بوڑھا باپ اور مسکراتی آنکھیں


Professor Abdullah Bhattiمیرے سامنے تین ادھیڑ عمر پاکستانی وطن سے ہزاروں میل دور بے بسی ، بے کسی ، لا چارگی ، شرمندگی اور شدید اندرونی کرب جو اِن کو اندر ہی اندر خوفناک لا علاج بیماری کی طرح کھائے جا رہا تھا ، سراپا التجا بنے بیٹھے تھے ۔ وہ امید بھری نظروں سے میری طرف دیکھ رہے تھے ۔ یہ غم امر بیل کی طرح اِن کے جسموں اور روح تک سرایت کر گیا تھا ۔ یہ ہر لمحہ شرمندگی ، بد نامی اور کرب کے سمندر میں غوطے کھاتے سہا رے کی تلا ش میں دیار غیر میں اِدھر اُدھر ہا تھ پاﺅں مار رہے تھے ۔ پتہ نہیں یہ دکھ شرمندگی اور بد نامی کے کتنے آگ بر ساتے صحراﺅں اور نو کیلی گھاٹیوں سے ننگے پا ﺅں چلتے ہو ئے پا س پہنچتے تھے ۔ میرے پاس آنے سے پہلے پتہ نہیں کتنے دنیاوی خداﺅں کی چوکھٹ پر ماتھا رگڑ کر آئے تھے کتنے مسیحاﺅں اور جھوٹے عاملوں نے اِن مجبور بے بس باپوں کو لو ٹا ہو گا ۔ میں اور میری روح یہ تصور کر کے ہی اندر تک اُدھڑ گئے تھے کٹ گئے تھے ۔

اِن میں بو ڑھے پا کستانی کی حالت بہت خراب تھی بیٹی سے جدائی اور شرمندگی کے غم نے اُس کو نیم پاگل کر دیا تھا ۔اُس کی جسمانی حالت بتا رہی تھی کہ جسم اور روح کا تعلق شاید چند دنوں کا رہ گیا ہے ۔ بیٹی کی جدائی کا غم اُس کو موت کی دہلیز پر لے آیا تھا ۔ وہ زندگی اور موت کے درمیان لٹکا ہو ا تھا کہ کس وقت درد شرمندگی کا جان لیوا تھپیڑا لگے اور بے چارہ مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو کر تمام دکھوں سے نجا ت پا جا ئے ۔ اُس کی ویران آنکھیں سوا لی بنی میری طرف گھور رہی تھیں اُس کی آنکھوں میں امید کے دیپ روشن تھے کہ میں اُس کو اِس جہنم سے آزادی دلا سکوں گا میں اُس کی بیٹی کو واپس لا سکوں گا اور میں مشتِ غبار گناہ گار دل کی گہرائیوں سے بار بار مالک بے نیاز کو التجا ئیں اور تر لے کر رہا تھا کہ جس طرح زندگی کے ہر مشکل لمحے میں اُس خدا ئے بے نیاز رحیم و کریم نے میری مدد کی اِس مشکل میں بھی وہ یقینا میری داد رسی کر ے گا ۔ اِس عا جز کا ہا تھ تھامے گا فرنگیوں کے اِس دیس میں وہ یقینا میری اور اِس غم کے پہاڑ اٹھا ئے ہو ئے بو ڑھے با پ کی مدد کر ے گا ۔

میں دل ہی دل میں سو چے جا رہا تھا کہ کس طرح میں اِس با پ کی مدد کروں کو نسا طریقہ اپنا ﺅں کہ اس کے درد کا مداوا کر سکوں میں غو ر و فکر میں غرق ہو تا گیا اور پھر ہمیشہ کی طرح روشنی کا جھما کا سا ہوا اور ایک خیال میرے دل میں آگیا اب میں نے اُس کی بیٹی کا نام پتہ جہاں وہ کام کر تی ہے پتہ کیا ۔ میرا ارادہ یہ بنا کہ میں کسی طرح اُس لڑکی سے جا کر ملوں اُس کو یہ بلکل نہ بتا ﺅں کہ میں اُس کے باپ کو جانتا ہوں اور اُس کے با پ کی مدد کر نا چاہتا ہوں ۔اب میں نے ہمیشہ کی طرح اُس بو ڑھے با پ اور اُس کے ساتھیوں کو مجرب مخصوص تسبیحات اور دعائیں بتا ئیں تا کہ رب کی رحمت جلدی چھلک پڑے بو ڑھے با پ کو بہت حو صلہ دیا ہمت بندھائی اور کہا آپ یہ دعائیں کر یں میں بھی آپ کے لیے دعا اور کو شش کر وں گا میرے بہت زیادہ حوصلہ دینے سے بوڑھا باپ تھوڑا سا نارمل ہو گیا وہ بار بار ایک ہی بات پو چھے جا رہا تھا کہ میری بیٹی واپس آجائے گی نا وہ بہت اچھی تھی اور وقتی طور پر بُرے راستے پر چل نکلی ہے ورنہ وہ تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔ بہر حال آخر کا ر بو ڑھا با پ اور اُس کے ساتھی امید بھری نظروں سے میری طرف دیکھتے ہو ئے واپس چلے گئے جا تے جا تے وہ اپنے فون نمبر اور ایڈریس وغیرہ دے گئے ۔ جب وہ جا رہے تھے تو میں سوچ رہا تھا کہ پتہ نہیں بر طانیہ یو رپ اور امریکہ میں سیکڑوں ہزاروں پا کستانی ہو نگے جن کی یہی کہانی ہو گی ۔ جن کے سینوں پر ہی داغ ہو نگیں جن کی روحیں کر ب کی انتہا پر ہو نگی ہر دوسرے تیسرے پا کستانی کی یہ درد بھری ایسی داستان جسے چیخوں سے لکھا جا ئے اور آہوں سے رقم کر نا پڑے یہ وہ مظلوم پا کستانی جو دن رات دکھ درد اور نا قابل ِ بیان کر ب اور شرمندگی کے انگاروں سے گزرتے ہو نگے اِ ن کی اولادیں بلکل نہیں جا نتیں کہ اُن کے بوڑھے با پوں نے اُن کی پرورش اور آرام کے لیے گوروں کے کتنے ٹوائلٹ صاف کیے کچرے اٹھا ئے ۔ کتوں کو نہلایا پاگل خانوں میں پا گلوں کے غلیظ لو ٹے تبدیل کئے ریستو رانوں میں غلاموں کی طرح لو گو ں کو serveکیا ۔ لوگوں کے جوٹھے بر تن دھوئے ، شرابی کبا بی عیاش گوروں کی چوکیداری کی اُن کے نخرے سہے اُن کی جا ئز نا جا ئز ڈانٹ سنی کئی کئی شفٹوں میں کا م کیاا یک ہی جتن میں کتنے سال گزارے کفایت شعاری کے لیے دور دراز گھوم گھوم کر شاپنگ کی پتہ ہی نہ چلا کب سر کے بالوں میں چاندی اُتر آئی بڑھاپا شروع ہو گیا

اب بڑھاپے میں جب بو ڑھے با پ کو آرام اور خدمت کی ضرورت تھی تو یہاں کی اولاد ایک میسج کر کے گھر چھو ڑ دیتی ہے با پ کی ساری خدمت کو فراموش کر کے بھو ل جاتی ہے اور اب باپ اولاد کو برا لگنا شروع ہو جا تا ہے کہ وہ اولاد کو عیا شی سے کیوں روکتا ہے با پ اُن کو من مانی کیو ں نہیں کر نے دیتا ۔ انہی با توں میں غرق ہم ہیلی فیکس سے اپنے گھر آگئے اِسطرح تین دن گزر گئے روزانہ بوڑھا با پ مجھے فو ن کر تا اور پو چھتا کہ وہ کب آئے گی آج یا صبح آجا ئے گی نا، تو میں ہر بار اُس کو اللہ کی رحمت آنے کا وعدہ اور دلا سا دیتا بو ڑھے با پ کو چہرہ میرے دماغ میںچپک کر رہ گیا تھا ہر وقت میں اور بو ڑھا با پ رب ذولجلال کے در پر مسلسل دستک دے رہے تھے ۔ اور پھر میری اور بو ڑھے با پ کی دعا ﺅں کی پو ٹلی نیلے آسمان کے اوپر کا ئنا ت کے واحد ما لک کے سامنے رکھ دی گئی رحمن رحیم خالق بے نیاز نے مسکرا کر ہماری دعا ﺅں کی پو ٹلی کو پڑھا اور قبولیت کی سند بخشی کن فیکون کی چھڑی حرکت میںآئی اور زمین پر اسباب کی دنیا میں ہلچل مچ گئی بے تر تیبی ترتیب میں ڈھلنے لگی بو ڑھے با پ کی آہیں، نوحے مسکراہٹوں میں بدلنے کا وقت آگیا۔ چوتھے دن ہم پلان کے تحت بر منگھم پہنچ گئے اور اُس بڑے شاپنگ مال میں پہنچ کر اُس حصے کی طرف بڑھنے لگے جدھر بو ڑھے با پ کی ضدی اور خو د سر بیٹی کام کر تی تھی تھوڑی ہی دیر میں ہم مطلوبہ حصے میں پہنچ گئے وہاں پہنچ کر ہمیں جلدی ہی تصدیق بھی ہو گئی کہ یہ وہی حصہ ہے جہاں بو ڑھے با پ کی بیٹی کا م کر تی تھی ۔ ہمیں جلد ہی وہ لڑکی نظر آگئی اب پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت میںاُس کی طرف بڑھا میرے دل و دماغ حالت سجدہ میں گڑ گڑا کر خدا ئے بے نیاز سے دعا کر رہے تھے میں اُس کے قریب گیا اور پو چھا وہ اردو جا نتی ہے اُس نے تفہیمی انداز میں سر کو جنبش دی تو میں نے اُس سے helpکی درخواست کی کہ خریداری میں میری مدد کر ے میں تھوڑی سی شاپنگ کر نا چاہتا ہوں

اِسی دوران نور را نجھا میرا میزبان میرے قریب آیا تو میں نے اُسے بتا یا کہ یہ لڑکی بھی پا کستانی ہے اور بہت اچھی ہے تو پہلے طے شدہ پلان کے تحت نور احمد نے میری پا مسٹری اور علم الاعداد کی بہت زیا دہ تعریف کی تو اُس لڑکی نے بھی فرمائش کر دی کہ میں اُس کے بارے میں کچھ بتا ﺅں اور میں اِسی مو قع کی تلا ش میں آیا تھا ۔ کیونکہ میرے پاس پہلے ہی اُس کا سا را Dataموجود تھا اِس لیے میں جیسے جیسے اُس کے با رے میں با ت کر تا گیا حیرت خو شی و تجسس کے تا ثرات اُس کے چہرے پر گہرے ہو تے چلے گئے ۔ کیونکہ وہ جا ب پر تھی اِس لیے لمبی گفتگو ممکن نہ تھی اِس لیے اُس نے میرا فو ن نمبر لیا اور اگلے دن میرے مکان پر آگئی اب اُس سے بہت تفصیل سے ملاقات ہو ئی تو اُس نے اصل سوا ل کیا کہ وہ لڑکا جس کے ساتھ وہ بھا گی ہے اُس کے لیے ٹھیک ہے کہ نہیں دو ملا قا توں میں ہی وہ میرے اوپر پو را یقین کر چکی تھی اب وہ میری با ت پر ٹرسٹ کر نے کو بھی تیار تھی جب میں نے اُسے بتا یا کہ یہ لڑکا اُس کے لیے درست نہیں ہے تو پہلے تو وہ نہ مانی لیکن لمبی چوڑی گفتگو کے بعد وہ کنفیوژ ہو کر چلی گئی اِس کے بعد میں لندن آگیا وہ روزانہ فون پر لمبی با ت کر تی پا نچ دن تک وہ اُس لڑکے کو چھوڑنے پر تیا ر ہو چکی تھی ۔ اِسی دوران میں نے اُس کے والد صاحب کے حوالے سے تمام غلط فہمیاں دور کر نے کی کو شش کی اِس کااُس پر بہت مثبت اثر پڑا اب وہ گھر والوں اور باپ سے ڈر رہی تھی کہ کس طرح وہ گھر جا ئے ۔

پھر میری زندگی کی خو شگوار ترین گھڑیوں میں سے ایک گھڑی آپہنچی جب اُس نے اپنی بہن اور ماں کو فون کیا اور گھر واپس آنے کی خواہش کا اظہار کیا گھر میں عید کا سماں بندھ گیا اور بو ڑھے با پ کی بیٹی اِس وعدے کے ساتھ گھر واپس آگئی کہ وہ اب گھر سے نہیں جا ئے گی اور کسی مسلمان لڑکے سے شادی کر ے گی ۔ بو ڑھے با پ کا فون مجھے آگیا وہ خو شی سے لبریز لہجے میں رہ رہا تھا کہ اُس کی نازوں سے پلی بیٹی واپس آگئی ہے بو ڑھا با پ با ربار مجھ سے ملنے کی خوا ہش کر رہا تھا اور پھر آخری دن جب میں نے آنا تھا وہ گفٹ لیے ائر پو رٹ پر کھڑا تھا مجھے دیکھتے ہی تیزی سے وہ میری طرف بڑھا اور مُجھ سے لپٹ گیا اُس کے چہرے پر اطمینان اور مسرت رقصاں تھے اُس کی مسکراتی آنکھوں سے خو شی کے آنسوﺅں کی بر سات جا ری تھی میں نے ٹشو پیپر نکالا اور اُس کے مسکراتے آنسوﺅں کو ٹشو میں جذب کیا قیمتی خزانے کے طور پر اُس ٹشو پیپر کو اپنے پا س ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا پا کستان آکر بھی اکثر مجھے بو ڑھے با پ کی مسکراتی آنکھیں یا د آتی ہیں اور میں سجدہ شکر بجا لا تا ہوں ۔


Comments

FB Login Required - comments