بلال غوری کا کالم غلط بیانی کے سوا کچھ نہیں


anwar ghaziافلاطونی قسم کے دانشوروں کی فلاسفی سمجھ نہیں آتی کہ عالم اسلام اور مسلمانوں کے زوال و انحطاط کی ایک کے بعد ایک وجہ بیان کرتے چلے جارہے ہیں۔ ایک اور الجھی ہوئی تحریر سامنے آئی ہے۔ صاحب نے اسلام اور سائنس کے حوالے سے اسلامی مکاتب فکر کا حسبِ معمول مذاق اڑانے کی بھونڈی کوشش کی ہے۔ ان کی تحریر طنز و مزاح کا شاہکار ہے اور ادبی طور پر اس کی داد نہ دینا بد دیانتی ہو گی، لیکن علمی طور پر غلط در غلط معلومات، مفروضات، الزامات اور اسلامی علمیت سے عدمِ واقفیت کا ایک شاہکار نمونہ ہے۔ اس میں کہا گیا ہے :

عالم اسلا م کے زوال کا اصل سبب یہ ہے کہ جب بھی کوئی جدید تحقیق یا دریافت سامنے آتی ہے اول تو اس کو مانتے نہیں۔ اگر مانتے ہیں تو اس ماننے کی تین صورتیں ہیں یا تو ا±س تحقیق کرنے والے کو مسلمان ثابت کرنے میں لگتے رہتے ہیں، یا یہ کہتے ہیں کہ کفار سے بہت پہلے کسی مسلمان نے یہ تحقیق پیش کی تھی، آج کفار نے یہ تحقیق چراکر اپنے نام سے پیش کردی ہے۔ اگر یہ حربے ناکام ہوجائیں تو پھر یہ نسخہ تو ہے ہی کہ کافر جس سائنسی تحقیق پر آج پہنچے ہیں اس کی نشاندہی اسلام نے 14 سو سال پہلے کردی تھی۔ عالم اسلام کی حماقت ملاحظہ فرمائیں کہ سائنسی تحقیق اور دریافت کے میدان میں کارہائے نمایاں سرانجام دینے کے بجائے وہ تو ویلنٹائن ڈے جیسے موضوعات پر ہی لڑتے رہتے ہیں۔ صاحب نے سائنس او رٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی نہ کرنے کو عالم اسلام کے زوال کا اصل سبب بتایا ہے۔ اگر مسلمان بھی آئن اسٹائن کی طرح کوئی سائنسی نظریہ پیش کردیں یا نیل آرمسٹرانگ کی طرح چاند پر قدم رکھ دیں تو امت کو پھر سے عروج حاصل ہوجائے گا۔ ا±سے تمام تہذیبوں پر غلبہ مل جائے گا۔ باطل اس کے مقابلے میں پاش پاش ہوجائے گا۔ ہر کام میں اسے اللہ کی معیت اور نصرت نصیب ہوجائے گی۔ سائنسی میدان میں ترقی نہ کرنے کی وجہ سے فرشتے ہم سے روٹھ گئے ہیں۔ آج اگر ہم میں کوئی آئن اسٹائن اور نیل آرمسٹرانگ پیدا ہوجائے تو فرشتے تیری نصرت کو اترسکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی۔”

سوال یہ ہے کہ امت مسلمہ کے عروج و زوال کا یہ تجزیہ درست ہے؟

اقبال نے کہا تھا:اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ، خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی، یعنی ملت اسلامیہ کے عروج وزوال کا تجزیہ کرتے ہوئے ہم یہ نتیجہ اخذ نہیں کریں گے کہ جس راستے پر چل کر مغرب کو عروج حاصل ہوا ہے ا±سی راستے پر چل کر ہی قوم رسول ہاشمی کو عروج حاصل ہوگا۔ اگر اس بنیاد پر ہم عروج کا سفر شروع کریں گے تو کبھی اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ منزل تک پہنچنے کے لیے قوم رسول ہاشمی کو ا±س راستے پر چلنا ہوگا جو راستہ رسولِ ہاشمی نے ہمارے لیے متعین کیا ہے۔

مسلمانوں کے عروج کا آغاز جب ہوا ا±س وقت رومی، ایرانی، ہندوستانی، چینی تہذیبیں اپنے تمام علوم و فنون اور فکر و فلسفے کے ساتھ موجود تھیں۔ معروف مغربی مو¿رخ ‘ٹائن بی’ کے مطابق جدید مغربی تہذیب ان ہی قدیم یونانی اور رومی تہذیبوں کا بچہ ہے۔ ترقی کی تمام علامات اور آثار وہاں موجود تھے، لیکن اللہ کے نبی نے رومی، ایرانی، ہندوستانی، چینی فکر و فلسفے اور علوم و فنون کی بجائے انتہائی سادگی سے اللہ کا پیغام سنایا کہ مسلمانوں کو غلبہ اس وقت ملے گا جب وہ کامل ایمان والے ہوں گے، ”اور اقتدار اس وقت ملے گا جب ایمان کے ساتھ ساتھ عمل صالح ہوگا“۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ ریاست مدینہ میں جدید شہری سہولیات کے نہ ہونے کے باوجود ، عورتوں کے مردوں کے ساتھ امور میں شانہ بشانہ شریک نہ ہونے کے باوجود مسلمان روم و ایران کو فتح کررہے تھے۔

مسلمان سائنسی تعلیم و تحقیق اور ٹیکنالوجی کے دشمن نہیں ہیں، لیکن مسلمانوں کے زوال کا سبب صرف سائنس میں ترقی نہ کرنے کو بتانا درست نہیں ہے۔

کیا یہ بات درست نہیں ہے کہ موجودہ سائنسی ترقی اور ایجادات و اکتشافات کے پیچھے ظلم وستم، جبر کی طویل خون رنگ داستانیں ہیں۔ نوآبادیات میں انسانوں کا وحشیانہ قتل عام، وسائل پر قبضے، زبردستی انہیں غلام بنانا، جانوروں جیسا سلوک کرنا، کیا سائنسی ترقی کی تاریخ سے یہ ساری برائیاں کھرچی جاسکتی ہیں؟ کیا برطانیہ کی موجودہ سائنسی ترقی کا پہیہ ہندوستان کی دولت، وسائل اور ہندوستانیوں کے قتل عام کے بعد نہیں چلا؟ مشہور سیاح ہیری لکھتا ہے کہ دہلی کے ایک کپڑے کے تاجر کے پاس اتنا سونا ہے کہ پورے بینک آف انگلینڈ کے پاس اتنا سونا نہیں۔ ہندوستان کا سارا سونا کہاں چلاگیا؟ آخر کیا بات ہے کہ ارسطو جیسے سپر جینئس آدمی کے ذہن میں یہ خیال نہیں آیا کہ ایٹم بم کے نام پر ایک ایسا ہلاکت خیز بم ایجاد کردیا جائے جس کے نتیجے میں بچے، بوڑھے، جوان، عورتیں، مرد، جانور، فصلیں، سبزہ ہر چیز تباہ ہوجائے۔ سائنس کا علم ضرور حاصل کرنا چاہیے، لیکن یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کے نتیجے میں انسانیت کا کیا حال ہورہا ہے؟ چین نے گزشتہ 25 سال میں جتنی سائنسی ترقی کی ہے، یورپ اور امریکا نے تین سو سال میں بھی اتنی ترقی نہیں کی، لیکن اس سائنسی ترقی کے نتیجے میں چین کا سارا ساحلی سمندر اور 75 فیصد ندیاں آلودہ ہوچکی ہیں۔ فضائی آلودگی کی وجہ سے ہر سال تین لاکھ اموات ہورہی ہیں۔ صاف ہوا میں سانس لینے کے لیے ہوٹلوں میں جاکر چین کے رہنے والو ںکو پیسے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ سگریٹ نوشی کی وجہ سے چین میں ہر سال 7 لاکھ 30 ہزار افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔ شہریوں کے خون میں سیسے کی مقدار اس اوسط سے زیادہ ہے جسے دنیا بھر میں خطرناک تصور کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے بچے کی ذہنی نشوونما رک جاتی ہے۔

ماڈرن سائنس نے دعوی کیا تھا کہ وہ تسخیر کائنات کا فریضہ سرانجام دے گی،لیکن تین سو سال میں ترقی کے بجائے وہ تجہیز وتکفین اور تدفین کا فریفہ سرانجام دے رہی ہے۔ اس کا ایک ثبوت امریکا، چین، جاپان، بھارت اور دیگریوپی ممالک میں طوفانی بارشیں، قدرتی آفات اور زہر آلود فضائیں ہیں۔ کوپن ہیگن کانفرنس میں دنیا بھر کے سائنس دانوں نے مطالبہ کیا تھا سائنسی ترقی کی رفتار کو فوری طور پر روکا جائے ورنہ یہ کرہ ارضی ختم ہوجائے گا۔ اسی طرح یورپ کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ اسی فیصد سائنسی ترقی کم کر دی جائے، ورنہ یورپ کا خطہ ختم ہوجائے گا۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک پروفیسر نے اپنی کتاب میں اس تباہی کی تفصیلات بیان کی ہیں اور انہوں نے لکھا ہے کہ امریکا نے تین سو سے زائد سائنسدانوں کو اس وجہ سے گرفتار کیا تھا کہ وہ سائنسی ترقی سے دنیا میں پھیلنے والی تباہی اور بربادی کے اعداد و شمار عوام کو فراہم کر رہے تھے، جس کی وجہ سے سرمایہ داروں میں خوف وہراس پھیل رہا تھا۔ جب ان گرفتار شدہ سائنسدانوں نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تو سپریم کورٹ نے ان کی اپیل بھی مسترد کر دی۔ ستم ظریفی تو دیکھئے ! موجودہ ترقی جن سائنسدانوں کی وجہ سے ممکن ہوئی انہی سائنسدانوں کوگرفتار کیا جارہا ہے۔ اورغوری صاحب مطالبہ کر رہے ہیں کہ عالم اسلام کے تمام ممالک اس سائنسی ترقی کو اپنائیں تاکہ رہی سہی کسر بھی ختم ہوجائے۔ اسلام علوم عقلیہ کے وجود کا قائل ہے لیکن تمام علوم عقلیہ قرآن وسنت کے نقلی دائرے کے تابع ہیں۔ علوم عقلیہ کا مقصد اسلامی مقاصد کے حصول کو ہر حال میں ممکن بنانا ہے ،لیکن وہ علومِ عقلی جو آخرت کے حصول میں رکاوٹ پیدا کریں اسلام ایسے علوم کا بالکل قائل نہیں ہے۔ ہمارے دانشور صاحب نے اس سائنسی علم کے بارے میںاگر مغرب کے صف اول کے فلاسفہ ہزرل، ہائیڈیگر، ڈلیوز، پاپر، مارکوزہے، رچررڈرارنی، فوکالٹ، ہیبرماس کی معرکہ آرا کتابیں ہی پڑھ لیںتو بہت سے توہمات اور مفروضات ختم ہوسکتے ہیں۔ ان فلاسفہ اور سائنس دانوں کی کتابیں سائنس کی آفاقیت کے دعوے کو رد کرتی ہیں اور سائنس کے مفروضات سے ماورا ہونے ، اس کے غیر اقداری عالمگیر ہونے کے تصورات کی تنقید کرکے اس اجمال کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ مشہور ماہر معاشیات فریڈرک لسٹ جس نے بسمارک کے ساتھ مل کر کام کیا اور جرمنی کے جدید معاشیاتی ڈھانچے کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جدید انسان کے بارے میں وہ عجیب بات لکھتا ہے کہ”عقل مند آدمی وہ ہے جو جانتا ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے جو چاہتا ہے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا چاہتا ہے، اس زیادہ سے زیادہ کا حصول ایسے طریقے سے چاہتا ہے کہ کم سے کم خطرات کا سامنا کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ کا جلد حصول ایسے طریقے سے چاہتا ہے کہ کم سے کم خطرات کا سامنا کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ جلد حصول جلد ازجلد ممکن ہوجائے۔ جو شخص، فرد، معاشرہ، ان تین سطحوں پر زندگی کے تانے بانے کو اس فلسفے کے تحت بننے کا قائل ہو وہی شخص تہذیب اور وہی فرد حقیقتاًعقلی ہے“۔ فریڈرک کا یہ تصور عقلیت معاشیات میں آج بھی مستعمل ہے اور مشہور سیاسی فلسفی ”John Rawls”نے بھی اس تصور کو اپنے نظام فکر میں استعمال کیا ہے۔ جدید سائنس اس تیسری سطح کو زیادہ سے زیادہ مگر جلد سے جلد ممکن بنانے کا نام ہے ،اس کا اسلام سے اور اسلام کی خدمت سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر بلال صاحب نے مغرب کے ان مفکرین کا مطالعہ کیا ہوتا تو وہ سائنسی ترقی کے بارے میں مسلمانوں کو ہدایات دیتے ہوئے کچھ غور و فکر سے کام لیتے۔

مسلمان یقینا سائنسی ترقی کے قائل ہیں، لیکن یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ انسان کے لیے انسانی زندگی زیادہ اہم ہے یا سائنسی ترقی زیادہ اہم ہے؟

یہ کیسا سائنسی دور ہے جس میں انسان دودھ پینے کا عادی نہیں، سگریٹ پینے کا عادی ہے۔ شاید وہ سمجھتا ہے کہ اس کے جسم کو کیلشیم کی نہیں، کینسر کی ضرورت ہے! اسلام انسان کو سائنسی ترقی سے منع نہیں کرتا، لیکن انسان صرف ایک مادّی وجود کا ہی نام تو نہیں۔ وہ مادّی وجود کے ساتھ روح کا وجود بھی رکھتا ہے۔ جسم اور روح کے مجموعے کا نام انسان ہے، لہٰذا اسلام ہمیں جہاں انسان کی مادّی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکم دیتا ہے، وہاں وہ اس کی روحانی ضروریات کو بھی فراموش نہیں کرتا۔

کیا مابعد الطبیعات کی کوئی حقیقت نہیں؟ !

اگر نہیں تو پھر آئن اسٹائن نے سچ ہی کہا ہے کہ انسانی حماقت کی واقعی کوئی حد نہیں اور ہمارے افلاطونی بھائی نے جس کافر کا قول پیش کیا ہے ہمیں ا±س میں سے کسی سازش کی بو نہیں آرہی، ا±س نے بھی ٹھیک ہی کہا ہے کہ ”عقل کی انتہا ہوسکتی ہے، مگر بے وقوفی کی کوئی انتہا نہیں۔“ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان صاحب نے جدید فلسفہءسائنس، سائنٹفک میتھڈ، سائنس اور سرمایہ داری کے تعلق اور سائنس پر مغرب میں ہونے والی تنقیدی تحقیقات کا مطالعہ نہیں فرمایا۔ تاریخ سائنس کے ایک اہم محقق جارج سورٹن انٹرنیشل فلاسفی آف کانگریس کے صدرہزرل کی کتاب”Crisis of European Scienes”، ہزرل کے شاگرد ہائیڈیگر کاکوئی مقالہ ، فیرا بینڈ کی کتاب اور اس صدی کے سب سے بڑے سائنس دان بلکہ اس صدی کے آئن سٹائن فائن مین کی کتاب ”The Character of physical law ”کوبھی نہیں پڑھا۔ اگر انصاف کے ساتھ مغرب کے صف اول کے فلاسفہ ہزرل،ہائیڈیگر، ڈلیوز،پاپر ، مارکوزے، رچرڈرارٹی، فوکالٹ، ہیپرماس کی معرکہ آرا کتابیں پڑھ لی جائیں تو پراگندہ خیالات اور توہمات ختم ہوسکتے ہیں۔ صرف مشہور امریکی مو¿رخ جیئرڈ ڈائمنڈکی کتاب Collapse: How Societies Choose to Fail or Succeed کا مطالعہ کرلیں تو بھی ان کا وسوسہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے بھائی نے ڈاکٹر حسین نصر، رینے گینوں اور ڈاکٹر ظفر اقبال کی کوئی کتاب بھی نہیں پڑھی، ورنہ وہ شمس و عباس جیسے مسلمان مرحومین پر طنز کی جرات نہ کرتے!

صاحب پینترابدلتے ہوئے کہتے ہیں کہ آج کفار سائنسی تحقیق کے میدان میں جو ترقی کر رہے ہیں، اس کا سہرا مسلمانوں کے سر ہے کیونکہ اس کی بنیادیں مسلمانوں نے فراہم کیں۔ انہوں نے اس نکتہ نظر کو سواد اعظم اہل سنت کے نکتہ نظر کے طور پر پیش کیا ہے۔اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صاحب نے کبھی عقیدہ طحاویہ اور عقائد نسفی کا مطالعہ نہیں فرمایا۔ ان دو کتابوں کے مطالعے کے بغیر کوئی صاحب اسلام کے بارے میں کوئی نکتہ نظر بیان کرتا ہے تو یہ نکتہ نظر غلط بیانی کے سوا کچھ اور نہیں۔

’جدید سائنس کی بنیاد اسلام نے رکھی‘، یہ نکتہ نظر انیسوی صدی کے آغاز میں عالم اسلام پر استعماری غلبہ کے نتیجے میں پیدا ہوا۔ اور اس نکتہ نظر نے رفتہ رفتہ جدیدیت پسند اور لبرل مسلمانوں کے اندر ایک عقیدہ، نظریہ، کلیہ، اصول اور فلسفے کی حیثیت اختیار کر لی، حالانکہ یہ فلسفہ اصلاً مغرب سے مرعوب جدیدیت پسند مفکرین کا نکتہ نظر ہے۔حیرت ہے کہ غوری صاحب نے مغرب کے حامی مذہبی جدیدیت پسند مفکرین کے غلط سلط نکتہ نظر کو عالم اسلام کی مسلمہ علمیت سے جوڑنے کی غلط کوشش فرمائی۔ عالم اسلام کے مسلمہ مکاتب فکر کا سائنس کے بارے میں جو کچھ نکتہ نظر ہے اس کی ترجمانی عصر حاضر کے ایک ممتاز محقق ڈاکٹر خالد جامعی کے شاگرد ظفر اقبال نے اپنی کتاب ”اسلام اور جدید سائنس نئے تناظر میں“ نہایت محققانہ شان کے ساتھ پیش کی ہیں۔ اس کتاب کے نئے ایڈیشن پر تمام مکاتب فکر کے علما نے تائیدی تقاریظ لکھی ہیں۔ عہد حاضر کے ایک بہت بڑے فقیہہ اور عالم مفتی تقی عثمانی صاحب نے تعریف و تائید فرمائی ہے۔ موصوف سے مو¿دبانہ درخواست ہے کہ وہ اسلام پر، علمائے دین پر، اسلامی مکاتب فکر پر، اسلامی علمیت پر، اسلامی تاریخ و تہذیب اور عقائد پر حملہ کرنے سے پہلے ان کتب کا لازمی مطالعہ فرما لیں، اس کے بعد اگر وہ مکالمہ کرنا چاہیں تو ہم حاضر ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

10 thoughts on “بلال غوری کا کالم غلط بیانی کے سوا کچھ نہیں

  • 18-02-2016 at 12:27 pm
    Permalink

    بالکل درست۔ سائنس وغیرہ کی باتیں غیرمابعدالطبیعیاتی اور احمقانہ ہیں اور سائنس سے شعوری اجتناب کو مسلمانوں کے زوال کا سبب قرار دینا محض افلاطونیت ہے۔ مسلمانوں (عربوں) کے زوال کی اصل وجہ وہی ہے جس کی طرف غازی صاحب نے اشارہ فرمایا ہے، یعنی فتوحات کا سلسلہ روک دینا، جس کے نتیجے میں وہ غیرعربوں (ترکوں) کے غلام بن گئے جنھوں نے جاتے جاتے انھیں یورپی نوآبادیاتی طاقتوں اور پھر یہودیوں کے سپرد کر دیا۔ رہے ہندوستان کے نومسلم تو ان بیچاروں نے سواے باری باری عربوں، وسط ایشیائیوں، افغانوں وغیرہ کا مفتوح ہونے کے غازی ہونے کا کبھی کوئی ثبوت دیا ہی نہیں۔ (صرف غازی جنرل حمید گل نے جلال آباد فتح کرنے کی مبارک کوشش فرمائی تھی لیکن ان کا جہاد شاید غیرعرب ہونے کے باعث کامیاب نہ ہو سکا۔) چنانچہ جب تک عرب افواج پہلے غیرعرب نومسلم دنیا اور پھر باقی غیرمسلم دنیا کو فتح کر کے اپنا غلام نہیں بنا لیتیں، اس وقت تک اسلام کو دوبارہ عروج حاصل نہیں ہو سکتا۔

  • 18-02-2016 at 12:34 pm
    Permalink

    محترم غازی صاحب کی علمی حوالوں کے بھاری بھرکم ناموں سے بھرپور تحریر نظر نواز ہوئی تو اندازہ ہوا کہ اس کا مواد تقریبا تمام ڈاکٹر ظفراقبال صاحب کی کتاب سے ماخوذ ہے، جو اپنے طرز فکر میں رینے گینوں صاحب کے خوشہ چین ہیں. اس خادم کو تو، بہ سبب کم نگاہی، اس کتاب پر محض فتووں کی پوٹ کا گمان گزرا. رینے گینوں صاحب کی کتاب اور اس کی اردو بازگشت، عسکری صاحب کی کتاب پر اہل علم وقیع تنقید کر چکے ہیں اور ان کے طرز استدلال کی ژولیدگی اور فکری بودے پن کو کھول کھول کر نمایاں کیا ہے. پتا نہیں غازی صاحب کو اس تنقید کی خبر نہیں یا مصلحتا اس سے صرف نظر فرمایا. خیر، غازی صاحب نے بزعم خود، مغربی “سائنسی” سوچ پر مغرب ہی کے جن مفکرین کی تنقید کا حوالہ دیا ہے، اگر وہ ذرا دقت نظر سے ان کا مکمل مطالعہ فرما لیتے تو پتا چل جاتا کہ ان حضرات کی تنقید کا وار، سائنس سے زیادہ عینیت پسندانہ طرز فکر پر کاری پڑتا ہے. کہیں غازی صاحب سائنس کی تنقیص کے چکر میں ایمانیات پر فوکو، ہیبرماس، ہایدیگر وغیرہ جیسے ملحدین کی قوی تر تنقید کی جانب قارئین کی توجہ مبذول کروا کر ہمارے اور اپنے لئے کسی اور ہی فتنے کا راستہ نہ کھول بیٹھیں. جیرڈ ڈائمنڈ صاحب کا تو کیا ہی کہنا، کہ ان کا طرز استدلال سو فی صد سائنسی ہے اور ان کے طے کردہ کائناتی ڈھانچے میں کسی مافوق الفطرت قوت کی کوئی گنجائش نہیں ہے.

    غازی صاحب کو جدید مسلم مفکرین میں اپنے قول کے اثبات کے لئے لے دے کر دو ہی سربر آوردہ نام ملے. حسین نصر صاحب کا تو صرف نام، وہ بھی در رنگ طعنہ زنی، استعمال ہوا ہے، علامہ اقبال کا البتہ وہ مشہور مصرع “خاص ہے ترکیب میں…” درج کیا گیا ہے جو بجاے خود ایک بے دلیل، گر چہ بلند آہنگ دعوے کے سوا کچھ نہیں اور اس کی سیاسی تعبیر کو نقلی دلائل کا تو ہرگز سہارا میسر نہیں ہے، تفسیر بالراے کی اور بات ہے. بہتر ہوتا کہ غازی صاحب علامہ کے اصل تجزیاتی کام “تشکیل جدید الہیات اسلامیہ” والے خطبات سے کوئی دلیل بہم پہنچاتے. ایک بار پھر اپنی بے علمی اور کم نظری کا اعتراف کرتا چلوں کہ دوبارہ دیکھنے پر بھی بلال غوری صاحب کے کالم میں مجھے، غازی صاحب کا بیان کردہ، “.. اسلام پر، علمائے دین پر، اسلامی مکاتب فکر پر، اسلامی علمیت پر، اسلامی تاریخ و تہذیب اور عقائد پر حملہ..” کہیں نظر نہیں آیا. غوری صاحب کی تنقید تو صاف صاف جاہلانہ، کہنہ پرست طرز فکر کو زبردستی عقائد کی پوشاک پہنا کر اسے اصل و اصول دین قرار دینے کا تلبیس آمیز رویہ اختیار کرنے والوں پر ہے. نجانے غازی صاحب کو اس شفاف آئینے میں کس کا چہرہ نظر آگیا کہ اسے حملہ سمجھ بیٹھے، اور وہ بھی غلط ہدف پر.. یہ پڑھ کر الحمد لللہ بہت خوشگوار حیرت ہوئی کہ غازی صاحب انیسویں صدی کے، مغرب سے مرعوبیت کی پیداوار، “پدرم سلطان بود” طرز کے تمام تر سائنسی ترقی کو اپنے اسلاف کا ورثہ سمجھنے کے دعاوی سے بیزار ہیں. ماشا اللہ.

    مضمون میں کافی مواد تو سائنس کی بحث سے غیر متعلق ہے مثلا یورپی اقوام کی سامراجیت اور لوٹ کھسوٹ. خادم اس حوالے سے غازی صاحب سے متفق ہے، بلکہ ہر قسم کی سامراجیت، ملک گیری، جبر اور استبداد کو غلط سمجھتا ہے چاہے اس کا ارتکاب گورا کرے یا کالا، بھلے یہ کام ننگی جارحیت کے طور پر ہو رہا ہو یا تقدیس، تہذیب، تمدن، جدیدیت کی قبیل کے خوشنما لبادے کے پیچھے.. آمدم بر سر موضوع ،غالبا اکثر دوستوں کے مانند، غازی صاحب نے بھی “سائنسی شعبہ جات” اور “سائنسی طرز فکر” کے درمیان تفاوت پر غور نہیں فرمایا. مضمون میں بیان کردہ “سائنس” پر اعتراضات میں سے اکثر و بیشتر اخلاقی نوعیت کے ہیں. کسی بھی سائنسی شعبے مثلا طبعیات، کیمیا، ریاضی وغیرہ کو اخلاقیات، سیاسیات، سماجیات یا غازی صاحب کی اصطلاح میں، “اقداری نظام” سے بحث نہیں ہے. سو مثال کے طور پر، اگر کسی طبیعات دان کی ایجاد کردہ کسی مشین سے معاشرتی و سماجی فوائد کے علاوہ فضائی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے، تو یہ مسلہ سماجیات و سیاسیات سے متعلق ہے. سو اہل معاشرہ باہمی مشورے کے بعد ماہرین سائنس کو اس کام پر لگاتے ہیں کہ وہ مذکورہ مشین کے فوائد کو برقرار رکھتے ہوۓ اس کے مضر ضمنی اثرات کو کم کرنے کی سبیل نکالیں. غازی صاحب نے مشاہدہ یا مطالعہ کیا ہوگا، کہ جو معاشرے ایسے فیصلے کرنے میں کامیاب رہتے ہیں (مثلا سکینڈے نیوین اور بعض دیگر یورپی ممالک، ملیشیا وغیرہ) وہاں ماہرین سائنس نے ان مسائل کے حل کی جانب خاطر خواہ پیش رفت کی ہے. جہاں بوجوہ ایسا نہیں ہے (مثلا ہندستان ،چین، پاکستان وغیرہ) وہاں وہ ماحولیاتی مسائل درپیش ہیں جن کا رونا (اتفاقا) مذہبی حلقوں سے زیادہ جدید مظاھر پرست (نیو ایج) کے پیرو یا جدید رومانویت پرست (ما بعد جدیدیت والے) روتے ہیں. اسی طرح یہ فیصلہ کہ جوہری توانائی سے بجلی بنائی جاے، سرطان کا علاج کیا جاے، یا ہلاکت خیز .ہتھیار. سائنس کا نہیں، سماج اور ریاست کا دائرہ کار ہے. اس کی ممکنہ ضرر رسانی کے خدشے کے پیش نظر سرے سے کسی سائنسی شعبے پر قدغن لگانا نہ تو ممکن ہے، نہ مفید.. “سائنسی طرز فکر” البتہ ایک الگ موضوع ہے، جس پر غازی صاحب نے مضمون میں خاص توجہ نہیں فرمائی ، یا وہ ڈاکٹر ظفر اقبال صاحب کی کتاب کے اس سے متعلق حصوں کو پڑھ یا سمجھ نہیں پاے، سو اس پر مکالمہ کسی اور موقع کے لئے اٹھا رکھتے ہیں.

    درج بالا گزارشات کا لب لباب یہ ہے کہ سائنس کو بجاے خود مطعون کرنے کا جواز غیر موجود ہے اور سائنسی ایجادات کے مضر ضمنی اثرات کا بار سماجی و سیاسی نظام پر ہے. اگر پہیہ باربرداری کی گاڑی کے بجاے جنگی رتھ کی زینت بنا ہوا ہے، تو اس میں پہیے یا اس کے موجد کا کوئی قصور نہیں بلکہ استعمال کنندہ کا ہے. ایک اور زاویے سے دیکھا جاے جاے تو علم کی ترقی کے لئے سازگار سماجی و سیاسی ماحول اہمیت رکھتا ہے. اگر سماجی اور سیاسی ڈھانچے پر بزعم خود تقدس مآب تاریک خیالی کا غلبہ ہے، تو علم آگے نہیں بڑھ پاتا بلکہ قومیں ہر لحاظ سے اقتصادی، سیاسی اور سماجی طور پر قعر مذلت میں پھسلتی چلی جاتی ہیں. اور محترم غازی صاحب کو وہ قول سدید یاد ہوگا جس میں بھوک کو ایمان کے لئے خطرہ بتایا گیا ہے. ہمارے لئے تو یہی قول سدید کافی ہے اگر چہ مضمون میں مذکور جان رالز نے اس کی مزید تشریح یوں کی ہے کہ بہترین معاشرہ وہ ہے جس میں، ہر شخص مرنے کے بعد دوبارہ بھی اسی حیثیت اور حالت میں پیدا ہونا پسند کرے جس میں وہ آج ہے. فی زمانہ موجود نظام ہاے سماجی و اقتصادی کا ایک طائرانہ جائزہ بھی بہ آسانی یہ نشان دہی کر دے گا کہ رالز کی اس تعریف سے کون سے ممالک زیادہ قریب ہیں، اور ان کے ہاں سائنسی ترقی کو کس قدر اہمیت حاصل ہے. اس کے بر عکس معاشروں کو پہچاننے کے لئے تو قیاس آرائی کی بھی ضرورت نہیں ہے، کہ یہ سب کو معلوم ہے کہ جن ممالک سے لوگ بھاگ رہے ہیں، یا بھاگنا چاہتے ہیں، اور وہ ممالک جہاں وہ بھاگ کر پہنچنا چاہتے ہیں، سائنس کی ترقی کے حوالے سے علی الترتیب، کس سمت میں گام زن ہیں.

  • 18-02-2016 at 1:08 pm
    Permalink

    حاشا و کلا، ازراہ تفنن نہیں محض ازراہ اظہار حقیقت چند تصحیحات بھی پیش ہیں.

    کوپن ہیگن کی مشہور ماحولیاتی کانفرنس منعقدہ سن دو ہزار نو میں ہر گز “سائنسی” ترقی کی رفتار روکنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا بلکہ “آلودگی پھیلانے والی صنعتوں” کے پھیلاؤ پر قدغن کی مانگ کی گئی تھی. اسی طرح یورپ کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ اسی فیصد “گرین ہاؤس گیسز” کا اخراج کم کر دیا جائے، ورنہ یورپ کا خطہ ختم ہوجائے گا . اسے “سائنسی ترقی روکنے” کا مطالبہ قرار دینا بہت بڑی سبقت قلم ہی ہو سکتی ہے. بد گمانی کا خادم کو یارا نہیں ورنہ سخت تر اصطلاحات اس نوع کے “ترجمہ بالراے” کے بارے میں مستعمل ہیں.

    ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ “ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک پروفیسر نے اپنی کتاب میں اس تباہی کی تفصیلات بیان کی ہیں اور انہوں نے لکھا ہے کہ امریکا نے تین سو سے زائد سائنسدانوں کو اس وجہ سے گرفتار کیا تھا کہ وہ سائنسی ترقی سے دنیا میں پھیلنے والی تباہی اور بربادی کے اعداد و شمار عوام کو فراہم کر رہے تھے، جس کی وجہ سے سرمایہ داروں میں خوف وہراس پھیل رہا تھا۔ جب ان گرفتار شدہ سائنسدانوں نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تو سپریم کورٹ نے ان کی اپیل بھی مسترد کر دی”. خادم کو بہ صد کلفت یہ عبارت ملی تو اس میں ہارورڈ یونیورسٹی کا ذکر تھا، نہ کسی کتاب کا، بلکہ یہ بے بنیاد دعوی ایک ایسی ویب سائٹ کی زینت تھا جس کا انصرام “دھرتی پوجا” کے خوگر اور “نظریہ سازش” کے شوقین لوگوں کے ہاتھ میں ہے. خادم اسے بھی افواہ سازی کے بجاے سبقت قلم ہی قرار دے گا.

    پھر معروف اقتصادی مفکر فریڈرک لشٹ سے منسوب بیان تو درست نقل کیا گیا ہے، بس ایک حساس اصطلاح کے ترجمے میں چوک جانے کے سبب اس نے ایسا معاندانہ رنگ اختیار کرلیا ہے جو لشٹ صاحب کی منشاء نہ تھی، چونکہ اپنے مضمون میں وہ اس کی مزید صراحت میں اسے غیر صحت مندانہ قرار دیتے ہیں. اقتباس ہے، “فریڈرک لسٹ جس نے بسمارک کے ساتھ مل کر کام کیا اور جرمنی کے جدید معاشیاتی ڈھانچے کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جدید انسان کے بارے میں وہ عجیب بات لکھتا ہے کہ”عقل مند آدمی وہ ہے جو جانتا ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے جو چاہتا ہے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا چاہتا ہے، اس زیادہ سے زیادہ کا حصول ایسے طریقے سے چاہتا ہے کہ کم سے کم خطرات کا سامنا کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ کا جلد حصول ایسے طریقے سے چاہتا ہے کہ کم سے کم خطرات کا سامنا کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ جلد حصول جلد ازجلد ممکن ہوجائے۔ جو شخص، فرد، معاشرہ، ان تین سطحوں پر زندگی کے تانے بانے کو اس فلسفے کے تحت بننے کا قائل ہو وہی شخص تہذیب اور وہی فرد حقیقتاًعقلی ہے“۔”. یہاں لفظ “ریشنل” کا ترجمہ “عقل مند” کیا گیا ، گویا کہ لشٹ صاحب خود غرضی سے ابا کرنے والوں کو بے عقل یا احمق قرار دے رہے ہوں. در حقیقت لشٹ صاحب انسانی ذہن کے مختلف پہلوؤں کا بیان کر رہے ہیں اور یہاں انسان کے ” عملیت پسند” پہلو کا بیان ہے. آگے چل کر لشٹ صاحب یہ بھی بتاتے ہیں کہ کوئی انسان مکمل طور پر اور ہمہ وقت “عملیت پسند” نہیں ہوتا اور اس کی ذات کے دیگر پہلو مثلا جذباتیت، اخلاقی اقدار، علمیت وغیرہ اور بیرونی عوامل اس کی عملیت پسندی کے ساتھ مل کر اس کے طرز کار کو متعین کرتے ہیں. لیکن اگر یہ بات پوری لکھ دی جاتی تو وہ من پسند نتائج اس سے نہ نکل پاتے جو صاحب مضمون نکالنا چاہتے ہیں.

    پورا مضمون اس قسم کی اغلاط و تغلیط سے مزین ہے.. پنبہ کجا کجا نہم… البتہ اس قسم کے مندرجات کو دیکھتے ہوۓ مضمون کے عنوان میں جو فتوی غوری صاحب کے مضمون پر جڑا گیا ہے، وہ بار بار یاد آجاتا ہے. مشہور “مغربی” ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ کے نام کی مناسبت سے شاید اسے “فرایڈین سلپ” کی اصطلاح کے تحت سمجھنا بے جا نہ ہوگا.

    • 18-02-2016 at 6:49 pm
      Permalink

      اس خاکسار کا محض ایک ہی اعتراض ہے کہ عثمان قاضی صاحب کو پابند کیا جائے کہ وہ آسان زبان میں کمنٹ کیا کریں گے۔ تاکہ اسے سمجھ کر اس کے جواب میں کمنٹ کیا جا سکے۔ اگر یہ ممکن نہیں تو فاضل مدیرویب سائیٹ ہی مشکل اصطلاحات کا ترجمہ فرما دیا کریں، خاص طور پر جس فراوانی کے ساتھ فارسی الفاظ استعمال کیئے جاتے ہیں، اس کے ساتھ قوسین میں یا آخر میں ترجمہ ضرور دیا جائے، فٹ نوٹ کی روایت آخر اردو میں عرصے سے چلی آ رہی ہے۔ ویسے تو سہل پسندی کا مطالبہ قبلہ ومکرم عاصم بخشی صاھب کے لئے بھی کرنا چاہیے ، مگر اندازہ ہوچکا کہ ایسا ممکن نہیں، یہ تو ہم سب کو مل جل کر ہی بخشی صاحب کی تحریر کی تسہیل شائع کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر برہان احمد فاروقی صاھب کے بارے میں ایک معروف سکالر نے لکھا تھا کہ فاروقی صاحب کی تحریر سمجھنا تو دور کی بات ہے، اسے پڑھتے پڑھتے ہی دماغ سوج جاتا ہے۔ واللہ اس میں قطعی طور پر کوئی طنز نہیں، بخشی صاحب کے علم کا دل سے قائل ہوں، قاضی صاحب کی نثر ، ان کی فارسی پر قدرت اور ایک ہی جملے میں کئی خوفناک اصطلاحات استعمال کرنے کی صلاحیت پر رشک بلکہ اس سے بھی کئی منزلیں آگے کے جذبات محسوس ہوتے ہیں، مگر اس طرح تو یک رخا معاملہ رہے گا۔ حضرت خود ہی لکھا اور خود ہی اش اش کیا کریں گے۔

  • 18-02-2016 at 1:48 pm
    Permalink

    جناب اس کا حوالہ ملے گا؟ یہ تو بہت خوفناک انکشاف کیا ہے آپ نے۔

    “ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک پروفیسر نے اپنی کتاب میں اس تباہی کی تفصیلات بیان کی ہیں اور انہوں نے لکھا ہے کہ امریکا نے تین سو سے زائد سائنسدانوں کو اس وجہ سے گرفتار کیا تھا کہ وہ سائنسی ترقی سے دنیا میں پھیلنے والی تباہی اور بربادی کے اعداد و شمار عوام کو فراہم کر رہے تھے، جس کی وجہ سے سرمایہ داروں میں خوف وہراس پھیل رہا تھا۔ جب ان گرفتار شدہ سائنسدانوں نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تو سپریم کورٹ نے ان کی اپیل بھی مسترد کر دی۔”

  • 18-02-2016 at 2:44 pm
    Permalink

    محترم قاضی صاحب ، اس قدر تفصلی کمنٹس کے بجائے آپ اس کو کالم کی شکل دے دیتے تو کافی لوگ پڑھ پاتے ۔ براہ مہربانی اگر ایسا کر دیں تو مناسب رہے گا کیونکہ بعض اوقات میں خود کالم پڑھنے کے بعد نیچے سکرول نہیں کرتا

  • 18-02-2016 at 6:57 pm
    Permalink

    جہاں تک انور غازی صاحب کے ردعمل کا تعلق ہے، پہلی غلطی تو عنوان میں ہے۔ میرے نزدیک اس قسم کی سرخی ہرگز نہیں جمانی چاہیے۔ آپ اپنا نقطہ نظر بیان کریں، علمی شائستگی اور دلیل کے ساتھ، کسی کے کالم کو غلط بیانی کہنا اور وہ بھی چیختی چنگھاڑتی سرخی کی شکل میں۔۔۔۔۔۔ یہ ہرگز مناسب نہیں ہے۔ پھر ان کا جواب حد درجہ طویل ہے۔ اتنی طوالت اثر کھو بیٹھتی ہے۔ بہتر ہوتا کہ پوائنٹس بنا لیتے اور پوائنٹ وائز ہی جواب دیتے ۔ مزید بھی کچھ اعتراضات ہیں، مگر میرا خیال ہے کہ انہی پر اکتفا کرنی چاہیے۔ پہلے ہی انور غازی صاحب کو قاضی صاحب سمیت بعض دیگر لکھنے والوں کے زیادہ اہم سوالات کے جوابات دینے پڑیں گے۔ ہاں قبلہ قاضی صاحب کا ردعمل الگ بلاگ کی صورت شائع ہوا ہے، سرخی اس کی بھی مناسب نہیں۔ وہی اعتراض جو غازی صاحب پر کیا گیا، ادھر بھی وارد ہوتا ہے۔

  • 19-02-2016 at 9:06 am
    Permalink

    خادم مکرر عرض کرتا ہے کہ دو اہم پیدائشی “نقائص” لاحق ہیں. ایک تو اردو کا پہلی زبان نہ ہونا، دوسرے مولوی خاندان سے تعلق.. اس پر مستزاد مولویوں کے زیر سایہ تعلیمی زندگی کے اکثر سالوں کا بسر ہونا. اسی وجہ سے پیرایہ اظہار بسا اوقات گنجلک ہو جاتا ہے. عمر واعظ حضرات کا بیان سنتے اور آزاد، مدنی، عثمانی، امرتسری، تھانوی، مودودی، پرویز، برق وغیرہ کے فرمودات سنتے اور تحریریں پڑھتے گزر گئی. پھر بقول یوسفی صاحب، “میری شروع سے ہی صحت خراب اور صحبت اچھی رہی” سو بازاری محاورے سے واقفیت واجبی سی ہے. احباب سے دست بستہ درخواست ہے کہ ذرا ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کریں، کہ شاید ہی کوئی ایسا لفظ برتا گیا ہو جو دسویں جماعت کے اردو نصاب سے باہر کا ہو. جہاں تک سرخی کا تعلق ہے، اس کے سزاوار تو ہم سب کے محبوب شاعر علامہ اقبال ہیں، جو فرما گئے ہیں کہ:

    میں جانتا ہوں انجام اس کا
    جس معرکے کے ملا ہوں غازی

    امید ہے کہ محترم غازی صاحب نے اس رعایت لفظی سے لطف لیا ہوگا

  • 21-02-2016 at 1:56 am
    Permalink

    ham samajty han kay es tarhan kay moqalmy hoty rehny chayian.
    gazi sab kay dalayl nay waqae hman apeal keya!

  • 03-03-2016 at 12:26 pm
    Permalink

    صاحب مضمون نے چین کی جس ترقی کا لکھا ہے وہ نوعیت کے اعتبار سے سائنسی نہی بلکہ ٹیکنالوجیکل ہے۔ اس ٹیکنالوجیکل ترقی کا حصول مغربی سرمایہ داروں کی طرف سے چین میں سرمایہ کاری سے ممکن ہوا۔ جنہوں نے سستی لیبر اور ماحولیاتی قوانین کی نرمی کو ممد سمجھتے ہوئے چین کا رخ کیا۔

    یہ ناچیز عثمان قاضی صاحب کی نثر کا قتیل ہے چنانچہ ان سے اسلوب اور زبان کا معیار اسی سطح سے نیچے لانے کے مطالبہ کا پرزور مخالف ہے

Comments are closed.