نظریہ پاکستان کی توہین


adnan Kakar

برادر عامر خاکوانی کا نظریہ پاکستان کو تاریخ سے اخذ کرنے کے بارے میں کالم پڑھا تو ایک گزشتہ مکالمہ یاد آ گیا۔ آپ بھی دیکھیں کہ ہر ایک خود سے اپنا اپنا تاریخی  نظریہ پاکستان  اخذ کرنے لگے تو کیا غضب ہو جائے گا۔


بھائی صالح خان ترین سخت غصے میں تنتناتے ہوئے کی بورڈ پر ہاتھ چلا رہے تھے۔ ہم نے دریافت کیا کہ کیا ہوا برادر؟

صالح ترین: ہونا کیا ہے۔ پاکستان کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بے شرمی کی انتہا کو چھو رہا ہے۔ یہ مملکت پاکستان، نظریہ پاکستان اور ہماری تہذیبی روایا ت پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔

ہم: بھائی صالح ترین، پطرس کے الفاظ استعمال کریں تو ہم نے علم السیاسیات کے پروفیسروں سے پوچھا، دانشوروں سے دریافت کیا، خود سرکھپاتے رہے، لیکن کبھی سمجھ میں نہ آیا کہ آخر نظریہ پاکستان کیا ہے؟ نظریہ پاکستان کا متن کیا ہے، اسے کس نے اور کب پیش کیا تھا؟ کافی عرصے سے اسے تلاش کر رہا ہوں لیکن یہ مل کر ہی نہیں دیتا ہے۔

صالح ترین: متن؟ اس کا متن قیام پاکستان کی جدو جہد کی پوری تاریخ ہے۔ اگر اس تاریخ سے واقفیت ہے تو پھر کون سے متن کی تلاش ہے؟

ہم: اس تاریخ کو پڑھ کر تو ہر کوئی اپنا مطلب نکالتا ہے۔ اس طرح تو پھر ہر بندے کا اپنی اپنی فہم کے مطابق اپنا اپنا نظریہ پاکستان ہو گا۔ کسی بندے کا نظریہء پاکستان لبرل ہو گا اور کسی کا تھیوکریٹک۔

صالح ترین: دونوں صورتوں میں ہمارا میڈیا منفی کردار ادا کر رہا ہے۔ ہمارا میڈیا نقلی ملاؤں اور نقلی لبرلوں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ لہذا حقیقی مذھب پسند ہوں یا حقیقی لبرل، دونوں ہی اس کی زیادتی کا شکار ہیں۔ یہ میڈیا نظریہ پاکستان کی توہین پر کمربستہ ہے۔

ہم: کیا یہ چیز دلچسپ نہیں ہے کہ یہ وہ نظریہ ہے جسے کسی نے کبھی پیش ہی نہیں کیا ہے، جس کا کوئی متفقہ متن ہی نہیں ہے، بات بات پر اس کی توہین اور خلاف ورزی ہو جاتی ہے۔

صالح ترین: آپ اگر اس تلاش میں ہیں کہ نظریہ پاکستان کسی کتاب کا نام ہے جس کے باقاعدہ کوئی ابواب ہوں گے تو شاید آپ کو مایوسی ہو گی۔ البتہ اگر آپ متحدہ ہندوستان کی مسلمانوں کی اس دور کی خواہش کا مطالعہ اور تجزیہ کریں تو یہی نظریہ ہر طرف بکھرا ہوا نظر آے گا۔

ہم: جناب اس دور کی تاریخ کو پڑھنے والے تو اس بات پر بھی متفق نہیں ہیں کہ لبرل پاکستان بننا تھا یا تھیوکریٹک؟ کیا میں آپ کو سر ظفر اللہ خان نامی احمدی یاد کرواؤں جو اقبال کے خطبہ الہ آباد کے بعد دو سال تک آل انڈیا مسلم لیگ کا صدر رہا تھا، جس کو قرارداد پاکستان کا متن تحریر کرنے والا کہا جاتا تھا، اور جو بانیان پاکستان کا معتمد ترین شخص تھا اور پاکستان کے ابتدائی سات سال تک اس مملکت کا وزیر خارجہ رہا۔ جس نے قرارداد مقاصد کی منظوری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ کیا قائداعظم کی مسلم لیگ کی اس دور کی اس تاریخ کو دیکھتے ہوئے آل انڈیا مسلم لیگ کے بعد اب پاکستان کا سربراہ بھی احمدی کو بنانے کی آپ اجازت دیتے ہیں؟ یا پھر اس مبینہ تاریخی نظریہ پاکستان میں کچھ کمی بیشی کر لی جائے جو کہ ایک احمدی کو اس حساس منصب پر فائز کرتا ہے؟

صالح ترین: اس دور میں برصغیر کے مسلمانوں کے ہاں قادیانیوں کی قانونی حیثیت کا تعیین نہیں ہوا تھا۔ لہذا کوئی بھی شخص خواہ وہ قادیانی ہی کیوں نہ ہو، مسلمانوں کی اجتماعیت کا حصہ کہلاتا تھا۔

ہم: جناب جس جگہ احمدیوں کی قانونی حیثیت کا تعین ہوا ہے، اسی جگہ کے بنائے ہوئے اصولوں پر میڈیا کام کر رہا ہے۔ ورنہ بانیان پاکستان کے اصول اور تحریک پاکستان کی تاریخ، جس سے آپ نظریہ پاکستان اخذ کرنے کا حکم دے رہے ہیں، اس پر غور کریں تو وہ تو احمدیوں کو مسلم لیگ کا سربراہ بناتا ہے۔ ویسے بندے کو گمان ہوتا ہے کہ کسی کو مسلم یا غیر مسلم قرار دینا، دستور سے زیادہ فقہ کا مسئلہ ہے۔

صالح ترین: دستور پاکستان میں غیر مسلموں کی حیثیت کا تعین کر دیا گیا ہے۔

ہم: یعنی آپ کی منطق کے مطابق قادیانیوں کو سربراہ بننے کی اجازت نہ دینا تاریخ سے اخذ کردہ نظریہ پاکستان کی خلاف ورزی ہے لیکن یہ امر دستور پاکستان کے مطابق درست ہے۔ یعنی متفقہ دستور پاکستان اور مبینہ نظریہ پاکستان میں بعد المشرقین پایا جاتا ہے۔

صالح ترین: آپ کا استدلال غلط ہے۔ میں وضاحت کر چکا ہوں کہ اس دور میں قادیانیوں کی قانونی حیثیت کا تعین نہیں ہوا تھا۔

ہم: قیام پاکستان کی تاریخ کو دیکھیں تو قائد اعظم سے احمدیوں کی لیگ میں شمولیت کے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا جواب تھا کہ ہر وہ شخص جو خود کو مسلمان کہتا ہے، مسلمان ہے اور مسلم لیگ میں شامل ہو سکتا ہے۔ کیا اس اصول کو آپ کے تاریخی نظریہ پاکستان میں شامل کیا جائے؟

صالح ترین: میں عرض کر چکا ہوں کہ اس دور میں برصغیر کے مسلمانوں کے ہاں قادیانیوں کی قانونی حیثیت کا تعین نہیں ہوا تھا۔ بعد میں پارلیمان نے اس حیثیت کا تعین کر کے غلطی کو درست کر دیا۔

ہم: آپ قادیانیوں کی قانونی حیثیت کا تعین کرنے کی پارلیمان کو اجازت دیتے ہیں لیکن اسی پارلیمان کو میڈیا کو دی گئی اجازت کو نہیں مانتے۔ اس استدلال کو کیا کہا جائے جناب؟

صالح ترین: پاکستانی میڈیا کسی بھی صورت آئین و قانون کی پابندی نہیں کر رہا۔ اسے نتھ اس لئے ڈالنا ناممکن نہ بھی ہو شدید مشکل ضرور ہے کہ اس کی پشت پر یا سر پر وہی لوگ ہیں جنہوں نے قائد اعظم کو ٹھکانے لگانے، لیاقت علی خان کو اڑانے اور حسین شہید سہروردی کو پکی نیند سلانے کے بعد پاکستان پر مکمل قبضہ کر لیا تھا۔

ہم: آئین انہیں لوگوں کا بنایا ہوا ہے جن سے آپ اتنے نالاں ہیں۔ اس صورت میں تو پھر آپ صبر کریں یا پھر سعودی عرب یا داعش ہجرت کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کریں۔ ویسے کیا ہمارا میڈیا پاکستانی آئین و قانون کے تحت کام کر رہا ہے؟ اگر ہاں تو پھر اس قانونی کام پر اعتراض کیسا؟ اگر نہیں تو اس کے خلاف مقدمہ درج کروا کر اسے کٹہرے میں لے آئیں۔

صالح ترین: میڈیا کو آئین و قانون نے جو آزادی دی ہے وہ ہے اپنے اندرونی ڈھانچے کو میعاری بنانا اور اپنے ملازموں کو معیاری تنخواہیں و سہولیات دینا۔ اس سٹاف کے زریعے خبر کو عامہ الناس تک پہنچانا۔ انہیں صحت مند تفریح فراہم کرنا۔ نظریہ پاکستان اور ہماری تہذیب کے مطابق مواد نشر کرنا۔ اگر میڈیا یہ کر رہا ہے تو پھر واقعی آئین و قانون کے دائرے میں کام کر رہا ہے۔ لیکن صورت حال مکمل طور پر اس کے برعکس ہے۔

ہم: نظریہ پاکستان، صحت مند تفریح، تہذیبی روایات وغیرہ وغیرہ بھی ضیائی دور کی آئینی دفعات باسٹھ تریسٹھ کی طرح نہایت مبہم اصطلاحات ہیں۔ درہ آدم خیل میں تہذیبی روایت شٹل کاک برقع ہے۔ اور آپ کے نظریہ پاکستان کے ستر سال پرانے ماخذ کو دیکھا جائے تو محترمہ فاطمہ جناح اور رعنا لیاق علی خان دوپٹے کے بغیر نظر آتی ہیں اور ملکی و غیر ملکی سیاستدانوں کے ساتھ ڈیلنگ کر رہی ہیں۔ ان کی تصاویر دیکھیں تو آپ کی تہذیب خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس صورت میں کیا کیا جائے؟

صالح ترین: آپ نظریہ پاکستان پر تفکر کریں تو آپ کو یہ مشکل پیش نہیں آئے گی۔

ہم: یہ عاجز نظریہ پاکستان کے بارے میں شدید کنفیوز ہو چکا ہے۔ دو قومی نظریہ تو خوب دیکھا بھالا ہے لیکن نظریہ پاکستان کے بارے میں کچھ پڑھنے کو نہیں ملا ہے۔ اسے تلاش کریں تو فقط نظریہ پاکستان ٹرسٹ ہی ملتا ہے۔ کچھ بدخواہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ اصطلاح جنرل یحیی کے دور میں جنرل شیر علی خان پٹودی نے وضع کی۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ شیر علی خان پٹودی والی بات من گھڑت ہے اور یہ اصطلاح سب سے پہلے جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید احمد نے جنرل ایوب کے ابتدائی دور میں پہلی مرتبہ استعمال کی تھی۔

صالح ترین: یہ بات درست ہے کہ ہماری جماعت ہی اس نظریے کی داعی ہے۔ لیکن تم تو اس کے دشمن لگتے ہو۔

ہم: اس عاجز کو اس نظریے کی اہمیت کا پورا پورا احساس ہے۔ یہ نظریہ اتنا اہم ہے کہ اس کی خاطر 1992 میں ایک پورا “نظریہ پاکستان ٹرسٹ” بنا دیا گیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اس ٹرسٹ کی ویب سائٹ پر باقی سب کچھ تو ملتا ہے، یہ سراغ نہیں ملتا کہ نظریہ پاکستان کیا ہے۔ اس کے نام سے ایک پوری عمارت اور سڑک بھی لاہور میں موجود ہے۔ بس یہی اس کا حال ہے۔ ایک ضمنی سوال اور بھی ذہن میں آتا ہے۔ یہ نظریہ پاکستان کیا چوالیس فیصد مغربی پاکستانیوں کے لیے تھا، یا پھر 56 فیصد سابقہ مشرقی پاکستانی اور حالیہ بنگلہ دیشی بھی اس نظریے کے قائل ہیں؟

صالح ترین: بنگالی تو غدار نکلے۔ ان کو نظریہ پاکستان کیا، پاکستان سے ہی نفرت ہے۔ بھلا ان کو نظریہ پاکستان کا کیا علم ہو گا۔

ہم: لیکن بنگالی ہی تو آل انڈیا مسلم لیگ کو بنانے والے تھے۔ اور وہی تھے جنہوں نے قرارداد پاکستان پیش کی تھی۔ پھر اس نظریہ پاکستان سے وہ نفرت کیوں کرتے ہیں؟

صالح ترین: ان بنگالیوں کو بعد میں ہندو استادوں نے بہکا دیا تھا۔

ہم: بھائی صالح ترین، ہماری مدد تو کریں۔ ہم تو یہی سوچتے ہیں کہ کیا اس نظریے کو بخوبی جاننے والا کوئی شخص اس نظریے کے الفاظ کسی مستند ماخذ سے نقل کر کے لکھ سکتا ہے تاکہ قوم کی کنفیوژن اور جہالت دور ہو سکے؟ ہم واقعی پریشان ہیں کہ یہ اہم ترین نظریہ کس نے پیش کیا تھا، کب پیش کیا تھا، اس کا متن کیا تھا اور اسے کس نے نظریہ پاکستان کا نام دیا؟ کیا یہ کہیں تحریری شکل میں موجود ہے یا یہ نظریہ بس ہمارے ذہنوں میں ہی بستا ہے اور ہر شخص اس کا اپنا متن رکھتا ہے۔ اور اس متن کی بنیاد پر خود سے اختلاف رائے کرنے والے کسی بھی پاکستانی کو پاکستان کا دشمن ٹھہراتا ہے؟


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 324 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

3 thoughts on “نظریہ پاکستان کی توہین

  • 18-02-2016 at 6:11 pm
    Permalink

    آپ نے تو یہ مزاحیہ تحریر لکھی ہے اور کیا خوب لکھی ھے کچھ دن پہلے میں نے دو تین علماء کے انٹر ویو پڑھے تھے جو انہوں نے قیام پاکستان کے فوری بعد دیئے تھے ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ غیر مسلموں کو پاکستان میں کچھ زیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی ۔
    قیام پاکستان کے بعد تقسیم ہند پر بحث کرتے ہوئے کم و بیش ہزاروں کتابیں تصنیف کی گئیں لیکن 1970 سے پہلے کی کتب میں واقعی کہیں بھی نظریہ پاکستان کا زکر نہیں ملتا نہ ہی نصابی کتب میں نظریہ پاکستان بارے کوئی باب شامل ہے ۔ ویسے خاکوانی صاحب بھی اس بات کا کوئی مدلل جواب نہیں دے پائے کہ نظریہ پاکستان اصل میں ہے کیا ۔ سرسری سے گزر گئے ۔

  • 18-02-2016 at 6:57 pm
    Permalink

    خاکوانی صاحب نے یہی حکم لگایا ہے کہ تاریخ پڑھ کر خود سے نتیجہ نکال لو۔ یعنی ہر بندہ اپنا اپنا نظریہ پاکستان بنا لے۔

    لیکن زیادہ حیرت اس بات کی ہے کہ کروڑوں روپے کے نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے بھی اس کو بیان نہیں کیا ہے کہ یہ ہے کیا۔

  • 19-02-2016 at 12:22 pm
    Permalink

    بہت خوب کاکڑ صاحب

Comments are closed.