بلیک ہول، ثقلی امواج اور میرا مشاہدہ


zefferجب سے یہ خبر سنی ہے، کہ آئن اسٹائن کے عمومی اضافیت کے نظریئے میں خیالی ثقلی امواج کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔ رو رو کے میرا برا حال ہو گیا۔ وہ یوں کہ میں ایک عرصے سے انہی ثقلی امواج کا نہ صرف مشاہدہ کر چکا، بل کہ فیس بک کے صفحات پر ان مشاہدات کی تفصیل پیش کرتا رہا ہوں۔ لیکن کوئی یقین کرنے کو تیار نہ تھا۔ اب یہی دعویٰ دساور کے علمائے سائنس نے کیا ہے تو پاکستانی پھولے نہیں سماتے کہ اس ٹِیم میں شامل نرگس ماول والا ایک پاکستانی ہیں۔

قسمے! یہ وہی نرگس ماول والا ہیں، جو میری فیس بک آئی ڈی میں ‘کیوٹی گرل’ کے نام سے ایڈ ہیں۔ یقینا انھوں نے اردو میں لکھی، میری تحقیق کو پڑھا، اور اس کا انگریزی ترجمہ کر دیا۔ اب کلموہے یہود و نصاریٰ یہ کریڈٹ لے رہے ہیں، کہ یہ تحقیق ان کی ہے۔ آیئے میری تھیوری اور مشاہدے کو پڑھیے۔ پھر بھلے آپ ان گوروں کو سراہیے گا۔

آج سے تقریباً سو برس قبل 25 نومبر 1915 کو مشہور سائنس دان البرٹ آئن اسٹائن نے ‘عمومی اضافیت’ کے نظریے میں ‘ثقلی امواج’ کی موجودی کے بارے میں پیش گوئی کی تھی۔ تاہم کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی تلاش کے باوجود ایسی امواج کی نشان دہی نہیں ہوسکی تھی۔

ثقلی امواج کا مشاہدہ، وہ بھی ایک پاکستانی کے لیے، کوئی مشکل امر نہیں۔ یہ کوئی ایسی تھیوری نہیں تھی، جس پر ہا ہا کار مچائی جاتی۔ بلیک ہول کا کوئی بھی باشندہ ثقلی امواج کا بخوبی مشاہدہ کر سکتا ہے۔ اگر آپ بہت کند ذہن ہیں، تو میں آپ کو یہ تھیوری سمجھاتا ہوں۔ بلیک ہول دراصل ہماری کائنات میں انتہائی دور دراز فاصلوں پر موجود فلکی اجسام میں واقع ہوتے ہیں، جنہیں ‘کوآثر’ کا نام دیا جاتا ہے۔ جیسے پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی بلیک ہولز ہیں اور شہر کی کائنات سے دور درازعلاقے بھی بلیک ہول ہیں۔ یہ بلیک ہولز جن عرش سے اترے ہوﺅں، یعنی فلکی اجسام کے گرد ہوں، انہیں ‘با اثر’ کا نام دیا جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو ‘کو آثر’ اور ‘با اثر’ کے ناموں میں کتنی مماثلت ہے۔ بلیک ہولز میں مادے کی کثافت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اس کی ثقلی کشش سے روشنی بھی باہر نہیں نکل سکتی۔ لفظ ‘مادہ’ غور کے قابل ہے۔

آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کے مطابق، بلیک ہول میں جا گرنے والا کوئی احمق ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ وہ بلیک ہول سے باہر آنے کے کے قابل نہیں رہے گا۔ اس کے برعکس، بلیک ہول میں گرنے والے کسی شخص کے لیے تاریخ کا خاتمہ ایک ایسے مقام پر ہوگا، جسے وحدانیت کہتے ہیں۔ یہی احوال ہمارے بلیک ہول میں جینے والے ننگے بھوکے افلاس کے نمونوں کا ہے۔ وہ کبھی اس سیاہ گڑھے سے باہر نکل پاتے۔ وحدانیت سے تو خیر ان کا کیا لینا دینا۔

آئن اسٹائن یہودی کے بقول یہ امواج عمودی اور افقی ہیں۔ عمودی امواج کو ‘فاصلہ’ مانیے، اور افقی امواج کو ‘وقت’ سمجھیں۔ یہ تو آپ نے سنا ہوگا، کہ وقت ایک سا نہیں رہتا، بدلتا رہتا ہے۔ بلیک ہول کے کسی باشندے کا وقت بدلنے بھی لگے، تو اسی کے سجن ساتھی کہتے ہیں، ‘اپنی اوقات میں رہو’ وغیرہ۔ عمودی امواج وہ ہیں، جو حکم ران طبقے کا بلیک ہول کے باشندوں سے فاصلہ ظاہر کرتی ہیں۔ ان ثقلی امواج کا مشاہدہ، ہم پاکستانی آئے دن کرتے رہتے ہیں۔

بلیک ہول کا یہ آدمی زمان و مکان کی اس قید سے باہر نہیں جا سکے گا۔ ایسا ممکن نہیں، کہ افقی امواج میں جینے والوں کی غالب اکثریت، عمودی امواج میں سسکنے والوں کے زخموں پر مرہم رکھیں۔ ہاں یہ ممکن ہے، کہ افقی امواج میں رینگنے والے، ‘وقت’ سے بغاوت کر دیں۔ لکھیں پڑھیں، شعور حاصل کریں، تبھی ‘فاصلے’ سمٹ سکتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 85 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

3 thoughts on “بلیک ہول، ثقلی امواج اور میرا مشاہدہ

  • 19-02-2016 at 9:40 pm
    Permalink

    Dear Zafar Imran, In Science whenever there is something contributed by anyone then He/She immediately publish it in any quality research journal. If you claim that this is your contribution regarding GW in BH then you can justify your claim against that lady only if you have published article regarding your work.
    Regards

  • 24-02-2016 at 5:43 am
    Permalink

    میری جانب سے یہ غلطی ہوئی مدیر کا دوش نہیں۔ آخری بند کو یوں پڑھا جاے۔

    تصحیح:
    بلیک ہول کا یہ آدمی زمان و مکان کی اس قید سے باہر نہیں جا سکے گا۔ ایسا ممکن نہیں، کہ عمودی امواج میں جینے والوں کی غالب اکثریت، افقی امواج میں سسکنے والوں کے زخموں پر مرہم رکھیں۔ ہاں یہ ممکن ہے، کہ افقی امواج میں رینگنے والے، ‘وقت’ سے بغاوت کر دیں۔ لکھیں پڑھیں، شعور حاصل کریں، تبھی ‘فاصلے’ سمٹ سکتے ہیں۔

  • 24-02-2016 at 5:49 am
    Permalink

    ڈاکٹر اسحاق صاحب، آپ کے اس تبصرے نے، مجھے اپنی تحریر کے بارے میں غور و فکر کی دعوت دی ہے۔ میں سمجھنے کی کوشش کروں گا کہ کہاں خامی رہ گئی ہے۔

Comments are closed.