ہنزہ کے لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر حکومت کا انتظار نہیں کرتے


(پہلا حصہ)

الامین ماڈل سکول کے پرنسپل نذیر احمد بلبل صاحب نے سکول کی تاریخ بتائی۔ 1991 میں سکول کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس وقت مڈل اور ہائی لیول کے حکومتی سکول موجود تھے۔ گاؤں کے لوگ بچوں کے لئے جدید تعلیم بشمول انگریزی اور کمپیوٹر کی تعلیم چاہتے تھے۔ 1991 میں گاؤں کی آبادی 2300 نفوس کے قریب ہو گی۔ اس وقت 3300 ہے۔ بچے سرکاری سکول میں جاتے تھے۔ الامین سکول کے شروع میں بچوں کی تعداد 77 تھی۔ اسے ایک کرائے کے مکان میں شروع کیا گیا تھا۔ پانچ سال میں گاؤں والوں نے پہلے زمین خریدی۔ ہر گھرانے نے زمین خریدنے کے لئے ایک ایک ہزار روپے دیے تھے۔ اس کے بعد کمیونٹی کے اندر عطیات اکٹھے کرنے شروع کیے۔ پھر بلاک ون کی تعمیر شروع ہو گئی۔ پھر مزید جدوجہد ہوئی۔ برٹش ہائی کمیشن نے کچھ فنڈ دیا۔ درگاہوں والوں نے مدد کی۔ گاؤں کے ہر گھرانے سے فرد آ کر بطور لیبر کام کرتے تھے۔ ہر گھر سے خواتین کھانا پکا کر لاتی تھیں۔ باہر سے صرف تکنیکی لوگ جیسے بلاک میکر وغیرہ آتے تھے جن کو مزدوری دی جاتی تھی۔

95 کے قریب سکول اس عمارت میں شفٹ ہو گیا۔ اس وقت سکول میں 350 بچے ہیں۔ سکول میں کو ایجوکیشن ہے۔ جب عطا آباد کی تباہی ہوئی تھی اور شاہراہ قراقرم اس میں ڈوب گئی تھی تو سکول پر بھی اثر پڑا تھا۔ چھہ سال تک گلمت کا راستہ بند رہا اور مقامی لوگ اپنی کیش کراپ آلو نہیں بیچ سکے۔ کشتیوں پر سفر ہوتا تھا۔ اس کی وجہ سے بہت سارے بچے اپنی فیس نہیں دے سکے۔ تو اس وقت وہ حکومت کے فری سکول میں چلے گئے۔ اب چیزیں بہتر ہو رہی ہیں۔ الامین سکول میں ای سی ڈی (ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن) میں تین چار سال کی عمر سے بچوں کی تعلیم شروع کرتے ہیں۔

غلام الدین صاحب جنرل مشرف کے ساتھ

سکول کے مالک پورے گاؤں والے ہیں جنہوں نے گلمت ایجوکیشن اینڈ ویلفئیر سوسائٹی بنائی ہے۔ اس کے بورڈ آف گورنر کے 14 ممبر ہوتے ہیں جن کو سالانہ جنرل میٹنگ میں گاؤں کے لوگ سیلیکٹ کرتے ہیں۔ بورڈ کے سامنے پرنسپل جوابدہ ہے۔ سکول کا بانی غلام الدین صاحب کو تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بچوں کی تعلیم کے لئے بہت کوششیں کیں۔ شروع میں باہر سے غیر ملکی اوورسیز والنٹئیر ٹیچزر نے بھی آ کر پڑھایا۔ اب تقریباً سارا سٹاف اسی گاؤں کا ہے۔ پہلے فزکس کیمسٹری وغیرہ کے ٹیچر گلگت وغیرہ سے آتے تھے۔

اس کا بہت امپیکٹ پڑا ہے دوسرے سکولوں پر۔ جو سرکاری سکول ہے اس میں تعداد بہت نیچے گر گئی اور وہ پریشانی کی حد تک پہنچ گئے اور الامین سکول کی طرف لوگوں کا بہت زیادہ رجحان آ گیا۔ تو ان کو بہتری لانی پڑی۔ سب سے پہلے انہوں نے اپنے یونیفارم تبدیل کیے۔ اس کے بعد سلیبس تبدیل کیا۔ انہوں نے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پر پریشر ڈال کر انگلش میڈیم کرایا۔ حالانکہ حکومت میں یہ ممکن نہیں ہوتا مگر انہوں نے کہا کہ ہمارے آس پاس تو سارے یہ کر رہے ہیں تو ہمیں بھی کرنے دو۔ اس کے بعد ان کی بھی کمپیوٹر لیب بن گئی۔ انہوں نے وہ ساری کوششیں کیں جو الامین سکول کر رہا ہے۔ اب ان کا سٹینڈرڈ بہت اچھا ہے۔

سرکاری سسٹم میں فیصلے کا عمل بہت لمبا ہوتا ہے۔ ہنزہ کا آغا خان ایجوکیشن سسٹم بھی بہت لمبا طریقہ کار اختیار کرتا ہے۔ جیسے ایک چیز کے لئے آپ ڈیمانڈ کرتے ہیں تو آپ کو طویل پراسیس سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایک چاک بھی منگوانا ہو تو اس کی منظوری میں وقت لگ جاتا ہے۔ لیکن یہاں یہ ہوتا ہے کہ ہر چیز کا فوری فیصلہ ہوتا ہے۔ بورڈ آف گورنر کو بتایا جاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے یا نہیں ہے۔ دو چیزیں مقامی افراد کے لئے بہت اہم ہیں۔ تعلیم اور صحت۔ تعلیم میں یہ ہے کہ لوگ یہ انتظار نہیں کر سکتے کہ حکومت کب آ جائے اس وقت تک ہم اپنے بچوں کو ایسا ویسا کر کے نکال دیں۔ بچوں کا وقت ابھی ہے۔

سرکاری سکول کا ذکر کرتے ہوئے نذیر صاحب نے بتایا کہ یہاں پر ہم نے کالج شروع کیا۔ اسی سوسائٹی نے گورنمنٹ کی بلڈنگ میں ان بچیوں کے لئے جو آگے نہیں جا سکتی تھیں، ٹیوشن سینٹر شروع کیا۔ اسی کو بیس بنا کر آہستہ آہستہ ادھر اور زیادہ بچیاں آ گئی تو اسے کالج کا درجہ دے دیا تو ان کا سکول خود بخود ہائر سیکنڈری بن گیا۔ اسی کالج کی وجہ سے ان کی تعداد زیادہ ہے۔ اس وقت وہاں 230 لڑکیاں 140 لڑکے پڑھ رہے ہیں۔ پہلے یہ سرکاری سکول آغا خان ڈائمنڈ جوبلی سکول تھا۔ بعد میں حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔ ہماری کوشش یہی ہے کہ وہ ساتھ ساتھ مل کر تعلیم کے لئے کام کریں۔

تو صاحبو۔ یہ خلاصہ ہے اس قابلِ فخر سکول کی تاریخ کا۔ اپنی کمیونٹی کے لئے کام کرنے کا جو جذبہ ہمیں ہنزہ میں دکھائی دیا وہ پورے پاکستان میں کہیں نہیں دیکھا۔ ادھر تو محسوس ہوتا ہے کہ ہر محلے نے مل کر ایک این جی او بنائی ہوئی ہے جو حکومت کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھتی بلکہ کمیونٹی کی بہتری کے لئے مل کر کام کرتی ہے۔ آپ کو ہنزہ میں گندگی کے ڈھیر دکھائی نہیں دیں گے۔ مقامی این جی او کے والنٹئیر ادھر خود ہی صفائی کر دیتے ہیں۔ ہم آلتت کے قلعے میں جا رہے تھے۔ راستے میں آلتت گاؤں سے گزرتے ہوئے دیکھا کہ اچانک ایک گھر کا دروازہ کھلا، ایک نوجوان ہاتھ میں کوڑا سمیٹنے والا برش اور ٹوکری لئے نمودار ہوا، گلی سے درخت کے گرے ہوئے پتے چنے اور واپس اپنے گھر چلا گیا۔

آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کے بہت سے منصوبے بھی وہاں کام کر رہے ہیں جو تعلیم، صحت اور زراعت سمیت بہت سے شعبوں میں سرگرم ہیں۔ لیکن آغا خان فاؤنڈیشن کا جو معجزہ ہمیں دکھائی دیا ہے وہ لوگوں کا سوچنے کا انداز یکسر تبدیل کر دینا ہے۔ اگلی پوسٹ میں ہنزہ کے لوگوں کے بارے میں اپنا تاثر بیان کریں گے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ اگر ہماری لاٹری نکل آئے، یعنی روزگار کی فکر نہ ہو، تو ہنزہ کے لوگوں کے اخلاق کو دیکھ کر ہم باقی دنیا چھوڑ کر ہنزہ میں رہنا پسند کریں گے۔ امن۔ محبت۔ خوش اخلاقی۔ ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ۔ سب لوگوں کو ایک جسم سمجھنا۔ یہ ہے ہنزئیوں کی صفات کا مختصر بیان۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 631 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “ہنزہ کے لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر حکومت کا انتظار نہیں کرتے

Comments are closed.