پاکستان کا مطلب کیا …. جو کجھ لبھے، کھائی جا


 wisi baba 2سندھی وڈیروں نے جب دیکھا کہ اب بنیا انہیں اک ٹکا مزید ادھار دینے کو تیار نہیں ہے تو انہیں غصہ آ گیا کہ بنیے کی یہ جرات، بدلہ لینے کے لئے وڈیروں نے سندھ اسمبلی میں آزادی کی قرارداد پیش کر دی، بٹوارہ کروا کے دم لیا۔ بنیا بیچارہ ایسا دوڑا کہ پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا، اپنے کھاتے بھی ساتھ ہی لے گیا اب ان سے اگر بتیاں بنا کر سلگاتا ہے اور دل جلاتا ہے۔

باچا خان اپنی پختون قوم کی حماقتوں سے اتنا تنگ آئے کہ ان کو انہیں عدم تشدد ایجاد کر کے دینا پڑا کہ یہ لو، اس کو کام میں لاﺅ، رل مل کر کھایا کرو۔ مولوی کو اس عدم تشدد نے ایسا چڑایا کہ اس نے مال کمانے کو بندوق اٹھا لی، چرس بیچی، پاوڈر تک بیچ لیا لیکن عدم تشدد گورا نہ کیا ۔ ایسا جہاد شروع کیا دنیا کو ہٹ ہٹ کر ایسی ٹکریں ماریں کہ کوئی بھیڈو بھی کیا مارتا ہو گا دوسرے بھیڈو کو۔ ہر ٹکر نے لمبے نوٹ کما کر دئے ۔

بلوچ کیونکہ اس خطے میں سب سے پھرتیلی قوم ہیں اس لئے وہ اب تک سوچ رہے ہیں کہ خان آف قلات نے بلوچستان سے پاکستان بنا دیا تھا یا انہیں ایسے ہی وہم ہو رہا ہے۔ بلوچ ہر دس سال بعد پاکستانی سرکار سے متھا لگا کر یہی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بلوچستان کیا واقعی پاکستان ہے یا بس بلوچستان ہی ہے۔ انہیں پتہ تو شاید لگ جاتا ہے لیکن ہمیں بتانے کو پھر زندہ نہیں رہتے۔ زیادتی کرتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ ہمیں بتا کر مرا کریں۔اپنا وہم دور کر لیتے ہیں، ہمارا بڑھا جاتے ہیں۔

پنجابی رب کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے کہ ایک تو اس نے گاں بنائی، دوسرا علامہ اقبال اتارے جنہوں نے خودی ایجاد کی۔ علامہ نے منوں کے حساب سے شاعری کر دی لیکن مجال ہے اپنی شاعری میں کسی ایک لوکل ہیرو کو سر اٹھانے دیا ہو بحر ظلمات میں گھوڑے بھی دوڑائے تو علامہ نے ان کے لئے سوار عربستان ترکستان سے ہی منگوائے۔

پنجابی سمجھ گئے کہ علامہ نے انہی کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ بھلے لوکو، جو کرنا ہے، خودی کرنا ہے۔ بس پھر پنجاب والوں نے خودی کیا جو کرنا تھا۔ پہلے تو آٹھ دس لاکھ بندہ مارا۔ تقسیم کی خوشی میں۔ اس کے بعد جو مال اسباب بچا تھا اس کی ونڈ کی۔ کمائی کیسے کرتے ہیں، منافع کتنا کماتے ہیں ہاتھ ہلائے بغیر، یہ ریکارڈ آج تک نہ کسی نے توڑا، اور نہ آئندہ توڑ سکے گا۔ قبضہ گیری کی ٹیکنالوجی دریافت کرے گا تو توڑے گا یہ ریکارڈ۔

جئے سندھ سدا جیوے ، حق موجود، قائم دائم علی شاہ کو رب سوہنا حیاتی دے جنہوں نے اپنے ہزاروں سال کے تجربے کا نچوڑ اپنی پارٹی کو بتا رکھا ہے کہ سرکار کا مال ماں کا دودھ ہوتا ہے، پی جاؤ۔ جیالے نہیں سمجھتے تھے انہیں کوئی شک شبہ تھا تو چوھدری اعتزاز احسن سے نظم گا کر جیالوں کو سمجھانے کا بولا ۔ اعتزاز نے جیسے ہی اپنی نظم گائی کہ ریاست ہو گی ماں کے جیسی ، بس یہی دیر تھی۔ نظم سنی اور جیالے سمجھ گئے۔ اب دودھ کا دہی کر رہے ہیں۔

یہ تو تھیں پرانے پاکستان کی باتیں، نئے پاکستان کی سن لیں

آج کے نئے پاکستان میں کپتان نے احتساب احتساب کے اتنے نعرے لگائے تھے کہ سب کو کان ہو گئے تھے لیکن اب کپتان کا احتسابی کھلاڑی ہی دوڑ لگا گیا ہے۔ کپتان سے کوئی پوچھے تو وہ بیٹھی آواز میں بتاتا ہے کہ اجی لعنت بھیجو، افسر کام ہی نہیں کرتے تھے۔ ظاہر ہے جب کمائی نہیں ہونی تو کام کیوں کرنا ہے۔ اب خیر سے پہلی بار کے پی حکومت بھی اپنے بجٹ کو تیلی لگا لے گی اس سال، خرچہ لے گی ہنسی خوشی۔

آخر کار کپتان بھی سمجھ گیا کہ ہمارے بڑے ہمارے لئے یہ ملک کیوں بنا کر دے گئے

نوازشریف سب سے بھولے ہیں انہیں ویسے سمجھ نہیں آئی ۔ابھی بہاول پور گئے تھے ۔ وہاں جب چولستان کی لو لگی ہے تو ان کے اندر اندھیرے دور ہو گئے۔ انہیں بھی خیال آ ہی گیا کہ کس طرح احتساب والے شرفا کو تنگ کر رہے ہیں انہوں نے احتسابیوں کو گھوریاں شوریاں ڈالیں ہیں۔ اب امن ہو جائے گا۔ اتنی محنت سے لوگ پیسے کمائیں اور وہ لوٹنے کو احتساب والے پہنچ جائیں ہیں جی۔ اسحق ڈار کے منڈے کی حق حلال دی کمائی کو کوئی لمی ہی تھک لگا کر بھاگ گیا ہے۔ اس کا تو کچھ کر نہیں سکے۔ ان احتسابیوں کا گلا تو دبا ہی سکتے ہیں۔ ضرور دبائیں گے۔

میڈیا ہمارا مراثی ہے آخر گوبھی اور دیگر سبزیوں کو بھی تو کہیں مصروف رکھنا ہے۔ تو میڈیا کرپشن سٹوریاں چلاتا رہے تو اسی میں سب کا بھلا ہے۔

ویسے تو ہمارے نیک نام میڈیا کی ساری کرپشن سٹوریوں کی حقیقت اتنی ہے کہ جب کوئی ٹھیکے دار ٹھیکہ لینے سے رہ جاتا ہے تو وہ اپنی مرضی کا کرائے کا میڈیا مجاہد منتخب کرتا ہے۔ اسے ایک پانجا ( پانچ سو کا نوٹ) لگاتا ہے اسے اپنے حمایتی سرکاری کلرک بادشاہ سے ملاتا ہے جو ساری کہانی سناتا ہے جس میں درد یوں بھی ہوتا ہے کہ اس کو جو کمیشن ملنا تھا وہ کوئی اور افسر لے اڑا ہوتا ہے کام کروا کر۔ میڈیا مجاہد سٹوری میں پھر وہ رنگ بھرتا ہے کہ پورے پاکستانی چھپڑ کے پانی میں کرنٹ چھوڑ دیتا ہے۔ بلے بلے کریں ان میڈیا مجاہدین کی جو پانجا لے کر سٹوریاں کرتے ہیں لیکن ان بونگوں کو ہرگز نہ بھولیں جو چائے کا کپ پی کر مفت میں سٹوری چلا دیتے ہیں۔

عزیز ہم وطنو وچلی گل (اصل بات) سمجھو یہ ملک ہمارے بڑوں نے ہمارے کھانے پینے کو ہی تو بنایا تھا تو ان کے جذبات کا نہیں تو نیت کا ہی خیال رکھو۔ ”پاکستان کا مطلب کیا ،جو لبھے کھائے جا“ کا نعرہ لگاو¿ اور پڑ جاؤ (یلغار ہو)۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “پاکستان کا مطلب کیا …. جو کجھ لبھے، کھائی جا

  • 18-02-2016 at 7:15 pm
    Permalink

    Our politicians are not leaders, they are slaves of the power groups supporting them.

Comments are closed.