عیسائیت کے دور سیاہ کی ایک جھلک


zubair hussain (600x456)چند برس ہوئے محترم عامر ہاشم خاکوانی صاحب نے اپنے ایک کالم میں اسلامی خصوصاً پاکستانی مذہبی پیشواوں کو مشورہ دیا کہ وہ’عظیم‘ عیسائی مصلح دین جان کلوین کی زندگی اور کارناموں کا مطالعہ کریں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دینی اصلاحات کرکے دین اسلام کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کریں. اتفاق سے انہی دنوں لارنس اور نانسی گولڈسٹون کی تصنیف کردہ ایک کتاب ’شعلوں سے باہر‘ میرے زیر مطالعہ تھی. یہ کتاب اس سیاہ دور کی ایک جھلک دکھاتی ہے جب جنگیں تلواروں کے ساتھ ساتھ کتابوں کے ذریعے بھی لڑی جاتی تھیں. اس دور میں عیسائی دنیا پر کیتھولکوں کا غلبہ تھا. اصل بائبل کا براہ راست مطالعہ جرم تھا اور اس جرم کی سزا موت تھی. نیز مروج عیسائی عقائد سے ذرا سا بھی اختلاف کرنے والوں پر بے پناہ تشدد کیا جاتا تھا حتیٰ کہ انھیں کھمبوں سے باندھ کر زندہ جلا دیا جاتا. اگر کسی کتاب میں کوئی بات پادریوں کو ناگوار گزرتی تو وہ اس کتاب کی تمام کاپیاں ضبط کرکے نذر آتش کر دیتے. اکثر اوقات کتاب کی آخری کاپی مصنف کی ٹانگ سے باندھ کر اسے بھی زندہ جلا دیتے. محترم عامر ہاشم خاکوانی صاحب کو شاید علم نہ تھا کہ پروٹسٹنٹ عیسائیوں کا محبوب رہنما جان کلوین بھی اپنے دور کے ایک عظیم طبیب اور انسان دوست عالم دین کو محض ایک کتاب لکھنے کی پاداش میں زندہ جلا دینے کے انسانیت سوز جرم کا مرتکب ہوا تھا.
اس عظیم فزیشن یا طبیب کا اصل نام مائیکل ویلّنووانس تھا لیکن کیتھولکوں کے عتاب سے بچنے اور اپنی شناخت چھپانے کے لئے اس نے اپنا نام تبدیل کرکے مائیکل سروٹس رکھ لیا. وہ ستمبر1009 ءیا 1011 میں سپین میں پیدا ہوا. دینی اور طبی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ طب کی اعلی تعلیم کے لئے فرانس چلا گیا. یورپی زبانوں کے علاوہ وہ عربی اور عبرانی زبانوں پر بھی عبور رکھتا تھا. فرانس میں دوران قیام اس نے بطلیموس کی جغرافیہ اور بہت سی شاہکار عربی کتابوں کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا. اصل بائبل اور قرآن کا مطالعہ کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ بہت سے عقائد مثلاً عقیدہ تثلیث، کنواری مریم کے بطن سے عیسیٰ کی ولادت، اور عیسیٰ کی الوہیت، بائبل اور عیسائیت کی ابتدائی تعلیمات کا حصہ نہیں تھے۔ شاہ روم قسطنطین کے حکم پر بلائی گئی کونسل آف نیسا نے یہ عقائد زبردستی عیسائیت میں داخل کئے. جن پادریوں نے اس جعل سازی پر احتجاج کیا انھیں قتل یا جلاوطن کر دیا گیا یا بھاری statueانعام و اکرام دے کر خرید لیا گیا.
مائیکل سروٹس نے اپنی کتاب ’تجدید عیسائیت‘ میں ان باطل عقائد کا پردہ چاک کر دیا. کیتھولک چرچ کے ساتھ پروٹسٹنٹ چرچ والوں نے بھی اس کتاب کو توہین عیسائیت قرار دیا۔ کتاب پر پابندی لگا دی گئی اور اس کی کاپیاں ضبط کرکے جلانے کا احکامات جاری کر دئیے گئے. نیز کیتھولک چرچ نے اعلان کر دیا کہ اگر یہ کتاب کسی شخص کے قبضے سے برآمد ہوئی تو اسے بھی کتاب کے ساتھ زندہ جلا دیا جائے گا. مائیکل سروٹس گرفتار ہوا اور پادریوں نے اسے سزائے موت سنا دی. جس دن سزائے موت پر عمل درآمد ہونا تھا اس دن سورج طلوع ہونے سے پہلے سروٹس جیل سے فرار ہو گیا. کہا جاتا ہے کہ سروٹس نے جس پولیس افسر کی قریب المرگ بیٹی کا علاج کیا تھا اس نے اسے جیل سے بھاگنے میں مدد دی.
جیل سے فرار ہونے کے بعد سروٹس نے اٹلی کا رخ کیا جہاں سپانش باشندے بڑی تعداد میں آباد تھے اور وہ اسے تحفظ فراہم کر سکتے تھے. معلوم نہیں کیوں اس نے سیدھے اٹلی جانے کی بجائے جینوا کا راستہ اختیار کیا. جینوا میں ان دنوں جان کلوین کا راج تھا. کیتھولک چرچ نے جان کلوین کی گرفتاری اور سزائے موت کا اعلان کیا ہوا تھا اور وہ بھی فرانس سے بھاگ کر جینوا میں پناہ گزین ہو گیا تھا. اس کے ہم خیال بھی بڑی تعداد میں وہاں آ کر آباد ہو گئے تھے. سروٹس ہفتہ کی شام کو جینوا پہنچا اور ایک سرائے میں قیام کیا. اگلے روز اتوار تھا اور جینوا میں مقیم ہر فرد چرچ میں حاضری دینے کا پابند. لہذا سروٹس کو بھی چرچ جانا پڑا. شومئی قسمت سے اس چرچ میں جان کلوین خود خطبہ دے رہا تھا. اس نے اور اس کے حواریوں نے سروٹس کو اس کی گندمی رنگت کی وجہ سے فورا” پہچان لیا اور اسے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا. جینوا کے قانون کی رو سے مدعی اور مدعا علیہ دونوں کو مقدمے کا فیصلہ ہونے تک جیل میں رہنا پڑتا تھا. مگر جان کلوین نے خود جیل جانے کی بجائے اپنے باورچی کو سروٹس کے ساتھ جیل بھیج دیا حالانکہ سروٹس کے خلاف مقدمے کا مدعی وہ خود تھا. سروٹس کو جیل کے ایک تنگ و تاریک کمرے میں بھوکا پیاسا رکھا گیا. قید کے دوران اسے غسل کرنے یا لباس بدلنے کی بھی اجازت نہ تھی. قصہ مختصر مقدمہ چلا تو سروٹس نے عدالت میں دلائل سے اپنا دفاع کیا. اس کا موقف تھا کہ وہ مسافر تھا اور جینوا شہر سے گزر رہا تھا. اس نے جینوا میں نہ تو کوئی جرم کیا اور نہ ہی کوئی قانون توڑا. لھذا اس کی گرفتاری اور عدالتی کاروائی غیر قانونی تھی. لیکن عدالت تو جان کلوین کی مٹھی میں تھی اور وہ سروٹس کو ذاتی عناد کی وجہ سے عبرتناک سزا دینے پر تلا ہوا تھا. عدالت نے فیصلہ دے دیا کہ “تجدید عیسائیت” کی آخری کاپی سروٹس کی ٹانگ سے باندھ کر دونوں کو جلا دیا جائے. خیال رہے تجدید عیسائیت کی سب کاپیاں پہلے ہی ضبط کرکے جلائی جا چکی تھیں. کتاب کی یہ آخری کاپی غالباً وہ تھی جو سروٹس نے جان کلوین کو بھیجی تھی. گیلی لکڑیوں کا ایک ڈھیر لگا کر سروٹس کو اس پر بٹھا دیا گیا. گیلی لکڑیوں کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ وہ آہستہ آہستہ جلیں اور سروٹس کو مرتے وقت زیادہ سے زیادہ تکلیف ہو. نیز اسے مزید اذیت دینے کے لئے اس کے سر پر گندھک ڈالی گئی. پروٹسنٹ پادری قریب کھڑے اسے آگ میں زندہ جلتا دیکھ رہے تھے. انھیں توقع تھی کہ اس قدر تکلیف دہ اور خوفناک موت کو سامنے دیکھ کر سروٹس اپنے ’باطل‘ عقیدہ توحید سے تائب ہو جائے گا اور تثلیث اور عیسیٰ کی خدائی کے عقیدے پر ایمان لے آئے گا. سروٹس نے آگ پر زندہ جل کر مرنا قبول کر لیا لیکن توحید سے دستبردار نہیں ہوا. توحید کے اس شہید کی کہانی تاریخ کے گمشدہ اوراق کا حصہ بن جاتی اگر چند عیسائی موحد اپنی جان پر کھیل کر تجدید عیسائیت کی تین کاپیاں بچا نہ لیتے. یہ تین کاپیاں آگ سے کیسے محفوظ رہیں؟ یہ بہت دلچسپ اور سنسنی خیز داستان ہے جو قارئین اس داستان میں دلچسپی رکھتے ہیں انھیں لارنس اور نانسی گولڈسٹون کی کتاب ’شعلوں سے باہر‘ کا مطالعہ کرنا چاہیے. آپ ایک بار اس کتاب کو پڑھنا شروع کریں گے تو ختم کئے بغیر چین سے bookنہیں بیٹھ سکیں گے. اگرچہ اس کتاب کا سٹائل جاسوسی ناولوں جیسا ہے یہ کتاب ناول نہیں، سچی کہانی ہے.
مائیکل سروٹس کی کتاب تجدید عیسائیت کے مطالعہ سے انکشاف ہوا کہ وہ اور ایک مسلمان سائنسدان ابن نفیس انسانی جسم میں خون
کی گردش ولیم ہاروے سے ستر سال پہلے دریافت کر چکے تھے.
مائیکل سروٹس کے توحیدی عقائد سے متاثر ہونے والوں میں مشہور کیمیا دان جوزف پریسٹلے، والٹیر، بنجامین فرینکلن، تھامس جیفرسن، رالف ایمرسن، اور جان آدمس بھی شامل ہیں. والٹیر، جسے یورپ کا ضمیر بھی کہتے ہیں کیونکہ اس نے یورپینوں کو قائل کیا کہ مغربی تہذیب کی نشو و نما یا تعمیر میں اسلامی اور مشرقی تہذیبوں کا بھی اہم کردار ہے، جان کلوین کو ایک قاتل اور منافق سمجھتا تھا. تھامس جیفرسن اسے تاریخ کے بدترین ظالموں میں شمار کرتا ہے. میں کسی اور موقع پر ان عیسائی موحدوں اور ان کی تحریک توحید پر بھی ایک کالم لکھوں گا.
خیال رہے مائیکل سروٹس کی یہ المناک کہانی عیسائی پادریوں کے ظلم و بربریت کے سمندر میں صرف ایک قطرہ ہے. لیکن اس کہانی سے قارئین بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ اہل مغرب نے چرچ کو ریاستی امور سے کیوں الگ کر دیا. یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جس دن اہل مغرب نے چرچ اور ریاست کو الگ الگ کر دیا اور اپنی عقل، شعور، اور منطق استعمال کرکے اپنے مسائل حل کرنا شروع کئے نہ صرف ان کے مسائل حل ہونا شروع ہو گئے بلکہ ان پر دریافتوں اور ایجادات کے دروازے کھل گئے. اگر مسلمان خصوصاً پاکستانی اپنے مسائل حل کرنا اور امن، ترقی، اور خوشحالی کی منزل پانا چاہتے ہیں تو انہیں بھی یہی راہ اپنانا ہو گی. ریاست اور چرچ یعنی مذہب کبھی ایک ساتھ نہیں چل سکتے.


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “عیسائیت کے دور سیاہ کی ایک جھلک

  • 17-02-2016 at 5:08 am
    Permalink

    Janab Zuber Hussain Sahib
    I read your article, very informative and usefull.
    I live in Manchester and doing research on ORIANTALISM AND ISLAM.
    I have written a book ISLAM AND WEST in Urdu which I would like to send you but how?
    dr a Shakoor mbe

  • 17-02-2016 at 5:10 am
    Permalink

    Janab Zuber Hussain Sahib
    I read your article, very informative and usefull.
    I live in Manchester and doing research on ORIANTALISM AND ISLAM.
    I have written a book ISLAM AND WEST in Urdu which I would like to send you but how?
    dr a Shakoor mbe

  • 18-02-2016 at 12:42 am
    Permalink

    Dear Brother Dr Shakoor
    If your book is available on Amazon, I can get it from there. I have Prime Membership with Amazon and can receive the book in 2 days. Otherwise, you can send me a message via Facebook Messenger. I will provide you with my address. Thanks in advance

  • 22-02-2016 at 12:12 am
    Permalink

    “The fire was lit. Green wood does not burn easily, does not roar up. It smokes and sputters, burning unevenly and slowly. And so Michael Servetus’ life was not extinguished quickly in a blazing wall of fire. Rather, he was slowly roasted, agonizingly conscious the whole time, the fire creeping upward inch by inch. The flames licked at him, the sulphur dripped into his eyes, not for minutes but for a full half hour. ‘Poor me, who cannot finish my life in this fire,’ the spectators heard him moan. At last, he screamed a final prayer to God, and then his ashes commingled with those of his book.”

Comments are closed.