زبان: تصور، خیال اور خواہش کے اظہار کا وسیلہ


zahid hassanاس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ زبان انسانی تصورات، خیالات اور خواہشات کے اظہار کا موثر ترین وسیلہ ہے۔ معلوم انسانی تاریخ گواہ ہے کہ انسانی اقدار کی بقا اور عالمی امن کے قیام اور اس کے فروغ کے لیے کسی بھی زبان اور اس میں تخلیق کیے گئے ادب نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ کسی بھی خطے اور وہاں آباد قوم کے تہذیبی، ثقافتی اور فکری عناصر کی بنیادیں وہاں کی دھرتی اور اس دھرتی پر بولی جانے والی زبان پر گہرے طور پر پیوست ہوتی ہیں۔ قوموں کے عروج و زوال اور ان کے معاشی ارتقا کو بھی اس سارے عمل کے ساتھ گہرا علاقہ ہوتا ہے۔ اس صورت حال کے تناظر میں اپنی آنے والی نسلوں کو اپنے کلچر پر فخر کرنا سکھانا چاہیے۔ اس سے بھی پہلے ہمیں خود اس پر فخر کرنا سیکھنا چاہیے۔ یہ سیکھنے سکھانے کا عمل بھی کیا خوب ہے۔ سنتے ہیں بچہ وہی زبان آسانی سے سیکھتا اور پھر اس میں کمال کی مہارت حاصل کرتا ہے جو اس نے شیر خوارگی کے ایام میں اپنی ماں اور اردگرد کے ماحول سے سنی ہو۔ لازمی طور پر اسی زبان کو ’مادری زبان‘ کا نام دیا جاتا ہے جو بچہ اپنے ابتدائی برسوں میں سنتا اور سیکھتا ہے۔ اس سلسلے میں ہم سب یعنی پوری پاکستانی قوم ہی ’لسانی بحران‘ کا شکار ہے۔ تہذیبی طور پر بھی ہم نے بہت سے مفروضے قائم کر رکھے ہیں۔ پاکستان بہت سی اکائیوں کا مجموعہ ہے۔ یہ اکائیاں نسلی، قومی اور لسانی سطح کی ہیں۔ ماضی میں ہم نے انہی مفروضوں کی بنیاد پر ایک قوم تشکیل دینے کی بھرپور سعی کی اور اس کوشش میں پاکستان میں آباد مختلف قومیتوں سے ان کی بنیادی شناخت چھین کر ایک نئی ڈگر پر چلانے کا جتن کیا۔ آپ میں سے بعض احباب اس تجربے سے بارہا گزرے ہوں گے کہ آپ ایک جانور پر روز سوار ہو کر ایک ہی راستے سے گزرتے ہیں۔ ایک روز خلاف معمول آپ ایک نیا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں جو آپ کے خیال میں آسان بھی ہے اور مختصر بھی لیکن عجیب بات ہے کہ عین اس موڑ پر آکر آپ کا سدھایا ہوا جانور رک جاتا ہے۔ وہ اسی راستے پر چلنا چاہتا ہے جس پر وہ روز چلتا ہے۔ جس سے وہ آشنا ہے لیکن آپ اسے ایک نئے راستے پر لے کر جانا چاہتے ہیں ۔ وہ اس پر چلنے سے انکاری ہے جس کے لیے آپ تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ پاکستانی ترقی کے لیے تہذیبی طور پر ہمارے قائم کیے گئے ان مفروضوں کو اس مختصر راستے کو اختیار کرنے اور تشدد اپنانے سے گہرا واسطہ ہے۔ آپ کو کچھ پل کے لیے ٹھہر کر اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہم سے ہڑپہ، موہنجو داڑو، مہر گڑھ اور ٹیکسلا سمیت ان جملہ تہذیبی نشانات کو برسہا برس تک داخل دفتر کیے رکھا جن کا یہاں کی اقوام کی تہذیب، تمدن اور لسان سے چولی دامن کا ساتھ تھا اور نصاب میں وہ تمام تر عناصر داخل کر لیے جن کو اپنانے، سیکھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے وہ تمام گروہ مصر ہیں۔ جنہوں نے ہمیں روزمرہ کے اختیار کیے گئے راستے سے ہٹا کر ایک نئے اور نسبتاً مختصر راستے پر چلانے کا مصمم ارادہ کر رکھا ہے۔ پتہ نہیں ہم اس نئے اور مختصر راستے کو اپنانے سے کیوں گریزاں ہیں یا پھر ممکن ہے ہم جانتے تو ہوں لیکن اس کا اظہار کرنے سے کترا رہے ہوں۔
یہ ہو سکتا ہے اور اس پر کچھ دیر توقف کرکے ہم کسی فیصلہ کن نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ آج ہمیں جس طرح کی پیچیدہ صورت حال کا سامنا ہے کہیں یہ سارا کیا دھرا اس ماضی میں اختیار کردہ اعمال کا نتیجہ ہی تو نہیں جس پر ہم بنا سوچے سمجھے، آنکھیں بند کیے عمل پیرا تھے اور یہاں صدیوں سے آباد قوموں کے اس عوامی ورثے سے منہ موڑنے کا ہی کارن تو نہیں جن کا لوک ادب، لوک کہانیوں، لوک شاعری، لوک موسیقی اور مقامی آرٹ جس میں انسانی اقدار، محبت، امن ، بھائی چارے اور رواداری کی امین تھیں۔ جہاں کے روایتی کلاسیکی اور صوفی شعری رویوں میں نفرت نام کو نہیں تھی بلکہ دلوں کو ملانے اور ایک دوسرے کے ساتھ گانٹھنے کا پیغام تھا۔
یقینا ترقی کے عروج پر کھڑی اقوام کے ماضی کو بھی کھنگالنے اور اس سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ تشدد اور ظلم و تعدی سے سیکھا تو کیا سیکھا۔ سیکھنا تو اسے کہتے ہیں جو ماں کی آغوش سے سیکھ کر آیا جائے ….!!


Comments

FB Login Required - comments