انتظار حسین کا ریڈیو پاکستان کو دیا گیا آخری انٹرویو   (آخری حصہ)


dpس۔ آپ خاکوں کی کتاب بھی مرتب کر رہے ہیں تو اس کتاب میں آپ کے عہد کی کن کن شخصیات کے خاکے ہوں گے؟

ج۔ ناصر کاظمی ہیں، مظفر عل سید ہیں، شاکر علی ہیں جو میرے زمانے کے تھے، قیوم نظر ہیں۔ جن لوگوں کو دیکھا بھالا ہے عسکری صاحب ہیں تو ایسی مختلف شخصیات ہیں لاہور کی۔ میں نے جن شخصیات کو دیکھا ان کا ذکر آئے گا، وہ زمانہ جو ہے شروع کا۔ جب کافی ہاﺅس آباد تھا تو جو نوجوان تھے جو پر تول رہے تھے آرٹ میں آنے کے لئے اور انور جلال شمزااور حنیف رامے اور اس قسم کے لوگ تو وہ تو اٹھتے بیٹھتے ہمارے درمیان میں ہی تھے اگرچہ ایک گروپ جو تھا وہ بیٹھا رہتا تھا کافی ہاﺅس میں۔ لیکن انور جلال شمزا کہ وہ شاعری بھی کر رہا ہے۔ تصویر بھی بنا رہا ہے اور جناب وہ ناول بھی لکھ رہا ہے افسانے بھی لکھ رہا ہے تو ہم کہتے تھے کہ Jack of all trades  چیز ہے لیکن وہ پھر آرٹسٹ بنا اور اس نے نام پیدا کیا۔

س۔ آپ ماشاءاللہ ادبی، ثقافتی اور صحافتی میدان میں بڑی بھر پور زندگی گزار رہے ہیں لیکن آپ کی ہم عصر شخصیات میں سے متعدد اب اس دنیا میں نہیں رہیں اہم مواقع پر کن شخصیات کی یاد بہت شدت سے آتی ہے؟

ج۔ دیکھئے ایک تو میں اپنے دوستوں کو مس کر رہا ہوں۔ سب سے پہلے ہم نے ناصر کاظمی کو کھویا۔ دیکھئے ان کے ساتھ تو میں اس شہر میں اور پاکستان میں REHABILITATEہوا۔ ورنہ مجھے لاہور میں کون جانتا تھا میں تو اجنبی تھا۔ لیکن ایک میں داد دوں گا لاہور شہر کواور جو لکھنے والے ہیں کہ میں بالکل اجنبی تھا۔ جب میں نے پہلا افسانہ حلقہ ارباب ذوق میں پڑھا تو اس وقت مختا ر صدیقی بھی یہیں تھے۔ یوسف ظفر، قیوم نظر اور مختار صدیقی اس جلسے کی صدارت کر رہے تھے اور انہوں نے اتنی میرے افسانے کی تعریف کی میں حیران رہ گیا کہ میں تو ان کی تحریریں، نظمیں پڑھا کرتا تھا۔ ایک حلقہ ارباب ذوق کا ایک انتخاب شائع ہوا کرتا تھا اور بڑا مقام تھا ان لوگوں کا۔۔۔ نئی شاعری میں۔ تو انہوں نے مجھے داد دی اور اسی کے ساتھ یہ ہوا کہ جب میں حلقے سے باہر نکل رہا تھا تو ماہرالقادری بھی کہیں اسی جلسے میں بیٹھے تھے۔ تو انہوں نے کہا کہ میاں صاحب زادے ادھر آﺅ کہا کہ تم ڈبائی کے رہنے والے تو نہیں ہو میں نے کہا ہوں تو وہاں کا ہی۔ کہا کہ میں نے تمہاری زبان سے پہچانا ہے کہ تم وہاں کے ہو کیونکہ ماہرالقادری بھی ڈبائی کے تھے تو ان سے مجھے ایسی داد ملی۔ لیکن بہر حال رفتہ رفتہ میں حلقے میں بہت بس گیا اور قیوم نظر نے، جنہوں نے بعد میں مجھے نکالا بھی کہ یہ مظفر علی سید اور ناصر کاظمی تینوں مل کر تخریبی کارروائیاں کر رہے ہیں نکالو انہیں۔ لیکن انہوں نے مجھے بہت PATRONIZE  کیا تھا اس میں کوئی شک نہیں اور اب بھی میں انہیں بڑے احترام کے ساتھ یاد کرتا ہوں۔ ادھر اے۔ حمید کو ترقی پسند تحریک نے اپنا لیا۔ اس کا نام جو بہت چلا اور وہ تو پاپولر رائٹر بن گیا تھا۔ اشفا ق احمد کو، منٹو صاحب نے سب سے پہلے دیکھا کہ تو یہ تین افسانہ نگار جو تھے فوراً تقسیم کے بعد آئے تھے مظفر علی سید وہ بھی بہت پڑھا لکھا نوجوان تھا اور اس میں بہت سے گُن تھے مجھے اب تک افسوس ہوتا ہے کیونکہ میری پہلی دوستی اسی سے ہوئی تھی لیکن وہ اس قسم کا آدمی تھا کہ پڑھتا بہت تھا اور اس نے مضمون بھی شروع میں بہت اچھے لکھے تھے۔ اب جو مجید امجد کا REVIVAL ہو رہا ہے میں نے کہا کہ یار سب سے پہلے تو مظفر علی سید نے ا س پر مضمون لکھا تھا اب تک تو ایسا مضمون لکھا ہی نہیں گیا ہے تو وہ مضمون پہلے تم پڑھو کہ کیا لکھا ہے۔ لیکن اس کا کلیکشن شائع نہیں ہوا حالانکہ” مکتبہ جدید“ اسے کہتا رہا کہ اپنے مضامین جمع کرو۔ پھر ”سنگِ میل“ والوں نے اس سے کہا۔ وہ عجیب آدمی تھا شرطیں بہت لگا دیتا تھا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ یہ پیرس نہیں ہے، لندن نہیں ہے کہ جب تم اس لیول پر بات کرتے ہو ناشر سے۔ یہ پاکستان ہے۔ لیکن اس کی اولاد نا لائق نکلی اور میں نے بار بار ان سے کہا کہ تم مجھے وہ تحریرٰیں میرے حوالے کردو۔ تو ایک تو وہ ہمارا بڑا LOSS ہے ناصر کاظمی گیا۔ اور جناب اس کے بعد شاکر علی بھی گذر گئے۔ حنیف رامے بھی چلا گیا۔ حنیف رامے سے بھی ہماری بہت اچھی دوستی تھی جب وہ وزیر اعلیٰ بن گیا تھا۔ اس وقت تو ہمارا تعلق منقطع ہو گیا۔ لیکن جب اس کا فون آیا کہ انتظار کبھی تم میرے گھر آﺅ۔ میں نے تصویریں بنائی ہیں۔ تو میں نے کہا ٹھیک ہے کہ اب یہ وہاں سے نکالا گیا ہے اور پارٹی بھی اس کی معتوب ہے اب یہ ہم سے بات کرے گا۔ تو اس کا ایسا ہی ہوتا رہا تھا جب سیاست میں چلا جاتا تھا پھر ہمارا اس کا کوئی رابطہ نہیں ہوتا تھا۔ جب وہاں بے روزگار ہوتا تھا اور تصویر بنانا شرو ع کرتا تھا تو ہمیں یاد کرتا تھا۔

س۔ کسی خاتون کا ابھی تک آپ نے ذکر نہیں کیا؟

intezarج۔ (ہنستے ہوئے) خواتین تو ہمارے ادب میں آئیں دیکھئے ایک خا تون کا میں ذکر کروں گا۔ اس نے افسانے بہت اچھے لکھے ہیں اور یہ جو تجریدی افسانہ اور علامتی افسانہ لکھا گیا ہے۔ انور سجاد وغیرہ نے لیکن اچھا افسانہ لکھا ہے خالدہ حسین نے اور جب میں” ادبِ لطیف “میں تھا تو اس کی پہلی کہانی بھی اسی نوعیت کی وہ میں نے چھاپی تھی اس سے پہلے جو اس کی ایک دو کہانیاں چھپی تھیں ”ادبِ لطیف “میں وہ اچھی تھیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ جو سارا پیریڈ ہے تو اس میں دو تین حادثے ہوئے۔ یعنی تجربہ یہ ہوا اور ایسے تجربے ہونے چاہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم نے انور سجاد کو کبھی مقا م نہیں دیا۔ وہ ہمارا دوست تھا لیکن وہ ہمارے خلاف بغاوت کر رہا تھا ہم اسے نہیں گردانتے تھے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ سب سے بہتر اظہار جو ہے علامتی اور تجریدی کا وہ وہاں ہے لکھنؤ میں، لکھنﺅ کے جو افسانہ نگارہیں نئیر مسعود کمال لکھ رہے ہیں۔

س۔ ریڈیو پاکستان سے بھی تو آ پ کی بڑی قریبی اور طویل وابستگی رہی تو اس دوران کیا کیا شاہکا ر تخلیق کئے؟

ج۔ فیچر لکھتا رہا ہوں، چندPLAY  بھی لکھے ہیں۔ ایکPlay  وہاں بہت ہٹ گیا تھا۔ وہ بڑے خوش تھے وہ افسانہ تھا انہوں نے کہا کہ ذرا اس کا  PLAY بنا دو میں نے PLAY بنا دیا، تو انہوں نے کہا کہ بھئی اس PLAYکی تو ہندوستان سے داد آئی ہے پہلے جب میں نے افسانہ پڑھا تھا تو انہوں نے کہا کہ کیا افسانہ ہے۔ یہ بندر بن گیا ہے آدمی سے اور ترقی پسندوں نے تو بہت ہی اس کی مذمت کی بلکہ نہ صرف قاسمی صاحب لکھ چکے تھے نظم کہ ”انسان عظیم ہے خدایا“ کہا کہ اس نے انسان کو بندربنا دیا۔ یہ انسانیت کی تذلیل ہے پھر کسی نے کہا کہ یہ کچھ علامتی چکر ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ پاکستانی قوم کو بندر بنا دیا ہے پھر یہ اعتراض شروع ہو گیا۔ لیکن رفتہ رفتہ انہوں نے قبول کہا اور پھر چوری کا الزام بھی لگ گیا مجھ پر کہ وہ تو ڈرامہ ہے ایک جو لکھا ہے اس کا افسانہ۔ ڈرامہ نگار جو پیرس کا تھا میں نے کہا کہ اس کا تو مجھے پتا نہیں لیکن ایک کہانی میں نے ضرور پڑھی تھی اور اس سے جو مجھے INSPIRATION ہوا ہے اس سے مجھے کوئی انکار نہیں ہے۔ کافکا کی کہانی تھی  MATAMORPHOSISاس میں کوئی شبہ نہیں ہے لیکن وہ پلے میں نے نہیں پڑھا تھا اس کے بعد میں نے پڑھا اور وہ بھی پلے اپنی جگہ پر ہے تو یہ اظہار جو ہے نا تو سمجھئے کہ کافکا سے میں نے سیکھا کچھ تھوڑا اس کے بعد تو میں نے اس کے ناول بھی پڑھے اور ایک تو واقعی اتنا INSPIRING تھا میرے لئے وہ  THE TRIAL۔

س۔ آپ ماشااللہ اتنی بھرپور زندگی گذار رہے ہیں اس کا کلیہ کیا ہے؟

ج۔ میں نے کبھی یہ محسوس نہیں کیا کہ میں کامیاب زندگی گزار رہا ہوں کیونکہ ”درِ پریشاں حالی و درماندگی“ یہی حال رہا کیونکہ ملازمت تو کبھی ہمیں ٹھکانے کی ملی نہیں اخبار نویسی ہی کرتے رہے اور ہم نے جو یہ ہی طے کیا کہ اب ہمارا یہ ہی پیشہ ہے ”یہی آخر کوٹھہرا فن ہمارا“ تو چلئے اسی کو قبول کرلیتے ہیں۔ لیکن یہ ا فسانہ جو ہے میرا اسے رفتہ رفتہ قبولیت ملتی چلی گئی اور اس پرمیں بہت مطمئن ہوں مجھے معاشرے سے یا اپنے دنیائے ادب سے کبھی کوئی شکائتیں پیدا نہیں ہوئیں۔ دیکھئے ہمارا پرانا شاعر فلک کی شکایت بھی کرتا تھا فلک کے پردے میں وہ بادشاہوں کی بھی شکایت بھی کرتا تھا تو جب مجھے اچھے دوست مل گئے اور انہوں نے کہا کہ تم نے اچھی کہانیاں لکھی ہیں تو میں سمجھتا تھا کہ یہ بہت کافی ہے لیکن رفتہ رفتہ یہ ہوا کہ جتنا بھی ٹیلنٹ تھا ہمارے پاس UNRECOGNIZED  نہیں گیا وہ۔

س۔ موسیقی کس قسم کی سنتے ہیں؟

ج۔ بھئی یہ رموز جو ہیں پکے گانے کے یہ تو ہم کیا جانیں لیکن اچھا لگتا ہے۔ ٹھمری دادرا اس قسم کے اور یہ نیم کلاسیکی موسیقی کے اوریہ پکے گانے کو تو ہم سمجھتے ہیں کہ جس طریقے سے ہمارے یہاں پاپولر ناول ہیں ایک بیسٹ سیلر ناول ہیں تو وہ تو سب لوگ پسند کر لیتے ہیں۔ لیکن جب اعلیٰ درجے کا جو فکشن ہوتا ہے اس کے قارئین تو کم ہی ہوتے ہیں تو یہ ہی ہماری موسیقی کا معاملہ بھی ہے کہ بھئی فلمی گانا تو سب کو پسند ہے ہم بھی پسند کرتے ہیں اور اچھے بھی ہوتے ہیں۔ لیکن بڑے غلام علی خان کو پسند کرتا ہو ں اور یہ جو ہمارے اساتذہ ہیں جب تک آپ رموز کو نہ جانیں موسیقی کے وہ بہت مشکل کام ہے لیکن ٹھیک ہے ادب اور احترام وہاں بھی ہے اور کبھی کبھی احساس ہوتا ہے کہ واقعی موسیقی سن رہے ہیں۔ روشن آرا بیگم بالخصوص سبحان اللہ۔

س۔ آخر میں یہ فرمائیے انتظار حسین کس میدان میں دی بیسٹ ہیں؟

ج۔ دیکھئے میرا اصلی ٹھکانہ جو ہے کھونٹا وہ تو مختصر افسانہ ہے لیکن یہ جو ناول اور مختصر کالم ہیں ALLIED FORMS ہیں یہ تو جو افسانہ لکھتا ہے وہ کسی وقت ناول بھی لکھے گا اورناول نگار افسانے بھی لکھتے چلے آ رہے ہیں وہاں بھی یہ رواج چلا آرہا ہے ایک چیخوف کی مثال ایسی ہے جس نے کبھی ناول نہیں لکھا اور مختصر افسانے کی حیثیت سے ہی اسی نے نام پیدا کیا۔ تو میں نے بھی تین چار ناول لکھے ہیں تو ایک ناول کوبہت پذیرائی مل گئی۔ اچھا اس میں پتہ نہیں ہوتا لکھنے والے کو کہ آپ کی کوئی تحریر ہے وہ زیادہ ہٹ ہو جایے گی۔ حالانکہ جو میرے دوسرے ناول ہیں وہ ” آگے سمندرہے“ اور یا ”تذکرہ ہے تو مجھے اس پر کبھی کوئی شرمندگی نہیں ہے جو ہے لیکن اب قبول کیا اچھا دیکھئے نا افسانہ تو ہو گیا اور ناول وہ بھی میں اسی ذیل میں شمار کرتا ہوں یہ تو میرا اصل میدان ہے لیکن جو نثر میں لکھ رہا ہے اس میں دوسری طرف بھی قلم چلتے ہیں۔ خاکہ لکھنے بیٹھ گئے یا یہ کہ سفر نامہ لکھنے بیٹھ گئے تو یہ اس میں ذیلی حیثیت ہیں اور جہاں تک کالم نگار کا ہے تو میرا جب کالم نگاری کا پہلا  COLLECTION آیا تھا تو میں نے اس میں واضح طور پر لکھا تھا کہ یہ میری یعنی پیشہ کی تحریریں ہیں اور جو اسے ادب سمجھ کر پڑھے گا وہ اپنے فعل کا آپ ذمہ دار ہو گا میں اسے اپنے ادبی کارنامے کے طور پر پیش نہیں کر رہا ہوں۔

(ختم شد)


Comments

FB Login Required - comments

سجاد پرویز

سجاد پرویز ریڈیو پاکستان میں نیوز ایڈیٹر ہیں۔ ان سےcajjadparvez@gmail.com پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

sajjadpervaiz has 14 posts and counting.See all posts by sajjadpervaiz

2 thoughts on “   انتظار حسین کا ریڈیو پاکستان کو دیا گیا آخری انٹرویو   (آخری حصہ)

  • 19-02-2016 at 12:26 pm
    Permalink

    Good job sir.

  • 19-03-2016 at 11:35 pm
    Permalink

    Thanks for appreciation Muhammad Tahir Younus Wain Sb

Comments are closed.