وجاہت مسعود! \’ہم سب\’ خواب دیکھتے ہیں


\"naseer وجاہت مسعود!

جب ہم خواب دیکھتے ہیں

تو ہماری نیند اغوا کر لی جاتی ہے

اور رات بھر تشدد کے بعد

اندھیرے کی بوری بند لاش

کسی قریبی \’بلیک ہول\’ میں پھینک دی جاتی ہے

اور کائنات کے بے آواز \’سوناٹے\’ میں

صبح کی طویل اور نامختتم چیخ گونجنے لگتی ہے

اور دن بھر دھوپ اور چھاؤں کی مشقت میں

ہمیں خدا کا مذہب سکھایا جاتا ہے

یہ جانتے ہوئے بھی

کہ انسان جبلی طور پر خدا کا \’ہم مذہب\’ ہے

اور ہم ایک آسمانی ٹرانس میں

نقطہ بھر زمین پر ماند و بود کے نغمے چھیڑتے ہیں

وجاہت مسعود!

جب ہم خواب دیکھتے ہیں

تو سورج کے ارد گرد دیواریں اونچی ہونے لگتی ہیں

اور یوٹیلٹی بلز ادا کرنے والوں کی قطاریں

معمول سے لمبی ہو جاتی ہیں

کچہریوں میں اسٹامپ فروشوں کے تھڑوں کے پاس

کھڑے ہونے کی جگہیں نہیں رہتیں

اورحلفیہ بیانات کی تصدیق کے لیے

خدا کے بجائے نوٹری پبلک کے گرد بھیڑ لگ جاتی ہے

اور عدالتیں تا حکم ثانی برخاست ہو جاتی ہیں

یہاں تک کہ اگلی پیشیوں کا وقت گزر جاتا ہے

وجاہت مسعود!

جب ہم خواب دیکھتے ہیں

تو ٹی وی چینلز سے

ہمارے رت جگوں کی خبریں نشر کی جاتی ہیں

اور نیندوں میں برہنہ چلنے کی فوٹیجز دکھائی جاتی ہیں

اور ہماری بے خوابیوں کے اشتہار چلائے جاتے ہیں

جنہیں لگاتار دیکھتے ہوئے

ہماری آنکھوں میں موتیے کے پھول کھل اٹھتے ہیں

اور لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں

ہمارے خراٹوں کا الاپ گونجتا

اور اندھیرے کا آرکسٹرا بجتا رہتا ہے

اور اپریشن تھیٹر میں

لیزر کی شعائیں ہماری آنکھوں کے ڈھیلوں میں چھید کرتی ہیں

اور خورد بینیں

ہمارے جسموں کے خفیہ مقامات کو دیکھ لیتی ہیں

اور دوربینیں

نادیدہ ستاروں پر ہمارا سراغ لگا لیتی ہیں

اور ہم حالتِ تنہائی میں گرفتار کر لیے جاتے ہیں

وجاہت مسعود!

جب ہم خواب دیکھتےہیں

تو سینٹ کا اجلاس وقت سے پہلے شروع ہو جاتا ہے

اور اسمبلی کی کارروائی خلافِ معمول اردو میں ہونے لگتی ہے

اور فلمی اداکارائیں فر فر انگریزی بولنے لگتی ہیں

اور سڑکوں پر لگے ناکے

استقبالی کیمپوں میں بدل جاتے ہیں

وجاہت مسعود!

جب ہم خواب دیکھتے ہیں

تو راتوں رات ٹیکسوں میں اضافہ ہو جاتا ہے

اور مارکیٹ اکانومی کے اصولوں کے عین مطابق

قیمتوں میں رعایت واپس لے لی جاتی ہے

اور چوہے مار گولیوں کی قیمت دگنی کر دی جاتی ہے

کتابوں کی دکانوں اور تھڑوں کی جگہ

پزا، برگر اور کافی شاپس کھل جاتی ہیں

انسانوں سے لبا لب

اور بے تاریخ عمارتوں سے بھرے شہروں میں

میٹرو اور رنگ برنگی سپر ٹرینیں دوڑنے لگتی ہیں

اور تھری ڈی فلموں کے لیے

مہنگے ’سنی پلیکس‘ سنیماؤں میں

عینکیں اور پاپ کارن کے پیکٹس مفت مہیا کیے جاتے ہیں

وجاہت مسعود!

جب ہم خواب دیکھتے ہیں

تو ہر طرف موت کی باتیں ہونے لگتی ہیں

اور قبروں کی نیلامی شروع ہو جاتی ہے

اور مُردوں کی چہل قدمی کے لیے پارک

اور ڈھانچوں کے دائمی آرام کے لیے

میوزیم تعمیر ہونے لگتے ہیں

روحیں دور دراز کے علاقوں میں ٹراسفر کر دی جاتی ہیں

اور گورکنوں کو او ایس ڈی بنا دیا جاتا ہے

اور حفظِ ماتقدم کے طور پر

جنت کا کچھ حصہ وی وی آئی پی علاقوں میں منتقل کر لیا جاتا ہے

تا کہ باقی ملک کو باآسانی جہنم کا نمونہ بنایا جا سکے!!


Comments

FB Login Required - comments

14 thoughts on “وجاہت مسعود! \’ہم سب\’ خواب دیکھتے ہیں

  • 19-02-2016 at 12:07 am
    Permalink

    Wah wah aala sir bahut aala

  • 19-02-2016 at 12:17 am
    Permalink

    شکریہ وقار صاحب

  • 19-02-2016 at 12:21 am
    Permalink

    زبردست نصیر احمد ناصر صاحب! زندہ باشید!

    • 19-02-2016 at 12:31 am
      Permalink

      بہت شکریہ مجاہد مرزا صاحب

  • 19-02-2016 at 12:44 am
    Permalink

    Very nice.
    Sir Naseer Ahmed Nasir.
    Different tekhleeqi andaz.
    Hmari neend ko ighwa kr lia jata hae….or suhanay khewabon ke bjaey iziet nak menazir daekhnay ko miltay haen.insani almion ka kmal e meharet say aehata kia gaya hae……

    • 19-02-2016 at 3:10 pm
      Permalink

      Shukria Ismat Bano sahiba

  • 19-02-2016 at 6:04 am
    Permalink

    نصیر احمد ناصر صاحب!!
    ” جب ہم خواب دیکھتے ہیں ”
    واہ! کمال شُد ـ
    مگر
    کیوں ہم خواب دیکھتے ہیں

    • 19-02-2016 at 9:08 am
      Permalink

      شکریہ ظہور ندیم صاحب۔ اگر ہم خواب نہ دیکھیں تو زندہ کیسے رہیں، حقیقتوں کا ادراک کیسے کریں۔ 🙂

  • 19-02-2016 at 12:36 pm
    Permalink

    Wah!

    • 19-02-2016 at 12:49 pm
      Permalink

      Shukria Muhammad Tahir Younas Wain sahib

  • 20-02-2016 at 8:12 pm
    Permalink

    اور لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں
    ہمارے خراٹوں کا الاپ گونجتا
    اور اندھیرے کا آرکسٹرا بجتا رہتا ہے
    اور اپریشن تھیٹر میں
    لیزر کی شعائیں ہماری آنکھوں کے ڈھیلوں میں چھید کرتی ہیں
    واہ واہ سر۔ کیا کہنے۔

    • 20-02-2016 at 10:01 pm
      Permalink

      بہت شکریہ عاصم بخشی صاحب

  • 21-02-2016 at 10:12 pm
    Permalink

    ایسا لگتا ہے وجاہت مسعود صاحب اور آپ کا درد ایک ہے ۔ یعنی ہم غم ہو گئے ہیں ۔ ویسے ’’ہم سب ’’ کا غم بھی یہی ہے ۔

  • 21-02-2016 at 11:22 pm
    Permalink

    درست کہا آپ نے قرۃالعین! کیونکہ ہم سب کے خواب ایک ہی جیسے ہیں۔ توجہ کا شکریہ۔

Comments are closed.