لیاقت علی خان کو کس نے قتل کیا ؟ (2)


PM1-600x445 کمپنی باغ، راولپنڈی میں کیا ہوا؟

وسط اکتوبر 1951 کی اس شام کمپنی باغ راولپنڈی میں پیش آنے والے واقعات کی روشنی میں لیاقت علی خاں کے قتل کو ایک شخص کا انفرادی جرم قرار دینا مشکل ہے۔ وزیر اعظم پر قاتلانہ حملے کے فورا بعد کمپنی باغ میں ہونے والے واقعات پر ان گنت سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں

وزیر اعظم کے جلسے میں صوبہ سرحد کے وزیر اعلی اور آئی جی پولیس تو موجود تھے مگر پنجاب کے وزیر اعلی ممتاز دولتانہ، آئی جی پولیس قربان علی خاں اور ڈی آئی جی، سی آئی ڈی انور علی غائب تھے۔ درحقیقت جلسہ گاہ میں فرائضِ منصبی پر مامور پولیس کا اعلی ترین عہدیدار راولپنڈی کا ایس پی نجف خاں تھا۔ پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل یوسف خٹک پنڈی میں تھے مگر جلسہ گاہ میں موجود نہیں تھے۔

گولی کی آواز سنتے ہی نجف خاں نے پشتو میں چلا کر کہا، ”اسے مارو،، نجف خاں نے پنڈی (پنجاب) کے جلسے میں پنجابی کی بجائے پشتو کیوں استعمال کی؟ کیا اسے معلوم تھا کہ قاتل افغانی ہے؟ اس کے حکم پر سید اکبر کو ہلاک کرنے والا انسپکٹر محمد شاہ بھی پشتو بولنے والا تھا۔ کیا پولیس کا ضلعی سربراہ اضطراری حالت میں یاد رکھ سکتا ہے کہ اس کے درجنوں ماتحت تھانیدار کون کون سی زبان بولتے ہیں؟ کیا تجربہ کار پولیس افسر نجف خاں کو معلوم نہیں تھا کہ وزیر اعظم پر حملہ کرنے والے کو زندہ گرفتار کرنا ضروری ہے؟

جب انسپکٹر شاہ محمد نے سید اکبر پر ایک دو نہیں، پانچ گولیاں چلائیں، اس وقت سفید پوش انسپکٹر ابرار احمد نے حاضرینِ جلسہ سے مل کر قاتل سے پستول چھین لیا تھا اور اسے قابو کر رکھا تھا۔ کیا انسپکٹر شاہ محمد قاتل پر قابو پانے کی بجائے اسے ختم کرنے میں دلچسپی رکھتا تھا؟

لیاقت علی کے صاحبزادے اکبر لیاقت علی کا کہنا ہے کہ سید اکبر کو تو خواہ مخواہ نشانہ بنایا گیا، اصل قاتل کوئی اور تھا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ لیاقت علی خاں کو گولی سامنے سے نہیں، عقب سے ماری گئی تھی

جلسہ گاہ میں موجود مسلم لیگ گارڈ بھالوں سے سید اکبر پر ٹوٹ پڑے۔ اس کے جسم پر بھالوں کے درجنوں زخم تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ وزیر اعظم کے آس پاس بہت سے مسلح افراد موجود تھے جس سے ناقص حفاظتی انتظامات کی نشاندہی ہوتی ہے۔

Quaid-e-Azam-in-London-with-Liaquat-Ali-Khan-1946-300x259نجف خاں کے حکم پر حفاظتی گارڈ نے ہوا میں فائرنگ شروع کر دی جس سے جلسہ گاہ میں افراتفری پھیل گئی اور زخمی وزیراعظم کو طبی امداد پہنچانے میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ اس ہوائی فائرنگ کا مقصد واضح نہیں ہو سکا۔

ایس پی نجف خاں نے انکوائری کمیشن کو بتایا کہ اس نے اپنے ماتحتوں کو ہوائی فائرنگ کا حکم نہیں دیا۔ بلکہ ایس پی نے اپنے ماتحتوں سے جواب طلبی کر لی۔ انکوائری کمیشن کے سامنے اس ضمن میں پیش کیا جانے والا حکم 29 اکتوبر کا تھا۔ تاہم عدالت نے رائے دی کہ ریکارڈ میں تحریف کی گئی تھی۔ اصل تاریخ 20 نومبر کو بدل کر 29 اکتوبر بنایا گیا مگر اس کے نیچے اصل تاریخ 20 نومبر صاف دکھائی دیتی تھی۔ ظاہر ہے کہ نجف خاں نے فائرنگ کا حکم دینے کے الزام کی تردید کا فیصلہ 20 نومبر کو کیا۔ سرکاری کاغذات میں ردوبدل ایس پی نجف خاں کے سازش میں ملوث ہونے یا کم از کم پیشہ وارانہ بددیانتی کا پختہ ثبوت تھا۔ انکوائری کمیشن کے مطابق نجف خاں نے ایک ذمہ دار پولیس افسر کے طور پر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کی تھی۔ اس عدالتی رائے کی روشنی میں نجف خان کے خلاف محکمانہ کارروائی ہوئی لیکن اسے باعزت بحال کر دیا گیا۔

وزیر اعظم کے جلسے میں ممکنہ ہنگامی صورت حال کے لیے طبی امداد کا کوئی انتظام نہیں تھا حتٰی کہ کسی زخمی کو اسپتال لے جانے کے لیے ایمبولنس تک موجود نہیں تھی۔

چاروں طرف اندھا دھند گولیاں چل رہی تھیں اور چند افراد اس بھگڈر میں سید اکبر کو ختم کرنے میں مصروف تھے۔ کچھ لوگ ایک وزنی آرائشی گملا اٹھا لائے اور اسے سید اکبر پر دے مارا جس سے اس کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ اس افراتفری میں سید اکبر پر حملہ کرنے والوں کا اطمینان حیران کن تھا۔

سید اکبر نے زرد رنگ کی شلوار قمیص پر اچکن پہن رکھی تھی۔ یہ خاکسار تحریک کی وردی نہیں تھی۔ واردات کے فورا بعد یہ افواہ کیسے پھیلی کہ قاتل خاکسار تھا بلکہ صوبہ بھر میں خاکساروں کی گرفتاریاں بھی شروع ہو گئیں۔ کیا یہ عوام کے اشتعال کو کسی خاص سمت موڑنے کی سوچی سمجھی کوشش تھی؟

خواجہ ناظم الدین نتھیا گلی میں تھے جب کہ غلام محمد پنڈی ہی میں تھے۔ دونوں نے جلسے میں شرکت کی زحمت نہیں کی۔ البتہ وزیر اعظم کے قتل کی خبر پاتے ہی یہ اصحاب صلاح مشورے کے لیے جمع ہو گئے۔ مشتاق گورمانی کی گاڑی جلسہ گاہ میں اس وقت پہنچی جب نیم مردہ وزیراعظم کو جلسہ گاہ سے باہر لایا جا رہا تھا۔ وزیراعظم کی موت کی تصدیق ہوتے ہی گورمانی صاحب ان کے جسد خاکی کو اسپتال چھوڑ کر اپنے گھر چلے گئے اور اگلے روز کراچی میں تدفین تک منظرِ عام پر نہیں آئے۔

Raana-liaquat-and-Liaquat-Ali-khanاس سازش کے ڈانڈوں پر غور و فکر کرنے والوں نے تین اہم کرداروں کی راولپنڈی سے بیک وقت د±وری کی طرف اشارہ کیا ہے۔ سیکرٹری دفاع سکندر مرزا کراچی میں ٹینس کھیل رہے تھے۔ فوج کے سربراہ ایوب خان لندن کے اسپتال میں تھے اور سیکرٹری خارجہ اکرام اللہ ایک خاص مشن پر ہالینڈ میں بیٹھے اگلے احکامات کے منتظر تھے۔

اکتوبر 1951 میں حکومت کے خدوخال

1951 کے وسطی مہینوں سے اخبارات مرکزی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کی خبریں شائع کر رہے تھے۔ وزیر خزانہ غلام محمد شدید فالج کے باعث اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔ انھوں نے اپنے داماد حسین ملک کے ذریعے استعفیٰ دینے سے پہلے چند دن کی مہلت مانگی تھی۔ اکتوبر1951 میں وہ راولپنڈی میں اپنے سمدھی ڈی ایم ملک کے گھر پنشن سے قبل رخصت کے دن گزار رہے تھے۔ لیاقت علی کے پولیٹکل سیکریٹری نواب صدیق علی خان کہتے ہیں کہ وہ خود غلام محمد کو کراچی چھاونی سٹیشن پر خیبر میل میں سوار کر کے آئے تھے۔

خواجہ ناظم الدین کے چھوٹے بھائی وزیر داخلہ شہاب الدین کو مصر میں سفیر بنائے جانے کا سرکاری اعلان کیا جا چکا تھا۔ وزیرِ امورِ کشمیر نواب مشتاق احمد گورمانی کو بھی علیحدہ کیا جا رہا تھا۔ غلام محمد، نواب مشتاق گورمانی اور خواجہ ناظم الدین اس روز راولپنڈی میں ہی موجود تھے۔ مگر سوائے نواب مشتاق گورمانی کے دوسروں نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس جلسہ میں شرکت نہیں کی۔

نواب زادہ لیاقت علی نے پنجاب کے گورنر عبدالرب نشتر کو وزارت خزانہ سونپنے کے علاوہ نائب وزیر اعظم کے عہدے پر فائز کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا تھا۔ گورنر پنجاب کے لیے نواب اسماعیل کا انتخاب ہو چکا تھا۔ لیاقت علی کے قتل کے بعد نشتر اور نواب اسماعیل ہی ایسے کردار تھے جنھیں اقتدار کی بندر بانٹ سے الگ رکھا گیا۔

5613070783_c65c7882d2_zلیاقت علی خاں کو نواب مشتاق گورمانی کی گاڑی میں ہسپتال پہنچایا گیا۔ وزیر اعظم کے انتقال کے بعد مشتاق گورمانی خاموشی سے کراچی چلے گئے۔ غلام محمد اور خواجہ ناظم الدین نے ہسپتال پہنچنے کی زحمت بھی نہیں کی۔ وزیرِ اعظم کی نعش ہسپتال میں پڑی تھی اور کابینہ کے ارکان کرسیاں بانٹنے میں الجھے ہوئے تھے۔

غلام محمد، مشتاق گورمانی کی آشیرباد سے وزیر اعظم بننا چاہتا تھا لیکن خواجہ ناظم الدین خود اپنے لیے وزیر اعظم کے سوا کسی عہدے پر رضامند نہ ہوئے۔ چنانچہ چلنے پھرنے میں مفلوج اور بات چیت سے معذور ملک غلام محمد گورنر جنرل بن گیا۔وزیر داخلہ خواجہ شہاب الدین مصر میں سفیر کی بجائے گورنر سرحد بن بیٹھا۔ کابینہ سے فارغ کیا جانے والا گورمانی وزیر برائے امور کشمیر سے وفاقی وزیر داخلہ بن گیا۔ چوہدری محمد علی سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے کر وزیر خزانہ بن گئے۔ آئی جی (پنجاب) قربان علی خاں، ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل، بلوچستان یعنی عملی طور پر گورنر بن گئے۔ میاں انور علی ڈی آئی جی پنجاب، آئی جی پنجاب بن گیا۔

فوج کے سر براہ ایوب خان لندن سے واپسی پر خواجہ ناظم الدین، غلام محمد، چودھری محمد علی اور مشتاق گورمانی سے ملاقاتوں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ان میں کسی نے لیاقت علی خان کی موت پر افسوس تو کجا، ان کا نام تک نہیں لیا۔

اقتدار کے نئے خدوخال میں سیکرٹری دفاع سکندر مرزا، فوج کے سربراہ ایوب خان، وزیر خارجہ ظفر اللہ خان، سیکرٹری خارجہ اکرام اللہ اور چودھری محمد علی آنکھ، ناک اور کان تھے۔ پاکستان کا اقتدار سیاسی قیادت سے فوج اور نوکر شاہی کو منتقل ہو چکا تھا۔ (جاری ہے)

اس مضمون کا پہلا حصہ پڑھنے کے لئے ذیل کے لنک پر کلک کیجئے

http://humsub.com.pk/4983/wajahat-masood-23/

 


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “لیاقت علی خان کو کس نے قتل کیا ؟ (2)

  • 18-02-2016 at 4:59 pm
    Permalink

    مرتضیٰ بھٹو کا قتل یاد آ گیا اسے بھی اسی طرح قتل کیا گیا تھا ۔ جن لوگوں نے مرتضیٰ بھٹو کو قتل کیا تھا ان سب کو بے نظیر کے دور حکومت میں ہی ترقی دے دی گئی تھی
    فیوڈلز مسلم لیگ میں اپنی سرداریاں بچانے کے لئے شامل ہوئے تھے ۔ ان کو نہ پاکستان بنانے سے کوئی غرض تھی نہ اب پاکستان کی بہتری میں کوئی دلچسپی ہے لیکن قائد اعظم کے مبینہ قتل سے کماحقہ فائدہ نہ اٹھا پانے کے سبب ان کو مکمل اقتدار حاصل کرنے کے لئے لیاقت علی خان کو بھی قتل کرنا پڑا ۔

Comments are closed.