نئی فکری صف بندی


\"amir

ویلنٹائن ڈے رخصت ہو گیا مگر ہمارے پہلے سے منقسم معاشرے میں ایک دھواں دھار بحث شروع ہو گئی۔ ممکن ہے بعض لوگ اس تقسیم پر ناخوش ہوں، مگر مجھے خوشی ہے کہ پاکستان میں جہاں فکری حوالے سے شدید جمود کی کیفیت طاری ہے اور کسی بھی مسئلے پر نیا خیال سننے کو ملتا ہے نہ ہی بحث میں سنجیدگی نظر آتی ہے۔۔۔ ویلنٹائن کے معاملے پر ہی سہی، کچھ لوگوں نے اپنی خاموشی تو توڑی، گفتگو کی، قلم اٹھایا، اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ لوگوں کو مختلف آرا سننے، پڑھنے کو ملیں۔ نوجوانوں کے لئے یہ خاص طور پر بہت اچھا ہے۔ مشینی انداز میں پیسہ کمانے کے علاوہ بھی زندگی میں کچھ کرنے کے کام ہیں۔ نظریات کے تصادم سے ماضی میں ہمارے ہاں فکری، نظریاتی اعتبار سے بڑی تحریکیں اٹھیں اور ایسی طاقتور شخصیات نے جنم لیا، جن کا اثر کئی نسلوں نے قبول کیا۔ ساٹھ اور ستر کے عشرے اس لحاظ سے غیرمعمولی اہمیت کے حامل رہے۔

اسی (80) کا عشرہ البتہ مختلف تھا، جب سوویت یونین کے افغانستان پر چڑھ دوڑنے سے عملی میدان میں لڑائی چلی گئی۔ افغان تحریک مزاحمت کی حمایت میں پاکستانی ریاست کے ساتھ رائٹ ونگ یا اسلامسٹ کہہ لیں، یہ سب مکمل یکسوئی سے شامل رہے۔ یہ لڑائی پاکستانی اداروں نے جیتی یا امریکہ نے۔۔۔ اس بحث سے قطع نظر دو باتیں بہرحال ہوئیں، ایک پاکستانی رائٹسٹوں کو فتح کا جھنڈا لہرانے، شادیانے بجانے کا موقع ملا، دوسرا شکستِ روس درحقیقت دنیا بھر میں لیفٹ ونگ کی عملی شکست بن گئی۔ پھر سوویت یونین کے ٹوٹنے سے پاکستانی لیفٹ کی گھر بیٹھے بٹھائے ہی دھڑکنیں بند ہو گئیں۔ انہیں سمجھ ہی نہیں آئی کہ اب کس در کا رخ کیا جائے؟ تین چار سال اس مخمصے میں گزرے اور پھر یہ مشکل ان این جی اوز نے حل کی، جو مختلف ایجنڈا لئے پاکستان میں وارد ہوئیں۔ یوں ہمارے ان مجاہدینِ لیفٹ نے برق رفتاری سے سرخ لبادہ اتار پھینکا اور کمال مستعدی سے کیپٹل ازم کی چھتری سر پر تان لی۔ این جی اوز کے کلی کردار کو تنقید کا نشانہ بنانا مقصود نہیں۔ ان میں بعض اچھا کام کرنے والی ہیں، سوشل سیکٹر میں انہوں نے کام کیا بھی، خاص طور پر دیہات میں صحت، تعلیم کے حوالے سے شعور پیدا کرنے کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ امریکہ و یورپ سے فنانس ہونے والی بیشتر این جی اوز کا مسئلہ یہ ہے کہ اپنے مثبت سوشل ایجنڈا کے ساتھ، یہ مغربی تہذیب کے رنگ کی پچکاری ساتھ لئے چلتی ہیں۔ جب تک اس مغربی تہذیبی رنگ سے اپنے ملبوس رنگین نہ کرا لیں، ان کے حامی تصور ہو ہی نہیں سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان پرانے لیفٹسٹوں کی بڑی تعداد لبرل، سیکولر اقدار اور کنزیومرازم پر ایمان لانے، اس کا مقدمہ لڑنے اور یہ نظریات آگے بڑھانے پر مجبور ہے۔ اس سے بڑی ستم ظریفی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ماضی میں یہ جن چیزوں کو کیپیٹل ازم کا ہتھکنڈا کہتے اور اس کے خلاف مزاحمت کرتے تھے، اب منڈی کی معیشت کے نام پر سب کچھ روا رکھتے اور اپنے نیم خوابیدہ ضمیر کو تھپکی دے کر گہری نیند سلا دیتے ہیں۔ خیر یہ تو ان کا ذاتی مسئلہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ساٹھ اور ستر کے عشرے کی لڑائی ایک نئے روپ میں دوبارہ سے ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔ اس بار معرکہ اسلامسٹوں اور لبرل، سیکولرز کے مابین ہو گا۔ اگلے برسوں میں یہ فکری کشمکش شدت اختیار کرے گی۔ چند سال پہلے نوجوان صحافی دوست محمودالحسن نے پوچھا تھا کہ کن موضوعات پر مطالعہ کرنا مفید ہو گا، اسے یہی مشور ہ دیا کہ کلچر کے حوالے سے چیزیں پڑھے کہ مستقبل کے بیشتر مباحث اس کے گرد گھومیں گے۔ ریاست کی شکل کیسی ہونی چاہیے، ملکی تہذیب کیا ہے اور مغربی تہذیبی یلغار کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ اس میں کیا کچھ قبول اور کسے مسترد کیا جائے؟۔۔۔ یہ ایسے سوالات ہیں، جن پر بار بار بات ہوتی رہے گی۔ ان کے ساتھ ساتھ تاریخ و تحریک پاکستان اور قائدین پاکستان کے حوالے سے ضمنی مباحث بھی جاری رہیں گے۔ اقبال خاص طور پر ان کا ہدف ہے کہ اس دیو کو ہٹائے بغیر ان کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ علامہ اقبال کے پاس ورلڈ ویو ہے، جس کی ہمیں ضرورت پڑے گی، نوجوانوں کے لئے راہ عمل اور وہ فلسفہ زمان و مکان اور مابعدالطبعیات بھی جو گریوی ٹیشنل ویو کے ادراک کے بعد کی دنیا میں متعلق اور اہم رہ جائے گی۔

جی ویو یا گریوی ٹیشنل ویو ایسا موضوع ہے، جس پر الگ سے کلام کرنا چاہیے۔ انشااللہ کچھ عرض کرنے کی کوشش کریں گے۔ سردست گفتگو اپنے موضوع تک ہی محدود رکھتے ہیں۔ نظریہ پاکستان اس لئے ہدف بنتا رہے گا کہ یہ ایک طرح سے ریاست کا فکری بلیوپرنٹ ہے، اسی سے یہ طے ہو گا کہ ریاست کی شکل و صورت کیا ہونی چاہیے؟ پاکستانی ریاست سیکولر کیوں نہیں ہونی چاہیے اور اسے اسلامی ریاست کیوں کہا اور مانا جائے۔ اس کی وضاحت بنیادی طور پر نظریہ پاکستان ہی کرتا ہے۔ سیکولرازم کو حال ہی میں پیارے ہونے والے نیو سیکولر دوست یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ نظریہ پاکستان ہے کہاں؟ عرض ہے کہ نظریہ پاکستان سے مراد دو تین سطروں کی کوئی کتابی تعریف نہیں ہے، جو سوال کرنے پر ہاتھ میں پکڑا دی جائے۔ ریاست کی تشکیل کسی پریس ریلیز کی بنیاد پر نہیں ہوتی، جسے بعد میں اس کا مرکزی نظریہ ڈکلیئر کر کے، کاپیاں کر کے ہر ایک میں بانٹ دی جائیں۔ پاکستانی ریاست ایک عملی سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ ہندوستان سے الگ ہونے کے مخصوص دلائل اور ایک پورا زاویہ نظر تھا، جس کی بنیاد پر تحریک پاکستان چلائی گئی۔ قائد اعظم سمیت مختلف مسلم لیگی لیڈر اس حوالے سے بیانات دیتے، جلسوں میں تقریریں کرتے رہے، مسلم ہو تو مسلم لیگ میں آ جیسے عوامی نعرے تخلیق ہوئے جن کی بنیاد پر مسلمانان ہند کو اپنے ساتھ ملایا گیا۔ چھیالیس کے انتخابات اس حوالے سے نقطہ عروج تھا، جب عوام سے اسلام کے نام پر الگ وطن بنانے کا مینڈیٹ لیا گیا، ان سے وعدہ کیا گیا کہ اسلامی نظام وہاں رائج ہو گا۔ قائد اعظم نے بارہا یہ کہا کہ چودہ سو سال پہلے وہ بنیادی تصورات رسول اللہؐ نے پیش کر دیے تھے، جن کی بنیاد پر پاکستان کا نظام اور نظم و نسق چلائے جائے گا۔ یہ وہ تصور، خواب اور سوچ تھی، جس کے لئے مملکت خداداد پاکستان بنائی گئی، یہی نظریہ پاکستان ہے اور ریاست اس کے گرد ہی گھومتی رہے گی۔ اس عوامی مینڈیٹ کا ہر مسلم لیگی لیڈر بشمول قائد اعظم پابند تھا اور وہ رہے بھی۔ رہی گیارہ اگست کی تقریر جس کی بنیاد پر ہمارے سیکولر دوست چائے کی پیالی میں طوفان اٹھاتے ہیں، اس میں ایسی کوئی بات نہیں جسے سیکولرازم کہا جائے۔ ایک فلاحی اسلامی ریاست کا وہی نقشہ ہو گا، جس کا قائد نے اپنی اس تقریر میں ذکر کیا۔ اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے حقوق ہر لحاظ سے محفوظ ہوں گے اور صرف مذہب کی بنیاد پر ان کے ساتھ ہرگز زیادتی نہیں ہونے دی جائے گی۔ یہ سیکولرازم نہیں بلکہ حقیقی اسلام ہے، جو اللہ کے آخری رسولؐ نے چودہ سو سال پہلے عملی صورت میں نافذ کر کے دکھا دیا۔ اس لئے کسی کو اچھا لگے یا برا، سیکولرازم کبھی پاکستانی ریاست کا محور نہیں بن سکتا، ہمارا مرکزی فلسفہ صرف اور صرف نظریہ پاکستان ہے، اسے پاکستانی ریاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

سیکولرازم اور سیکولرائزیشن کی اصطلاح پر گزشتہ روز برادرم خورشید احمد ندیم نے قلم اٹھایا۔ میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ سیکولرائزیشن جیسی اجنبی اور پُرفریب اصطلاح آخر کیوں استعمال کی جائے، جبکہ اس سے غلط فہمیاں پیدا ہونے کا پورا اندیشہ ہے۔ اس پر تفصیل سے بات کریں گے، سردست دینی ذوق رکھنے والے نوجوانوں کو ایک نصیحت کہ فکری محاذ گرم ہو رہا ہے۔ ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش جیسی گمراہ کن تنظیموں نے مسلح جدوجہد کے نام پر دہشت گردی کو رائج کیا، اینٹی امریکہ جذبات استعمال کر کے بہت سے نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنسا کر ضائع کر دیا۔ کرنے کا اصل کام فکری میدان میں ہے۔ یہاں اخلاص، کمٹمنٹ اور سمجھ بوجھ رکھنے والے نوجوانوں کی اشد ضرورت ہے۔ کالعدم حزب التحریر جیسی تنظیموں میں وقت اور توانائی برباد کرنے کے بجائے مین سٹریم (مرکزی دھارے) میں رہ کر پُرامن نظریاتی جدوجہد کی جائے۔ روایتی دینی طبقے کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ مسلم تہذیب کے لئے اصل چیلنج مغربی تہذیب اور اس کی لبرل سیکولر اقدار ہیں۔ میںاسلاف کے احترام کا قائل ہوں، مولانا آزاد اور شیخ الحدیث علامہ حسین احمد مدنی جیسے اکابرین ہمارے لئے محترم ہیں، مگر پاکستانی رائٹ ونگ یا اسلامسٹوں کو اپنی لڑائی لڑنے کے لئے حضرت مدنی کی جگہ علامہ شبیر احمد عثمانی اور حضرت تھانوی کے افکار کی طرف جانا، اقبال کو پڑھنا اور سمجھنا چاہئے، جبکہ مولانا آزاد کے بجائے قائد اعظم کی سیاست اور تقریریں مفید ثابت ہوں گی


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

4 thoughts on “نئی فکری صف بندی

  • 19-02-2016 at 2:32 am
    Permalink

    محترم! یہاں کچھ سوالات پیدا ہورہے ہیں،مناسب سمجھیں تو کسی کالم میں اس پر بھی روشنی ڈال دیں
    پاکستان کا آئین اور قانون تو مکمل طور پر اسلامی ہے،اور یہ سرکاری طور پر ایک مذہبی اسلامی ریاست ہے،تو کیا وجہ ہے کہ یہاں امتیازی قوانین بھی موجود ہیں،امتیازی رویے بھی موجود ہیں؟ یہاں انفرادی رویوں کی بات نہیں ہورہی،بلکہ ریاست کے کسی معاملے میں کسی ایک فریق کے ساتھ دینے کی بات ہورہی ہے؟
    پاکستان کے قانون کے مطابق کوئی غیرمسلم صدر یا وزیراعظم نہیں بن سکتا،جبکہ قائد اعظم نے تو اپنی کابینہ میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیرمسلموں کو بھی نمائندگی دی تھی؟
    کیا قائداعظم نے پاکستان مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی حفاظت کیلیے حاصل نہیں کیا تھا،کہ انہیں ڈر تھا کہ متحدہ ہندوستان میں ہندو انکے حقوق غصب کریں گے؟ یا انہوں نے نفاظ اسلام کیلیے یہ ملک حاصل کیا تھا؟ کیا کبھی ریاست بھی کسی کو زبردستی کسی مذہب پر عمل کرنے کا پابند بناسکتی ہے؟
    کیا مذہب پر عمل کروانا ریاست سے زیادہ،مذہبی راہنماوں پر فرض نہیں؟

  • 19-02-2016 at 4:02 pm
    Permalink

    اس نئی فکری تقسیم پر لب کشائی سے خاکسار کا جگر منہ کو آتا ہے کہ لیفٹ اور رائٹ کی کتابی تعریف میں رائٹ کو اسلامسٹ قطعی نہیں کہا جاتا۔ اگر اسلامسٹ تسلیم کر جائے تو اس کا متضاد ’نان اسلامسٹ‘ بنتا ہے جس کا آسان ترجمہ ’غیرمسلم‘ ہو گا۔ یہ خاکسار مسلمان ہوتے ہوئے کم ازکم کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتاکہ خاکسار کو غیر مسلم قرار دے۔ مسلم تہذیب کی اصطلاح پر خاکسار کو خیال آیا کہ حسین احمد مدنی کا قول’ قومیں اوطان سے بنتی ہیں‘ پیش کیا جائے لیکن آپ نے مدنی صاحب کے خیالات کو احترام کے ساتھ رد کرنے کا مشورہ دے دیا اس لئے لب کشائی بے معنی ہے۔ البتہ آپ سے دست بدستہ درخواست ہے کہ کسی نشست میں ’تہذیبی اقدار‘ کی ہیت ترکیبی پر روشنی ڈال لیں تاکہ خاکسار سمجھ سکے کہ موسموں کا کے فرق، جغرافیائی بعد، تاریخی جبر، لکیری تقسیم(نیشن اسٹیٹ) اور معاشی تغیر سے جنم لینے والے تہذیبی اقدار کو کیسے ایک کڑی میں پرو کر مسلم تہذیب کا نام دیا جاسکتا ہے۔ اگر تو اشارہ اقبال کے شعری آہنگ ’خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی‘ کی طرف ہے تو اس پر کوئی ’بچگانہ رائے‘ دیئے بغیر خاکسار جسٹس جاوید اقبال کا ’دوسرا خط‘ تجویز کرتا ہے۔ اصطلاحات کی بحث سے پرے چونکہ خاکسار آپ کا مستقل قاری ہے اس لئے پریشان ہے کہ اس نئی فکری صف بندی میں آپ نے فرزندان ملت کو جس لڑائی کے لئے کمربستہ کرنے کی راہ متعین کی ہے وہ خاکسار کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ آپ ہی جنوری دوہزار چودہ کے کسی کالم میں لکھا تھا کہ،’مسئلہ یہ ہے کہ رائٹسٹ ہوں یا برل اور نیو لبرل۔۔یہ سب ردعمل کی نفسیات کا شکار ہیں۔انہوں نے ہر حال میںدوسرے گروپ کی مخالفت کرنا سیکھا ہے اور اسی روش پر قائم ہیں‘۔ اس بیان کے تناظر میں اس نئی فکری صف بندی کو خاکسار کہاں رکھے سمجھ نہیں آرہا۔ حالانکہ اسی مضمون میں آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ’ ہمارے خیال میں تو اب نئے لکھنے والوں کو رائٹ لیفٹ کی اس روایتی تقسیم اور مخاصمت سے نکل کر ”رائٹ اور رانگ“ کی بنیاد پرسوچنا اور لکھنا چاہیے‘۔ خاکسار اصلاح کا خواہشمند ہے۔ خوش رہیے۔

  • 19-02-2016 at 5:25 pm
    Permalink

    One of the better answers was given by Hamza Alavi by coining the term” SLARIAT. The difference between secularism and secularization is very important. Secularism is a policy of a state to enforce it as an ideology and it is top-down approach. Secularization is society’s own adoption of secular ways and it is bottom-up approach. Academic Humera Iqtedar has written about it and she refers to Max Weber.

  • 19-02-2016 at 9:40 pm
    Permalink

    حضور ہم تو صرف رائٹسٹ لکھنے ہی پر اکتفا کرتے تھے، برادرم وجاہت مسعود کے اعتراضات نے اسلامسٹ لکھنے پر مجبور کر دیا کہ وہ عالمی تناظر میں رائیٹ لیفٹ کی بحث چھیڑ دیتے ہیں، حالانکہ پاکستانی تناظر میں رائیٹ ونگ واضح ہے کہ کس طرف اشارہ ہے ، اس لئے التزاماً اسلامسٹ لکھ دیا جاتا ہے، آپ کوئی بہتر متبادل فرما دیں تو اسے اپنا لیں گے۔ مقصد پاکستان کے اس حلقہ فکر کی طرف اشارہ کرنا ہے جو ریاست کے اسلامی ہونے پر اصرار کرتا ہے اور مزہب یعنی اسلام ہی کو اپنے انفرادی اور اجتماعی معاملات کا محور سمجھتا ہے۔ یہ بحث یہاں پر نہیں کر رہا کہ یہ اصرار کیوں درست ہے، اس کے لئے ایک الگ پوسٹ لکھی جائے گی، انشااللہ۔ آپ اسلامسٹ کو مناسب نہیں سمجھتے تو پھر رائیٹسٹ ہی مراد لے لیں۔
    پچھلے ایک کالم میں جو ہم سب میں بھی شائع ہوا۔ جاوید غامدی صاحب کی رائے کا حوالہ دیا تھا، کہ مسلم معاشرے کا بنیادی جوہر تین باتیں ہیں، حیا، تحفظ فروج اور حفظ مراتب۔ آپ اسے تہذیبہ اقدارتصور کر لیں۔ اس میں کچھ اضافے بھی ہوسکتے ہیں۔ اسے انڈین، عرب، ایرانی، ملائشین، مصری ، ترک اور دیگر مسلم معاشروں پر اپلائی کر کے دیکھ لیں، کم وبیش یہ بات درست نکلے گی۔

Comments are closed.