جناب عاصم بخشی صاحب کی تائید میں۔…..


 

 

akhtar-ali-syedجناب عاصم بخشی صاحب نے کرم فرمایا اور طالب علم کی کوتاہ بینی کی  نشاندہی فرمائی۔ اپنی بساط  بھر کوشش کی اور بخشی صاحب کے اس جملے کو سیاق و سباق میں رکھ کر سمجھنے کی ایک بار پھر کوشش کی جس پر گزشتہ عریضے میں چند گزارشات کی تھیں. ایک مرتبہ پھر ناکامی سے دوچار ھوا۔ ماڈل ٹیسٹ پیپر سے پڑھائی کرنے کی عادت نے سنجیدہ اور عالمانہ تحریر پڑھنے کی مہارت پیدا نہیں ہونے دی. میں بخشی صاحب کا ممنون احسان ہوں انہوں نے طالب علم سے اتفاق فرماتے ہوے بہت سے ایسے گوشوں کی جانب اشارہ فرمایا جو میرے علم و گمان میں بھی نہیں تھے یا بیان نہ ہو پاے۔

بخشی صاحب نے بجا طور پر نظریہ علم کے تفاوت کی جانب اشارہ فرمایا ہے. جہاں تک میں سمجھ پایا یہ وہ فرق نہیں ہے جس کو  مابعد جدیدیت نے موضوع بنایا ہے۔ یہ  وہ نظریہ علم ہے جس کی تدریس و تبلیغ ہمارے مذہبی تعلیم کے مدرسے کرتے ہیں. اس تفاوت کا اندازہ لگانا ہو تو سوره زمر کی اس آیت کا ترجمہ اور تشریح ملاحظہ فرمایے جس میں علم اور حصول علم کی اہمیت اجاگر کرتے ہوے پوچھا گیا ہے کہ کیا وہ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو نہیں رکھتے برابر ہو سکتے ہیں؟ برطانیہ کی اسلامک فاؤنڈیشن نے قرآن کی اس آیت کی تشریح میں جو کچھ کہا ہے وہ بخشی صاحب کی تائید کرتا ہے. تشریحی نوٹ کا  ترجمہ  ملاحظہ فرمایے “دوسری  طرح کے مرد (لفظ مرد غور طلب ہے) جنھیں عالم کہا گیا چاہے وہ نا خواندہ ہی  ہوں. اصل اہمیت صداقت کے علم اور اس پر عمل پیرا ہونے کی ہے. یہی حقیقی کامیابی ہے.” مجھ جیسا مبتدی طالب علم بھی دیکھ سکتا ہے کہ یہاں علم سے مراد علم دین ہے اور اس کے لئے خواندگی کی شرط بھی نہیں ہے.

بخشی صاحب نے مناسب طور پر تجویز کیا کہ سماج کی موجودہ صورتحال پر طعنہ زنی مناسب اور کافی نہیں ہے جب تک کہ  سماج کا نفسیاتی تجزیہ کر کے اصل معاملے کی تشخیص نہ کی جائے. اس ضمن میں انہوں نے پہل فرماتے ہونے “مذھب پسند ” حضرت کی درجہ بندی (Classification) فرماتے ہوے انھیں دو گروہوں میں تقسیم کیا  ہے. “مذہب پسند” کی اصطلاح سے صرف نظر کرتے ہوے صرف یہ عرض کرنا ہے کہ یہ گروہ صرف مرض کی شدّت میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں مرض کی نوعیت میں ایک جیسے ہیں. اس لحاظ سے یہ مرض کی شدّت  یا  (Spectrum) کا بیان تو ہو سکتا ہے افراد کی درجہ بندی نہیں.

میں اپنی گزشتہ گزارشات میں اجمالا یہ عرض کر چکا ہوں کہ بنیادی مسلہ مذہبی ذہن کی  پرداخت اور ساخت میں پوشیدہ ہے. اس ضمن اس ذہن کی چند علامات کا ذکر بھی کیا جا چکا ہے. بخشی صاحب نے مجھے یہ حوصلہ دیا ہے کہ میں اس ذہنی مسئلے کا نام بھی لوں اور اس کی علامات بھی تفصیل سے بیان کروں. انہوں نے اسے عارضہ نرگسیت کا نام دیا ہے. نرگسیت Narcissism کا ترجمہ ہے. ذہنی عوارض کی تشخیص اور درجہ بندی کا  سب سے جددید گو قابل تنقید نظام Diagnostic and Statistical Manual of Mental Disorder DSM 5 کہلاتا ہے. اسکا پانچواں ایڈیشن 2013 میں شایع ہوا ہے. اس میں Personality Disorders میں سے ایک Narcissistic Personality Disorder کی علامات ملاحظہ ہوں.

– خود عظمتی کا مبالغہ آمیز حد تک پہنچا ہوا یقین

– اپنی برتری تسلیم کروانے کی بے لچک کوشش جبکہ حقیقت میں اس برتری کو ماننے کی کوئی دلیل  نہ ہو.

– اپنی کامیابیوں اور صلاحیتوں کا مبالغہ آمیز بیان

– اپنی کامیابی، طاقت، ذہانت، خوبصورتی اور کمال کے دن سپنوں میں کھوے رہنا.

– مسلسل تعریف کی خواہش

– دوسروں سے مسلسل حمایت اور تابعداری کی توقع

– دوسروں کی ضروریات اور احساسات پہچاننے کی صلاحیت سے محرومی

– دوسروں سے حسد کرنا مگر یہ شکایت کرنا کہ دوسرے اس سے حسد کرتے ہیں.

– انتہا درجے کا تکبر اور گھمنڈ

اگر DSM 5 سے باہر نکل کر  کلینیکل تجزیوں پر نظر ڈالیں تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ خود عظمتی کا نہ قابل تغیر ایقان اور  تعریف و توصیف کی مریضانہ حد تک پہنچی ہوئی خواہش زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی ناکامی اور دوسروں کی کامیابی پر شدید رد عمل کا سبب بنتی ہے. یہ ردعمل جلن، حسد، اور دوسروں کے استحصال سے لے کر شدید جارحیت اور تشدد پر مشتمل ہوتا ہے. نوٹ کرنے کی بات یہ ہے ان افراد کی جارحیت کا شکار عام طور پر ان کے اپنے ہوتے ہیں نہ کہ غیر. اس عارضے کے شکار افراد میں خود کشی، نشہ آور اشیا کا استعمال اور  Eating Disorder  جیسی پیچیدگیاں بھی پائی جاتی ہیں. رومانوی تعلق سطحی اور باہمی تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہتے ہیں.

ذرا زحمت فرمایے اور ان علامات کا اطلاق کسی بھی گروہ پر کر کے دیکھئے. نفسیات میں فرد کی بیماریوں کی علامات  کا معاشرے اور گروہ پر اطلاق کرنا نئی  روش نہیں ہے.

اس طالب علم نے مذہبی ذہن کی جن علامات کو بیان کیا تھا ان میں خود راستی Self righteousness، دوسروں کو راہ راست پہ لانے کی ذمہ داری کا شدید احساس، دوسروں سے رابطے کی فقط ایک صورت کہ دوسرے میری اطاعت کریں، دوسروں کے عقائد، افکار، درد اور احساسات کو نہ سمجھ سکنا، اور دوسروں اور اپنے تجربات سے نہ سیکھ سکنے جیسی علتیں شامل تھیں. اب ذرا DSM 5 کی بیان کردہ علامات، بخشی صاحب کے بیان کردہ دونوں گروہوں کے خصائص اور اس طالب علم نے جو کچھ گزشتہ مضامین میں عرض کیا اور جس کا خلاصہ دوبارہ پیش کیا. ان سب کو موجودہ صورتحال سے ملا دیکھئے جو تصویر بنتی ہے خدا لگتی کہیے وہ فلسفیانہ ہے یا مریضانہ؟ اسے فلسفہ کہوں، بیانیہ کہوں، یا مرض؟

آپ کو حق حاصل ہے اس تصویر کو جو مرضی نام دیں مگر تصویر اور اس کے رنگ تبدیل نہ فرمائیں. بخدا یہ نشانہ بازی نہیں ہے. بخشی صاحب نے اس سے ڈرایا ہے. یہ نشانہ بازی نہیں، نشاندہی ہے.

بخشی صاحب نے جو سوال کل کے لئے اٹھا رکھا ہے آئیے اس پر آج بات کرتے ہیں. میں نے یہ پوچھا تھا کہ مسلم معاشروں میں وہ کون سے عوامل ہیں جو نئے سوال اٹھانے اور نئے جواب ڈھونڈھنے کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں. سوال وہ افراد اور سماج اٹھاتے ہیں جہاں معاملے ابھی حل طلب ہوں اور ان کو طے کیا جانا باقی ہو. جہاں تمام مسائل حل ہو چکے ہوں وہاں سوال کا کیا مصرف۔ نرگسیت زدہ مذہبی ذہن کے تمام مسائل حل ہو چکے اور تمام جواب دیے جا چکے ہیں. ان کو صرف دستاویز میں سے ڈھونڈ کر نکلنا ہے. یہ بحث بآسانی فلسفہ و منطق کی راہداریوں کا رخ کر سکتی ہے لیکن ذرا اس کو مجھ سے عامی کی سطح پر رکھ کر دیکھئے کہ مکمل ضابطہ حیات نے ہر مسئلے کا حل بتا دیا ہے تمام معاملے قیامت تک کے لئے  طے کر دیے ہیں. اس کا کیا مطلب ہوا؟ نمبر ایک، وقت ٹھہر گیا ہے اور کوئی بات نئی نئی بات نہیں اور کوئی مسئلہ نیا مسئلہ نہیں یا نمبر دو، نئے مسائل میرے تجویز کردہ نظام حیات سے دوری کا نتیجہ ہیں لہٰذا معیشت کی زبوں حالی، دین سے دوری کا نتیجہ. زلزلوں اور سیلاب کی آمد، دین سے دوری کا نتیجہ. انسانی تعلقات کی پیچیدگیاں، دین سے دوری کا نتیجہ. بیماریاں، دکھ، تکالیف ، سب دین سے دوری کا نتیجہ. جی چاہتا ہے آگے بڑھ کر پوچھا جائے کہ اورحضرت یہ  فرقہ وارانہ فساد؟

میں ایک بار پھر جناب عاصم بخشی صاحب کا شکر گزار ہوں انہوں نے مجھ ایسے طالب علم کی حوصلہ افزائی فرمائی. خیالات سے اتفاق فرمایا. اختلاف کرنے کی اجازت دی اور یہ موقع فراہم کیا کہ اپنی کج مج بیانیاں احباب کے سامنے بغرض اصلاح رکھ سکوں.

محترم اختر علی سید  صاحب اور محترم عاصم بخشی صاحب کے مکالمے کے بقیہ حصے ذیل کے صفحات پر پڑھے جا سکتے ہیں

جناب عاصم بخشی صاحب کی تائید میں۔…..

 18/02/2016

http://humsub.com.pk/5257/akhtar-ali-syed-4/

 

جناب اختر علی سید صاحب کی خدمت میں۔۔۔

 

16 فروری 2016

http://humsub.com.pk/5043/aasem-bakhshi-9/

 

جناب عاصم بخشی صاحب کی خدمت میں….

15 فروری 2016

http://humsub.com.pk/4909/syed-akhtar-ali/

 

​​


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “جناب عاصم بخشی صاحب کی تائید میں۔…..

  • 18-02-2016 at 11:37 am
    Permalink

    بہت شکریہ اختر علی سید صاحب۔ ایک بار پھر ممنون ہوں کہ آپ نے مکالمے کے لائق سمجھا اور یہ سراسر آپ کی تواضع ہے جو اپنے آپ کو طالبعلم کہنے پر اصرار کرتے ہیں۔ یہی وہ عجز ہے جو آپ کے علم و فکر کی بلندی کو ظاہر کرتا ہے۔ بہت خوشی ہوئی کہ اس مکالمے میں کلی اتفاق کا پڑاؤ نصیب ہوا۔ انشاللہ یہ سفر اسی طرح جاری رہے گا اور مستقبل میں بھی آپ سے سیکھنے کا موقع ملتا رہے گا۔

  • 18-02-2016 at 5:14 pm
    Permalink

    Janab brahe meharbani un islaahst ko istemal krne se ijtanaab kren jin ka mukamal ilm na ho. Ye bhi ilmi dyanat ka taqaza he. DSM V se NPD bayan krke aap ne apne sath ziadti ki he.

  • 28-02-2016 at 8:39 am
    Permalink

    اختر صاحب،
    نہایت ھی عمدہ مضمون تحریر کیا ھے آپ نے، یہ تحریر اس بات کی عکاس ھے کہ آپ اپنے قلم پر بھر پور قدرت رکھتے ہیں.جو کوئی بھی ان مضامین سے استفادہ کرے گا، وہ اس نہج پر سوچے گا ضرور.اور ظاہر ھوتا ھے کہ یہ مضامین کافی تحقیق اور عرق ریزی کے بعد صفحہ قرطاس کی زینت بنے ھیں، اور آپ کی کسر نفسی نے کافی متاثر کیا.

Comments are closed.