میڈیا کی ادارتی چھلنی کہاں گئی؟


پہلا نیوز چینل آیا تودل خوشی سے بھر گیا کہ اب جب کیمرہ سب کچھ دکھائے گا تو دودھ  کا دودھ  اور پانی کاپانی ہو جائے گا۔ کیمرے کی آنکھ وہ بھی دیکھ لے گی۔ جو اخبارات کی نظر سے اوجھل رہتا ہے۔ پہلے نیوز چینل کے آنے کی دیر تھی کہ یکے بعد دیگرے چینل پہ چینل آنے لگے۔ اور یوں ملک پاکستان میں چینلوں کی سرسبز فصل لہلہانے لگی۔ سچ جھوٹ کا نتارا تو رہا ایک طرف، پتہ یہ چلا کہ یہ میڈیا تو افواہ کوبھی خبربناکرپیش کرتاہے۔ اور افواہ بھی ایسی کہ دیکھنے والے کی جان ہی نکال دیتا ہے۔ گزشتہ دنوں لاہور ڈیفنس میں سلنڈر دھماکہ ہوا تو تھوڑی ہی دیربعد نمبرون، نمبرون کا راگ الاپنے والے چینل نے گلبرگ میں ایک اور بم دھماکے کی خبرچلا دی۔ نہ صرف خبر چلا  دی بلکہ اسے بریکنگ نیوز بنا کر پیش کیا اوراس پراپنے رپورٹر کی رائے (بیپر) بھی لے لی۔ پھر کیا تھا دیکھتے ہی دیکھتے تمام (سوائے ایک آدھ کے) ٹی وی چینلوں نے گلبرگ میں ایک اور دھماکہ کرا دیا۔ کسی رپورٹر نے خبر کی تصدیق ضروری سمجھی نہ کسی چینل کے نیوز ڈیسک نے۔ سوال یہ ہے کہ ٹی وی چینلوں کے نیوز ڈیسک کہاں ہیں؟ اور ادارتی چھلنی کا کیا بنا؟ مرحومہ کو کب دفن کیا گیا؟

نیوز ڈیسک کے بارے میں ہمیں جو استاد ڈاکٹر مہدی حسن نے پڑھایا وہ یہ تھا کہ نیوز ڈیسک ایک ایسی ادارتی چھلنی ہے۔ جس سے ہرخبر ہوکر گزرتی ہے۔ اور جھوٹی خبر، افواہ، من گھڑت سٹوری، ٹیبل سٹوری، خواہشات پر مبنی کہانی، ون سائیڈڈ ورزن، سب کچھ اس چھلنی میں رک جاتا ہے۔ اور صرف اصل ، خالص، معروضیت پرمبنی خبر ہی آگے جاتی ہے لیکن خواہشات اور خوف کو خبروں کا روپ دے کر اسے آن ائیر کرنے کا سلسلہ جو ٹی وی چینلوں نے شروع  کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے اور اس کی سزا عوام کو ڈیپریشن کی صورت میں مل رہی ہے۔ کیا یہ دہشت گردی نہیں؟ کیا دہشت گرد اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو گئے؟ دہشت گردوں نے جو دہشت پھیلائی زیادہ تر ٹی وی چینل اس کا حصہ بن گئے۔ دہشت گردوں کو اورکیا چاہیے۔

اس غلطی کی کم سے کم سزا یہ ہونی چاہیے کہ جس ٹی وی چینل نے بھی یہ خبر چلائی وہ لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کے جرم میں لوگوں سے معافی مانگے۔ لیکن حضور…. اتنی اخلاقی جرات کہاں۔ کسی ایک ٹی وی چینل نے بھی دہشت پھیلانے کی معافی نہیں مانگی۔ دراصل کچھ نیم خواندہ لوگوں کے ہاتھ میں کیمرہ اور مائیک آ گیا ہے۔ ان لوگوں کی تربیت کا بھی کوئی خاص انتظام ان اداروں نے نہیں کیا۔ یہ لوگ کیمرے کے سامنے آ کر جو انٹ شنٹ بولتے ہیں اور پھراس پراصرار بھی کرتے ہیں کہ اسے خبر سمجھا جائے۔

تلفظ کی غلطیاں، لوگوں کے غلط نام، غلط عہدے، واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، کسی خاص زاویے کو کو رکرنا، ذاتی خواہشات کو تجزیہ قرار دینا۔ لکھی ہوئی تحریرمیں ہجوں کی غلطیاں، یہ سب کیا ہے؟ سوسائٹی جب ڈوبتی ہے تو ایک ٹائی ٹینک کی طرح پوری سوسائٹی ڈوبتی ہے یا ابھرتی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شعبہ زندگی ترقی پر ہو اور دوسرا زوال پذیر، ادب ترقی  کر رہا ہو اور سیاست کی ناو ڈوب رہی ہو۔ صحافت کو زوال ہو اور کھیل ترقی کے نصف النہار پر ہو۔ معاشرہ ایک ٹائی ٹینک کی طرح پورے کاپورا ڈوبتا ہے یا پھر پورے کا پورا بھرتا ہے۔

اگر ایک پچیس سالہ خوبصورت اور خوش و خرم دوشیزہ کو صرف دس روز کیلئے نیوزچینل دیکھنے کی سزا دی جائے تو ٹی وی پر آنے والی خبروں اور دانشوروں کے تجزیے سن سن کر وہ مالیخولیا کا شکار ہو جائے گی اور ہر آنے جانے والے سے پوچھے گی، بھائی صاحب اب اس ملک کا  کیا بنے گا؟ ملک بچے گاب ھی یا نہیں۔ ٹی وی چینل مایوسی پھیلانے اور بیماریاں بانٹنے والے ادارے بن گئے ہیں۔ میرے ایک دوست دل کے ڈاکٹر ہیں۔ ان  کا کہنا ہے وہ اپنے مریضوں کو دوا تجویز کرنے کے ساتھ ساتھ ٹی وی سے دور رہنے کابھی نسخہ تجویزکرتے ہیں۔ ان  کا کہنا ہے کہ اگرکوئی دل کا مریض یہ کہے کہ ڈاکٹر صاحب، کیا میں صرف روزانہ ایک گھنٹہ ٹی وی دیکھ  لیا کروں تو میں کہتا ہوں۔ ہاں ایک گھنٹے کی اجازت ہے لیکن نیوز چینل نہیں۔ ترکی کا ڈرامہ۔

زیادہ ترنیوز چینلوں کے پاس خبروں کی کوئی ورائٹی نہیں۔ صرف سیاست ہے اور کرائم۔ کیونکہ ان دونوں سے ٹی وی کا پیٹ بھرنے میں آسانی ہوتی ہے اور کسی تحقیقی سٹوری پر کام کرنے کے لئے جومحنت چاہئے، اکثر کم تعلیم یافتہ لوگ اس سے عاری ہیں۔ بس مکھی پہ مکھی مارو اور اتنا ہی کافی ہے۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ کوئی تحقیقی سٹوری کیوں نہیں دیتے آپ؟ تو اکثر ایک ہی جواب ملتا ہے۔ ملتا کیا ہے؟ اور پھر اس کے بعد دونوں طرف لمبی خاموشی۔

پچھلے دنوں پاکستان کے ٹی وی ناظرین کے بارے میں رپورٹ چھپی ،جس پرٹی وی چینلوں کے نیوزروم میں کوئی بحث ہوئی ،نہ ڈیسک کے لوگ سر جوڑ کر بیٹھے، اور تو اور ٹی وی مالکان نے بھی اس رپورٹ کو نظر انداز کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق ٹی وی ناظرین کی ایک بڑی تعداد یعنی تریسٹھ  فیصد لوگ نیوز چینل چھوڑ کرآہستہ آہستہ انٹرٹینمنٹ، سپورٹس اور ترکی کے ڈرامے دیکھ رہے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ لوگ نیوز چینلوں کو کیوں چھوڑ رہے ہیں؟ میں خود اب پی ٹی وی ٹیون کر چکا ہوں جہاں انتہائی سادگی سے خبریں پڑھی جا رہی ہوتی ہیں۔ باقی نیوزچینلوں پہ تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی جنگ ہو رہی  ہے اور ساری رپورٹنگ محاذ جنگ سے کی جا رہی ہے۔ ابھی ابھی آپ کو خبر دیں کہ کراچی میں گینگ وار کا آغاز ہوچکا ہے۔  دو گھنٹے کی فائرنگ میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔ گینگ وار جیسے الفاظ سنتے ہی یوں لگتا ہے جیسے کراچی میں خانہ جنگی شروع ہو چکی ہو۔ میں اپنے بچوں کو پورا پاکستان گھما چکا ہوں سوائے کراچی کے۔ جب کراچی کی سیاحت کا ذکر کرتا ہوں تو میری خاتون اول کہتی ہے ناں ناں کراچی بندہ ٹرین پہ  جاتا ہے اوراخبار پہ واپس آتا ہے۔ کراچی کے ہمارے رپورٹر دوستوں کو اس بارے میں سوچنا چاہیے کہ کراچی کی ٹورازم  کو کون نقصان پہنچا رہا ہے؟

نیوزچینل مجال ہے کوئی سافٹ سٹوری دیں۔ ہاں کبھی کبھارا ن کے ہاتھ  بیرون ملک کی فوٹیج  لگ جائے تو پھر دکھا دیتے ہیں، وہ بھی بے جان اور پھسپھسے سکرپٹ کے ساتھ۔ نیوز چینل والوں کو شاید زیادہ تعلیم یافتہ لوگوں کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ان کے خیال میں جب بیس ہزار والا نوجوان موجود ہے تو کیا ضرورت پڑی ہے کسی تجربہ کار کوایک لاکھ  دینے کی۔ بیس ہزار والا ورکر جو مواد پروڈیوس کر رہا ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ ویسے بھی جوکام بعض چینل کر رہے ہیں اس کے لئے واقعی کسی تعلیم کی ضرورت نہیں بس اردوٹائپ رائیٹنگ آنی چاہئے۔

بعض نیوز چینلوں نے ہر خبر کو بریکنگ نیوز بنا دیا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی خبر پر بھی بریکنگ نیوزکے ٹکر چل رہے ہوتے ہیں۔ اور اینکر گلا  پھاڑ پھاڑ کر بار بار اس بریکنگ نیوز کو بول کر کمزور دل والوں کاامتحان لے رہے ہوتے ہیں۔کسی ایم این اے نے کسی سیاسی رہنماکے بارے میں اوٹ پٹانگ بیان دے دیا توبریکنگ نیوز، کوئی سیاسی رہنما جلسہ گاہ کیلئے گھرسے چل پڑا تو بریکنگ نیوز، چیف جسٹس سپریم کورٹ کے گیٹ نمبر دو سے داخل ہوں گے ، بریکنگ نیوز، تاندلیانوالہ میں فائرنگ سے کتا زخمی بریکنگ نیوز، محلہ رام  پورہ میں ماسی بشیراں کی کمیٹی ٹوٹ گئی بریکنگ نیوز۔ یہ تماشا کہاں جا کر رکے گا؟

تجویز ہے کہ ٹی وی چینلوں میں ایڈیٹر کی پوسٹ متعارف کرائی جائے اور کم از کم کسی بیس سالہ اخباری نیوز کے تجربے کے حامل صحافی کو اس پوسٹ پر بٹھایا جائے۔ جو کسی بھی خبر کو آن ائیر جانے سے پہلے اسے سخت ایڈیٹنگ کی چھلنی سے گزارے۔ لائیو جانے والے صحافیوں کی ٹریننگ کی جائے۔ انہیں اپنے علم کے بارے میں جدید کتب سے استفادے کیلئے بک الاونس دیا جائے۔ انہیں نائٹ الاونس دیا جائے۔ انہیں مناسب آرام کیلئے وقت دیا جائے اور سالانہ تنخواہ کے ساتھ ایک ماہ کی چھٹی دی جائے۔ایسے صحافی کولائیو جانے کی اجازت ہو جس کا تلفظ درست ہو، جو کسی حکومت، سیاسی جماعت یا کسی پارٹی کا نمائندہ نہ ہو، بلکہ غیر جانبدار ہو۔ ورنہ وہ وقت جلد آنے والا ہے جب سب لوگ ان خبری ڈراموں سے اکتا کر ترکی کے ڈرامے دیکھنا شروع کر دیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈاکٹر ارشد علی کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر ارشد علی کی دیگر تحریریں