محبت کا تہوار یا دہشت کی کوشش


داؤد ظفر ندیم

daud-zafar-nadeem

برصغیر پاک و ہند کفر اور گمراہی کا پس منظر رکھنے والا ایک خطہ ہے جہاں کے لوگ میلوں ٹھیلوں اور دوسرے غیر اسلامی باتوں کے شوقین تھے جس کی عرب شریف میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اب کچھ عرصہ پہلے پنجاب میں کیسے بسنت منائی جاتی تھی۔ ایک ڈکٹیٹر نے حد کردی جہاں اس نے دوسرے غیر اسلامی کاموں کو فروغ دیا اور لال مسجد کو خون سے نہا دیا، وہیں اس نے بسنت جیسے غیر اسلامی تہوار کو بھی فروغ دیا۔

یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ جمہوریت کے نتیجے میں یہاں پنجاب میں ان لوگوں کی حکومت آگئی جو عرب شریف میں کافی عرصہ گزار آئے تھے، اس لئے ان کے اسلامی ذہن نے اس غیر اسلامی تہوار کو قبول نہیں کیا۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ دھاتی ڈور بنانے والوں کو پکڑوں مگر دھاتی ڈور بنانے والے کو ان کے اپنے سپورٹر اور منافع خور تاجر تھے اس لئے ان کی بجائے ان چھوٹے بچوں کو پکڑ کر اسلامی ذہن میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی جو پتنگ جیسی غیر اسلامی چیز کو دونوں ہاتھوں سے اڑانے کی کوشش کرتے تھے۔

اب اللہ کا شکر ہے کہ فروری کا مہینہ ہے اور بہت کم پتنگ بازی کا واقعہ ہوتا ہے جہاں ہوتا ہے وہاں اس بچے کو پکڑ لیا جاتا ہے، دوسرا اب لال مسجد پھر آباد ہے اور جمہوریت کے وزیر داخلہ اسلام کے اس عظیم ادارے کے دفاع میں ہراول دستے میں ہیں۔ اب یہاں کوئی آمر نہیں، اس لئے یہاں اسلام کی اس خالص تعبیر کا پرچم بلند ہے جو عرب شریف میں رائج ہے جس میں کسی گمراہی کی گنجائش نہیں، اسی لئے جمہوری حکومت نے فروری میں ہی ایک دوسرے فتنے کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔

اب پتنگ کی جگہ پھولوں نے لی تھی اور ملک میں اس بے حیائی کی کوشش کی تھی جو شاہ حسین اور بلھے شاہ جیسے شاعروں اور وارث شاہ جیسے کہانی کار نے ہیر رانجھا کا ذکر کرکے پھیلائی تھی۔ اللہ کا شکر ہے کہ ملک میں ان لوگوں کی حکومت ہے جو سچے جمہوری لوگ ہیں اور عرب کی پاک زمین پر رہ کر آئے ہیں۔ یہ لوگ شہید غازی جنرل ضیا کے وارث ہیں اور انہوں نے عزت کے رکھوالے کیدو کا جانشین ہونے کا حق ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے ہیر انجھا جیسی کسی بے حیائی کی اجازت نہیں دی بلکہ پھولوں کے تبادلے پر پابندی لگانے کو کوشش کی ہے۔ انہی حکمرانوں نے نئے سال کی تقاریب کو بھی ناکام بنایا تھا اور آج بھی سرخ رو ہیں کہ انہوں نے یہ غیر اسلامی سوچ کچل دی۔ جمہوریت زندہ باد۔


Comments

FB Login Required - comments