تاشقند کا مرزا غالب محلہ


asaf jilaniتاشقند کے اردو داں صحافی دادا خاںنوری مجھے شہر کا وہ محلہ دکھانے کے لئے بےتاب تھے جو مرزا اسد اللہ خاں غالب سے موسوم ہے اور مرزاغالب محلہ کہلاتا ہے۔ اسی محلہ میں غالب کے نام پر ایک نئی مسجد بھی تعمیر ہورہی تھی۔

یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

بادہ خوار غالب کے نام پر مسجد تعمیر کر کے غالبا ازبکستان کے لوگ غالب سے عقیدت کے اظہار کے ساتھ ساتھ انہیں ثواب جاریہ بھی پہنچانا چاہتے ہیں۔ اصل میں تاشقند والوں کو مرزا غالب کی یہ بات بے پناہ بھائی ہے کہ وہ بڑے فخر سے اپنے آپ کو ازبک کہتے تھے۔

دلی میں، جہاں غالب نے آنکھ کھولی اور ساری زندگی تگ و دو اور مشق سخن میں بتا دی، شاید ان کے نام پر نہ تو کوئی سڑک ہے اور نہ کوئی محلہ اور ادھر پاکستان میں جہاں اردو دان لوگ اٹھتے بیٹھتے غالب کے شعر پڑھتے اور سر دھنتے ہیں ، اگر میں غلط نہیں تو کہیں بھی نہ تو غالب کے نام پر کوئی گلی ہے نہ کوئی کوچہ ہے اور نہ کوئی بستی۔

اتوار کا دن تھا، دادا خاں نوری نے صبح سویرے ٹیلی فون کیا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ مرزا غالب محلہ لے جائیں گے اور بس دس منٹ میں ہوٹل پہنچا چاہتے ہیں ۔ دس منٹ کی جگہ ڈیڑھ گھنٹہ گزر گیا۔ مجھے انتظار کی تاب نہ رہی اور جیسے ہی میں ہوٹل سے باہر نکلا تو دیکھا دادا خاں نوری ہانپتے کانپتے چلے آرہے ہیں ۔ سخت سردی میں بھی وہ پسینے میں شرابور ہورہے تھے۔ چوڑی باڑھ والی فر کی ٹوپی ، جسے وہ بہت کم اتارتے تھے، ان کے ہاتھ میں تھی اور چہرہ ندامت کے احساس سے گہنایاہوا تھا۔ کہنے لگے کہ آنے میں تاخیر ، پیٹرول کے شدید بحران کی وجہ سے ہوئی ہے ۔ شہر میں کہیں بھی پیٹرول دستیاب نہیں ۔ بڑی مشکل سے چور بازار سے پیٹرول ملا ہے ۔

دادا خاں نوری نے ہوٹل کے سامنے کشادہ شاہراہ کے جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیے پیٹرول کی شدید قلت کی وجہ سے لوگوں نے کاریں چلانا بند کردی ہیں ۔ اور واقعی سڑک پر بہت کم کاریں نظر آرہی تھیں ۔ اکا دکا آجا رہی تھیں اور انہیں بھی لوگ راستے میں روک کر ٹیکسیوں کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

tashkent universityداد خاں نوری کو وہ زمانہ یاد آگیا جب خروشیف کے دور میں حکومت نے دیہات میں گدھوں پر ٹیکس عاید کیا تھا۔ ایک گدھے کے دام اس وقت پچاس روبل تھے لیکن ٹیکس ان پر ایک سو روبل فی گدھا لگایا گیا تھا۔ لوگوں نے اس ٹیکس سے تنگ آکر اپنے سارے گدھے سڑکوں پر چھوڑ دئے تھے کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ دادا خاں نوری کہہ رہے تھے کہ ایسا لگتا ہے کہ بہت جلد وہ زمانہ آنے والا ہے جب سب لوگ اپنی کاریں سڑکوں پر چھوڑ دیں گے ، گدھوں کی طرح ۔

مرزا غالب محلہ ، تاشقند یونیورسٹی کے قریب ایک نہایت کشادہ اور خوبصورت علاقے میں واقع ہے۔ ایک چوڑی چکلی ، صاف شفاف شاہراہ ، جس کے دونوں جانب پھلوں کے درخت لگے ہوئے تھے، اس محلہ میں لے جاتی ہے، اس شاہراہ کا نام بھی مرزا اسد اللہ غالب سے موسوم ہے۔

مرزا غالب محلہ سے ملحق دو اور محلے ہیں ایک البیرونی محلہ اور دوسرا ابراہیم محلہ ۔غالب مسجد ان ہی تین محلوں کے لئے مشترکہ مسجد ہے۔ یہاں البیرونی محلہ کے رئیس سعید نبی خواجہ سعیدکرم اغلو تھے انہوںنے بتایا کہ اس مسجد کی تعمیر ازبکستان کی آزادی کے بعد شروع ہوئی تھی جب کہ یہاں اسلامی جذبہ نئے انداز سے موجزن ہوا تھا۔

رئیس سعید نبی خواجہ کہہ رہے تھے کہ یہ مسجد تینوں محلوں میں رہنے والے بیس ہزار افراد کے لئے تعمیر کی گئی ہے۔ اس میں اردو کا ایک مدرسہ بھی قایم کیا جائے گا ۔ ازبکستان کی حکومت نے اس مسجد کی تعمیر کے لئے کوئی امداد نہیں دی کیونکہ آزادی کے بعد بڑی تعداد میں مساجد تعمیر ہورہی ہیں اور حکومت کے لیے ان سب کو مالی امداد دینی مشکل ہے البتہ اس غالب مسجد کے لئے پاکستان اور سعودی عرب نے مالی امداد دی ہے ۔

ابھی ہم مسجد مرزا غالب دیکھ رہے تھے کہ غالب محلہ کے رئیس عبید اللہ جان وہاں آگئے اور ہم سب کو اپنے گھر لے گئے۔باہر سے ان کا گھر بھی اس محلہ کے دوسرے مکانات کی طرح تھا۔ رئیس کا گھر نہیں لگتا تھا۔ اونچی دیوار اور ایک بڑا پھاٹک جس پر انگور کی بیل کے لئے لوہے کے فریم کا ایک چھجا لگا ہوا تھا۔ باہر سے مکان بالکل سادہ دکھائی دے رہا تھا ، لیکن جیسے ہی ہم پھاٹک سے مکان کے اندر داخل ہوئے ، سامنے خوبصورت باغ نظر آیا جس میں سیب ، انار، ناشپاتی، بادام اور خوبانی کے درخت بہار کے انتظار میں کھڑے تھے۔ باغ کے تین جانب چوبی ستونوں والے کشادہ پختہ دالان تھے اور ان سے ملحق بڑے بڑے کمرے تھے۔

ہمیں دیکھتے ہی پورا خاندان جمع ہوگیا ، بیوی ، بچے ، بہو، داماد، پوتے ، پوتیاں ، نواسے ، نواسیاں ۔ سب ایسے خوش تھے کہ جیسے انہیں ہمارا شدید انتظار تھاکہ ہم کوئی خوش خبری لے کر آئے ہیں۔ نہایت پر تپاک انداز سے خیر مقدم کیا۔

mosque near ghalb mohallah tashkentرئیس محلہ ہمیں دالان کے پہلے کمرے میں لے گئے جو مہمان خانہ نظر آتا تھا ، بالکل ویسے ہی جیسے ہندوستان اور پاکستان کے پرانے گھروں میں دیوان خانہ ہوتا ہے ۔ اس کمرے کی دیواروں پر نہایت خوبصورت اور قیمتی قالین اور کڑھی ہوئی رنگین چادریں جنہیں ازبک زبان میں ’ سوزنی ‘ کہتے ہیں آویزاں تھیں ۔ چھت پر بے حد پیارے نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ مہمان خانہ کے بیچ میں ایک لمبی سی میز پر سفید دستر خوان بچھا ہوا تھا او ر اس پر خشک میوہ اور مختلف اقسام کے گوشت کے گول گول پرت اور گھوڑے کے گوشت کے مصالحہ لگے ہوئے ’ساسیج‘ طشت میں رکھے تھے ۔ ان کے ساتھ بڑے بڑے گول نان تھے۔

میز کے دونوں طرف پتلی پتلی بینچیں بچھی ہوئی تھیں ۔ جیسے ہی ہم ان بینچوں پر بیٹھے، رئیس محلہ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ ازبکوں کی رسم ہے کہ جب بھی کوئی مہمان ان کے گھر آتا ہے اور کھانے کی میز پر بیٹھتا ہے ، میزبان دعا مانگتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس کے گھر مہمان آیا اور اس کے ساتھ اللہ کی برکتیں بھی۔

اس کے بعد رئیس محلہ نے بڑے سے ایک نان میں سے ٹکڑے توڑ توڑ کر ہمارے سامنے رکھے۔ یہ بات مجھے عجیب لگی۔ لیکن یہ ازبکوں کی خاطر تواضع کا خاص انداز ہے۔ وہ خود مہمانوں کو روٹی توڑ کر دیتے ہیں۔ پھر رئیس محلہ نے خوب صورت چائے دانی میںبغیر دودھ والی چائے جس کا رنگ ہلکا سا ارغوانی تھا، چھوٹے چھوٹے پیالوں میں ڈال کر بڑے احترام سے اپنا بایاں ہاتھ اپنے سینہ پر رکھتے ہوئے پیش کی۔ سامنے، بادام ایسی سفید ہ لگی ہوئی خوبانی کی گٹھلیاں رکھی تھیں جن کے سرے، بھاڑ میں بھننے سے ہلکے سے کھل گئے تھے ۔ رئیس ،محلہ نے بڑی چابک دستی سے گٹھلی کے ایک ٹوٹے ہوئے ٹکرے کو کھلے ہوئے سرے میں ڈال کر گٹھلی کو کھٹ سے یوں کھولا کہ خستہ گری ثابت نکل آئی۔ انہوں نے مجھے کھانے کو دی ۔ مزا اس کا بالکل بادام کا سا تھا۔

ابھی چائے ختم نہیں ہوئی تھی کہ رئیس محلہ کی بیگم جو ہمارے ساتھ دسترخوان پر بیٹھنے کے بجائے دروازے پر کھڑی تھیں ایک بڑی سے سینی میں شوربے سے بھرے ہوئے بڑے بڑے پیالے لے آئیں۔ یہ اصل میں یخنی تھی جس میں گوشت بھی تھا ، آلو اور دوسری سبزیاں بھی اور چنے بھی پڑے ہوئے تھے۔ شوربے کے فوراً بعد پلاﺅ آگیا جو ازبکستان ، کیا بلکہ پورے وسط ایشیا کا مقبول ترین خوان ہے۔ ابھی ہم پلاﺅ سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ پھا ٹک پر دستک ہوئی ۔ معلوم ہوا کہ اس محلہ میں ایک شادی ہورہی ہے اور رئیس کو لے جانے کے لئے لڑکی والوں کے ہاں سے لوگ آئے ہیں…. رئیس محلہ نے ہم سے کہا کہ شادی میں ہمارا بھی بلاوا آیا ہے۔ کیونکہ یہ رسم ہے کہ شادی کے وقت محلہ میں جو بھی آتا ہے یا جو بھی محلہ سے گذرتا ہے وہ شادی کی ضیافت میں ضرور مدعو ہوتا ہے ۔ میں نے دادا خاں نوری سے کان میں کہا کہ اگر رئیس کو علم تھا کہ محلہ میں شادی ہے اوروہ ہمیں شادی میں لے جائیں گے توپھر اپنے ہاں کھانے کا کیوں اہتمام کیا؟ دادا خاں نوری نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ ازبک کے ہاں جو بھی مہمان آتا ہے وہ کھاناکھائے بغیر نہیں جاسکتا۔

شادی دو گلیاں چھوڑ کر ایک مشہور تاریخ دان قربانوف کے گھر میں تھی۔ نکاح ہوچکا تھا اور ضیافت جاری تھی۔ مکان کے باہر لڑکی والے میزبان ، دورویہ کھڑے تھے اور ہر آنے والے مہمان سے ہاتھ ملا کر اس کا استقبال کر رہے تھے۔

مکان کے اندر باغ میں مہمانوں کے لئے کھانے کی لمبی لمبی میزیں بچھی ہوئی تھیں اور مہمان شوربے اور پلاﺅ سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔لیکن یہ سب مرد تھے، آس پاس کہیں کوئی خاتون نظر نہیں آتی تھیں۔ ایک طرف تخت بچھا ہوا تھا جس پر دو موسیقار ، رباب پر اورنگ زیب کی صاحبزادی زیب النسا مخفی کی ایک غزل گا رہے تھے۔ اس وقت باغ میں مجھے ایک طلسماتی سماں محسوس ہوا۔

باغ کے ایک کونے میں اینٹوں کے چولہے پر بڑی سی ایک دیگ چڑھی ہوئی تھی اور ایک پہلوان نما باورچی ، دیگ سے پلاﺅ نکال رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ کتنے آدمیوں کے لئے پلاﺅ تیار ہوا ہے؟ قریب پانچ سو آدمیوں کے لئے ، اس نے جواب دیا۔ میں نے پوچھا کہ پلاﺅ میں کیا کیا پڑتا ہے؟ اس نے کہا ۔ گوشت، چاول، پیاز، اور “قط “یعنی کشمش اور بادام وغیرہ۔ پانچ سو آدمیوںکے لیے پلاﺅ میں چاول کتنے ڈالے ہیں؟ میں نے پوچھا۔ باورچی نے جواب دیا 25کلو ۔ اور گوشت کتنا۔ گوشت بھی 25 کلو۔ میں نے پوچھا کہ پلاﺅ گھی میں تیار ہوا ہے یا تیل میں؟ باورچی نے بتایا کہ اس میں بھیڑ اور کپاس کی “یوغ” یعنی چربی پڑی ہے۔ اور پلاﺅ تیار کرنے میں کتنی دیر لگی؟ میں نے پوچھا۔ چار گھنٹے اور یہ کتنی جلد ختم ہو جائے گا۔ باورچی نے قہقہہ لگاتے ہوئے جواب دیا۔ دو گھنٹے میں اور اگر آدمی زیادہ آگئے تو آدھے گھنٹہ میں۔

باغ کے علاوہ مکان کے دالان اور کمروں میں بھی مہمانوں کی خاطر تواضع ہورہی تھی ۔ ان میں ازبکستان کے ایک بزرگ سیاست دان نور الدین اکرمووچ محی الدین بھی تھے جو خروشیف کے زمانے میں ازبکستان کی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ تھے۔ تاشقند میں 1966ءمیں ایوب خان اور لال بہادر شاستری کے درمیان جو ملاقات ہوئی تھی اس میں بھی یہ شریک تھے اور خروشیف کے ساتھ ہندوستان اور افغانستان بھی جا چکے تھے۔

دادا خان نوری نے جب ان سے میرا تعارف کرایا تو میں نے نور الدین اکرمووچ محی الدین سے پوچھا کہ آج کل ان کی کیا مصروفیات ہیں تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آج تو میں آپ کے ساتھ اس شادی میں شریک ہوں ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ازبکستان کو جو آزادی ملی ہے اور یہاں جو تبدیلیاں آئی ہیں ان کے بارے میں وہ کیا سوچتے ہیں؟

نور الدین اکرمووچ نے جواب دیا کہ یہ ازبکستان کے لیے ایک تاریخی مرحلہ ہے۔ یہ آزادی ہماری جدوجہد کا ایک اہم مرحلہ ہے جس کی لوگوں کو ایک سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے خواہش تھی ۔ میںنے پوچھا کہ ایک کمیونسٹ کی حیثیت سے وہ کیا سوچتے ہیں کہ کمیونزم کیوں ناکام رہا؟ انہوں نے کہا کہ کمیونزم کا اصل مقصد ہر قوم کی آزادی اور اس کے حقوق حاصل کرنا تھا لیکن افسوس کہ کمیونسٹ قیادت یہ مقصد حاصل نہ کر پائی کیونکہ کمیونسٹ قیادت اپنی مفاد پرستانہ سیاست میں الجھ گئی اور کمیونزم کے اصل مقصد کو اس نے ترک کردیا۔

ابھی سابق کمیونسٹ رہنما سے بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ اعلان ہوا کہ مہمان رخصت ہورہے ہیں ۔ میزبانوں نے لڑکے والوں کو روئی بھرے لمبے لمبے روایتی ازبکی کوٹ پہنائے اور ایک بزرگ نے با آواز بلند دعا مانگی۔

جب یہ بزرگ دعا مانگ رہے تھے تو میں سوچ رہاتھا کہ واقعی کس اعلیٰ ہمتی سے ازبکوں نے اپنے مذہب ، اپنی روایات اور اپنی تہذیب کو برقرار رکھا ہے حالانکہ یہ نصف صدی تک زارروس کے زیر تسلط رہے اور پھرگذشتہ ستر برس سے کمیونسٹ نظام کے تحت تھے۔ میرے ذہن میں بار بار یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ آخر کیسے ان ازبکوں نے ان دو استبدادی ادوار میں اپنی زبان، اپنی مذہبی قدروں اور اپنی روایات اور تہذیب کی جڑوں کو مضبوطی سے قائم رکھا ہے اور مستقبل کے چیلنجوں کا کس طرح سامنا کریں گے۔


Comments

FB Login Required - comments