ہمارے یہ مذہب پسند نقادتعبیر پر اپنی حکومت قائم رکھنے کی خواہش میں ایک طرف تو آزادانہ  سوچنے، سمجھنے اور سوال اٹھانے  کے بنیادی حق  پر اخلاقی استعمار کے ذریعے قدغن لگاتے نظر آتے ہیں  اور دوسری طرف سائنسی مادیت و افادیت  پرستی کی انتہا پر کھڑے ہو کر  سر ے سے سائنس کی مابعدالطبیعاتی فلسفیانہ بنیادوں کا انکار کر دیتے ہیں۔

کسی بھی درجے کی پاکستانی جامعہ  کے فزکس ، ریاضی یا انجینئرنگ کی جماعت میں طالبعلموں سے یہ سوال پوچھ کر دیکھئے کہ  ریاضی کی کتاب پوری دل جمعی سے پڑھنے سے خدا کے  خوش ہونے کی کوئی امید ہے تو آ پ کو معلوم ہو جائے  کہ مرض  کی جڑیں کتنی پختہ ہیں۔ اس استدلال کے لئے بہت زیادہ لفاظی کی ضرورت نہیں کہ اس مخصوص مذہبی نفسیات میں   کم و بیش   تیرہ صدیوں سے  گندھے انسان کی جینیاتی ماہیت  کبھی اسے اس مرحلے کو  اتنی خوش اسلوبی سے طے کرنے کی اجازت  نہیں دے سکتی کہ خدا اور وصال ِ صنم ایک ساتھ ہی مل جائے۔ ہم نے بحیثیت  استاد اپنی کلاس میں ایک سے زیادہ بار دیکھا کہ  وضع قطع سے مذہبی معلوم ہونے والے طالبعلم نے   بہت  اعتماد سے   اپنا مذہبی فریضہ ادا کرتے ہوئے ایک پیچیدہ اور نہایت دلچسپ ریاضیاتی  بحث کے دوران ہمیں  بیچ میں ٹوک کر اذان سننے کی ترغیب دی۔ یقین جانئے ہمیں اس روک ٹوک سے کوئی شکایت نہیں کیوں کہ ہماری نگاہ میں مسئلہ خالصتاً مذہبی نہیں بلکہ  دوئی میں پھنسی مذہبی نفسیات  کی  ترجیحات  کا ہے جس کی مذہبی اور غیر مذہبی   دونوں  جہتیں سراسر افادیت پرستی کے فلسفے پر قائم ہیں جو  خود تردیدی  کے مجسم  پیکروں پر مشتمل نسلوں کی مسلسل ترسیل جاری رکھے ہیں۔یہ  تیسری دنیا کی پسماندہ مذہبی  معاشرت  کا ایک ایسا جدید انسان ہے  جو  اپنی قدیم فطرت میں موجود  عقلی و حبی  وحدت اس طرح  بانٹ چکا ہے کہ  اب اس وحدت کو محض ایک خوبصورت آدرش مان کر اس کی طرف قدم اٹھانے کی فکری قوت  بھی نہیں رکھتا۔

ان حالات میں  فلسفے کے کچھ  ایسے مذہب پسند نقاد جو عملی سائنس کی مابعدالطبیعاتی نظری بنیادوں  کے وجود کے ہی انکاری ہیں ، قرونِ وسطی ٰ  کے محبوب مناظرانہ متون سے ’تہافت الفلاسفہ‘ کشید  کر پوری دیانت داری سے  ایک ایسی نادیدہ بیماری کی دوا بنانے میں مصروف ہیں جو زمانۂ جدید میں اپنا وجود ہی  نہیں رکھتی۔ جب تشخیص ہی درست نہ ہو تو دوا  اکسیر  نہیں بلکہ زہر  کا کام کرتی ہے۔ ہمارے ہاں مختلف سائنسی علوم کے طلباء کچھ اس سطحی  طرز  سے حصولِ علم کے  منزلیں طے کرتے ہیں کہ   دیکارت،  اقلیدس ،  فیثا غورث، کیپلر اور نیوٹن  وغیرہ کے فکری منہج کا  سایہ بھی اپنے تک نہیں پہنچنے دیتے۔ نتیجتاً  پیچیدہ مسائل کے خدوخال مرتب کرنے کی تکنیکی اہلیت تو دور کی بات وہ  اس نفسیاتی تجربے سے ہی بہت فاصلے پر رہتے ہیں ہیں جو انہیں  نفسِ  علم کے ساتھ  ایک  جذباتی لگاؤ میں  جوڑ دے۔ اس پر  فلسفیانہ مباحث سے  کامل  لا تعلقی اور سائنس کی مابعد الطبیعاتی بنیادوں  سے کامل ناواقفیت  انہیں یہ باور کراتی ہے کہ سائنس، مذہب اور فلسفے کو کسی ایسی کلی وحدت میں نہیں باندھا جا سکتا جس   میں ان تینوں چشموں سے ایک ساتھ  فیض یاب ہوتا انسان اپنے وجدان اور  عقل کو ایک  ایسے لطیف اور ماورائے سخن  بندھن  میں  پرو سکے جس میں  اس کی پوری ذات ایک کامل تسکین کے تجربے کے قابل ہو۔

 ظاہر ہے کہ  عوامی سطح پر فلسفے اور سائنس کے کسی ایسے  عام فہم تدریسی   بیانیے کی روایت نہ ہونا جو  سائنس  کے نفسِ علم میں  فلسفے سے مستعار لئے گئے مابعدالطبیعاتی  اور نیم مابعد الطبیعاتی مفروضوں کی موجودگی کو اجاگر کرے   مذہب پسندوں کے اس خاص طبقے  کی وحشت ناک  تنقیدوں  کو  کسی کم از کم درجے میں بھی معقولیت  بخشنے  کی اولین علت ہے۔ ہماری رائے میں ضرورت اس امر  کی ہے  اپنے آپ کو ہماری رائے سے متفق پانے والے  سائنس کے اساتذہ اور شوقین والدین فلسفے کے بنیادی مباحث سے واقفیت پیدا کریں  اور اسکولوں اور کالجوں کی سطح پر سائنس کی تدریس  میں   ان طبیعاتی و مابعدالطبیعاتی  فلسفیانہ مباحث  پر گفتگو کا آغاز کیا جائے جو   سولہویں صدی سے سائنسی استدلال کی بنیادوں  میں موجود ہیں۔کون جانے کب خدا کو ہمارے حال پر رحم آ جائے  اور  نیوٹن، گیلیلیو، ڈارون  اور دیکارت وغیرہ کو  تو خیر دور کی بات ہے ، ہماری تہذیب میں کم ازکم ابن رشد، ابن طفیل، الخوارزمی ،ابن الہیثم  اور ابن باجہ کو ہی وہی  پذیرائی مل  جائے  جو اس وقت غزالی، ابو حنیفہ اور   بخاری   و مسلم وغیرہ کو ملتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جو ایک نوجوان مسلم ذہن  کو سطحی ٹیکنالوجی کی بھیڑچال اور محض ایک   افادیت پسند سائنسی تعلیم  کے فنی  شوق سے اوپر اٹھ کر ندرتِ فکر ، تحقیق و جستجو اور  ایجاد علم کی طرف راغب کر سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 46 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

5 thoughts on “جناب اختر علی سید صاحب کی خدمت میں۔۔۔

  • 16-02-2016 at 8:38 pm
    Permalink

    حیران ہوں یہاں لکھاریوں کی بھرمار ہے۔ اور قاری کوئ نہیں 🙂
    میرامطلب اکثر تحاریر پر کامنٹ نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    عمدہ تحریر ہے۔ گو میں خود کومکمل طور پر محترم عاصم بخشی صاحب سے متفق نہیں پاتا۔ لیکن اسلامی معاشرہ کے ذہنی انحطاط کا تجزیہ اور سائنسی علوم کے حصول کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ اس مرض کے علاج کے لیۓ مجوزہ اقدامات کو کافی حد تک متوازن ہیں۔

    • 17-02-2016 at 8:40 am
      Permalink

      بہت شکریہ ارشد صاحب۔

  • 17-02-2016 at 12:40 am
    Permalink

    عمدہ تحریر ہے. لیکن یہ سب پڑھنے کے بعد, اور بہت تھوڑا سمجھنے کے بعد حیران ہوں کہ آپ یہ جملہ کیسے لکھ گئے ک “شاید خدا کو ہم پر رحم آ جائے “.؟ اگر ہمارہ سب سے بڑا مسلہ ہی یہ ہے کہ ہم سائینس کی مابعداطبیعاتیی بنیادوں سے ہی نابلد ہیں اور یہ کہ اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ ہمیں کم سے کم درجے میں سولہویں صدی کے بعد فلسفے میں اٹھنے والے بہت بنیادی سوالات اپنے بچوں کو پڑھانے چاہءیں . مگر میرے ذہن میں یہ بچکانہ سوال اٹھ رھا ہے کہ سولہویں صدی کے بعد ہی تو ڈیکارٹ کی تشکیک اور (I doubt, that’s why I am) کے مشہورِ زمانہ جملے سے ہی تو جدید علمیات کو مہمیز ملی تھی. اس کے بعد ہی سے اس دنیا کو کسی رحم کرنے والے خدا کی ضرورت نہیں رہی تھی. جس کے بعد کانٹ کے فلسفے سے تو مابعداطبیعاتی علم ہی کو Cut-to-size کر دیا گیا تھا. اور اب پست جدیدیت تو کسی absolute reality and truth کی تحقیق ہی سے ھاتھ اٹھا چکی. میرا خیال ہے سوالات بے شک اٹھائے مگر وہاں سے نہیں جہاں سے مغرب نے شروع کئے تھے بلکہ وہاں سے شروع کریں جہاں مغرب آج پہنچ چکا ہے. اور ایسے کسی خدا کو تو رہنے ہی دیں جو “رحم” بھی کرتا ہو.. ورنہ یقین کرے آپ پر ساءینسی سوچ سے انحراف پر کفر کا فتویٰ اہلِ مغرب کی طرف ہی سے آءے گا

    • 17-02-2016 at 9:02 am
      Permalink

      بہت شکریہ عابد صاحب۔ میں آپ کا اعتراض مکمل طور پر نہیں سمجھ سکا لیکن بہرحال تاریخ کا جبر ایک حقیقت ہے اور اس کے اندر ایک ایسی ناگزیر لاعلمیت ہے جس پر حتمی درجے میں تو اصرار نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی بھی مضمون مسئلے کی تمام جہتوں کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ بندہ اپنی سی کوشش ہی کر سکتا ہے کہ کچھ اہم سوالات پیش کئے جائیں۔ جہاں تک جوابات کی بات ہے تو وہ متنوع ہیں اور مجھے اپنے کسی جواب پر رتی برابر بھی اصرار نہیں۔

      میری رائے میں سوالات وہاں سے نہیں اٹھائے جا سکتے جہاں آج مغرب پہنچا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے نفسِ علم اور سماج کی تشکیل میں کئی ایسے نادیدہ ربط ہوتے ہیں جو زمان و مکان کا تفاعل ہوتے ہیں۔ دیکارت کی تشکیک کوئی تشکیکِ محض نہیں تھی۔ اس کے کچھ بہت معقول مفروضے تھے۔ ہم نے دیکارت کے بنیادی مباحث کا ترجمہ کیا ہے جو آپ میری ویب سائٹ اشارات پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جب تک ہم بحیثیت استاد ایک طالبعلم کو دیکارت سے مکالمے کے لئے تیار نہیں کریں گے تو وہ کیسے جدید مباحث سمجھنے کے قابل ہو گا؟ یہ تشکیک وغیرہ اور پسِ جدیدیت پر تنقدیں ہمارے سماجی تناظر میں محض کلیشے ہیں کیوں کہ شاذ و نادر ہی کسی نے متون کا براہِ راست مطالعہ کیا ہے۔ عمومی طور پر یہ تنقیدیں مغرب میں ہونے والی تنقیدوں کا چربہ ہیں۔ میرا مقصد ان کی علمی افادیت کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ ذہن کی ماہیت کو تبدیل کئے بغیر نفسِ علم میں ایجاد ناممکن ہے۔

      آج جب ہم نصاب میں کارتیزی جیومیٹری پڑھاتے ہیں تو ہمیں طالبعلم کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ آخر دیکارت کے ان سوالوں کا محرک کیا تھا اور وہ ان جوابات تک کیسے پہنچا۔ اس کے برعکس ہم صرف کارتیزی جیومیٹری کی عملی افادیت تک اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ لہٰذا ہمارے ہاں ٹیکنالوجی کی حد تک تو ضرور کچھ نہ کچھ کام ہو رہا ہے لیکن نفسِ علم میں تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب آپ طالبعلم کو دیکارت کی تہوں میں اتاریں گے تو کئی طالبعلم پوری دیانت داری سے خود کو دیکارت کی تشکیک سے متفق پائیں گے۔ اور کئی ایسے ہوں گے جو اس کی انگلی پکڑ کر اگلی تین صدیوں کا سفر کرنے پر کمر باندھیں گے۔ دراصل ہماری تہذیب میں اہل مغرب کے ساتھ ایک کشمکش کی وجہ سے طالبعلم کو دیکارت سے مرعوب ہونا تو سکھایا ہی نہیں گیا۔ آج بھی جب ہم کمرۂ جماعت میں ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو طالبعلم کا اضطراب بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہم دو دنیاؤں میں بٹی ہوئی پریشان روحیں ہیں۔

  • 25-02-2016 at 11:22 am
    Permalink

    علمی متشدد کی اصطلاح دلچسپ ہے- امید ہے کہ اس سے مراد علمی تنگ نظری ہو گی- ورنہ مغرب سے مرعوب لبرل اور بہ آمادہ تشدد مذھب پسند ایک ہی صف میں کھڑے
    نظر آویں گے جو کوءی انصاف کی بات نہیں-

Comments are closed.