جناب، یہ بھی نیکیاں ہی ہیں


mubashir

آپ بھلے لاکھ، کروڑ، ارب مرتبہ کہتے رہیں، مگر وطن عزیز میں شاید ننانوے فیصدی ، یا اس سے بھی زائد مذہبی خیالات کے لوگ اپنے آپ کی شناخت کسی نہ کسی فرقہ کے حوالے سے ہی رکھتے ہیں۔ خود کو مسلمان کہتے اور سمجھتے ہیں، مگر مختلف صورتوں میں، میرا مشاہدہ اور تجربہ ہے، کہ ایک لمحے سے بھی کم کے وقت میں وطنِ عزیز کے شوریدہ ذہن مسلمانوں کا اسلام کہیں پیچھے چلا جاتا ہے اور اندر کا بریلوی، دیوبندی، شیعہ، سلفی وغیرہ چھلانگ مار کر سامنے آ جاتا ہے۔ عام مسلمانوں کو فرقہ واریت کا تیزاب بیچنے والے بڑے بڑے جید علما اور ج±بہ ودستار کے وارثین سے کم از کم میں نے کبھی کسی کو فرقہ واریت کی بابت ’اسلامی احکام‘کے بارے میں پوچھتے یا سوال کرتے نہیں دیکھا کہ ’جناب، ٹھیک ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کی بنیا د ایک ہی ہے، اللہ، رسول، قرآن اور کلمہ، تو جب بنیاد ایک ہے تو اس پر اتنی مختلف عمارات، اور ایک دوسرے سے دور دور اور مخالف سمت میں ، کیوں تعمیر ہیں؟”

آپ کسی بھی فرقے کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔ شروعات بھلے تحقیق اور بھلائی کے نقطہ نظر سے ہوئی ہو، مگر تھوڑا مزید مطالعہ آپ پر یہ آشکار کرے گا کہ جلد ہی تحقیق و تطہیری معاملات پر ردعمل اور ضد حاوی ہوئے، ہوتے چلے گئے، ابھی تک ہیں، اور موجودہ حالات کی بنیاد پر یہ کہنا غلط نہ ہوگا، کہ حاوی ہی رہیں گے۔ ردعمل اور ضد کی بنیاد موجودہ دور کے موجودہ تشریحاتی اصول اور ان اصولوں کے عمومی پیروکار بھی ردعمل اور ضد پر ہی کھڑے نہ ملیں تو کیا عقل و دانش کی ایورسٹ پر کھڑے ملیں گے؟ ردعمل اور ضد کے عمل کے چند دیگر اشاروں میں ہیجان، ہذیان، خلجان، جلدی، جذباتیت، شوریدگی، شورش، نمود، نمائش، دکھلاوا وغیرہ شامل ہوتے ہیں کیونکہ اس میں فریقین ایک دوسرے کو اپنے سے نیچا دکھانے کی تگ ودو میں بہت خلوص سے شامل ہوتے ہیں، لہذا آپکو شیعہ حضرات اہل بیعت کے سول پروپرائٹر ملیں گے پاکستان میں، جبکہ بریلوی درویش اولیا اللہ کے سٹاکسٹ، دیوبندی جیالے صحابہ کرام کے ہول سیلر اور اہلحدیث مجاہدحرمین شریفین کے سول ڈسٹری بیوٹر۔ گویا ہر ایک نے اپنا اپنا ایک یونیک سیلنگ پوائنٹ تلاش کیا ہوا ہے اور اسی کی بنیاد پر اپنا اپنا تشریحاتی مال بیچنے میں مشغول ہے، اور ان کے پیروکار، میرے پاکستانی یار، یہ مال خریدنے میں بہت دل و جان اور شوق سے مگن ہیں!

imagesردعمل، ضد اور شوریدگی کے اس ماحول میں نیکیاں، کہ جن پر خدا اور اسکے رسول کا بارہا اصرار رہا، وہ اپنی سادگی سے بھی محروم کر دی گئی ہیں۔ لوگوں کو نیکیوں کا مفہوم اپنے اپنے فرقہ کی بنیاد پر استوار پاکستانی تشریحاتی اسلام سے ہی جڑا نظر آتا ہے، لہذا کونڈے بھی نیکی، مزار پر چڑھاوا بھی نیکی، صحابہ کے نام پر گلا پھاڑ کر نعرہ بھی نیکی اور دیگران تمام کو بدعتی کہنا بھی نیکی۔ سبیلیں لگانا بھی نیکی، دیگیں چڑھانا بھی نیکی، بجلی کی تاروں پر چوری کے کنڈے ڈال کر قمقمے لگانا بھی نیکی، ذوالجناح اور تعزیہ بھی نیکی، عیدمیلاد نبی کے موقع پر سڑک میں لوہے کے “کِلے” گاڑ کر تنبو قناتیں لگانا بھی نیکی، نمائش لگانا بھی نیکی، مہنگے مہنگے ذاکرین سے مجلس پڑھوانا بھی نیکی، مذہبی امور کی منسٹری کی سازباز سے حج و عمرے کروانا بھی نیکی۔ ایسی ’نیکیاں‘ اور بھی گنوائی جا سکتی ہیں، مگر ایک مثال کے طور پر استوار کرنے کے لئے آپ سب کی خدمت میں ہی مقصود تھا، اور آپ کو اس سوچ پر ابھارنا کہ ان تمام ’نیکیوں‘ میں آپ کو دو چیزیں واضح طور پر نمایاں ملیں گی: نمود کی اچھائی اور نمائش کا تقویٰ۔ جبکہ قرآن میں واضح ہے کہ (ماخوذ) دکھاوے کی نماز، اس نمازی کے مونہہ پر لپیٹ کر مار دی جاتی ہے!

اب آپکی توجہ ان اعمال کی جانب کہ جن کو وطن عزیز کے عظیم مسلمان شاید نیکیاں ہی تصور نہیں کرتے۔ آپ سب کی نذر، اور خود سے سوال تو کیجیے کہ آپ مندرجہ ذیل معیارات کے حوالے سے کتنے ایک ’نیک‘ ہیں۔ آپکی نذر:

1۔ اگر آپکے پاس گاڑی ہے تو صاحب، دفتر یا گھر سے نکلتے وقت، ٹھنڈے پانی کی ایک بوتل، سٹرک پر کھڑے پولیس والے کو یا کسی بھی اور کو جو سخت گرمی میں کام کاج کر رہا ہو، دینا بھی نیکی ہے۔ اسی طرح، سردی میں کھڑے ان پولیس والوں کو سو روپے کے اونی دستانے دینا بھی نیکی ہے۔

2۔ اپنی گاڑی میں، اگر آپ کے پاس گاڑی ہے تو، کوئی بھی سافٹ ڈرنک پی کر، اس کا خالی ڈبہ یا ٹِن باہر سڑک پر نہ پھینکنا بھی ایک نیکی ہے ،اور پڑے ہوئے ڈبے کو اٹھا لینا بھی نیکی ہے۔
3۔ سڑک پر رضاکارانہ طور پر اپنے پیچھے آنے والی تیزرفتار گاڑی کو رستہ دے دینا بھی نیکی ہے، اور ایمبیولنس، پولیس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے لیے رستہ چھوڑ دینا، ایک عظیم نیکی ہے۔

Manners_matter_024۔ کسی عمارت میں آتے جاتے، اپنے سے پیچھے آنے والے کے لیے دروازہ پکڑ کر کھڑے ہوجانا اور اس کو ایک مسکراہٹ دینا بھی ایک نیکی ہے۔

5۔ اور اگر کوئی آپ کے لیے دروازہ پکڑ کر کھڑا ہوا ہو تو اس کا شکریہ ادا کردینا بھی ایک نیکی ہے۔

6۔ پان کی پِیک سڑک، گلی اور رستہ پر نہ پھینکنا بھی نیکی ہے۔

7۔ کسی بچے، خاتون، بزرگ یا کمزور بیمار کے لیے بس، ٹرین میں سیٹ چھوڑ دینا بھی نیکی ہے۔

8۔ سڑک پر ایک کنارے کھڑے کسی پیدل انسان کو گاڑی یا بائیک روک کر سڑک کراس کرنے دینا بھی نیکی ہے۔

9۔ گلی میں کوڑا کرکٹ نہ پھینکنا بھی نیکی ہے۔ استعمال شدہ شاپنگ بیگ کو سڑک، بازار، گلی اور راستہ میں نہ پھینکنا بھی ایک نیکی ہے

10۔ آتے جاتے کسی مجبور اور غریب بچے کو پچاس روپے کی چاکلیٹ لے دینا بھی نیکی ہے۔ چاکلیٹ کھاتے ہوئے آپ اگر اسکی مسکراہٹ دیکھیں گے، تو بہت ساری رسمی نیکیوں سے ہزاروں گنا زیادہ مزہ پائیں گے۔ یہ سوچے بغیر کہ مانگنے والا مکر کر رہا ہے، اسے اس کی مرضی کا کھانا کھلا دینا بھی نیکی ہے۔

11۔ کبھی کبھار، بھلے مرضی سے ہی، کسی کے ساتھ جنت و جہنم کے تصور کے بغیر ہی بھلا کردینا بھی ایک نیکی ہے۔

12۔ کسی کی بدتمیزی کو ہنس کر ٹال دینا بھی نیکی ہے، (یہ نیکی آج کل خود مجھ سے بھی کم ہی سرزد ہو رہی ہے، ویسے!)

13۔ سگریٹ پی کر اس کا بچا ہوا “ٹوٹا” لاپرواہی سے سڑک، گلی یا اپنے ہی گھر کے صحن میں نہ پھینکنا بھی نیکی ہے۔

14۔ اپنی گاڑی یا بائیک درست طریقے سے پارک اور ڈبل پارکنگ نہ کرنا بھی ایک نیکی ہے۔

15۔ کسی کام کے لیے لگی ہوئی لائن کو نہ توڑنا اور اپنی باری کا سکون سے انتظار کرنابھی ایک نیکی ہے۔

16۔ اپنے سے کمتر کام کرنے والوں کے ساتھ مسکرا کر اور دوستانہ طریقے سے بات چیت کرنا بھی نیکی ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ آپ جب کلمہ، نماز، روزہ اور حج کرتے ہیں تو کسی پر نہیں، خود پر احسان کرتے ہیں، خود سے نیکی کرتے ہیں۔ زکوٰة اک نیکی ہے کہ جس کی سماجی بہتری ثابت ہے، مگر اس میں بھی یار لوگ سلائی مشینیں دیتے اور ہزار دو ہزار کے نوٹ دیتے وقت تصویریں بنوا کر، اخبارات میں لگوا دیتے ہیں۔

نیکی کو خود سے چیخ چیخ کر شور مچاتے ہوئے کہ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ ’ہاں ہاں، میں نیکی ہوں، میں ہی نیکی ہوں‘۔ میرے نزدیک تو نیکی ، خاموشی اور سادگی، سلوک اور ظرف کی ایک ہی تسبیح کے تین دانے ہیں۔ نیکی کے لیے بڑے بڑے کاموں کی ضرورت بھی شاید ہوتی ہو، مگر ہر دم ہی نہیں ہوتی۔ مگر وہی کہ ردعمل اور ضد والے شوریدگی پسند معاشرے، ایسے ہی لوگ تخلیق کرتے ہیں، اور ایسے لوگ، پھر جواباً اپنے جیسے معاشرے ہی تخلیق کیے چلے جاتے ہیں۔

بریلوی، شیعہ، دیوبندی اور اہلحدیث نیکیوں کے جھنجٹ میں الجھے یارو، کتنی ایک نیکیاں آپ ان حوالوں سے کرتے ہیں کہ جن کا ذکر اوپر آیا ہے؟ دامن میں کچھ ہے اس حوالے سے یا پھر شورش ہی زندہ باد؟ اور اگر شورش ہی زندہ باد، تو جناب، جوابی شورش کا حق آپ کے مخالف کو بھی ہے۔ شورش در شورش کے اس ماحول میں پھر آپ کے وطن عزیز سے گِلے کیسے؟

نیکیاں کیجیے۔ نمود کی اچھائی اور نمائش کے تقویٰ سے بچیں۔ لیکن یہ صرف ایک رائے ہے۔ آپ کے لئے اپنی رائے رکھنے کا حق بہرحال موجود ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “جناب، یہ بھی نیکیاں ہی ہیں

  • 17-02-2016 at 2:47 pm
    Permalink

    Writing columns like this one is also a virtue.

Comments are closed.