اصطبل بند کرنے سے کیا فائدہ، جب گھوڑے بھاگ گئے


 عامر خان کی یوٹیوب وڈیو میں‌ مٹھائی کی دکان اور ڈھیر سارے پیلے پیلے لڈو دیکھ کر ایکدم دل للچا گیا۔ ہر دن ذیابیطس کے مریض‌ دیکھ دیکھ کر ہم لوگوں‌ نے کب سے میٹھا کھانا انتہائی کم کیا ہوا ہے۔ سال میں‌ دو مرتبہ خون کا ٹیسٹ بھی کراتے ہیں۔ کافی میں‌ بھی اسپلینڈا ڈالتے ہیں، نہ فانٹا، نہ کوک نہ جوس۔ ایک آنٹی نے کہا کیوں‌ کیا آپ کو ذیابیطس ہے؟ جی نہیں‌ ابھی تک تو نہیں‌ ہے اور آگے بھی نہ ہو تو بہتر ہے۔ دل چاہا کہ ہاتھ بڑھا کر ایک لڈو منہ میں‌ رکھ لوں‌ لیکن ایسا نہیں‌ ہوسکتا۔ نارمن سے پیلے لڈو کھانے کے لئیے یا تو اوکلاہوما سٹی جانا پڑے گا یا پھر ڈیلس۔ہمارے اریب قریب کون سے میٹھے ملتے ہیں؟ ڈنکن ڈونٹ، کیک، کریم رول، پیسٹریز، آئس کریم! سبھی کچھ ہے، بس لڈو نہیں۔

آخری بار لڈو کب کھایا تھا؟ یاد نہیں۔

ایک دیسی شادی میں‌ گئے ہوئے تھے۔ وہاں‌ کسی میکسیکن مہمان نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ یہ گلاب جامن ہیں۔ میں‌ سوچ میں‌ پڑ گئی کہ گلاب جامن کو اردو میں‌ گلاب جامن کیوں کہتے ہیں، نہ اس میں‌ گلاب ہے اور نہ ہی جامن!

وہ میرا بیٹا ہے! شادی میں‌ ایک انگریز خاتون کو بتایا۔ اچھا اس کی آنکھیں‌ آپ پر گئی ہیں۔ یہ سن کر مجھے ہنسی آئی۔ کانٹیکٹ لینس ختم ہوگئے تھے تو میں‌ نے نوید سے ادھار مانگے اور مجھے یاد بھی نہیں رہا کہ آنکھیں‌ ہری دکھائی دے رہی ہوں‌ گی۔ ہماری ایک جیسی نظر خراب ہے۔ اس کے لینس ہرے ہیں۔ میں‌ نے وراثت میں‌ اپنے بچوں‌ کو صرف مایوپیا دیا ہے۔ ‌ نئی ریسرچ سے یہ بھی پتا چلا کہ ذہانت جن جینز پر پائی جاتی ہے وہ ماں‌ کی طرف سے بچوں‌ میں‌ منتقل ہوتے ہیں۔ یعنی کہ آج تک اسپرم بینکوں سے جس طرح‌ خواتین اس انفارمیشن کی بنیاد پر تین سو ڈالر سے چار ہزار ڈالر تک کی قیمت میں‌ اسپرم خریدتی آئی ہیں ان کو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہی نہیں‌ تھی کہ کون سے ڈونر نے پی ایچ ڈی کیا ہوا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ جن لوگوں‌ میں‌ مایوپیا یعنی کہ دور کی نظر خراب ہوتی ہے، ان کا آئی کیو ان لوگوں‌ کے مقابل زیادہ پایا گیا جن کو مایوپیا نہیں‌ تھا۔ ہوسکتا ہے کہ چشمہ لگانے سے وہ خود کو ذہین محسوس کرنے لگتے ہوں۔ جیسے اینکلوتھڈ کاگنیشن میں‌ ہوتا ہے۔ لیب کوٹ پہننے سے آئی کیو بڑھ جاتا ہے۔ انسان جو پہنتے ہیں اس کا ان کی سائکالوجی پر اثر پڑتا ہے۔ اس لئیے اگر آپ کسی گروپ کے ذہن اور روئیے کو قابو میں‌ کرنا چاہتے ہوں‌ تو وہ ان کے ڈریس کوڈ سے کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ فوجی یا اسکول یونیفارم کی مثالیں‌ ہمارے سامنے ہیں۔ ان باتوں‌ کا چاند اور ستاروں‌ سے کوئی تعلق نہیں ہے، ان میں‌ انسانی اور سماجی ہاتھ واضح ہے۔

ہمارے خاندان میں‌ سب لوگ عینک لگاتے ہیں۔ نانا بھی لگاتے تھے اور میری امی بھی۔ ابو نے ان سے ٹائم پوچھا تو انہوں‌ نے کہا کہ مجھے دکھائی نہیں‌ دے رہا۔ ہائیں! وہ پریشان ہوگئے کہ اتنی بڑی گھڑی دکھائی نہیں دے رہی۔ امی کے پاس دو چشمے ہوتے ہیں تاکہ ایک گم جائے تو دوسرا لگا کر اس کو ڈھونڈا جاسکے۔ امی چشمہ لگا کر سوتی تھیں تو ان کے چھوٹے بہن بھائی کہتے تھے کہ آپی چشمہ لگا کر سوتی ہیں‌ تاکہ خواب صاف صاف دکھائی دیں۔

دنیا میں‌ اندھے پن کا سب سے بڑا سبب ذیابیطس ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں‌ میں‌ گلاؤکوما، موتیا اور آنکھوں‌ کے پیچھے موجود پردے جس کو ریٹینا کہتے ہیں کی بیماریاں‌ شامل ہیں۔ صرف خون میں‌ شوگر کا زیادہ ہونا ہی خطرناک نہیں۔ اگر شوگر نہایت کم ہوجائے تو بھی اس سے آنکھوں‌ پر منفی اثر پڑتا ہے۔

ایک نئی مریضہ آئیں۔ ان کی عمر کچھ پچاس کی دہائی میں‌ ہوگی۔ ان کو دل کے دورے کے علاج کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کرنے کے بعد اینڈوکرائن کلینک میں‌ بھیجا گیا تھا کہ ذیابیطس کے لئیے فالو اپ کریں۔ ان سے پوچھا کہ آپ کو ذیابیطس کب سے ہے؟ تو انہوں‌ نے کہا کہ یہ ساری چیزیں نئی ہیں۔ اس ایڈمیشن سے پہلے ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول، ذیابیطس اور دل کی بیماری ان کے علم میں‌ نہیں‌ تھی۔ یہ سب باتیں‌ دل کے دورے کے بعد معلوم ہوئیں۔ یہ خاتون کافی فربہہ بھی تھیں۔ انہوں‌ نے کہا کہ ہمیں‌ تو کوئی صحت کی پرابلم نہیں‌ تھی اس لئیے کبھی ڈاکٹر کو دکھانے بھی نہیں‌ گئے۔

اس کیس پر سوچیں۔ ان کو دیکھ کر میرے ذہن میں‌ میری امی کا کیس گھوم گیا جن کو قریب سات آٹھ سال پہلے ذیابیطس کے ساتھ تشخیص کیا تھا اور تمام دوائیں شروع کیں۔ آج وہ زندہ بھی ہیں‌ اور ذیابیطس کی کوئی پیچیدگیاں‌ بھی نہیں‌ ہوئیں۔ یہ سیکھنے کا ایک لمحہ ہے۔ اگر ہم نہ ایکسرسائز کررہے ہیں، نہ ہی اپنی خوراک کے صحت مند ہونے کا خیال کررہے ہیں، وزن بڑھتا جارہا ہو اور ہم بلڈ پریشر پر نظر نہیں رکھ رہے ہیں اور خون کے ٹیسٹ بھی نہ کروا رہے ہوں تو اس طرح‌ ہم اپنے مستقبل کے بارے میں‌ کیا سوچ رہے ہیں؟

یہی وجہ ہے کہ ہر روز کم عمر لوگوں‌ کو ہارٹ اٹیک ہورہے ہیں، کسی کے پیر کٹ رہے ہیں، کسی کو ڈیالسس کروانا پڑ رہا ہے۔ ہر کوئی یہی سوچتا ہے کہ ہمارے ساتھ ایسا نہیں‌ ہوگا۔ نیویارک میں‌ کی گئی ایک ایپیڈمیالوجک اسٹڈی کے مطابق جنوب ایشیائی افراد میں‌ ذیابیطس کا خطرہ دیگر نسلوں‌ کے افراد سے بڑھ کر پایا گیا۔ اسی وجہ سے جنوب ایشیا میں‌ لوگوں‌ کی طبعی زندگی بھی کم ہے۔

ایک اسٹڈی کے مطابق جو لوگ اپنا روز وزن کرتے تھے ان میں‌ مٹاپے کے خلاف مزاحمت پائی گئی اور وہ اپنا وزن قابو میں‌ رکھنے میں‌ زیادہ کامیاب رہے۔ اگر بیمار نہ بھی ہوں‌ تو بھی سال میں‌ ایک مرتبہ چیک اپ کروانا چاہئیے۔ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ اس وقت اصطبل بند کرنے سے کیا فائدہ، جب گھوڑے بھاگ گئے ہوں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔