دل کو نہ توڑئیے کہ خدا کا مقام ہے!


 husnain jamal (2)دنیا میں موجود تمام انسانوں کو اگر آپ بارہ مختلف قسموں میں تقسیم کرنا چاہیں تو کیا ایسا ممکن ہو سکتا ہے؟

جی ہاں اسی حد تک ممکن ہے کہ انہیں برج حمل، برج ثور، برج جوزا، برج سرطان، برج اسد، برج سنبلہ، برج میزان، برج عقرب، برج قوس، برج جدی، برج دلو اور برج حوت میں تقسیم کر دیا جائے اور ہر برج کے دائرے میں آنے والے انسانوں کی چند خصوصیات بیان کر دی جائیں اور اس دعوے کے ساتھ کی جائیں کہ یہ تمام دنیا پر منطبق ہیں، تو یہ بارہ ممکنات کا ایک سیٹ ہو جائے گا۔

اگر مزید گہرائی میں جائیں تو سال کے365 دن کے حساب سے مزید باریک جانچ کر لیجیے۔ جو انسان جس تاریخ کو پیدا ہوا اس کے ممکنہ خواص کی الگ الگ گروہ بندی کر دیجیے۔ اس محنت کے بعد بھی آپ اس قابل ہوں گے کہ دنیا بھر کے انسان جو غالباً آٹھ ارب سے زیادہ ہیں، وہ 365 گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔

اب اگر آپ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ آپ مکمل طور پر ان 12 یا 365 گروہوں میں سے کسی بھی ایک سے تعلق رکھتے ہیں، مثلاً آپ 16 جولائی کو پیدا ہوئے ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی مکمل شخصیت برج سرطان کی عام طور پر بیان کی گئی خصوصیات کے مطابق ہے تو اس تحریر کو آگے پڑھنے کا فائدہ کوئی نہیں، ویسے دل چاہے تو بسم اللہ، چلے آئیے۔

اگر آپ ایسا نہیں سمجھتے تو آپ باقاعدہ زائچہ بنوائیں گے، جنم کنڈلی نکلوائیں گے، ہاتھ کی لکیروں کا مطالعہ کریں گے۔ گویا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ان بارہ یا تین سو پینسٹھ گروہوں میں بہرحال پورے نہیں بیٹھتے اور وہ تمام عادات و خصائل جو بیان کیے جاتے ہیں وہ مکمل طور پر آپ کی شخصیت کا احاطہ نہیں کرتے۔ آپ کی شخصیت اور مستقبل کی جانچ کے پیمانے الگ ہوں گے۔

عین اسی طرح کپڑوں کا معاملہ ہے۔ باوجود سلے سلائے تیار کپڑوں کے، ہم میں سے کئی دوست ایسے ہیں جو کپڑا خرید کر سلوانا پسند کرتے ہیں کہ بازاری تراش خراش یا سلائی ان کے معیار کے مطابق نہیں ہوتی۔ بعض صورتوں میں یہ بھی ہوتا ہے کہ مطلوبہ ناپ موجود ہی نہیں ہوتا۔ اور اب تو Bespoke Tailoring باقاعدہ ایک صنعت کا درجہ اختیار کر چکی ہے، ایک ایک چیز کا دھیان رکھا جاتا ہے۔ ایک کوٹ کی سلائی لے لیجیے۔ سامنے کی جیب اور Lapel (کالر) میں بیسیوں اختراعات کی جا سکتی ہیں۔ چاک ایک ہو گا، دو ہوں گے، نہیں ہوں گے، یا اگر ہوں گے تو کیا لمبائی ہو گی۔ آستین کے بٹن کتنے فاصلے پر ہوں گے، دو ہوں گے، تین ہوں چار ہوں گے۔ کپڑا کیسا ہو گا، مجموعی طور پر سنگل بریسٹ ہو گا یا ڈبل ہو گا، اور ان میں سے جو بھی ہو گا، بٹن کس طریقے سے لگے ہوں گے، الغرض ایک علم دریاو ہے، وسعتیں جس کی بے کنار ہیں۔

جب ایک کوٹ اس قدر اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے کہ اس پر پوری پوری باتصویر کتابیں تصنیف کر دی جائیں تو ہم سب کیوں نہیں؟

کسی بھی فرد واحد کی سوچ کسی ایک لیبل میں بند نہیں ہو سکتی۔ جس طرح برج سرطان سے تعلق رکھنے والی تمام دنیا خصوصیات کے ایک کوزے میں بند نہیں ہو سکتی اسی طرح مذہبی، لبرل، سیکولر یا ملحد کے ان چار خانوں میں کوئی بھی ہم سب کو کیسے رکھ سکتا ہے۔ دائیں اور بائیں بازو کی بات چلیے پھر بھی سمجھ میں آتی ہے کہ بھئی فلاں کا جھکاﺅ اس طرف ہے، ہمارا اس طرف ہے۔ بات معتدل ہو گئی، پیغام بھی پہنچ گیا سمجھ بھی آ گئی۔ ان چار لفظوں سے کیا آپ کو تعصب نہیں محسوس ہوتا۔

سوچ کے دائرے کھلے رکھیے۔ فرض کیجیے (الف) ایک شخص ہے، وہ نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے لیکن وہ پردے کا خاص حامی نہیں۔ ایک آدمی (ب) ہے، وہ حافظ قرآن ہے لیکن فلسفیانہ مباحث میں بہت دل چسپی لیتا ہے، ان مباحث کی سرحدیں الحاد سے بھی جا ملتی ہیں۔ ایک اور انسان (ج)ہے، وہ نماز روزہ کچھ نہیں کرتا، خدا کو مانتا ہے، خدا اس کی ضرورت بھی ہے اور ایمان بھی، لیکن وہ مولانا حضرات کی تقلید مناسب نہیں سمجھتا۔ ایک اور نفس (د)ہے، وہ تمام مذہبی تعلیمات پر عمل کرتا ہے لیکن سود کے کاروبار میں ملوث ہے اور شراب نوشی بھی کرتا ہے۔ ایک ذی روح (ھ) کی مثال لیجیے، وہ کسی مذہب کو نہیں مانتا، انسانیت اور انسانوں کے حقوق کو اپنی جان سے مقدم سمجھتا ہے، انسانی آزادی پر اسے یقین ہے، لیکن وہ سوچتا ہے خدا کے بغیر یہ سب کاروبار ناممکن ہے۔ (و) نامی خدا کا بندہ ان سب سے ہٹ کر ہے۔ وہ نہ کچھ مانتا ہے، نہ کچھ کرتا ہے، نہ دائیں سے ہے، نہ بائیں سے ہے، نشہ کرتا ہے اور پرانے کھنڈروں میں بیٹھا رہتا ہے۔ اسے خبر ہی نہیں دنیا اسے کسی بھی خانے میں رکھ دینے کے لیے کتنی بے تاب ہے۔ علی ہذا القیاس….

اس عاجز سی بحث کے بعد، جو بے شک اہل علم کو مطمئن نہیں کر سکتی، ایک اور امر دیکھیے۔ کیا یہ بہت ضروری ہے کہ نسل انسانی میں سے کوئی ایک بھی آپ کی بیان کردہ اور پسندیدہ تعریفوں پر پورا اترے تو ہی آپ اسے اپنا دوست سمجھیں؟

ارے ایسا نہیں ہوتا بھئی۔ اچھی بات تو کبھی بھی کوئی بھی کہہ سکتا ہے۔ دیکھیے آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں، بے شک آپ کو اس میں سے ایک لفظ بھی کام کا نہ ملے، کوئی بڑی بات نہیں۔ بات یہ ہے کہ سوچ کا ایک انداز آپ تک پہنچ گیا، تو یہ ایک فائدہ ہوا۔ اسی طرح ہمارا کوئی بھی دوست چاہے وہ مدرسے کا فارغ التحصیل ہے، کسی انگریزی میڈیم ادارے سے ہے، ملک سے باہر جا کر تعلیم حاصل کر آیا ہے یا، یا سرے سے پڑھا ہی نہیں تو اچھی بات تو وہ بھی کہہ سکتا ہے۔ دنیا تو ان سب نے دیکھی ہے، برتا بھی ہے۔ تجربہ سب کا اپنا ہے، نظریہ سب کا اپنا ہے۔ دل کو لگنے والی بات تو کہیں سے بھی آ سکتی ہے، کان سننے والے اور آنکھیں دیکھنے والی رکھیے بس۔

اب وہ زمانے لد گئے جب خلیل خاں نظرئیے کی فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ ایک انسانی جان کی قیمت کسی بھی نظرئیے، کسی بھی بحث، کسی بھی دلیل، کسی بھی پسند، کسی بھی ناپسندیدگی یا کسی بھی انا سے بہرحال بڑھ کر ہے۔

ہم بحث میں تب پڑتے ہیں، جب ہماری انا آڑے آتی ہے، ہمارے سچ کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ بجا ہے، درست ہے، حق ہے۔ لیکن ایسی بھی کیا بحث کہ آپ پڑھنے والے کو خود سے متنفر کر دیں۔ ٹھیک ہے، کتابیں بہت سا علم دیتی ہیں، کتابیں بہترین دوست ہیں، کتابیں بہترین انسان بناتی ہیں لیکن وہی بہترین انسان جب اسی بہت سے علم کی بدہضمی میں مبتلا ہو جائے تو پھر یہ کھیل شروع ہو جاتا ہے کہ تم غلط ہو، نہیں تم غلط ہو۔

مان لیا بھئی۔ آپ سب میں سے پہلا غلط یہ فقیر ہے۔ یہ کسی بھی پڑھنے والے کو اپنی کسی بھی سچائی کی نذر نہیں کرنا چاہتا۔ ایک انسان اور اس کے جذبات اپنی تحریر کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہتا۔ یہ فقیر کہلاتا بھی یوں ہے کہ کسی سچائی کی کوئی امارت، کسی نظرئیے کی کوئی دلالت یا کسی ازم کی کوئی وکالت اس کے بس کا روگ نہیں۔ اسے اس کی کم علمی جان لیجیے یا کوتاہ فہمی کہہ لیجیے۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 145 posts and counting.See all posts by husnain

6 thoughts on “دل کو نہ توڑئیے کہ خدا کا مقام ہے!

  • 18-02-2016 at 5:25 pm
    Permalink

    حرف حرف متفق جناب ۔۔۔!! دنیا تو ان سب نے دیکھی ہے، برتا بھی ہے۔ تجربہ سب کا اپنا ہے، نظریہ سب کا اپنا ہے۔ دل کو لگنے والی بات تو کہیں سے بھی آ سکتی ہے، کان سننے والے اور آنکھیں دیکھنے والی رکھیے بس۔

    • 18-02-2016 at 9:55 pm
      Permalink

      بہت نوازش عامر بھائی۔

  • 19-02-2016 at 12:21 am
    Permalink

    عامر بھائی
    ہماری عادت ہوگئی ہے کہ جب تک کوئی اپنی زات کے ساتھ ‘مزہبی لیبل ‘ نہیں لگاتا ہم اس کی مخالفت نہیں کرتے

  • 19-02-2016 at 7:54 pm
    Permalink

    jamal guft …..kamal guft

  • 19-02-2016 at 11:50 pm
    Permalink

    بھت خوب جناب. اس سوچ کو پھیلانے کی ضرورت یے..

  • 29-02-2016 at 6:16 pm
    Permalink

    خوبصورت تحریر و مندرجات۔۔۔۔

Comments are closed.