سیہہ یا لومڑی؟


aasim bakhshiسماجی نظریہ بندی کی بحث  وطنِ عزیز کے ماضی، حال اور مستقبل کا ایک نامیاتی جزو معلوم ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں  سب سے دلچسپ صورتحال  ایک دوسرے کی جانب اصطلاحات کی چاند ماری ہے۔ ان میں سے بہت کم اصطلاحات ایسی ہیں جو واقعی اپنے اصل اور رائج معنی  کے ساتھ  مکالمے میں استعمال کی جا رہی ہیں ۔ کچھ اصطلاحات مثلاً  دائیاں بازو اور بائیاں بازو تو اس حد تک پامال ہیں  کہ  بارہا اصل سے متضاد معنوں میں استعمال ہوتی ہیں ۔ کچھ ایسی ہیں جو کلی طور پر متکلم کی مراد پر منحصر ہیں  اور بوقتِ ضرورت مفید مکالمے اور طعن و دشنام دونوں  کے لئے یکساں کارگر ہیں، مثال کے طور  قدامت پسندی، رجعت پسندی، لبرل ازم ، آزادی خیالی، روشن خیالی وغیرہ۔ پھر کچھ اصطلاحات ایسی ہیں جن کی تعریف تاحال جاری ہے اور طرفین ایک دوسرے کو لغات کے حوالے دیتے نہیں  تھکتے جیسے سیکولرازم۔  اس تناظر میں کیوں نہ دو نئی اصطلاحات متعارف کروائی جائیں اور اپنے ذہن  کی  داخلی کیفیات کی حد تک  اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے سماجی مکالمے میں کسی بھی مفکر، لکھاری یا  کسی بھی غور و فکر کرنے والے عام شخص کو  دو تصوراتی خانوں میں سے کسی ایک خانے میں ڈالنے کی کوشش کی جائے۔یہ دو تصوراتی خانے یا القابات ’سیہہ‘ اور ’لومڑی ‘ کے ہیں۔ داخلی کیفیات سے مراد یہی ہے کہ  بس یہ فیصلہ کرنے کی کوشش کی جائے کہ مکالمے میں  آپ کا مخاطب  سیہہ ہے یا لومڑی ۔ہمارا گمان ہے کہ لبرل یا مذہب پسند کی بجائے ذہن میں کسی کو لومڑی یا سیہہ تصور کر لینا نسبتاً زیادہ آسان اور  اطمینان بخش ہے۔

ان اصطلاحات کو مشہور  برطانوی مفکر  آیزایا برلن  نے  ٹالسٹائی  کے فلسفۂ تاریخ پر لکھے ایک مضمون  ’سیہہ اور لومڑی‘ میں  یہ ثابت کرنے کے لئے متعارف کروایا کہ ٹالسٹائی نہ تو  سیہہ ہیں اور نہ ہی لومڑی۔ آئیے برلن کی زبانی ان دونوں اصطلاحات کی تعریف دیکھتے ہیں۔ یہ ان کے مضمون کی ابتدائی سطروں کا ترجمہ ہے:

’’یونانی شاعر   آرکیلوکس کے مخطوطوں میں  ایک  مصرعہ ملتا ہے جس کے معنی کچھ یوں ہیں کہ  ’لومڑی  بہت  کچھ جانتی ہے جب کہ  سیہہ کو ایک  بڑی  چیز  ہی معلوم ہے۔‘ اہل علم  ان  مبہم الفاظ کی درست تعبیر پر  مختلف  آراء رکھتے ہیں  جو شاید  اس سے زیادہ مفہوم  نہ رکھتے ہوں کہ لومڑی اپنی تمام تر چالاکی کے باوجود  سیہہ کےواحد دفاعی ہتھیار کے ہاتھوں پسپائی پر مجبور ہو جاتی ہے۔لیکن اگر  تمثیلی معنوں میں دیکھا جائے  تو ان الفاظ کو ایک ایسا مفہوم پہنایا جا سکتا ہے  جس کی مدد سے  لکھاریوں اور  مفکرین بلکہ شاید تمام انسانوں   کے درمیان موجود گہرے ترین اختلافات کی سرحد کو نشان زد کیا جا سکے۔ اس  وسیع و عریض سرحد کے ایک طرف تو وہ ہیں  جو ہر شے کا  01990کم و بیش باربط تعلق  ایک واحد مرکزی تصور،ایک  نظام  سے قائم کرتے ہیں  یا  اپنے فہم ، فکر اور احساس  کی وضاحت   ایک  ایسے واحد، عالمگیر ، ہم آہنگ  اصول کی مدد سے کرتے ہیں جو ان کے وجود و فکر  کی تمام تر جہتوں کی بنیادی خاصیت ٹھہرتا ہے، اور دوسری  طرف  وہ ہیں جو بہت سی ایسی راہوں  کے مسافر ہوتے ہیں جو نہ صرف اکثر  ایک دوسرے سے لاتعلق ہوتی ہیں بلکہ  باہم متضاد بھی ہوتی ہیں، اور اگر بالفرض کسی نفسیاتی یا  فعلیاتی امر واقع کے تحت ایک دوسرے  سے مل بھی جائیں  تو بھی کسی  خاص اخلاقی  یا جمالیاتی  اصول  تک ناقابلِ تحدید ہوتی ہیں ۔ آخر الذکر  ایک ایسی  زندگی بسر کرتے ہیں، اس  قسم کے اعمال کرتے ہیں اور  ایسے تصورات کو  قابلِ اعتنا سمجھتے ہیں جو  مرکز مائل ہونے کی بجائے مرکز گریز ہوتے ہیں، ان کی  فکر  بکھری ہوئی یا  اطراف میں  منتشر ہوتے ہوئے  کئی  درجوں میں سفر کرتی ہے اورتجربات کے ایک ایسے وسیع متنوع  جوہر سے تشکیل پاتی ہے  جو  ان کے وجود کو   شعوری یا غیرشعوری طورپر  کسی ایک  غیرمتغیر،  کلی، کبھی  تو متناقض اور نامکمل، اور  کبھی  جنون کی حد تک جوشیلے داخلی وحدت کے حامل تصور تک محدود نہیں ہونے دیتا۔ فکری اور فنونی  شخصیت  کی پہلی قسم  سیہہ کے قبیل سے تعلق رکھتی ہے اور دوسری لومڑی کے، اور کسی ایک بے لچک زمرہ بندی پر  اصرار کئے بغیر ہم   کافی حد تک بلاخوفِ تردید  یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس تناظر میں  دانتے کا تعلق پہلے  قسم سے ہے  اور شیکسپئیر کا دوسری سے،  افلاطون، لیوکریٹیس، پاسکل، ہیگل، دوستووسکی، نطشے، ابسن اور پرؤسٹ کسی نہ کسی درجے میں  سیہہ ہیں  اور  ہیروڈوٹس،  ارسطو، مونٹین، ایراسمس،  مولیر، گوئٹے، پشکن، بالزاک اور  جوائس لومڑیاں۔ اگر اس دوئی کی تہوں میں غواصی کی جائے تویقیناً  اس قسم کی کسی بھی سادہ لوح  زمرہ بندی کی طرح یہ بھی مصنوعی، کلامی اور پھر آخرکار بے معنی ثابت ہو گی۔ لیکن اگر  اسے سنجیدہ تنقیدی آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا تو محض مصنوعی اور بے وقعت کہہ کر رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ان تمام امتیازات کی طرح جو اپنے اندر کچھ نہ کچھ سچائی رکھتے ہوں، یہ بھی ہمیں موازنے اور  تجزئیے کا ایک ایسا تناظر فراہم کرتی ہے جسے  خالص تحقیق کا ایک  بامعنی نقطۂ  آغاز کہا جا سکتا ہے۔ ‘‘

Henry_Hardy__Oxfordبرلن کی مثالوں سے اشارے لیتے ہوئے تنقیدی روایت  ہی کی مثال لیں  تو ہمارے ہاں غالب اور میر کی وکالت  کے لئے علیحدہ علیحدہ فکری مدرسے پائے جاتے ہیں اور یہ قضیہ تاحال فیصلہ کن  مراحل میں داخل نہیں ہو سکا۔ بنیادی وجہ یہی ہے کہ غالب اور میر میں امتیاز کی ایسی  واضح حدِ فاصل کھینچنا ناممکن محسوس ہوتا ہے جو کسی حد تک ٹھوس معیارات پر  استوارہو۔ انسانی جذبات، کونیاتی اڑان، لطافتِ بیان وغیرہ جیسے معیارات تو کبھی فیصلہ کن ثابت نہیں ہوتے۔ لہٰذا یہ مسئلہ  یا تو عام طور پر قارئین یا نقادوں کی  موضوعی ترجیحات پر چھوڑ دیا جاتا ہےاور یا پھر ہم جیسے سادہ لوح مبصرین قبلہ افتخار عارف کے  ساتھ کھڑے ہونے میں عافیت محسوس کرتے ہیں  جن کے بقول’ہم اہل ِ تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے‘۔لیکن اگربالفرض ہم  ان دونوں کے درمیان برتری کے سوال کو غیردلچسپ سمجھ کر تر ک کردیں اور اس کی بجائے یہ تلاش کرنے کی کوشش کریں کہ کیا ہم میرؔ کو سیہہ اور غالبؔ کو لومڑی  سمجھ سکتے ہیں تو   شاید اساتذہ ہماری اس بات سے اتفاق کریں کہ دلچسپ امکانات کا ایک   تازہ  تنقیدی میدان ظاہر ہونے کی امید ہے۔

اس رائے پر  ہرگزاصرار نہیں لیکن میرؔ کی تمام شاعری   عمومی طور پر  ایک ایسا جمالیاتی اظہار لگتا ہے جو اپنے تمام تر تنوع اور رنگینیوں کے  باوجود  کسی (تاحال) نادیدہ  وحدت میں پرویا ہوا  محسوس ہوتا ہے۔اب یہ راہنمائی تو اساتذہ ہی کر سکتے ہیں کہ وہ واحد  اصول کیا ہے اور اس کا اطلاق کس حد تک ممکن ہے۔ کیا یہ انسان اور کائنات کو کسی ایسی  جمالیاتی ہم آہنگی میں پرونے کی خواہش ہے جو ممکنہ طور پر اپنی زیادہ سے زیادہ وسعت میں بھی ایک مخصوص تہذیبی پس منظر سے اوپر اٹھنے پر قادر نہیں؟ دوسری طرف غالبؔ ایک ایسا مسافر معلوم ہوتا ہے  جو کئی منزلوں کی تلاش میں کئی راہوں پر ایک ساتھ سفر کر رہاہے،تضادات کا ایک حسین مرقع ہے، ایک مکمل استعاراتی لومڑی۔

           بعینہ یہی دلچسپ امکانات تہذیبی مباحث میں بھی  ظاہر ہوتے ہیں جن کی سیاسی، سماجی اور مذہبی جہتیں جدا جدا ہونے کے باعث نہ صرف کئی پیچیدہ مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ   گرہیں مزید گنجلک ہوتی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر مودودی جہاں مذہبی تعبیر کے تناظر میں ہمیں ایک جدیدیت پسند معلوم ہوتے ہیں وہیں اگر اس مذہبی تعبیر کا اطلاق سماجی و سیاسی میدانوں میں کیا جائے تو ان کی فکر کے شدید قدامت پسند مظاہر   سامنے آتے ہیں۔ لیکن جہاں مودودی اپنی تمام تر رجعت پسندی کے ساتھ عمومی طور پر تناقضات سے پاک محسوس ہوتے ہیں وہیں  اقبال تضادات کا ایک مجموعہ نظر آتے ہیں اور ان کے شارحین و قارئین ان کی نظم و نثر سے برسرِ پیکار یہی گتھی سلجھانے میں لگے رہتے ہیں کہ کیسے انہیں ایک کلی  وحدت میں پرو کر دکھایا جائے کہ تضادات بھی حل ہو جائیں اور  متن سے سمجھوتہ بھی نہ کرنا پڑے۔ ایسے میں کیوں نہ نئے سرے سے ایک تازہ نگاہ ڈالی جائے اور یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ مودودی  سیہہ ہیں اور اقبال لومڑی۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی حتمی دعوے نہیں اور ہمارے نقاد چاہیں تو لومڑی کو سیہہ ثابت کر دیں اور سیہہ کو لومڑی  لیکن  بہرحال کوئی نہ کوئی پیش قیاسی کر نے کے بعد ہی آگے بڑھنا لازم ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایک  عام قاری کے نکتۂ نظر سے بھی یہ امتیاز قائم کر نا کچھ خاص دقت طلب نہیں۔اس پس منظر میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ جون ایلیا، انتظار حسین، منٹو، قرۃ العین حیدر، احمد ندیم قاسمی، احسان دانش اور واصف علی واصف کافی حد تک لومڑیاں ہیں اور فیض احمد فیض، حسن عسکری، سید سبط حسن، سراج منیراورسلیم احمد کسی نہ کسی درجے میں سیہہ۔ ماہر القادی  سو فیصد ایک سیہہ ہیں اور  ن م راشد سو فیصد ایک لومڑی۔

اس زمرہ بندی کی دلچسپ ترین بات یہی ہے کہ  یہ ہمیں دوسرے تمام امتیازات سے بالاتر ہو کر انسانی نفسیات کی تہہ میں ایک نئی تقسیم سے متعارف کرواتی  ہے۔ہم یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ ایک قدامت پسند لومڑی  کن شرائط پر ایک قدامت پسند سیہہ کا ساتھ گوارا کر سکتی ہے؟ یا  ایک روشن خیال   سیہ ایک قدامت پسند سیہہ سے کن بنیادوں پر سمجھوتہ کر سکتا ہے؟  ایسے سوالات بھی ممکن ہیں کہ  کیا کسی انسان کو خود معلوم ہوتا ہے کہ وہ سیہہ ہے یا لومڑی؟ مثال کے طور پر کہیں ایسا تو نہیں کہ سراج منیر اصلاً تو  ایک سیہہ ہی ہیں اور یہ بخوبی جانتے ہیں لیکن   سلیم احمد ایک ایسی  لومڑی ہیں جسے  گمان ہے کہ وہ لومڑ ی نہیں بلکہ سیہہ ہے۔ اسی طرح انتظار حسین  اپنی نفسیات کی اندرونی  تہوں میں تو شاید کہیں سیہہ ہیں لیکن اپنی فکر کے تمام  مظاہرمیں اس اندر کے سیہہ سے برسرِ پیکار رہتے ہوئے ایک لومڑی بننے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس ضمن میں یہ قدری سوال اٹھانا بے معنی ہے کہ سیہہ بہتر ہے یا لومڑی؟ لیکن یہی سوال انفرادی نکتۂ نگاہ سے اس حد تک اہم  بھی ہے کہ خود کسی شخص کے نزدیک   وہ کیا ہے اور کیا بننا چاہتا ہے؟مثلاً اگر ہم مان لیں کہ فیض احمد فیض کے نزدیک  ان کی فکر، احساس اور  تمام تخلیقی جذبوں کا راستہ انسان سے محبت کے اصول  سے وضاحت پاتا ہے  تو وہ خود بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ سیہہ ہی ہیں اور لومڑی بننے کی کوئی تحریک محسوس نہیں کرتے۔ اس کے برعکس اقبال ہیں تو لومڑی لیکن شاید نہیں جانتے کہ وہ لومڑی ہیں اور سیہہ بننے کی کوشش میں اپنے فکری تضادات کو لاینحل چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ واصف علی واصف لومڑی ہیں مگر  معلوم ہوتا ہے کہ اس  فکری وحدت کی تلاش میں ہیں جو انہیں سیہہ  بناد ے ۔  کچھ ایسے بھی لوگ ہو سکتے ہیں جو ساری زندگی تو لومڑی رہے ہوں لیکن اپنی عمر کے آخری حصے میں خود کو سیہہ سمجھنے لگ گئے ہوں مثلاً قدرت اللہ شہاب۔

     برلن کی رائے تھی کہ ان کا یہ مضمون کوئی بہت زیادہ سنجیدہ خیال آرائی نہیں تھی اور بس ویسے ہی تفننِ طبع کی خاطر کچھ  ہلکی پھلکی  طبع آزمائی تھی۔ نام یاد نہیں لیکن کسی من چلے نے  یہ گرہ بھی لگائی کہ دنیا میں دو ہی قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں، ایک وہ جوانسانوں کو دو امتیازات میں  تقسیم کرتے ہیں اور ایک وہ جن کے نزدیک یہ ایک ناممکن  خواہش ہے۔ بہرحال ہماری رائے میں ان تعریفات سے سرسری سا تعارف بھی کسی بھی نقادیا تجزیہ کار کو  بقیہ ساری زندگی اپنے سحر  میں مبتلا رکھنے کے لئے کافی ہے۔  پھر  یہ بھی ضروری نہیں کہ اس امتیاز کو صرف پائے کے مفکرین تک ہی محدود رکھا جائے بلکہ اس کا دائرہ  عمومی طور پر پھیلا کر بھی دلچسپ قیاس آرائی کی  جا سکتی ہے۔  راقم کی سوچی سمجھی  رائے ہے کہ  سماجی مکالمے میں  کسی بھی مخاطب کے بارے میں یہ فیصلہ کر لینے سے کہ وہ سیہہ ہے یا لومڑی  آ پ اپنے استدلال کو اس طرح  پیش کر سکتے ہیں کہ فریقین دائروں میں گھومنے سے بچ جائیں ۔ سیہہ اپنی کھوہ میں سکون پائے اور لومڑی اپنے بھٹ میں۔ اور جب مکالمے کے جنگل میں نکلیں تو اس ناگزیر سمجھوتے کے ساتھ  دونوں کی فطرت کا تبدیل ہونا کلی طور  پر  خارج از امکان  ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ مکالمے یا  سماجی تنقید کو کچھ ایسی پیش قیاسی بنیادیں  فراہم کرنے کا ایک ایسا بہترین ذریعہ ہو سکتا ہے جس  کے استعمال سے فریقین ایک دوسرے کے بارے میں بے بنیاد قیاس آرائی سے بچ سکتےہیں۔ آپ  فوراً فیصلہ کر لیجئے کہ آپ سیہہ ہیں یا لومڑی ۔ عین ممکن ہے کہ آپ کے بارے میں دوسروں کی رائے آپ کی اپنی رائے سے مختلف ہو۔ہمارے بارے میں یہ رائے ظاہر کی جا سکتی ہے کہ ہم لومڑی ہیں لیکن  ہم ابھی تک یہ حتمی  فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ لہٰذا  ٹالسٹائی کی طرح جو ان دونوں  خانوں میں  واضح طور پر سمایا نہ جا سکےاسے  فوراًاپنا   فکری ہمزاد   تصور کر لیتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 46 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

7 thoughts on “سیہہ یا لومڑی؟

  • 18-02-2016 at 5:08 pm
    Permalink

    سر کمال ہے ۔۔کمال ہو گیا۔۔۔کمال کر دیا آپ نے

    • 18-02-2016 at 6:44 pm
      Permalink

      بہت شکریہ وقار صاحب۔ اب ایسا بھی کیا حضور۔ تواضع ہے آپ کی۔

  • 18-02-2016 at 6:57 pm
    Permalink

    بہت عمدہ عاصم بخشی صاحب۔ کلیشے قسم کی تنقیدی اصطلاحات سے ہٹ کریہ مضمون نما کالم نئی “تمثیلی تنقید” کا آغاز ہو سکتا ہے، بالخصوص میر اور غالب کے ضمن میں۔

    • 18-02-2016 at 8:24 pm
      Permalink

      بہت شکریہ سر۔

  • 18-02-2016 at 8:55 pm
    Permalink

    سر! ہمیشہ کی طرح کچھ نیا پڑھنے کو ملا۔۔۔۔ شکریہ قبول فرمائیں

    • 19-02-2016 at 8:12 am
      Permalink

      شکریہ حذیفہ صاحب۔

  • 21-02-2016 at 1:56 am
    Permalink

    عمدہ سر۔۔۔۔میں عموماً اپنے بارے کوئی رائے قائم کرنے میں ناکام رہا تھا مگر تحریر پڑھ کر معلوم پڑ گیا کہ میں کیا ہوں۔۔۔جیتے رہیں؛)

Comments are closed.