انسانی دماغ کا صرف 10فی صد استعمال؟ (پہلا حصہ)


waqar ahmad malikانسان اپنی پوری زندگی میں ذہن کی صلاحیتوں کا صرف دس فی صد ہی استعمال کر پاتا ہے ۔

اگر یہ پچاس فی صد یا اس سے زیادہ استعمال کر لے تو کائنات کے سارے راز اس پر منکشف ہو جائیں ۔

آئن سٹائن جو کہیں زیادہ ذہین تھا ، اپنے ذہن کا بمشکل بیس فی صد استعمال کر پایا۔

اس موضوع پر ’لوسی‘ جیسی فلمیں بھی بنیںجن میں یہ دکھایا گیا کہ کس طرح انسان اگر ذہن کا سو فی صد استعمال کر لے تو ایک درخت کے پتے سے کہکشاﺅں تک ہر علم پر دسترس حاصل کر سکتا ہے ۔

کچھ مغالطے مقامی ہوتے ہیں اور کچھ مغالطوں کو یہ اعزاز حاصل ہوتا ہے کہ ان کے پاس بین الاقوامی سند ہوتی ہے ۔

اس مغالطے کے پاس بین الاقوامی سند ہے ۔ مغالطہ اور ایسا مغالطہ جس میں بین الفطرت یا شدید باعث حیرت بننے کی طاقت ہو وہ وائرس کی طرح پھیلتا ہے ۔

عام انسانی ذہن سنسنی کو پسند کرتا ہے کیونکہ سنسنی سے ایسے نیوروٹرانسمیٹرز میں اضافہ ہوتاہے جو باعث لطف ہوتے ہیں ۔ لطف عقل پہ بازی لے جاتا ہے ۔

یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ ایک سروے کے مطابق صرف امریکہ جیسے ملک میں پینسٹھ فی صد لوگ اس مغالطے پریقین رکھتے ہیں۔

آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ بین الاقوامی صورت حال کیا ہو گی ۔

sidis2ہر مغالطے کی کوئی نہ کوئی جنم بھومی ضرور ہوتی ہے ۔ چاہے اس نے کسی لوک داستان سے جنم لیا ہو یا کسی نیم سائنس سے لیکن یقینا اس کی کوئی نہ کوئی ابتدا ضرور ہوتی ہے ۔

اس مغالطے کی ابتدا بھی دلچسپ ہے۔ اور یقیننا ابتدا صر ف ایک کہانی سے نہیں ہوئی گی ۔

ولیم جیمز سیڈس 1898میں پیدا ہوا اور 1944میں وفات ہوئی۔ ریاضی میں کمال مہارت رکھتا تھا اور صرف گیارہ سال کی عمر میں ہارورڈ میں داخلہ لیا۔ کہا جا تا ہے کہ اسے چالیس زبانوں پر مہارت حاصل تھی اور اس نے کائنات کے قوانین کے حوالے سے بہترین کام بھی کیا۔ اس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کا آئی کیو ٹسٹ میں سکور 250سے اوپر تھا جو انسان کا سب سے بڑا سکور تھا۔

ولیم جیمز سیڈس کی ذہانت میں کوئی شک نہیں لیکن بعد میں معلوم ہو ا کہ بہت سے معاملات میں مبالغہ آرائی سے کام کیا گیا ۔

مثال کے طور پر آئی کیو ٹسٹ کا کوئی ایسا ریکارڈ نہیں ملتا۔

ایک دعویٰ تو یہ تھا کہ وہ چالیس زبانوں پر عبور رکھتا تھا تو دوسری طرف اس کے خاندان سے یہ دعویٰ بھی سامنے آتا رہا کہ وہ دنیا کی تمام زبانوں پر عبور رکھتا تھا۔

اس مبالغہ آرائی کی وجہ سے ایک مغالطے نے جنم لیا کہ شاید عام انسان ذہن کا سو فی صد استعمال نہیں کر پاتا اور جو کر پاتے ہیں وہ غیر معمولی ذہانت سے عقل سے ماورا کارنامے سر انجام دیتے ہیں۔ اوراس مغالطے کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو کہ ولیم جیمز کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اس کو بچپن سے ایسی تربیت اور مشقوں سے گزارا گیا جس کی وجہ سے اس نے ذہانت کے اس معیار کو چھوا ۔

اس مغالطے کی ایک اور وجہ مشہور زمانہ ایک اور ولیم جیمز جن کا شمار نفسیات کے بانیوں میں ہوتا ہے کا یہ بیان بھی رہا کہ انسان اپنے ذہن کی مکمل صلاحیتوں کا استعمال نہیں کر پاتا۔

william-james-sidisاس مغالطے کی ایک اور دلچسپ وجہ یہ بھی رہی کہ انسان کا دماغ ایک سے سولہ فیصد ہی متحرک رہتا ہے ۔

لیکن ٹھہریے یہ بہت ہی دلچسپ بات ہے ۔

ایک انسانی نوازائیدہ بچہ جو خوراک استعمال کرتا ہے اس سے حاصل ہونے والی توانائی کا 60 فی صد حصہ دماغ ہڑپ کر جاتا ہے۔

ایک بڑے بچے کا دماغ توانائی کا 40 سے 50فی صد حصہ ہڑپ کر جاتا ہے ۔

اور ایک نوجوان کی کھائی خوارک کا 20فی صد توانائی کا حصہ دماغ لے لیتا ہے۔

لیکن شماریات بہت زیادہ دلچسپ ہو جاتیں ہیں جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انسانی دماغ کا وزن پورے جسم کے وزن کا دو فی صد ہے۔

یعنی دو فیصد حصہ ، توانائی کا 20 فی صد استعمال کر جاتا ہے ….

کیا یہ شماریات دلچسپ ہیں ، نہیں آگے بڑھیے۔دلچسپی اور حیرت کا سامان آگے ہے

انسان کا دماغ حیر ت انگیز ہے۔ اس کے لیے کتنی توانائی چاہیے ۔ اگر یہ سو فیصد متحرک رہے تو اس کی توانائی پوری کرنا ممکن نہیں ہے ۔ ارتقائی سفر میں دماغ نے اپنے آپ کو
توانائی کے کفایتی استعمال (energy efficient)پر تیار کر لیا۔ دماغ کسی بھی دیے گئے لمحے میں ایک سے سولہ فی صد توانائی استعمال کر رہا ہوتا ہے ۔

اب آئیے اس میں حیرت انگیز دلچسپی ڈھونڈیں۔

einsteinپورے جسم کا دو فیصد ، جب ایک سے سولہ فی صد متحرک ہوتا ہے تو 20 فیصد توانائی لے رہا ہوتا ہے ۔اب سوچیے اگر یہ دو فیصد اپنے آپ کو 100فی صد متحرک رکھے تو؟
تو ہوگا یہ کہ 100 فی صد توانائی دماغ صرف action potential میں لگا دے گا۔ ریڑھ کی ہڈی کی جانب آتے سگنلز تک کے لیے توانائی نہیں بچے گی اور باقی جسم بے چارے کو تو توانائی ویسے ہی نہیں ملنی ۔
یہاں دماغ نے Sparse Coding کا طریقہ اپنا یا۔ اور ایک وقت میں یعنی کسی ایک لمحے میں ایک سے سولہ فیصد حصہ متحرک رکھا ۔

دماغ صرف 86 ارب نیورانز کا پیچیدہ نظام کو مربوط رکھنے میں 3400000000000000000 اے ٹی پی مالیکولز فی منٹ استعمال کرتا ہے۔

میرا خیال ہے کہ جس طرح دماغ نے یعنی دو فیصد نے اپنے آپ توانائی کے حوالے سے اپنے آپ کو کفایت شعار بنایا ہے ، قدرت آپ کے ایک تشکر بھرے بوسے کی حقدار بن جاتی ہے۔

کھاناآگ پر پکا نے نے ہمیں دوسری انواع سے ممتاز کر دیا، آگ پر کھانا پکانے کا انسانی دماغ سے کیا تعلق؟

کیا وجہ ہے کہ ابتدا میں انسانی ذہن کے کچھ حصوں کو ’خاموش حصے ‘ کہا جاتا رہا؟

مغالطے کی ایک اور وجہ ذہانت میں نمایا ں فرق ہوتا ہے ۔ اور یہ ہمارا روزمرہ کا تجربہ ہے کچھ لوگ زیادہ ذہین ہوتے ہیں ۔

کیوں؟

ذہانت کیا ہوتی ہے؟

کیا آئی کیو ٹسٹ ذہانت ماپنے کا قابل اعتماد پیمانہ ہے؟

آئن سٹائن کیوں اتنا ذہین تھا؟

کیا آئن سٹائن آئی کیو ٹسٹ دیتا تو نمایاں پوزیشن حاصل کرتا؟

آخر آئن سٹائن کے دماغ اور عام آدمی کے دماغ میں کیا فرق تھا؟

(جاری ہے)


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 62 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

2 thoughts on “انسانی دماغ کا صرف 10فی صد استعمال؟ (پہلا حصہ)

  • 18-02-2016 at 6:20 pm
    Permalink

    سر یہ بات سائنسی طور پر درست نہیں..ہم دماغ کے تمام خلیوں کو استعمال کرتے ہیں..اس طرح نہیں ہوتا کہ دماغ کا کوئی حصہ غیر استعمال شدہ رہتا ہے..لوسی ایک سائنس فکشن مووی ہے جسکا کونسیپٹ صد فی صد سائنسی حوالے سے مغالطے پر مبنی ہے..

  • 23-02-2016 at 3:02 am
    Permalink

    دنیا میں بہت سے لوگ آئن سٹائل سے زیادہ آئی کیو رکھتے ہیں اس کا صرف 160 تھا آج بعض لوگ 300 تک ہیں
    کیا صرف یہودی ہونے کا کریڈٹ تو نہیں دیا جاتا اس کو شائید

Comments are closed.