یہودیوں کی ایک اور سازش


ایک تو ان کافروں کے اوچھے ہتھکنڈوں کی سمجھ نہیں آتی، ایک کے بعد ایک سازش کرتے چلے جاتے ہیں۔ ابھی ہم اس تحقیق میں منہمک تھے کہ چاند کو تسخیر کرنے کے دعوے کو جھوٹ کیسے ثابت کیا جائے کہ انہوں نے ایک اور پنڈورا بکس کھول دیا۔ مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے یہ گرد اڑائی جا رہی ہے کہ آج سے ایک ارب سال پہلے زمین سے 125 کروڑ سال نوری سال کی مسافت پر جو مُردار ستارے ٹکرانے کے بعد ضم ہوئے تھے ”لیگو“ کی مدد سے ان کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ اپنی سائنسی تحقیق کا رعب جھاڑنے کے لئے بتایا جا رہا ہے کہ امریکی ریاست لوزیانہ اور واشنگٹن میں 200ملین ڈالر کی لاگت سے ایک تجربہ گاہ قائم کی گئی جس میں لگ بھگ 1000 سائنسدانوں کو جمع کیا گیا۔ کشش ثقل کی لہروں کا مشاہدہ کرنے کے لئے 2 ڈی ٹیکٹر خصوصی طور پر تیار کیئے گئے جو اس قدر حساس ہیں کہ 2.5 میل کی مسافت پر رکھے دو آئینوں کے درمیان فاصلہ ماپ سکتے ہیں خواہ یہ فاصلہ خفیف ذرے ایٹم کے نیوکلئس سے کم ہی کیوں نہ ہو۔ یہ حساس ڈی ٹیکٹر اتنے ہی فاصلے سے انسانی بال کی چوڑائی کی پیمائش بھی کر سکتے ہیں۔ امت مسلمہ کو نیچا دکھانے کے لئے کہا جا رہا ہے کہ یہ اس صدی کی سب سے بڑی دریافت ہے جس کے نتیجے میں علم فلکیات و طبعیات کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ مجھے تو پہلے ہی محسوس ہو رہا تھا کہ اس نئی دریافت کی دال میں کچھ کالا ہے مگر جب یہ معلوم ہوا کہ یہ نظریہ ایک یہودی سائنسدان البرٹ آئن اسٹائن نے پیش کیا تھا تو یقین ہو گیا کہ پوری دال ہی کالی ہے۔ سو سال پہلے آئن سٹائن نے عمومی اضافیت کا جو نظریہ پیش کیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ خلا ایک چادر کی مانند ہے جس میں کسی بھاری شے کے ٹکرانے سے لہریں پیدا ہوتی ہیں اور یہی لہریں کشش ثقل کا باعث بنتی ہیں۔ اگرچہ اس یہودی سائنسدان آئن اسٹائن نے خود کہ دیا تھا کہ ان خفیف لہروں کو کبھی دریافت نہیں کیا جا سکے گا مگر امریکہ میں موجود طاقتور یہودی لابی اس کی بات سچ ثابت کرنے کے لئے یہ ڈرامہ رچانے سے باز نہیں آئی۔

چونکہ پوری دنیا کا میڈیا یہودیوں کے کنٹرول میں ہے اس لئے اس شعبدہ بازی کو حقیقت سمجھ لیا جائے گا۔ چنانچہ امت مسلمہ کا درد رکھنے اور یہودی سازشوں کا توڑ کرنے کے لئے ہر دم تیار رہنے والے مجاہدین کو میرا مشورہ ہے کہ اس واقعہ کو جھٹلانے میں اپنی توانائیاں ضائع نہ کریں۔ دانت کے بدلے دانت کے مصداق جھوٹ کے بدلے جھوٹ اور پراپیگنڈے کے بدلے پراپیگنڈے سے ہی یہ جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ جس طرح ہم نے چاند پر قدم رکھنے والی سازش کا توڑ اس من گھڑت قصے سے کیا کہ جب امریکی خلا باز نیل آرمسٹرانگ نے چاند پر قدم رکھا تو اس نے وہاں ایک مخصوص آواز سنی، خلا سے واپسی پر وہی آواز اسے دوبارہ مصر میں سنائی دی تو اس نے حیرت سے پوچھا، یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے ؟میں نے یہ آواز چاند پر قدم رکھتے وقت سنی تھی، مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں آسمان پر ہوں یا زمین پر؟ لوگوں نے اسے بتایا کہ یہ تو اذان کی آواز ہے اور ساتھ ہی فضا تکبیر کے فلک شگاف نعروں سے گونج اُٹھی۔

 Laser interferometer gravitional wave observatory  یعنی ”لیگو“کی سازش کا توڑ کرنے کے لئے بھی اس طرح کی کوئی قابل یقین تھیوری تیار کرنا پڑے گی۔ بہتر تو یہ ہو گا کہ کھینچ تان کر آئن اسٹائن کو پاکستانی نژاد ثابت کر دیا جائے، کراچی میں کسی ایسے ضعیف العمر شخص کوڈھونڈنا مشکل نہیں جو آئن اسٹائن کو آلو قیمہ کھلاتا رہا ہو۔ ہاں اگر کسی طریقے سے یہ ثابت کر دیا جائے کہ مرنے سے پہلے آئن اسٹائن یہودیت سے تائب ہو گیا تھا اوراس نے اسلام قبول کر لیا تھا تو پوری امت مسلمہ کا بھلا ہو سکتا ہے۔ شاید یہی سوچ کر ایرانی ماہرین کونسل کے چیئرمین آیت اللہ مہدوی کنی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ آئن اسٹائن نے اسلام قبول کر لیا تھا اور وہ امام جعفر صادق کے سچے پیروکار تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 60ء کی دہائی میں آئن اسٹائن نے شیعہ عالم دین آیت اللہ بروجردی سے خط و کتابت کی اور ان کی تبلیغ کے نتیجے میں اسلام قبول کر لیا۔ اگرچہ تین ملین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اس خط و کتابت کا ریکارڈ تلاش نہیں کیا جاسکا لیکن تلبیس اطلاعات کے اس زمانے میں ثبوت ہو یا نہ ہو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اگر آیت اللہ مہدوی کی طرح باقی مسالک کے لوگ بھی اس کار خیر میں حصہ ڈالیں اور یہ دعویٰ کریں کہ آئن اسٹائن کا تعلق ان کے مسلک سے تھا تو بحث یہیں تک سمٹ کر رہ جائے گی کہ آئن اسٹائن کا اسلامی نام شمس الرحمان معاویہ تھا یا پھر عباس نقوی، یوں یہ بنیادی بات از خود تسلیم کر لی جائے گی کہ آئن اسٹائن بہرحال مسلمانوں کے ماتھے کا جھومر ہے۔ ہاں اگر یہ بات بنتی دکھائی نہ دے تو باوقت ضرورت یہ متبادل تھیوری بھی پیش کی جاسکتی ہے کہ آج کفار سائنسی تحقیق کے میدان میں جو ترقی کر رہے ہیں اس کا سہرا مسلمانوں کے سر ہے کیونکہ اس ترقی کی بنیادیں مسلمانوں نے فراہم کیں۔ آئن اسٹائن ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا جب فلاں ابن فلاں نے عمومی اضافیت کا نظریہ پیش کیا تھا مگر وہ تو جب کافروں نے غلبہ حاصل کیا تو اس تھیوری کو چرا کر اپنے نام کر لیا۔

اور اگر محولابالا سب حربے ناکام ہو جائیں تو پھر یہ تیر بہدف نسخہ تو ہے ہی کہ جس نتیجے پر یہ کافرسائنسی تحقیق کے نتیجے میں آج پہنچے ہیں، اس کی نشاندہی اسلام نے 1400سال پہلے کر دی تھی۔ تمام سائنسی ایجادات کا منبع و مرکز ہمارے پاس موجود ہے۔ اس سے قبل بھی جتنی ایجادات ہوئیں، ان کا ماخذ یہی اسلامی تعلیمات ہی تھیں اور رہتی دنیا تک جتنی سائنسی تحقیق ہو گی اس سے متعلق سربستہ راز اس شاہ کلید میں موجود ہیں ہاں البتہ اس پر تحقیق اور غور و فکر کا کام ہم نے کافروں کے سپرد کر رکھا ہے کیونکہ ہمیں اور بہت سی اہم گتھیاں سلجھانی ہیں۔ کشش ثقل جیسی تھیوریوں کے لئے ہمارے پاس فضول وقت کہاں۔ اب دیکھیں ناں، ہمیں یہ فیصلہ بھی تو کرنا ہے کہ ویلنٹائن ڈے کا تہوار کب کہاں اور کیسے شروع ہوا؟ اسے منانا اسلامی ہے یا غیر اسلامی؟ اس یہودی آئن اسٹائن نے کہا تھا، دو چیزیں لامحدود ہیں اور ان کی وسعت کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ ان میں سے پہلی چیز کائنات ہے اور دوسری چیز انسانی حماقت۔ لیکن میرا خیال ہے کائنات کے لا محدود ہونے کا دعویٰ پورے یقین کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا البتہ انسانی حماقت کی واقعی کوئی حد نہیں۔ ایک اور کافر کا قول ہے۔ عقلمندی کی انتہا ہو سکتی ہے مگر بیوقوفی کی کوئی انتہا نہیں۔

image_pdfimage_printPrint Nastaliq

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

6 thoughts on “یہودیوں کی ایک اور سازش

  • 17/02/2016 at 3:04 pm
    Permalink

    آپ نے مسلمانوں کے روائتی سازشی مائنڈ سیٹ کی باالکل صیح عکاسی کی ہے-اسی طرح کے بھونڈے جواز ہی تراشے جا رہے ہیں

  • 17/02/2016 at 7:21 pm
    Permalink

    Actually we are in state of denial and just want to live in our own world of dreams

  • 17/02/2016 at 7:27 pm
    Permalink

    Janab Bilal Ghauri sahib ne nihayat umdah tareeqe se hamari aik ahmaqana zehniyat par khushguvar tabsera kiya hae.Is bare mazeed kuchh kahne ki gunjaesh nhin,albattaArabi ke aik mashhoor she’er ka havala beja na hoga:”Beshak Pahlvan woh hae jo khum thonk kar maidan men aakar kahe ke Lo yeh hoon main!.Woh bandah Phlavan nahin jo kahe ke mera Baap Pahlavan tha!”.a

  • 18/02/2016 at 11:04 am
    Permalink

    ایک خوبصورت تحریر ….

  • 18/02/2016 at 6:11 pm
    Permalink

    Realistic article but muslims are in deep sleep

  • 18/02/2016 at 7:06 pm
    Permalink

    Bilal Bhai. Such me bohot maza aya. Ummat k lie msg b dia he AP ne. Thinking angle divert kar di AP ne. Bohot khoob.

Comments are closed.