دو گمراہ پاکستانی لڑکیوں کی کہانی


نرگس ماول والا نامی اس بے حیا عورت نے ہم پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں۔ جس اخبار کو دیکھیں، اسی کی تصویر منہ چڑا رہی ہوتی ہے۔ جس نیوز یا سائنس ویب سائٹ کو کھولیں، اس کی شکل ہماری غیرت کا تمسخر اڑا رہی ہوتی ہے۔ یا خدا ہم پر یہ دن بھی آنا تھا کہ اقوام عالم میں ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ یہ میم اور لام کی تکرار والے ناموں کی لڑکیاں ہم غیرت مند پاکستانیوں کو کیسے کیسے شرمسار کرتی ہیں۔ پہلے ملالہ ہی کم نہ تھی کہ اب ماول والا نے غضب ڈھا دیا ہے۔

اس گمراہ آتش پرست پارسی لڑکی کی رسی دراز ہو رہی ہے ورنہ اپنے لڑکپن میں یہ اپنے پاکستان سے فرار ہو کر امریکہ نہ چلی جاتی۔ پھر بھی جب تک یہ پاکستان کے مشرقی ماحول میں رہی، سیدھی ہی رہی۔ گل تو اس نے امریکہ میں جا کر کھلائے۔

اول تو لڑکیوں کو تعلیم دینی ہی نہیں چاہیے، لیکن یہ گمراہ لڑکی تو یہاں ایک مشنری سکول میں  پڑھتی رہی جس کی وجہ سے اس کی اخلاقی حالت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ بچپن سے ہی اس کی بے راہ روی کے شواہد سامنے آ رہے تھے۔ یہ چھوٹی سی بچی تھی جب یہ گلی میں سائیکل والے کی دکان سے اوزار لا لا کر اپنی سائیکل کی خود مرمت کر لیتی تھی۔ اس کے والدین نے بھی اسے روکنے کی بجائے الٹا اس برے کام کی حوصلہ افزائی کی۔ پھر یہ امریکہ چلی گئی تو سائنس پڑھنے لگی۔ یہ یونیورسٹی میں پڑھتی تھی تو اس کا ایڈوائز تبدیل ہو کر متعلقہ ڈیپارٹمنٹ سمیت دوسرے شہر چلا گیا۔ اس نے ایک دوسرے پروفیسر رینر وائس کی ٹیم میں شامل ہونے کی کوشش کی۔

رینر وائس نے اسے کہا کہ مجھے بتاؤ کہ تمہیں کیا آتا ہے۔ اس نے بتانا شروع کیا کہ میں نے فلاں فلاں کورس پڑھا ہے۔ وائس کہنے لگا کہ مجھے یہ کتابی باتیں مت بتاؤ، یہ بتاؤ کہ تم کچھ عملی کام بھی کرنا جانتی ہو؟ اس پر اس گمراہ لڑکی نے بتایا کہ وہ سرکٹ ڈیزائننگ، مشین بلڈنگ اور لیزر بلڈنگ وغیرہ بھی کر لیتی ہے۔ ہم شرط لگاتے ہیں کہ گھر گرہستی سے ناواقف اس لڑکی کو انڈا ابالنا تک نہیں آتا ہو گا اور نہ ہی تکیے پر پھول کاڑھ سکتی ہو گی اور بناتی یہ مشینیں ہے۔ بہرحال، مغرب میں تو گمراہی کی قدر ہے، وائس نے اسے فوراً اپنی ٹیم میں شامل کر لیا۔ اسی ٹیم میں اس نے گریوی ٹیشنل ویو کو پکڑنے کے لئے آئینہ سازی کی اور انجام کار گریوی ٹیشنل ویو کو دریافت کر گئی۔ اسی جگہ کام کرتے ہوئے اس نے ہم جنس پرستی شروع کی اور اب ایک اور گمراہ نام نہاد مسلمان بھارتی لڑکی کے ساتھ گناہ کی زندگی بسر کر رہی ہے۔ پاکستان میں ہوتی تو یہ گناہ نہ کرتی۔ اور وہ سب سفید جھوٹ ہے جو راجہ انور نے اپنی کتاب ‘جھوٹے روپ کے جھوٹے درشن’ میں پنجاب یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل کی کچھ مکینوں کے بارے میں لکھا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ایک مذہبی لڑکے کا رشتہ کیوں قبول نہیں کیا جاتا؟

اگر یہ پاکستان میں ہوتی تو نہ تو یہ اتنی تعلیم پاتی کہ اس طرح مادر پدر آزاد ہو جاتی، اور نہ ہی یہ اس طرح کھلے عام گناہ کرتی پھرتی۔ بہرحال اس کی گمراہی پر مہر تصدیق ابھی چند ماہ میں لگ جائے گی۔ ملالہ کے بعد یہ دوسری پاکستانی نژاد لڑکی بننے جا رہی ہے جسے نوبل انعام ملے گا۔ اور یہ پہلی پاکستانی لڑکی بنے گی جسے سائنس کا نوبل انعام ملے گا۔ ابھی تو یہ دنیا کی اول درجے کی تکنیکی یونیورسٹی ایم آئی ٹی کے آسٹرو فزکس (فلکیاتی طبیعات) کے شعبے کی شریک سربراہ ہے اور سائنس کی اس نئی ابھرنے والی شاخ کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک مانی جاتی ہے۔

اس سے بری خبر یہ ہے کہ پاکستان کو لبرل بنانے کے دعوے دار وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پوری قوم اس کے کارناموں پر فخر محسوس کرتی ہے اور یہ (نابکار گناہ گار) عورت ہمارے سائنسدانوں اور طلبا کے لئے ایک مرجع تقلید ہستی ہے۔ پتہ نہیں میاں صاحب کس قوم کا ذکر کر رہے ہیں جو اس پر فخر کرتی ہے۔ مزید افسوس اس بات کا ہے کہ انہوں نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر ایسا لائحہ عمل بنایا جائے جو کہ پاکستانی سائنسدانوں کو ان کے سائنسی اہداف کی منزل تک پہنچانے میں مددگار ہو۔

کاش یہ گمراہ لڑکی پاکستان میں ہوتی تو گریوی ٹیشنل جہالت دریافت کرنے اور گناہ کی زندگی بسر کرنے کا اسے موقع ہی نہ ملتا اور اب تک کوئی غیرت مند شخص اسے قتل کر چکا ہوتا، یا یہ خودکشی کر چکی ہوتی۔

بہرحال قوم ابھی بہت زیادہ گناہ گار اور فاسق نہیں ہوئی ہے۔ قوم کی بچیوں کو ایسی گمراہی سے بچانے کے لئے پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ صرف قبائلی علاقوں میں ہی پانچ سو سے زائد سکول تباہ کئے جا چکے ہیں۔ اور ملک کے باقی علاقوں سے بھی ایسی خبریں آ رہی ہیں جن سے اندازہ ہو رہا ہے کہ ہمارے غیرت مند لوگ اس گمراہی کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

ابھی کل ہی بلوچستان کے قلعہ سیف اللہ سے خبر موصول ہوئی ہے کہ ایک دوسری پاکستانی گمراہ لڑکی اس نابکار نرگس ملال والا کے نقش قدم پر چل کر تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج مسلم باغ کی غیرت مند پرنسپل عابدہ غوث صاحبہ نے بروقت اسے روک دیا۔ ثاقبہ کاکڑ اور درجنوں دوسری طالبات کو امتحان میں بیٹھنے سے روک دیا گیا، کیونکہ وہ اپنی کلاسوں کی بحالی کے لئے پچھلے سال مظاہرے کرتی تھیں کہ ان کو پڑھایا جائے لیکن پرنسپل صاحبہ نے کہا کہ کیونکہ بلوچستان کے قلعہ سیف اللہ میں کوئی خاتون استاد نہیں ہے اس لئے پڑھائی نہیں ہو گی، اور اس غیرت مند خاتون نے کسی مرد استاد کی تعیناتی سے انکار کر دیا جبکہ یہ گمراہ لڑکیاں یہ مطالبہ کر رہی تھیں کہ ان کو کسی نامحرم مرد سے پڑھنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ چھے مہینے تک احتجاج کرتی رہیں اور کالے کوسوں دور کوئٹہ تک گئیں، لیکن حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔

اسی بارے میں: ۔  دولت کی تلاش

وہ لڑکی تو اتنی مغرب پرست تھی کہ ایک مقامی نیوز چینل پر بھی آ گئی اور کہنے لگی کہ سو سے زائد لڑکیوں کا مستقبل اس پرنسپل کی وجہ سے داؤ پر لگا ہوا ہے۔ بخدا ہم تو کہیں گے کہ اس نیک پرنسپل عابدہ غوث نے ان سو لڑکیوں کو اس قعر معزلت میں گرنے سے بچا لیا جس میں نرگس ماول والا گر چکی ہے۔ دس فروری کو امتحان کے کاغذات جمع کروانے کی آخری تاریخ تھی۔ بارہ فروری کو جمعے کے مبارک دن یہ گمراہ لڑکی خودکشی کر کے جہنم واصل ہوئی۔

اور حوصلہ تو دیکھیں اس کا کہ آخری خط میں کیا لکھتی ہے۔ ’بنام پرنسپل۔ اب خوش ہو جا میں نہیں آؤں گی تیرے امتحان میں اے دشمن جان۔ ذرا سوچ کے آنا امتحان حشر میں تیرا مقابلہ مجھ سے ہے۔‘ کہاں یہ خودکشی کر کے جہنم میں جانے والی گمراہ لڑکی، اور کہاں وہ جنتی پرنسپل، لیکن دعوی ہے میدان حشر
میں مقابلہ کرنے کا۔ استغراللہ۔

میاں نواز شریف صاحب، آپ غور سے سن لیں۔ ہماری لڑکیوں کی رول ماڈل نرگس ماول والا یا ملالہ نہیں ہے۔ ہماری ماڈل تو وہ باعصمت نیک لڑکی ہے جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتی ہے۔

چلیں اداس خبریں بہت ہو گئیں، اب ایک لطیفہ سنیے۔ چھے ماہ تک قلعہ سیف اللہ سے لے کر کوئٹہ تک سڑکوں اور ٹی وی چینل پر احتجاج کرنے والی ان لڑکیوں کے مسئلے کا نوٹس نہ لینے والی بلوچستان حکومت کے سربراہ جناب ثنا اللہ زہری نے کمشنر ژوب کو حکم دیا ہے کہ اس المناک واقعے کی انکوائری کی جائے۔


فوٹوکریڈٹ:  آخری خط بشکریہ اے آر وائی ٹی وی

عدنان خان کاکڑ سے آپ ان کی فیس بک وال پر رابطہ کر سکتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 728 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

50 thoughts on “دو گمراہ پاکستانی لڑکیوں کی کہانی

  • 16-02-2016 at 1:57 pm
    Permalink

    پڑھتے پڑھتے رلا دیا۔ عدنان کاکڑ صاحب! آپ لکھتے ہیں یا اس قوم کی جہالت کے آنسو اپنے قلم کی آنکھ سے بہاتے ہیں۔ کاش کوئی قانون اور قانون والا اس پرنسپل کو کٹہرے میں لا سکے۔

  • 16-02-2016 at 2:03 pm
    Permalink

    ادھر بھی یہی حال ہے۔ ہمارے ایک استاد نے ثاقبہ کے واقعے کی طرف توجہ دلائی تھی۔ دل بہت برا ہوا ہے۔

  • 16-02-2016 at 2:39 pm
    Permalink

    Carry on your mission Adnan Sahib, though I am almost hopeless due to military establishment but carry on and continue this sacred mission

  • 16-02-2016 at 2:50 pm
    Permalink

    کسی بھی معاشرے میں پائی جانے والی گھٹن اُس کے افراد کی صلاحیتوں کو پنپنے کا موقع نہیں دیتی۔ خواتین کی تعلیم اور اُن پر موجود ناروا معاشرتی دباؤ نے پاکستانی خواتین کی ترقی کو مسدود تو کیا ہے لیکن خوش آئند امر یہ ہے کہ وہ اس ظالمانہ ماحول کے خلاف بڑی جرأت سے علمِ بغاوت بلند کر رہی ہیں۔ میں اُن تمام خواتین کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جو ان حالات سے لڑ کر اپنا راستہ بنا رہی ہیں ۔

  • 16-02-2016 at 5:26 pm
    Permalink

    Adnan Khan sb I just go through your write up and I am fan of yours now you exposed dark Hippocratic face of Pakistani society beautifully respect for you keep up the good work

  • 16-02-2016 at 5:55 pm
    Permalink

    نرگس ماول والا بھی دوسرے بہت سے انسانوں کی طرح ایک انسان ہیں جیسے دوسرے بہت سے لوک سو فیصد نیک نہیں ہوتے کسی میں برائی کی شرح زیادہ اور کسی میں کم ہوتی ہے لیکن معاشرہ میں ہر شخص کا احترام یکساں اسکے حقوق بھی یکساں ہوتے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں مضمون نگار کو نرگس ماول والا کی ذاتی زندگی کو یہاں زیر بحث نہیں
    لانا چاہیے تھا انھوں نے انھیں ذلیل کرنے کی کوشش کی ہے جو ایک خود ایک ناقابل تلافی جرم ہیں ۔ آپ نے ملک پاکستان اور اسکے باسیوں کی بے عزتی کی ہے ۔ یہ بھی یاد رکھیئے کہ یہ پاکستان ہی ہے کہ یہاں آپ کی بے لگا میاں برداشت ہورہی ہیں تو پاکستان اور اسکے باسیوں کے صبر و حلم کو غنیمت جانیے ۔
    محترمہ نرگس ماول والا میرے نزدیک قابل احترام و عزت ہیں ہمیں انکی صلاحیتوں کی قدر کرنی چاہیے اور انھیں محبت و احترام کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے انکی پرائیویٹ زندگی کیا ہے ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے ۔ میری اور آپکی طرح وہ بھی اپنے اعمال کی خود خدا کے آگے خود ذمہ دار ہیں ۔ میں نے یا آپ نے آخرت میں انکی ذاتی زندگی کے بارے میں جواب نہیں دینا ہیں ۔ میرے نزدیک وہ ایک انسان ہیں اور انسان میں خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور برائیوں بھی ۔ بے عیب ذات صرف خدا اور اسکے برگزیدہ انبیاء ہیں ۔ میں علم دوست ہونے کی بناء پر انکا نہایت احترام کرتا ہوں اور انسانی دوستی کی بناء پر محبت بھی ۔
    ڈاکٹر شاہ حسین ٹوکیو
    [email protected]

  • 16-02-2016 at 6:08 pm
    Permalink

    ڈاکٹر شاہ حسین ٹوکیو صاحب، آپ ایک عظیم آدمی ہیں جو ایسی شاندار سوچ رکھتے ہیں۔ اتنے عظیم آدمیوں کو ایسی پوسٹوں کی بجائے سنجیدہ موضوعات پر تفکر کرنا چاہیے۔ طنز اور مزاح وغیرہ عامیوں کے لئے ہوتے ہیں جو ان اصناف سخن کو سمجھ سکتے ہیں۔

  • 16-02-2016 at 7:03 pm
    Permalink

    بڑے زبردست طریقے سے معاشرتی برائیوں کو اجاگر کیا ھے آپ نے ۔۔ھمارے معاشرے میں جس دن عورت کو مکمل حقوق مل گئے معاشرہ ترقی کر جائے گا

  • 16-02-2016 at 8:17 pm
    Permalink

    Kash ki is Qom pe azaab aye or yea sare k sare gharak ho jaye

  • 16-02-2016 at 8:30 pm
    Permalink

    ایسی کیا بات تھی جس نے ثاقبہ کو اپنی جان لینے پر مجبور کیا؟ کیا کوئی اپنی زندگی صرف اسلئے ختم کر سکتی ہے کہ اس کا ایڈمیشن فارم نہیں بیھجا گیا۔ بالکل بھی نہیں۔ اصل میں ہوا یوں کہ ثاقبہ کے والد ایک سکول ٹیچرہیں۔ اسکی بہن ایم فل کر چکی ہے۔ اوربدقسمتی سے خود ثاقبہ نے بھی میٹرک میں پورے ڈسٹرک میں ٹاپ کیا تھا۔ اب ثاقبہ کے خواب بڑچکے تھے۔ وہ مستقبل میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی اور اس کے لئے لازمی تھی اچھی پڑھائی۔
    ثاقبہ نے اپنی سہیلیوں کے ہمراہ پریس کلب کے باہر احتجاج کیا۔ ان کا مطالبہ بڑا خطرناک تھا کہ ان کے کالج میں کوالیفائڈ ٹیچر ہونے چاہیے۔ تاکہ وہ آگے کمپیٹ کرسکے اور میڈیکل کالج میں اس کا داخلہ ممکن ہوسکے۔ ادھر کالج انتظامیہ کو اس احتجاج کی خبر ہوگئی۔ اور وہ غصہ ہوگئے کہ یہ کیا مطالبہ ہے۔ اسطرح تو انکی نوکریاں جا سکتی ہے۔ یا کم از کم کوالیفایڈ سٹاف کی موجودگی میں ان کی حیثیت کیا رہ جائےگی۔ انہوں نے ثاقبہ کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ اور سب سہیلیوں کا داخلہ فارم بیجھنے سے انکار کیا۔ ثاقبہ بے وقوف تھی۔ اس نے بھی ڈٹ کر لڑنے کا فیصلہ کیا۔ پھر کیا تھا نیا کوالیفائڈ سٹاف تو نہیں آیا۔ البتہ ثاقبہ کے گھروالوں کے لئے نئی مصیبتیں ضرورآگئی۔ ایک بھائی پرایف ائی آر ہوگیا۔ وہ حوالات میں بند ہوگیا۔ بڑی بہن کو قتل کرنے کے منصوبے بننے لگے۔ بچوں کی یہ حالت دیکھ کر والد سے بھی رہا نہ گیا اس نے اپنی انا اور غیرت کوایک طرف پیںکھ دیا اور لگے لوگوں سے معافیہ مانگنے۔ اس نے کالج پرنسپل ،ایس ایچ او اور پتہ نہیں کس کس کے قدموں میں اپنا سر رکھا۔ ہاتھ جوڑے۔ جولی پھیلائی۔ معافیہ مانگی اور اپنی بچوں کی زندگی کے بھیک مانگنے لگے۔ ایسے حالات میں ساقبہ نے سوچا کہ وہ مستقبل میں ڈاکٹر بنے یا نہیں اپنی خاندان کے لئے مصیبت ضرور بن گئی ہے۔ اس نے قلم اٹھایا اور اس آخری پیغام کے ساتھ اپنے خاندان، بہن بھائیوں کو مصیبتوں کےپہاڑ سے نکال دیا۔

    اب خوش ھو جا۔ میں نہیں آوّنگی
    تیرے امتحان میں، اے دشمن جان
    زرا سوچ کے آنا امتحان حشر میں
    تیرا مقابلہ مجھ سے ہے۔

    ثاقبہ تو بے وقوف تھی۔ اس کو ایسے خواب نہیں دیکھنے چاہیے تھے۔ لیکن اب مجھےبڑا ڈر لگ رہا ہے۔ اگر حشر کے دن مجھے بھی قاتلوں کے صف میں کھڑا کیاگیا تو٫۔۔۔۔
    کیونکہ اس نظام کے بنانے اور قایم رکھنے میں تھوڑا بہت کنٹریبیوشن تو میرا بھی ہے۔
    اعجاز خان بٹگرام

  • 16-02-2016 at 10:30 pm
    Permalink

    Very nice. A real and puposeful satire in Urdu in that in a Bay-Hiya society that has for deacdes lost semantic sense of what Bay-Hiyai real means

  • 16-02-2016 at 11:41 pm
    Permalink

    Wao, A gift for her Principal…

  • 16-02-2016 at 11:49 pm
    Permalink

    کچھ ایسی تحریریں ہوتی ہیں جن پر تبصرہ کرنے کو بھی الفاظ نہیں ملتے، جیتے رہو عدنان

  • 16-02-2016 at 11:54 pm
    Permalink

    Low quality satire.Crap

  • 17-02-2016 at 2:24 am
    Permalink

    Well done sir proud to be the part of your institution

  • 17-02-2016 at 2:43 am
    Permalink

    طنز، تمسخر اور ذہنی جلق

    آج نرگس مولا والا سے وابستہ ایک مضمون پڑھا جو ظاہری طور پر طنز، حقیقت میں تمسخر اور فطرت میں ذہنی جلق تھا۔
    لگتا ہے نرگس کے نام اور شخصیت پر گند اچھال کر شریف بدماشوں کو ننگا کیا گیا تھا!
    تمسخر اڑانا اسان ہے، لیکن طنز ایک انتہائی مشکل فن ہے جہاں مہین ذہانت کی دھار سے ہلکے پھلکے الفاظ میں گہرا گھاؤ لگایا جاتا ہے-
    لیکن جو زبان اور غلاظت یہاں استعمال کی گئی ہے نرگس کسی طرح بھی اُس کی مستحق نہیں۔ وہ ایک اعلیٰ پیمانے کی سائینسدان ہے جسے موقع ملا کہ بجائے اپنے دانش کو مقید کرنے کے وہ اُس کا صحیح استعمال کرے اور دوسرے قابل افراد کے ساتھ مل کر انسانی ترقی کے اسباب ڈھونڈے۔ جس شخص نے اُس پر تھوکا ہے وہ سب اُس کے اپنے چہرے پر گری ہے۔
    وہ ماحول جہاں ایک عورت کی عقل اور سمجھ کو مسخ کر دیا جاتا ہے وہاں ایک ایسے ستارے کا ابھرنا اچھے مستقبل کی علامت ہے، گو سب گمراہ مرد فوراً سوگوار ہو جاتے ہیں کیونکہ اُن کے لئے ایک ایسی عورت ہر اُس سبق کی نفی ہے جو وہ ساری عمر پڑھتے رہے ہیں۔

    اگر پاکستان میں موجودہ حکمرانوں پر چوٹ کرنی تھی تو کوئی ایسا مظمون لکھا جاتا جہاں کوئی بے گناہ اور قابل انسان مجروح نہ ہوتا صرف تیر صحیح مقام پر لگتا، لیکن یہاں تو اُس زبان کو کھلی چھُٹی دی گئی ہے جسے صحافت کے اداب کا پابند ہونا چاہئے تھا۔
    سخت زبان جہاں مناسب ہو جائیز ہے، لیکن پھر وہ کسی اوٹ سے نہیں بلکہ کھل کر استعمال ہو تو بات بنتی ہے۔
    بحرحال مجھے یہ مضمون پڑھ کر شدید افسوس ہوا۔
    (سائیں سُچّا)
    دو گمراہ پاکستانی لڑکیوں کی کہانی
    نرگس موال والا نامی اس بے حیا عورت نے ہم پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں۔ جس…
    humsub.com.pk
    GillaKommenteraDela

  • 17-02-2016 at 3:08 am
    Permalink

    آج کتنے دنوں بعد اتنی شاندار تحریر ملی ہےپڑھنے کو ۔۔۔۔ سچی بات تو یہ ہے کاکڑ صاحب کہ لکھاری کی صحافتی ایمانداری کا ہُنر اسکے نظریاتی حلیہ پر انحصار کرتا ہے جسے آپ نے ثابت کیا ہے۔ آپ سے ہم جیسوں کو سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ آپ کی مزید تحریروں کا منتظر ہوں۔ شہزاد عرفان

  • 17-02-2016 at 4:42 am
    Permalink

    Its a beautifully written satirical column that made me smile and cry at the same time.

  • 17-02-2016 at 5:12 am
    Permalink

    اِس تحریر کو پڑھنے کےبعد دل چاہا طنزکے تیر ہمارے حکمرانوں کو کاش چلنی کر سکیں ۔۔جب تک ہمارا نطام ایسا رہے گا تب تب خواب چکنا چور ہوتے ہی رہیں گے ۔۔اگر عورت کو مکمل تحفط و حقوق معاشرے میں ملنے لگیں کوئی اپنی جگہ سے نہیں بھٹکے گا ۔۔۔۔۔بچہ نا سکول میں محفوظ نا مدرسوں میں ۔۔سوال بس سے بڑا یہی ہے

  • 17-02-2016 at 6:46 am
    Permalink

    بهت خوب،اعجاز صاحب. واقع میں نظام کے حوالے سے ہم سب سے پوچها جاۓ گا. اصل عبادت ایک برے ظالمانہ نظام کو کو ختم کرکے ایک عادلانہ نظام لانے کے لیے کوشش کرنا ہے.

  • 17-02-2016 at 6:58 am
    Permalink

    Kakar SB khud pe zulm kya he kisi ke abb ujager kr ke .
    That’s her personal life

  • 17-02-2016 at 9:56 am
    Permalink

    Itni Kaat…? bhai Qalam se likh hay ya Talwar se

  • 17-02-2016 at 12:29 pm
    Permalink

    ہمں کسی کی ذاتی زندگی پر نظر نہیں رکھنی چاہئے بلکہ دیکھنا یہ چاہئے کہ اس خاتون نے کتنا بڑا کام کیا ہے۔

  • 17-02-2016 at 2:09 pm
    Permalink

    خان صآب ،، آپ کا تیر بہدف ہے- اِسے دکھتی رگ پہ ہاتھ کہا جاۓ تو سو فی صد درست ہوگا-
    نرگس صاحبہ کا کارہاۓ نمایاں تو اپنی جگہ لیکن یہاں اتنا ضرور کہوں گا، جو سلوک ثاقبہ کے ساتھ روا رکھا گیا، اور سوسائٹی کےپڑھے لکھے لوگوں نے جس ذہنی حالت میں اس بچی کو پہنچایا، کہ وہ خودکشی پہ مجبور ہوگئ- ان حالات کو مدِنظر رکھتے ہوۓ دیکھا جاۓ تو سوات کے اؔس وقت کے حالات میں ملالہ کا علم دشمنوں کے خلاف سٹینڈ لینا حیران کن ہی ہے اور نہایت بہادرانہ عمل ہے

  • 17-02-2016 at 6:12 pm
    Permalink

    آج ہی عدنان خان شکوہ کر رہے تھے کہ فیس بک پر محض تین چار فیصد ہی پڑھے لکھے ہیں ۔ پہلے تو ان کے دعوے سے اتفاق نہیں تھا آپ کا کمنٹ پڑھ کر ان کے دعوے پر یقین کرنا پڑا ھے

  • 17-02-2016 at 7:04 pm
    Permalink

    Allah aur oss k Rasool SAWW ny mrs aur aurat dono py taleem ko fars qarar dia aur ye admi keh ra a k lrkiyon ko taleem deni e ni chaheay..ap khud zehni pasmandgi ka shikar hen Adnan sahib

  • Pingback: دو گمراہ پاکستانی لڑکیوں کی اصل داستان – ہم سب

  • 17-02-2016 at 11:05 pm
    Permalink

    اللہ ہم پر رحم فرمائے۔ ہم توبہ کرتے ہیں کیونکہ ہم اپنی بچیوں کو باکسنگ کی تربیت دے رہے ہیں تاکہ وہ نہ صرف خود اعتمادی کے ساتھ اپنی حفاظت کرسکیں اور ایسی سائنسدان اور حصول علم کا شوق رکھنے والی لڑکیوں کا منہ توڑ سکیں۔ کیا آپ ہمیں بتائیں گے کہ ہم اس کا ازالہ کس طرح کرسکتے ہیں تاکہ ہم یہ گناہ کرتے رہیں اور اللہ بھی ہمیں معاف کرتارہے۔

    محمد حسین قمبرانی
    صدر
    پاک شاھین باکسنگ کلب، لیاری، کراچی

  • 18-02-2016 at 1:51 am
    Permalink

    The good thing is that this satirical piece is written by a Pakhtun who hails from the land of Balochistan! The culture of ignorance and indifference can only be changed from within by the rebels who know how to point out the malaise and prescribe the remedy! A well sugar coated bitter reality!! Well done

  • 18-02-2016 at 3:50 pm
    Permalink

    ارے بھائی اسکو تو بخش دو۔ وہ ایک جینوئین سائنسدان ہے ۔ اسکا حوالہ سائنس ہے ۔ سماجیات یا مذہب نہیں ۔ وہ پرویزہود بھائی کی طرح نہیں دو نمبر سائنس دان نہیں ہےجو سائنس کے علاوہ ہر کام کرتا ہو۔
    اگر دیکھیں تو نرگس وال تمام لبرلز کے منہ پر طمانچہ ہے۔ وہ شاید کہہ رہی ہے کہ دیکھو پاکستانی لبرلو۔۔۔۔ ایسا ہوتا ہے جینوئین لبرل ۔۔۔۔ تم لوگ جدید تعلیم کے باوجود سائنس دان تو کیا بنتے تہذیب یافتہ بھی نا ہوسکے اور میں نے جدید سائنسی دریافت میں اپنا نام بھی شامل کرلیا ۔ تمہیں دین کے خلاف غلاظت بھرا منہ کھول کر کروڑوں انسانوں کی دل آزاری ہی سے فرصت نہیں ۔ تم مغربی تہذیب کی طوائف ہو ۔ جو مغرب سے صرف گند کچرا لیکر منہ پر مل کر بڑے فخر سے ایک چوک پر کھڑی ہوجاتی ہے یہ احساس کیے بغیر کے آس پاس گذرنے والے اس سے کتنی گھن کھا رہے ہیں

  • 18-02-2016 at 10:02 pm
    Permalink

    un believeable harsh truth real face of society weldone my brother to show us our faces

  • 20-02-2016 at 3:06 pm
    Permalink

    ڈاکٹر شاہ حسین صاحب،
    آپ کی اس رائے سے اتفاق ناگزیر ہے مگر کیا کیجیے کہ ہمیں اپنے معاشرے میں کوئی برائی نظر آئے نہ آئے ذاتی زندگیوں کو پرکھ کر غلطیاں بتانے والوں کی تعداد کم نہیں ہو رہی۔ یہ وبا ہماری کئی نسلیں نگل چکی ، نہ جانے کب ہم اپنے اصل مسائل کو دیکھنے کی جرت کریں یا کبھی نہیں کر سکیں گے اللہ جانے۔
    ہم پر مسلط حکمران ہمیں کیڑے مکوڑوں کی طرح ہر روز روندتے ہیں، اپنے ذاتی غلامیوں کی طرح ہماری زندگیوں کا فیصلہ منٹوں میں اپنے ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر کرتے ہیں۔ آج بھی بھوک، افلاس ، کھانا، سر پر چھت، پہننے کو کپڑے ہمارے سب سے اہم مسائل ہیں جبکہ مغرب اسان کو اُس کی عظمت اور خالق کی تخلیقات سے روشناس کرانے کی فکر میں دن رات صرف کر رہا ہے۔
    شرم آنی چاہیے ہمیں ایسی بے ہودہ باتیں کرتے ہوئے کہ کون کتنا گناہ گار ہے کون فرشتہ ہے۔

  • 20-02-2016 at 9:08 pm
    Permalink

    بھائی عدنان! نرگس کے ہم جنس پرست ہونے کا آپ کے پاس کیا ثبوت اور حوالہ ہے۔ پلیز واضح کیجیے ورنہ اتنا گندا الزام لگانے سے پہلے ہزار بار سوچ لیا کریں۔

  • 20-02-2016 at 9:14 pm
    Permalink

    محترمہ ایسے معاملات پر کمنٹ کر لینے سے پہلے گوگل کر لینا مناسب ہو تا ہے۔ یہ دو لنک ملاحظہ کر لیں۔ ممکن ہے کہ آپ کی تسلی ہو جائے۔

    http://www.sciencemag.org/careers/2012/06/just-herself

    NOGLSTP
    National Organization of Gay and Lesbian Scientists and Technical Professionals

    http://www.noglstp.org/publications-documents/announcements-2/2014-11-8-noglstp-recognition-awards-to-atherton-bland-burke-and-mavalvala/

  • 22-02-2016 at 5:31 pm
    Permalink

    I agree with Dr. Shah Hussin you have no right to talk or write about other people’s private life especially ladies.. Mr. Adnan would you like your private life being discussed in public. I personally admire Malala and Nurgis for their work. What they do in their private life is a matter between them & God.Mr. Adnan it looks you are trying to preach Talibaans ideology. No thank you we had enough of that .

  • 22-02-2016 at 5:36 pm
    Permalink

    Sir if that lady is herself discussing her private life in public, then what do you order to this humble person?

    Better give her a shut up call, sir.

  • 16-03-2016 at 6:18 pm
    Permalink

    Amna agar apny link read kar leay hen tu please mujhy b inform karen. kia ye ilzam hy ya such men hi ye larrki hum jins parast hy.
    please inofme me.

  • 16-03-2016 at 10:13 pm
    Permalink

    ايك اورجاهل خاتون عافيه صديقى كوبهى ياد فرماليتي. ياهوسكتاهي كه اسكا تذكره وارا نه كهاتا هو!!!!

  • 16-03-2016 at 10:15 pm
    Permalink

    اس خاتون نے کس میدان میں قوم کا نام روشن کر کے اسے گمراہ کیا ہے جناب؟

  • 16-03-2016 at 10:35 pm
    Permalink

    دراصل وه بهى MITكى فاضل سائنسدان هین. گوگل کرملین.

  • 16-03-2016 at 10:39 pm
    Permalink

    جناب ہر ڈگری یافتہ پاکستانی خاتون کا نام اس مختصر مضمون میں شامل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کی تعلیمی کی چاہ میں یا تعلیمی میدان میں کچھ خدمات ہوں تو ضرور مطلع کریں۔ جہاں تک یاد پڑتا ہے، ان محترمہ کی وجہ شہرت ان کا القاعدہ سے تعلق تھا۔

  • 18-03-2016 at 1:45 am
    Permalink

    She is a brave girl, life style is her personal choice no body has any right to say any thing about it,we should be proud of her work.

  • 29-03-2016 at 3:22 am
    Permalink

    ریاض خان ھزاروی
    میڈیا نے حقایٔق سے پردہ نہیں اُٹھایا اور اسی غلط فہمی میں ھم پرنسپل صاحبہ کو گُناہ گارسمجھ بیٹھے، اللہ آپ کو اور پرنسپل
    صاحبہ کو جزا دے ۔ آمین

  • 06-04-2016 at 1:02 pm
    Permalink

    Kisi Aur ki Beti ko Behaya kehnay ka Hosla sirf.aap mein dekha hi

  • 06-04-2016 at 9:12 pm
    Permalink

    Mujy TOU aj tk in librals ke samaj nahi a Saki…..ye kehlata B apny AP ko muslman hn or Islam K against B hn….kia Islam ye keh K kisi gunah gar ko chor dainay ke bat krta ha K ye uska zati muamla ha…..agr aisa ha TOU dunya ma koe qanoon hona he nahi chahya THA…..Islam ke bunyad haya ha….or Jo haya K kanoon ko pamal kray uske sarzanish B Na ke jai ….kia yehi liberalism ha? Kia koe bahaya admi chahy ga K uske baiti noble prize holder scientist B ho or sath ma kuch or B ho?kia Pakistan ma reh kr scientist nahi bna ja skta? Byshumar Pakistani aisay hn Jo Pakistan ma educate huai or Europe or America ma bari bari posts py bsithay hn…lakin unko noble prize nahi mil skta …sochain q?….q K us K lya unhain ya TOU librals bn Na ho GA ya by hayai ma UN khuda K dushmani KA hmneva bn Na ho GA…..hum SB NY aik din anay VALA ha jb khuda K hazoor khray hona ha …kia TB hum apny nahi Pak sal Allah o alaih e vasallam sy nazrain mila skain gy jb vo ye swal krain gy K khuda NY AP PR reham kia apko muslman ghranay ma paida kia or AP sari zindagi librals ism K tranay parhtay rahay ….or agla swal shayad ye ho K mutasir kis sy thay?…….khuda hum SB ko ye ehsas dy day K us deen K deen e Islam K Tay krda mushkil tareen rastay KA intekhab kr K is arzi dunya sy rukhsat HON or abad Ul abad ke shandar zindagi K mustahiq tehrain……yaha us zindagi py chalany sy pehly he rah e frar ikhtyar krnay valo sy mera aik swal ha…..kia khuda or us K Habib PR yaqeen rakhay ho…..kon mana kr raha ha batyo ko educate krnay sy mgr khuda ra by hayai ko aik jurm TOU kaho….

Comments are closed.