سینڈل کی ایڑھی پہ رکھا درد


 masood qamar’ہم سب ‘میں میرے لکھے گئے مضمون’ سینڈل کی ایڑھی ہی رکھی پارسائی ‘کے جواب میں محترم فرنود عالم جی نے آج ’ہم سب‘ میں ایک مضمون لکھا ہے ” سینڈل کی ایڑھی پہ رکھی فکری نارسائی “۔

فرنود عالم جی’ ہم سب‘ کے مستقل لکھنے والوں میں سے ہیں، یہ جب ’دنیا پاکستان‘ میں لکھتے تھے میں اس وقت سے ان کی لکھت پڑھ کر اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا ہوں ، اور ان کے علم سے بہت کچھ سیکھتا ہوں ان کا اندازِ تحریر بہت ہی خوبصوت ہے۔ یہ الفاظ کو لکھنا اور برتناجانتے ہیں

مجھے نہیں علم کہ فرنود عالم جی کے پاس آنکھوں پر پہنے ہوئے چشمے کے علاوہ اور بھی کوئی چشمہ ہے جس کی مددسے وہ اندازہ لگاتے ہیں کہ کون بزرگ ہے اور کون بزرگ نہیں ہے۔ اگر ان کی نظر سفید بالوں پہ ہے تو لائل پور کے جس محلے میں میرا بچپن گزرا، وہاں ایک دس سال کا لڑکا رہتا تھا جس کے سر کے سارے کے سارے بال سفید تھے مگر کوئی اسے بزرگ نہیں کہتا تھا

فرنود عالم جی نے میرے مضمون کے جواب میں لکھا ہے کہ مذہبی اور لبرل دونوں ہی انتہا پسند ی پہ کھڑے ہیں۔ ان میں فکری مفلسی اور اخلاقی بانجھ پن ہے اور یہ لوگ دلیل کو مکالمہ کی بنیاد ہی نہیں مانتے۔ اس صورت حال کو انھوں نے لاہور کے کسی پھٹیچر تھٹیر سے تشبیہ دی ہے بلکہ آگئے جا کہ تو انھوں نے مجھے کسی غیر ملکی ریستوران میں بیرا گری کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ مجھے نہیں علم کہ بیرہ گیری کرنے کا جو انھوں نے مشورہ دیا ہے وہ کسی سزا کے طور پہ دیا یا اسے میں اپنا اخلاقی بانجھ پن دور کرنے کا مشورہ جانوں۔

میں نے اپنے مضمون کی جو تمہید باندھی تھی وہ ہنسنے ہنسانے پہ ہی باندھی تھی کہ پہلے لوگ کامیڈی فلمیں دیکھ کر یا اخبارات رسالوں میں لطیفے پڑھ کر ہنستے تھے اب لوگ مفتی صاحبان کے فتوے پڑھ کر ہنستے ہیں۔ اب جس مفتی صاحب نے ٹماٹر کا مذہب کرسچن بتایا ہے یا انڈیا کے جس مفتی صاحب نے یہ فتوی دیا ہے کہ دوسرے فرقے کے مولوی سے نکاح پڑھوانے والے مرد اور عورت دونوں ہی دائرہ اسلام سے خارج ہو گئے ہیں کیا آپ سینے پہ ہاتھ رکھ کے کہہ سکتے ہیں کہ یہ فتوے پڑھ کر سقراط بھی اپنی ہنسی روک پاتا یا وہ یہ فتوے پڑھ کو اپنے شاگردوں کو لے کر کسی درخت کی چھاو¿ں میں بیٹھ کر اس پہ فلسفیانہ لیکچر دیتا۔

میں نے مضمون میں جن ہنسی نما فتاویٰ کا ذکر کیا ہے۔ وہ یہ ہیں

ٹماٹر کا کرسچن ہونا

بھوکے خاوند کا بیوی کا گوشت کھانا 

دوسرے فرقے کے مولوی سے نکاح پڑھوانے سے دائرہ اسلام سے خارج ہونا

جہادی نکاح کے لیے مسلمانوں کو اپنی بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کو شام میں مجایدین کے لیے بھیجنا

اور

مفتی نعیم صاحب کا یہ فتوی کہ اونچی ایڑھی کے سینڈل پہننے والی عورتیں دائرہ اسلام سے خارج ہیں

فرنود عالم جی نے صرف دو فتوں پہ بات کی ہے مفتی نعیم صاحب کے فتوے اور ٹماٹر کے کرسچن ہونے والے فتوے پہ یاتو باقی کے فتوﺅں کی صحت کے بارے ان کو خبر مل گئی کہ یہ فتوے صحت مند ہیں کیونکہ جہادی نکاح کے فتوے کی بازگشت تو مفتی نعیم صاحب کے ہر دل عزیز مولانا عبدالعزیر کی لال مسجد سے بھی سنائی دی گئی ہے کہ لال مسجد کی بیبیاں پاکستانی خواتین کو جہادی نکاح کے لیے شام جانے کا مشورہ دے رہی ہیں، اسی طرح انڈین مفتی کے فتوے کی تو ویڈیو بھی چل رہی ہے اور دوسرے فتوے بھی اخبارات کی زینت بنے رہے ہیں اس لیے ان کا ذکر نہیں کیا گیا۔

جس فتوے میں ٹماٹر کو کرسچن بتایا گیا تھا وہ سعودی مفتی نے نہیں، مصر کے مفتی نے دیا تھا ۔ مجھ سے غلطی سے مصر کی بجائے سعودی لکھا گیا۔ اس کی معذرت کرتا ہوں مگر یہ لطیفہ نما فتوی سوشل میڈیا کے علاوہ اخبارات میں بھی چھپ چکا ہے اور لو گوں نے اخبار کی خبر کی کاپی ہی فیس بک پہ پیسٹ کی تھی ، اس کی صحت سے تو فرنود عالم جی بھی انکار نہیں کر رہے، ذرا دیکھیں فرنود عالم جی اس بارے کیا فرماتے ہیں ،، سعودیہ کے ایک مفتی صاحب نے فتوی دیا تھا کہ ٹماٹر کرسچن ہے۔۔ سبحان اللہ اب یہ فتوی مجھ جیسے طالب علم (یہاں فرنود عالم جی بہت زیادہ ہی انکساری سے کام لے گئے ورنہ تو بڑے بڑے ا±ستادوں کے کان ان کے ہاتھ میں ہیں ) کو کہاں ملے گا مجھے کون بتائے گا کہ یہ فتوی کب اور کس مفتی نے دیا ہے …. مگر آگے چل کر لکھتے ہیں، بزرگ عالی مقام نے سعودیہ کے جس مفتی اور جس فتوی کا ذکر کیا ہے وہ میری نظر سے بھی گزرا ہے مگر اس کا عنوان ہی یہ بتانے کے لئے کافی تھا کہ مفتی اورفتوی کی قدر مستند نہیں ہے…. اب اگر مجھے اپنے سفید بالوں کا رنگ تبدیل ہو جانے کا ڈر نہ ہوتا تو اپنا سر دیوار پہ مارتا کہ جس فتوی کا مجھ سے پوچھا جا رہا ہے کہ وہ کب اور کہاں چھپا ہے۔ اب خود ہی فرمارہے ہیں کہ وہ میری نظر سے بھی گزرا ہے ان کو اعتراض ہے تو یہ کہ یہ کسی مستند مفتی کا نہیں ہے اور یہ ضعیف فتوی ہے۔ اب میں نہ تو کسی مدرسے کا فارغ التحصیل ہوں اور نہ مجھے میں لوگوں کے علم کو پرکھنے کی اتنی صلاحیت ہے جتنی فرنود عالم جی کی ہے کہ بتا سکوں کہ فلاں مفتی کو یہ اختیار ہے کہ وہ فتوی جاری کرے یا نہ کرے…. باقی جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مضمون دیکھ کر اندازہ لگا سکوں کہ یہ بے ہودہ فتوی ہے۔ ایسا فتویٰ کوئی مفتی نہیں دے سکتا مگر میںنے تو اس سے بھی بے ہودہ فتوے پڑھ رکھے ہیں اور ویڈیوز میں مفتیوں کو بہت کچھ کہتے سنا ہے تو اس مضمون کو فتوی نہ سمجھنے کی کو ئی خاص وجہ؟

اب آتے مفتی نعیم صاحب کے فتوے کی طرف جس کی وجہ سے فرنود عالم جی نے یہ مضمون لکھا اور جس سے انہیں سب سے زیادہ اذیت ہوئی کیونکہ اسی فتوے پہ فرنود عالم جی نے سب سے زیادہ بات کی ہے۔

میں اس فتوی پہ بات کرنے سے پہلے ایک بات کلیر کر دوں کہ فرنود عالم جی نے مضموں سے جس خاتون کا نام حذف کرنے کا حوالہ دیا ہے وہ مدیر نے خاتوں کے احترام میں حذف کیا تھا اس لیے نہیں کہ ان کو مفتی نعیم کے الفاظ پہ کوئی شک تھا۔

فرنود جی کہتے ہیں کہ سعودی اور مصری فتوﺅں کی تو چلو، تصدیق نہیں ہو سکتی مگر مفتی نعیم تو یہیں رہتے ہیں۔ ان سے تصدیق ہو سکتی تھی حالانکہ ان فتوﺅں میں سے اکثر بی بی سی کی اردو سروس میں شائع ہو چکے ہیں اور جو خبر بی بی سی کی اردو سروس میں شائع ہوتی ہے وہ عربی اور دوسری زبانوں میں بھی ترجمہ ہو کر بی بی سی کی دوسری سروس میں شائع ہو جاتی ہے مگر بی بی سی پہ ان میں سے کسی فتوے کی تردید نہیں آئی۔

فرنود جی پوچھتے ہیں یہ کانفرنس کب اور کہاں ہوئی اور مفتی نعیم نے یہ فتوی کب دیا کیونکہ اگر مفتی نعیم صاحب نے یہ فتوی دیا ہوتا تو میڈیا جو اسلامی نظریاتی کونسل میں ایک بٹن کے ٹوٹنے کی آواز پہ شور مچا دیتا ہے اس فتوی پہ بات کیوں نہیں کر رہا۔ اب پتہ چل رہاہے کہ غصہ میرے مضمون ہی سے نہیں شروع ہوا بلکہ اس وقت سے حضرت غصے سے بھرے پڑے ہیں جب سے لوگوں کو پتہ چلا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل میں کچھ کے بٹن ٹوٹ گئے تھے۔ چلو ٹوٹ گئے تھے تو بٹن ٹوٹنے کی تصاویری نمائش کی کیا ضرورت ہے؟

حضور میں نے جس فتوی کا ذکر کیا ہے یہ ایک عرصہ سے سوشل میڈیا پہ گھوم پھر رہا ہے۔ اگر میں نے مضمون لکھنے سے پہلے تصدیق نہیں کی تو مفتی نعیم صاحب جو دس دس پردوں میں بھی دیکھ لیتے کہ کون لڑکا کس لڑکی کو پھول دے رہا ہے ۔ گھروں کے اندر لوگ کون کون سے بے حیائی کا لباس پہنے ہوئے ہیں ، آئے دن وہ ٹاک شو میں جلوہ افروز ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا پہ ان کے اپنے بیانات بھی چھپتے ہیں کیا ان کو بھی پتہ نہیں چل سکا کہ ان کے نام سے کوئی فتوی چل رہا ہے جسے پڑھ کر فکری مفلس اور اخلاقی بانجھ پن کے شکار لوگ غلط مطلب نکال سکتے ہیں ، آئے روز ان کے تردیدی بیانات بھی سوشل میڈیا میں چھپتے رہتے ہیں، کیا وہ اپنے نام سے منسوب اس فتویٰ کی تردید نہیں کر سکتے تھے، چلیں یہ بھی مان لیتے ہیں کہ مفتی نعیم صاحب اپنے آپ کو سوشل میڈیا میں زندہ رکھنے کے لیے تردید نہیں کرتے تو حضور فرنود عالم جی آپ ہی ان کے پاس کو ئی کیمرہ لے کر چلے جاتے ان سے تردید کرواتے اور ہم فکری مفلسوں اور اخلاقی بانجھ پن کے شکار لوگوں کے منہ پہ مار کر ہمارے چہروں کو شرمندگی کے آنسوﺅں سے تر کر دیتے۔ تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے، ورنہ دنیا میں کیانہیں ہوتا….


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “سینڈل کی ایڑھی پہ رکھا درد

  • 18-02-2016 at 11:00 pm
    Permalink

    عذر گناہ بدتر از گناہ۔

  • 18-02-2016 at 11:08 pm
    Permalink

    مکرر, عذرِ گناہ بد تر از گناہ

  • 19-02-2016 at 12:04 am
    Permalink

    محترم آپ نے بنا تحقیق کے مفتی منیب کا مزاق بنایا یہ بات صحیح نہیں ہے. میں مفتی صاحب کو نہ زاتی طور پر جانتا ہوں نہ انکا حامی مگر جو غلط ہے وہ غلط ہے

  • 19-02-2016 at 10:43 pm
    Permalink

    سوشل میڈیا پر تو اینٹ اٹھائیں تو ایک سے ایک بڑھ کر جعلی فتوی نکل آتا ہے۔ جن علماء سے ان کو منسوب کیا جاتا ہے وہ وضاحت کر دیں تو اچھی بات ہے لیکن وہ اس بات کے مکلف یا ذمہ دار نہیں ہیں کہ سوشل میڈیا کو کھنگالیں اور ہر جعلی فتوی پر وضاحتی بیان جاری کریں۔ اس تصدیق کی ذمہ داری ان دانشوروں کی بنتی ہے جو ان فتووں کی بنیاد پر اپنے دلائل ترتیب دے رہے ہیں یا دل کا غبار نکال رہے ہیں۔
    ملائیت کے جن رویوں پر لبرل تنقید کرتے ہیں اب وہی رویے اس سے سخت تر کیفیت میں خود ان کی طرف سے سامنے آ رہے ہیں۔

  • 20-02-2016 at 12:51 am
    Permalink

    صہیب بھائ درست کہا

Comments are closed.