اپنی حکومت میں ہی بجلی کی قلت دور کر دیں گے: وزیراعظم


nawaz sharifوزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ عوامی امنگوں کے مطابق اگر کوئی حکومت کام کررہی ہے تو اسے کام کرنے کا موقع دینا چاہیے، ووٹ عوام دیتے ہیں اور حکومت کوئی اور توڑدیتا ہے اب یہ سلسلہ ملک سے ہمیشہ کے لئے ختم ہونا چاہیے۔
بہاولپور میں نومنتخب بلدیاتی نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ آج سے 20 سال قبل جو ممالک ہم سے پیچھے تھے آج آگے نکل گئے اور ہم ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے، 1999 ءتک ہماری پالیسیاں کامیاب ترین پالیسیاں تھیں، ملک میں موٹرویز اور ڈیمز بننے کا آغاز ہوا، معیشت بہتر ہونا شروع ہوئی اور پاکستان ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک بنا، ہر میدان میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ سلسلہ کیوں توڑا گیا، ہماری حکومت کو 1993 اور دوسری حکومت کو 1999 میں توڑا گیا، ووٹ عوام دیتے ہیں اور حکومت کوئی اور توڑدیتا ہے، یہ سلسلہ ملک سے ہمیشہ کے لئے ختم ہونا چاہیے، عوام کی امنگوں کے مطابق اگر کوئی حکومت کام کررہی ہے تو اسے کام کرنے دینا چاہیے، اگر بغیرکسی رکاوٹ کے کسی بھی حکومت کو خدمت کا موقع دیا جاتا تو ملک کی تقدیر بدل گئی ہوتی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نیب حکام سرکاری افسران کو ڈراتے ہیں، تصدیق کے بغیر معصوم لوگوں کو تنگ کرنا ناقابل برداشت ہے، نیب کو اپنا کام ذمے داری سے کرنا چاہیے اور چیئرمین نیب ایسی شکایات کا نوٹس لیں اور اس کا ازالہ کریں جب کہ حکومت سرکاری افسران کو ڈرانے یا خوفزدہ کرنے پر ضروری قانونی کارروائی کرسکتی ہے۔
وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ملکی ترقی کا خواب دیکھنے والے کے لئے جلاوطنی کا وقت بہت دشوار ہوتا ہے، ملک کا سب کچھ سمجھنے والے کو7 سال ملک سے باہر رکھا گیا،جس شخص کاسب کچھ پاکستان ہواوراس کوپاکستان سے دورکردیا جائے، یہ تکلیف دہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک وہ بھی حکومت تھی جس نے 1999 میں ہماری حکومت گرا کر کہا تھا کہ قوم کو 7 نکاتی ایجنڈا دے رہے ہیں لیکن ایجنڈا کہیں نظرنہیں آیا اور ملک میں دہشت گردی، لوڈ شیڈنگ اور دیگر مسائل پیدا ہوگئے جس کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت آئی اور اس نے بھی بجلی کی طرف توجہ نہیں دی، حکومت پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بستر ہے، یہ ایک ذمہ داری ہے جس کا عوام سے پوچھنے سے پہلے اللہ پوچھے گا کہ تمھیں اختیار دیا گیا تم نے اس کی لاج کیوں نہ رکھی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کسی سے دشمنی میں بات نہیں کرتا، ماضی کی حکومتیں اگر عوام کے مسائل کی طرف توجہ دیتیں تو آج یہ صورت حال نہ ہوتی، پاکستان میں بجلی بحران کیوں پیدا ہوا یہ ایک سوال ہے جس کا جواب قوم کو ملنا چاہیے، ماضی کی حکومتوں نے اتنی غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اور یہاں نوبت بیس بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہونے لگی، پانچ سال پہلے کی صورت حال کو یاد کیا جائے تو لوڈ شیڈنگ کی انتہا ہوگئی تھی، جب بجلی کے مزید کارخانے لگائے جا سکتے تھے تو کیوں نہیں لگائے گئے یہ ایک مجرمانہ غفلت تھی، ہم نے آگے بڑھنا ہے، یہ کہنا بجا کہ ماضی کی حکومتوں نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے کچھ نہیں کیا لیکن بجلی کی قلت کو بھی ہمیں دور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا، آج کل نئے نئے سیاست دان پیدا ہوگئے جو جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں بولتے، ایسی سیاست بہت جلدی عوام سمجھ جاتے ہیں، جو نہیں سمجھ سکے وہ سمجھنے کی کوشش کریں۔
ملک سے بجلی کی قلت کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپنی حکومتی مدت میں بجلی کے بحران کو حل کرنے کی کوشش کریں گے اور پوری امید ہے کہ اپنے دور حکومت میں ہی ملک سے توانائی بحران اور بجلی کی قلت کو ختم کر دیں گے، عوام کو دہشت گردی، غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل کا بھی خاتمہ کر کے دیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments