پاک چین اقتصادی راہداری


farnood alamآسودگیوں اور محرومیوں کے پیچھے معیشت کا اتار چڑھاﺅ ہی کارفرما رہتا ہے۔ احتجاج کی صدائیں جس منہ سے اٹھ رہی ہوں، وہاں نوالہ رکھ دیجئے آواز دب جاتی ہے۔ اکثر لکھا، مکرر لکھنے دیجئے کہ سماج کے دل کو جانے والا راستہ پیٹ سے ہوکر گزرتا ہے۔ اجتماعی زندگیاں پیٹ ہی سے سوچتی ہیں۔ پیٹ مطمئن نہ ہو تو دماغ کا ہر خلیہ انحراف پہ کمربستہ رہتا ہے۔ یہ خالی پیٹ ہی ہوتا ہے جس میں نظریات پلتے ہیں۔ خالی پیٹ خونریز تحریکوں کے مراکز ہوتے ہیں۔ اتنے فرد نہیں ہوتے جتنی تنظیمیں وجود میں آجاتی ہیں۔ پھر ہر تنظیم کے پیٹ سے انڈے بچے جنم لے رہے ہوتے ہیں۔ سارے حروف تہجی مل کر بھی ایک مسلم لیگ کے بچے نہیں سہار پا رہے۔ بات یہ ہے کہ فرد کا پہلا کلمہ روٹی ہوتا ہے، باقی کے کلمے اس کے بعد کی باتیں ہیں۔ روٹی کو کھسکا دیں تو کلموں کی ترتیب خراب ہوجاتی ہے۔ انسانیت سوز فکریں پروان چڑھ جاتی ہیں۔ انسانوں کے بیچ خون کی مقدس لکیر کھنچ جاتی ہے جسے گندم کے سوا کچھ نہیں مٹا سکتی۔
چین کا مغربی علاقہ گئے وقتوں میں ایسا ہی پسماندہ رہا ہے جیسا کہ پاکستان کا مغربی علاقہ آج تک ہے۔ چین کے مغربی علاقوں میں جب تک محرومیوں کا رونا رہا تب تک نظریاتی تصادم اور تحریکی خونریزیاں رہیں۔ سینکیانگ میں مذہبی تحریکوں نے سر اٹھایا اور تبت میں مذہبی و لسانی تحریکیں ایک دوسرے کی گردن پہ سوار چلی آرہی تھیں۔ چین کی سیاسی و عسکری قیادت کے پاس اب دو راستے تھے، یا تو غداری کا الزام لگا کر فوج کو تسمے کسنے کا حکم جاری کر دیا جائے یا پھر مغرب سے اٹھنے والی آواز پہ دھیان دیا جائے۔ اٹھتی ہوئی منتشر آوازوں کو باہم جوڑ کر دیکھا تو ’چائنا ڈیویلپمنٹ اسٹریٹجی‘ کے نام سے ایک ترقیاتی منصوبے کے سر تال ابھر آئے۔ اس آواز میں وہ کھنچاو¿ تھا کہ مشرقی چین کے وسائل مغربی پٹیوں پہ واری واری چلے آئے۔ مغربی چین کی مارکیٹ کے عارض ورخسار اپنے آپ سدھرنے لگے۔ بے تاب سرمایہ کار ایک دوسرے کا رستہ کاٹ کر مغربی علاقوں میں پہنچے۔ معیشت کا گراف جوں جوں بلند ہوتا گیا محرومی کا احساس توں توں گرتا چلا گیا۔ روٹی آئی تو رنگ رنگ نظریات اپنی راہ لینے پہ مجبور ہوئے۔ پیٹ نے اطمینان کی گواہی دینا شروع کی تو ایک کے بعد ایک دماغ کا خلیہ روشن ہوتا چلا گیا۔ روشن ہوتے خلیوں میں تشدد کی تاریکیوں کے کے لئے پاﺅں سمیٹنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ گوکہ آج بھی نظریاتی تصادم کی ایک آدھ گونج سنیکناگ میں کہیں سنائی دے دیتی ہے، مگر مطمئن آوازیں اس کی ہمنوائی کو نہیں آتیں۔ جنہیں نظریاتی تصادم عزیز ہے انہیں روشنیاں چھیننی پڑیں گی۔ اسی لئے تو وہ روشنیاں چھین بھی رہے ہیں۔ مگر کوئی بات نہیں، رات جب کسی خورشید کو قتل کرتی ہے تو صبح کا بانگی ایک نئے سورج کا پیام سناتا ہے۔
CPECپاکستان کا مغربی علاقہ محروم تھا اور خیر سے آج بھی محروم ہی ہے۔ نصف صدی سے موجود محرومیوں کی یہ آواز تواناں ہوتی جارہی ہے۔ پیٹ خالی ہے اور دماغ کو فرصت کے شب وروز میسر ہیں ایسے میں نظریاتی تصادم اور تحریکی خونریزیاں ظہور پذیر نہ ہوں تو پھر کیا ہوں۔ اپنے مفادات سے بالاتر ہوکر اسباب و سدباب پہ غور کیا جاتا ہے۔ محروم علاقوں میں آئے روز کے فوجی آپریشن بتاتے ہیں کہ ہم نے اسباب اور سد باب پہ غور کرنے پہ کتنی توانائیاں صرف کی ہیں۔ قومی مزاج یہ ہے کہ ناکامی کے اسباب ہم خارج میں تلاش کرتے ہیں۔ تباہی کا ہر پہلو خدا کے سر منڈھ دیجیئے اور جو بچ رہے وہ یہود و نصاری اور انڈین انٹیلی جنس پہ توپ دیجئے۔ آج پون صدی ہونے کو آئی ہے ہم بیرونی ہاتھ اور نامعلوم افراد جیسے مجہول کلیئے بھی حل نہیں کرپائے۔ بلاشک و شبہ بیرونی ہاتھ ہمیشہ ایک حقیقت رہی ہے، مگر بیرونی ہاتھ کی اس وقت تک کوئی وقعت نہیں ہوتی جب تک اسے داخلی ہاتھ میسر نہ آجائے۔ یہ داخلی ہاتھ ہی تو ہے جسے ہم نامعلوم افراد کہتے ہیں۔ سماج میں جب تک محرومی کا احساس زندہ ہے تب تک ’نا معلوم افراد‘ بھی نامعلوم ہی رہیں گے۔ نامعلوم افراد جب تک موجود ہیں بیرونی ہاتھ کو سلامت ہی سمجھئے۔ ہمارا عسکری کلیہ یہ ہے کہ جب تک لال قلعے کو مسمار نہ کردیا جائے تب تک بلوچستان میں سدھار پیدا نہیں ہوسکتا۔ سچ مگر یہ ہے کہ بلوچستان میں جب تک سدھار نہ آجائے تب تک لال قلعے کی لالٹین بجھ نہیں سکتی۔ چین دور تو نہیں ہے۔ یہ رہا ناک کے نیچے دھرا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ تبت کی دلائی لامہ تحریک کو ہندوستان نے ہلہ شیری دی، مگر چینی قیادت نے ہندوستان کی عسکری قیادت کو الزام دینے کے بجائے اپنی کمزوریوں پہ غورکیا۔ انہوں نے روٹی پھینکی تو جھپٹنے کو نامعلوم افراد بلوں سے نکل کر سامنے آگئے۔ ہر ہاتھ پہ جب ایک روٹی رکھی تو اس ہاتھ پر سے بیرونی ہاتھ کی گرفت کمزور پڑگئی۔ بھوکا روٹی پکڑے کہ ہاتھ پکڑے؟ روٹی کو ترسا ہوا انسان چاند نہ پکڑے، ہاتھ کیوں پکڑے گا۔ خالی ہاتھ میں ہی دوسرا ہاتھ آتا ہے۔ کچھ نہ سہی تو ہاتھ سہی۔
پاک چین اقتصادی راہداری نے ایک امید ایک امکان کو جنم دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مرکزی پاکستان مغربی پاکستان کے محروم طبقوں کو مطمئن کر سکتا ہے۔ افسوس مگر یہ ہے کہ وفاق نے اب بھی آنکھ مچو لی لگا رکھی ہے۔ ہم دایاں دکھا کے بایاں مارنے کی پالیسی پہ گامزن ہیں۔ موٹر وے کا نقشہ سامنے رکھتے ہیں اور اقتصادی راہداری پہ بریفنگ دیتے ہیں۔ مغربی سڑک کا پیمان کرتے ہیں اور رات کے آخری پہر مشرق میں اینٹ رکھ آتے ہیں۔ قبلہ احسن اقبال مصر ہیں کہ پوری پختون قیادت غلطی پہ ہے اور مستند صرف میرا ہی فرمایا ہوا ہے۔ پختون قیادت کو اطمینان بخشنے کے بجائے وہی غداری اور انڈین ایجنٹ والے تمغے ہم ہاتھ میں لئے پھر رہے ہیں، جہاں کوئی حق کی آواز بلند کرے اس کے سینے پہ سجا دیتے ہیں۔ کالا باغ ڈیم کا شور اٹھ رہا ہے اور اٹھتا چلا جارہا ہے۔ باقاعدہ یہ کہتے سنے گئے کہ جنہوں نے اول کالا باغ ڈیم میں روڑے اٹکا کر پاکستان کو کمزور کیا تھا وہ اب اقتصادی راہداری پر کانٹے پھینک کر بیرونی طاقتوں کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ اب اتنی سی بات کون سمجھائے کہ میاں کالاباغ ڈیم پر پختونخواہ اور سندھ کی قیادت کا اتفاق ہے کہ یہ بننا ہی نہیں چاہیئے۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ پاک چائنا اقتصادی راہداری میں پوری پختون اور بلوچ قیادت نے رباب کی دھنوں پہ اتنڑ بپا کیا تھا۔ تار یہاں ٹوٹ گئی کہ صاحب جو آپ کہہ رہے ہیں وہی کر کے دکھا دیجئے۔
ہماری کم نصیبی دیکھیئے کہ خوشی کی خبروں سے بھی نوحے کی سطریں برآمد ہوجاتی ہیں۔ ہاتھوں سے ابھی نتھنوں تک پہنچتے نہیں کہ پھول مرجھا جاتے ہیں۔ راہداری پر تو ابھی پھول سجنے تھے، تتلیوں کا ابھی انتظار تھا، بانسری سے زندگی کی خبر اٹھنی تھی،وائے حسرت کہ اندیشہِ زوال چلا آیا۔ ملنے کی خوشیوں سے زیادہ ہمیں کھو دینے کا اندیشہ لاحق رہتے ہیں۔ کب تک لاحق رہیں گے۔ کب تک؟


Comments

FB Login Required - comments