مسلمانو سنو ! ’دشمن‘ کیا کہتا ہے


wisi 2 babaہربرٹ ای میئر امریکا کے ایک مقبول مصنف ہیں اور انہیں دائیں بازو کا ایک اہم مفکر سمجھا جاتا ہے۔ وہ رونلڈ ریگن کے دور صدارت میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے خصوصی معاون تھے اور سی آئی اے کی انٹیلی جنس کمیٹی کے وائس چئیرمین بھی رہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ وہ امریکا کے پہلے اعلیٰ افسر تھے جنہوں نے سوویت یونین کے انہدام کی درست پیش گوئی کی اور انہیں اس کارکردگی پر انٹیلی جنس کی دنیا کا سب سے بڑا ایوارڈ بھی ملا۔ ہربرٹ ای میئر نے 2008ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں منعقد ہونے والی ایک بزنس کانفرنس میں ایک مقالہ پڑھا تھا۔ اس کانفرنس میں دنیا کے اہم کاروباری اداروں کے سربراہان نے بھاری تعداد میں شرکت کی تھی۔ اس مقالے میں مسلمانوں کے بارے میں بہت سی باتیں کہی گئی تھیں جو ا ٓٹھ برس کا عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ چیدہ چیدہ نکات پیش کرتا ہوں۔

یہ تیسری بار ہے کہ مغرب پر مسلمان دہشت گردوں نے حملہ کیا ہے۔

کئی ملین مسلمان اس دنیا میں ہیں جو نارمل انسانوں کی طرح رہتے ہیں۔ جب شدت پسند مسلمانوں کو اقتدار ملتا ہے تو وہ مغرب پر حملہ کرتے ہیں ایسا پہلا حملہ ساتویں صدی میں ہی کر دیا گیا تھا جب مسلمان مغرب پر چڑھ دوڑے تھے جبکہ دوسرے حملے کی شروعات سولہویں صدی سے ہوئی جو سترہویں صدی تک جاری رہا۔

۔1683ء میں عثمانی ترک ویانا کے دروازوں تک پہنچے ہوئے تھے۔ وہیں اسلام اور مغرب کی فیصلہ کن جنگ ہوئی۔ مغرب جیت گیا اور ترقی کر گیا۔ مسلمان جنگ تو ہارے ہی لیکن ذہنی طور پر بھی پسپا ہو گئے۔ اس جنگ کا فیصلہ گیارہ ستمبر 1683ء کو ہوا۔ اس دن سے مسلمان بطور مذہبی گروہ کے وہ راستہ کھو بیٹھے جو انہیں جدید دنیا سے ہم آہنگ کردیتا۔

سولہویں صدی میں یہودی اور عیسائی مذہبی رہنماؤں نے حقیقت تسلیم کی اور مذہب کو انسان کی زندگی کا اہم حصہ برقرار رکھنے اور ماننے کا سمجھوتہ کرتے ہوئے گرجا کو ریاستی عمل سے الگ کر لیا۔ جو بات یہودی اور عیسائی مذہبی پیشوا سمجھ گئے ، مسلمان وہ سمجھنے میں ناکام رہے ۔ مسلمان اپنے مذہبی تشخص کی بنیاد پر ریاستی اختیار لینے کی جدوجہد سے دستبردار نہ ہوئے۔ جبکہ قانون کی پاس داری، انسانی حقوق اور معاشی آزادی وہ نئے اصول تھے جن پر مغربی معاشرے نے اپنی تعمیر نو کی۔ جب ان اصولوں کو اختیار کیا گیا تو سائنس کا انقلاب آیا، دنیا کو بہترین آرٹ، میوزک اور ادب میسر آیا۔

گیارہ ستمبر 1683ء کی ویانا میں شکست نے مسلمانوں پر بہت برا نفسیاتی اثر کیا۔ وہ بجائے آگے بڑھنے کے پیچھے چلے گئے۔ انہوں نے یہ پکا فیصلہ کر لیا کہ ان کا عروج  بس اب تبھی ممکن ہے جب وہ اپنا ابتدائی ریاستی ماڈل اپنائیں گے جو اپنی ساخت میں عسکریت پسند تو تھا ، اس کا جدیدیت سے بھی کوئی واسطہ نہیں تھا کہ وہ اپنی ساخت ہی میں ہم عصر دنیا سے کوئی واسطہ نہیں رکھتا تھا۔

HerbMeyer1عیسائیوں اور یہودیوں کا رول ماڈل کوئی ملک اس دنیا میں ہے تو وہ امریکہ ہے۔ امریکہ ترقی کا بھی ایک ماڈل ہے یہ اپنے بچے پالنے کے لئے بھی دنیا کا بہترین ملک ہے۔ مسلمانوں نے مغرب سے اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے عین اسی دن گیارہ ستمبر کو امریکہ پر دہشت گرد حملہ کیا جس دن انہوں نے مغرب سے ویانا میں فیصلہ کن شکست کھائی تھی۔

گیارہ ستمبر کا سبق یہ ہے کہ اب ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں تھوڑے سے لوگ یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار سکیں۔ انسانوں کو مارنے کے جدید طریقے اب اتنے زیادہ ہیں کہ بہترین انٹیلی جنس بھی ہر حملہ روکنے کے قابل نہیں ہے۔ یہ یاد رہے کہ بہترین انٹیلی جنس کو جس قسم کا ہونا چاہئے وہ امریکیوں کو بھی دستیاب نہیں ہے۔اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اب ایسی کارروائیوں کو برداشت اور نظرانداز کرنے کی ہماری صلاحیت صفر ہوجانی چاہئے۔ اب ہم ڈرٹی بموں اور دہشت گردوں کو مذاق ، واہمہ اور خیال سمجھنے کی عیاشی نہیں کر سکتے۔

دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے امریکی دو کام کر رہے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ دنیا کے تیس ممالک میں امریکی افواج بیٹھی ہیں جو دہشت گردوں کا تعاقب اور خاتمہ کر رہی ہیں۔ اس سب کی بہت کم تشہیر کی جاتی ہے۔ ہمارا دوسرا اقدام اصل میں فوجی کارروائی ہے جو عراق اور افغانستان میں جاری ہے اور اسی کی زیادہ تشہیر ہوتی ہے۔

زیادہ تر عدم استحکام مڈل ایسٹ سے آ رہا ہے۔ اسی لئے ہم سوچ رہے ہیں کہ اگر ہم شدت پسندوں کو ہٹا کر ماڈرن لوگوں کو اقتدار میں لے آئیں تو شاید یہ اسلام کو جدید دنیا سے ہم آہنگ کر سکیں۔ مسلمان کو اس قابل کر سکیں کہ وہ دنیا میں اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور اس کی ترقی میں اپنے حصے کا کردار ادا کر سکیں۔

جب ہم عراق اور افغانستان کی صورتحال کا جائزہ لیں تو ہمیں ان مثالوں کو دیکھنا چاہئے جو ان ملکوں کے ماڈرن ہونے کی نشانیاں ہیں جیسے خواتین اب ورک فورس کا حصہ بن رہی ہیں افغانستان کے کالجوں میں اب لڑکیاں زیادہ جا رہی ہیں۔ عراقی اپنے نظام حکومت اور آئین کے حوالے سے کچھ سنجیدگی ظاہر کرنے لگ گئے ہیں۔ لوگ ہم امریکیوں پر کئی اعتراض کر سکتے ہیں کہ ہم اچھا کر رہے ہیں یا برا کر رہے ہیں لیکن اگر اسلام جدید دنیا سے ہم آہنگ ہو رہا ہو تو یہ ہماری کامیابی ہے۔

ہماری یہ جنگ بہت اچھی جا رہی ہے۔ افغانستان اور عراق تو ماڈرن ہونا شروع ہو ہی گئے ہیں جو ایک بڑا قدم ہے۔ سعودیوں نے بھی کچھ عقل استعمال کرنا شروع کر دی ہے جب کہ لبنان اور مصر ٹھیک سمت میں چل رہے ہیں۔

عراق میں جنگ کے حوالے سے سب اچھا نہیں ہے۔ تشدد حد سے زیادہ ہے۔ صورت حال میں بہتری کے کوئی آثار بھی نہیں ہیں۔ یہ بہت ممکن ہے کہ ہم لوگ مسلمانوں سے ایک دم ہی بہت زیادہ کی امید لگا بیٹھے ہوں۔ لیکن ہم انہیں یہ جھٹکے بھی تو ساتویں صدی سے اکیسویں صدی میں لانے کو ہی دے رہے ہیں۔ یہ شاید اتنا آگے ایک دم سے نہ آ سکیں۔ ہو سکتا ہے یہ آ جائیں۔ عین ممکن ہے کہ بالکل نہ آئیں۔

ہم نہیں جانتے اس جنگ کا کیا نتیجہ نکلے گا جو ایسا کہتا ہے کہ وہ جانتا ہے غلط کہہ رہا ہے۔ ایک بات البتہ واضح ہے کہ اب اسلامی دنیا میں انقلاب آئیں گے کہ ماڈرن اور شدت پسندوں میں زورآزمائی کا یہی نتیجہ نکلنا ہے۔ ہر انقلاب میں ایک ٹائم آتا ہے جب آمر کو اپنے جرنیلوں سے کہنا پڑتا ہے کہ گولی چلائیں۔ اگر جرنیل لوگوں پر گولی چلائیں تو انقلاب رک جاتے ہیں اگر جرنیل انکار کر دیں تو انقلاب کا عمل مکمل ہو جاتا۔ جنرل انکار کر رہے ہیں کیونکہ ان کے بچے خود ہجوم کے درمیان کھڑے ہیں۔

ٹی وی اور انٹرنیٹ کا شکریہ کہ امریکہ سے باہر اٹھارہ سال اور اس سے زیادہ کا نوجوان آج دنیا سے زیادہ جڑا ہوا ہے۔ دنیا میں بیداری کی ایک بڑی لہر ہے لوگ قریب آ رہے ہیں اور پاپولر کلچر سے جڑ رہے ہیں اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے جڑنا چاہتے ہیں۔

ان نوجوانوں کا غالب گمان ہے کہ ان کی حکومتیں دنیا سے انہیں جوڑنے میں واحد رکاوٹ ہیں۔ یہ پڑھے لکھے اشرافیہ کے نوجوان ہیں جو تبدیلیوں کی اس لہر کو قیادت فراہم کر رہے ہیں۔

یہ اب گلوبل کلچر کی جنگ ہے اگر ہم ہار گئے تو ایسا کوئی دوسرا امریکہ نہیں ہے جو پھر دنیا کو اس مصیبت سے نکال سکے۔


Comments

FB Login Required - comments