کرپشن: سنتا جا شرماتا جا…


salim javedچھوٹا منہ بڑی بات سہی، مگر یہ عاجز پاکستان کے اصل پالیسی سازوں سے عرض گذار ہے کہ اگر آپ اس ملک کی ترقی چاہتے ہیں توفی الحال احتساب کا معاملہ بند کر دیجئے۔

سب جانتے ہیں کہ اس ملک کے اصل پالیسی ساز، زرداری یا نواز شریف جیسے لوگ نہیں۔ جو شخص خود وزیراعظم ہوتے ہوئےبھی یہ پوچھنے کی جرائیت نہیں کر پاتا کہ اسے ہتھکڑی پہنا پر جہاز کی سیٹ سے کیوںکر باندھا گیا تھا؟ یا وہ جو صدر پاکستان ہوتے ہوئے بھی اپنی بیوی کے قتل کی تفتیش کے لئے سکاٹ لینڈ یارڈ کو بلانے کا مجاز نہیں ٹھہرا تھا۔ ان لوگوں کو کون پالیسی ساز مانتا ہے بھائی۔

اصل پالیسی ساز تو وہ ایمپائر ہے جس کی انگلی کے آسرے پر، “ایاک نعبد وایاک نستعین” فیم لیڈر نے ایڈونچر کیا تھا۔

جناب عالی، ہمیں احتساب کے ناٹک سے خوف آتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔

پہلی وجہ تو یہ کہ قوم کو احتساب کرنے والوں کی نیت پر اعتبار نہیں۔ عوامی سرگوشیوں پہ جائیں تو جس ادارے کوپوری دنیا میں بالادست طبقات (یعنی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں) کا آخری محافظ گردانا جاتا ہے ، اسے ہمارے عوام، ان مذکورہ طبقات کا بھی مائی باپ سمجھتے ہیں۔

اور یہ صورت حال میڈیا پر بے اعتباری سے پیدا ہوئی۔ عوام سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں بے لاگ احتساب کے” درد زہ” میں مبتلا میڈیا کو، صرف سیاست دانوں کے منہ پہ کالک ملنے کے لئے “بار آور” کیا گیا ہے۔

آپ اسلحہ سکینڈل کو ہی لے لیں۔ بحریہ کے ایک ایڈمرل نے آبدوزوں کی خریداری میں تن تنہا 12 ارب کی کرپشن کی ہے مگرہمارا میڈیا، اے این پی کی پولیس اسلحہ میں ایک ارب کرپشن کا ماتم جاری رکھے گا۔ اسی طرح، کچھ پراسرار قوتوں کے بھونپو، اس بات پر پیلپز پارٹی کا بینڈ بجاتے رہیں گے کہ انہوں نے 8 ہزار خاندانوں کو بلاوجہ پی آئی اے میں روزگار دے کر، قومی خزانے کو 5 سال میں 15 ارب روپے کا ٹیکہ لگا دیا۔ البتہ، نسیان کی وجہ سے ان تین جرنیلوں کا نام نہیں لیں گے جنہوں نے ریلوے سکینڈل میں 15 ارب ڈکار لئے تھے۔

دیکھئے، اگر کوئی احتساب کرنے میں مخلص ہو تو اس کے لئے شرلاک ہومز درکار نہیں۔ احقر ایک بہت آسان سا ٹسٹ پیش کرتا ہے کہ ذرا عوام کو گذشتہ 30 سال کے دورانیے میں، درج ذیل تین فہرستیں پیش کرکے دکھائیں۔ ان فہرستوں کے لئے صرف ائیر پورٹ اور سی ڈی اے سے رابطہ کرنا ہوگا۔

ایک فہرست ان لوگوں کی جن کی اسلام آباد میں دوکنال کی کوٹھی ہے یا وہ اس میں 30 سال سے قیام پذیر ہیں (کیونکہ کاغذی مالک ان کا خاندانی نوکر بھی ہوسکتا ہے)۔ دوسری فہرست ان کی، جن کے بچے اس عرصہ میں بیرون ملک کی پرائیوٹ یونیورسٹیوں سے پروفیشنل ڈگریاں لے کر آئے ہیں۔ تیسری فہرست ان لوگوں کی جو اس دوران کم ازکم 5 بار، فیملی کے ساتھ یورپی ممالک گئے ہیں۔ چاہے سیر کے لئے ہوں یا علاج کے نام پر یا سیمینار وغیرہ کے نام پر۔

آپ کو حیرت ہوگی کہ اس فہرست میں پٹواری، تھانیدار اور کسٹم کلرک قبیل کے لوگ تو ہوں گے مگر سیاست دان آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہوں گے ۔ مانا کہ اس پارلیمنٹ میں بھی چور بیٹھے ہیں مگر ان سے بڑے چور باہر، آزاد پھر رہے ہیں۔

قوم کی پہلی نصف زندگی، نظام مصطفی کے سراب میں راندہ ہوئی، اور دوسری نصف، احتساب کی سرخ بتی کے تعاقب میں خوار ہو رہی ہے۔

اب تو یہ یوں لگتا ہے کہ وقتاً فوقتاً کھیلا جانے والا احتساب کا ڈرامہ، صرف بڑے مگرمچھوں کو قانونی اور باعزت رہائی دلانے کے لئے کھیلا جاتا ہے۔ اپنےایڈمرل منصور الحق کی مثال ہی لے لیں۔ موصوف نے نیوی کے پورے عملے کی تین برس کی تنخواہ کے برابر غبن کیا مگر اس سے صرف 6 کروڑروپے لے کر، ہر جرم سے بری کردیا گیا ۔ ستم یہ ہے کہ اس ناٹک کے دوران، ملزم کے پیچھے امریکہ جانے والی ٹیم کے گلچھروں اور وکیلوں کی فیس کی مد میں، عوام کے ٹیکسوں سے مزید 6 کروڑ خرچ ہو چکے ہوں گے۔ عوام کوتو آم بھی چوسنے کو نہ ملا۔

دوسری وجہ ، جس کی بنا پر میں احتساب کے بھاری پتھر کو اٹھانے سے منع کرتا ہوں یہ ہے کہ حال کی گھڑی میں یہ ناممکن سا عمل لگتا ہے۔ بے لاگ احتساب کی راہ میں حائیل، چھ مشکلات، بطور نمونہ عرض کردیتا ہوں۔

پہلی مشکل یہ کہ اگر بے لاگ احتساب شروع کریں تو پہلے کس طبقے سے شروع کریں؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ بالادست طبقات، ایک دوسرے کی جانبداری سے خوفزدہ ہیں اور ہر طبقہ چاہتا ہے کہ پہلے دوسرے طبقے کا احتساب شروع ہو۔ مثلاً سول بیوروکریٹ کا شکوہ کہ آرمی والے کونسا دودھ کے دھلے ہیں؟ ان سے ابتدا کیوں نہیں کرتے۔ جاگیردار، کہتے ہیں صنعت کاروں سے شروع کرو۔ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ بیک وقت، ساری قوم کا احتساب ممکن نہیں۔

دوسری مشکل یہ کہ مالی کرپشن کا وہ پودا، جس کا بیج حضرت ضیاالحق کے دور سے، مفت کے امریکی ڈالروں کی برکت سے کاشت ہوا تھا، اب ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ ایسے ایسے جج، جرنیل اور بیوروکریٹ بھی کسی نہ کسی طور مالی کرپشن میں ملوث رہے ہیں جن کی سوسائیٹی کے لئے دوسری پروفیشنل خدمات بھی بہرحال ایک قابل احترام حقیقت ہے۔ اب ایسوں کو ننگا کرنے سے، سوسائیٹی میں ایک انتشار پیدا ہوگا۔ ڈاکٹر عبد القدیر کی مثال ہی لے لیں۔

تیسری مشکل یہ کہ اگر کسی ایک ادارے کا بھی احتساب کیا جائے تو چھوٹے کرپٹ کو پہلے پکڑیں یا بڑے کو؟ دونوں صورتوں میں انتشارہے۔ مثلاً چمن بارڈر سے ایک کرنل، گاڑی سمگل کروا کر سوات پہنچاتا ہے۔ اگراس کو پہلے پکڑیں تو یہ واویلا کرے گا کہ میں نے تو صرف گاڑی اسمگل کی ہے جبکہ جرنیل نے نیٹو کا پورا کنٹینر کھا لیا۔ اگر جرنیل کو پکڑیں تو عام آرمی میں اپنے سینئیز کے خلاف نفرت اور حقارت کے جذبات بھڑک سکتے ہیں جو ادارے کی مکمل تباہی کا سامان ہو سکتا ہے۔

چوتھی مشکل یہ کہ احتساب کی کہانی زرداری یا نواز شریف پہ نہیں رکے گی بلکہ پچھلی نسل تک جائے گی۔ پھر پرانی کتھا کھولی توشاید نتیجہ من پسند نہ نکلے۔ اس لئے کہ ان دو بدنام لیڈروں کے والدین، جاگیردار یا صنعت کار تھے مگراپنے اسد عمر، جہانگیر ترین ، عمران خان وغیرہ کے والدین تو سرکاری ملازمین تھے۔ چند برسوں میں چاند کو چھوتا لائیف سٹائیل، کس برتے پہ نصیب ہوگیا۔ اس کا جواب زرادری اور نواز شریف کے لئے اتنا مشکل نہیں ہوگا مگر۔ خیر۔

پانچویں مشکل یہ ہے کہ کسی بھی ادارے میں کرپشن کرنے والوں کی ایک پوری ٹیم ہوتی ہے، اگر آپ شفافیت سے کھرا ناپتے چلے جائیں گے تو ہر ادارے میں کم وبیش 50 فیصد ملازمین، چھوٹی بڑی کرپشن میں ملوث نکلیں اوراتنی بڑی تعداد میں ملازمین کو گھر بٹھانے سے پوری ملکی مشینری کا ایک دم بھٹہ بیٹھ جائے گا۔

چھٹی وجہ یہ کہ جن لوگوں نے کبھی بڑی کرپشن کی تھی تو اب اس سرمائے کے تین حصے ہوچکے ہیں۔ ایک حصہ تو عیاشی پہ اڑایا جا چکا ہے کہ مال حرام، جیسے آتا ہے ویسے ہی جاتا ہے۔ اب یہ تو برآمد ہونے سے رہا۔ مال حرام کا دوسرا حصہ، شاید کاروبار وغیرہ میں لگایا گیا ہو (جس میں ناتجربہ کاری اور لاپرواہی کی بنا پر اکثر نقصان ہی اٹھایا جاتا ہے) بہرطور، کاروبار میں کی گئی سرمایہ کاری، کسی طور سوسائیٹی کے افراد میں واپس تقسیم ہوگئی– سجھ لیں بہتر ہوگیا۔ مگراب یہ واپس لینا چاہیں تو بھی اس کا کوئی امکان نہیں۔ کرپشن کا تیسرا حصہ، جائیداد اور بنک بیلنس کی صورت محفوظ ہوتا ہے جسے آپ احتساب کے نام پر ضبط کر سکتے ہیں مگربھائی، اب یہی مجرم کی بقا کا کل سامان ہوتا ہے۔ آپ اگرآپ یہ واپس ضبط کرنا چاہتے ہیں تو وہ آدمی یہ ساری دولت، وکیلوں کی فیس میں لگا دے گا مگر آپ کو نہیں دے گا۔ جبکہ اس کے مقابل حکومت کو بھی اتنا ہی خرچہ وکیلوں پہ کرنا پڑے گا جو کہ عوام کی جیب سے نکلے گا۔ زیادہ سے زیادہ، آپ اس کو جیل میں ڈال سکتے ہیں، مگر لوٹے گئے سرمایہ کا 10 فیصد بھی واپس نہیں آئے گا۔

یہ اور اس کے علاوہ کئیی مزید عملی وجوہات ہیں تو احتساب کو گورکھ دھندہ بنا دیں گی۔

لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ “ایک زرداری، سب پہ بھاری” نے، اب آپ کو حقیقی احتساب کے قابل چھوڑا ہی نہیں۔ شنید یہ ہے کہ ہمارے “اصلی خیر خواہ”، ملک کے اندر زرداری کے خلاف ثبوت اکٹھے کرتے رہےاورادھر” سندھی مانڑو”، ایسی فائیلیں ساتھ لے گیا جن کی بنا پر عالمی عدالت میں مقدمہ چل سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب ڈاکٹر عاصم کیس، ” ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے” والا قصہ بن چکا ہے۔

حضور والا، کرپشن اور اس کے احتساب کے ضمن میں ایک مشکل یہ بھی ہے کہ آپ کے بقراطوں کے ہاں الفاظ و معانی کے پہناوے ہی نہیں، چہرے بھی بدل جایا کرتے ہیں۔ اس لئے قوم ابھی تک ابہام کا شکار ہے کہ کرپشن ہوتی کیا چیز ہے؟

یادش بخیر! جس دور میں ہم انجنئیرنگ یونیورسٹی پشاور میں داخل ہوئے تو اس زمانے میں، پاکستان میں نہ تو پرائیوٹ پروفیشنل یونیورسٹیاٰں ہوتی تھیں اور نہ ہی سیلف فنانس سکیم کے تحت داخلے ہوتے تھے۔ ( قبائلی کوٹہ البتہ ہوا کرتا تھا)۔

ہمارا ایک دوست چند نمبروں کی کمی سے، داخلہ سے رہ گیا تھا چنانچہ اگلے سال، 50 ہزار روپے کی رشوت دے کر، گھر بیٹھے ریاضی کا پرچہ حل کیا اور داخلہ لے لیا۔ دوست اسے کرپٹ ایڈمشن کہتے تھے۔ دو سال بعد، یونیورسٹی نے سیلف فنانس کی سیٹوں کا بھی کوٹہ متعارف کرا دیا۔ یعنی جس کے نمبر میرٹ سے کم ہوں ، وہ دو لاکھ روپے دے کر، سیٹ حاصل کرسکتا ہے۔

ہمارا دوست کہتا تھا کہ اگر میں نے پیسے لگا ئے تو یہ کرپشن تھی، اور یونیورسٹی پیسے لے کر داخلہ دے تو جائز ہوگیا؟

 یہی حال، نیب کی پلی بارگین کا ہے۔ پہلے کسی نے حکومتی اہلکار کو رشوت یا کمیشن کھلا کر مال بنایا۔ پھر پلی بارگین کر کے، (گویا کچھ مزید کمیشن یا رشوت دے کر) اسے حلال کرلیا۔

کرپشن کیا ہے؟ ایک لفظ ہی تو ہے اور آپ کی” حجازی لغت” کے قربان، الفاظ تو آپ کے گھر کی کنیزیں ہیں۔ ہم کوتاہ فہم توگذشتہ 60 سال میں اتنا ہی سمجھ پائے کہ ہمارے اعمال نامے کی ہر تیرگی، آپ کی زلف میں پہنچ کر، حسن بن جایا کرتی ہے۔

طوالت کی بنا پر اشارہ کافی ہے۔ مختصر عرض کرتا ہوں کہ حضور، بس احتساب کو رہنے ہی دیجئے ۔ راستہ چلتے، ایکسیڈنٹ ہوجائے یا ڈاکو پڑ جائیں اور آپ اسی جگہ بیٹھ کر سیاپا کرتے رہیں تو پھر پہنچ چکے منزل کو۔ چوہدری صاحب کا مشہور مقولہ سامنے رکھئے کہ جو ہوچکا، اس پہ مٹی پاؤ۔

مکہ فتح ہوچکا۔ صحابہ جو گھر چھوڑ کر جا چکے تھے ان کو واگزار کرانا ان کا حق تھا۔ مگر سرکار دوعالم نے فرمایا کہ پچھلی باتیں سب بھول جاؤ اوراب آگے بڑھو۔ ایسے ہی قومیں اٹھا کرتی ہیں جیسے جاپان اٹھا ہے جبکہ بنگلہ دیش ابھی تک پھانسیوں پہ ہی اٹکا ہواہے۔

میری تجویز یہ ہے کہ اب ملک میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے، آیندہ کرپشن کی روک تھام کا بندوبست کیا جائے۔ خدا نے چاہا تو جلد ہی قوم کا نقصان بھی پورا ہوجائے گا۔

جناب والا! اس درماندہ قوم کے حق میں اگر کوئی خیر خواہی کی رمق آپ کے دل میں باقی ہے توفی الحال، کرپشن کے سدباب کا نظام بنایے۔

مجھ ناقص العقل سے قطع نظر، ایک سے بڑھ کر ایک دانشور ہیرا قوم میں موجود ہے جو آپ کو کرپشن کے سد باب کے باب میں فکری توشہ فراہم کرسکتا ہے، لیکن سو باتوں کی ایک بات کہ یہی پارلیمنٹ ہی کرپشن کا راستہ روک سکتی ہے۔

جی ہاں ، یہی کرپٹ ، نااہل اور دھاندھلی زدہ پارلیمنٹ ، آپ کے ملک کو ترقی کی راہ پہ گامزن کرسکتی ہے اگر آپ تین کام کرلیں۔

پہلا کام تو یہ کیجئے کہ آئین میں جن اداروں کو جو اختیارات دئے گئے، ان کی بلا تعصب پشت پناہی کیجئے تاکہ کوئی مافیا ان کو دھرنے جلسے کے زور پر، اورکوئی حکومت ان کو نوکر شاہی کی مکاری سے بےبس نہ کرسکے۔

دوسرے یہ کہ اپنی ایجنسیوں کو ان کے اپنے کام پہ لگائیے تا کہ جب اخبار میں یہ خبر لگے کہ ماڈل آیان علی ، منی لانڈرنگ کا 86 واں دورہ کر رہی تھی توعوام یہ نہ پوچھیں کہ اس کے پچھلے 85 دورے، ہماری 26 ایجنسیوں سے کیوں اوجھل رہے؟۔

تیسرا کام یہ کیجئے کہ اس لنگڑی لولی جمہوریت کو چلنے دیجئے۔ آپ نے اس پارلیمنٹ کے حواس معطل کر رکھے ہیں۔ احتساب کے نام پہ بلیک میلنگ کی فائیلیں اور اس پہ مستزاد، کٹھ پتلی میڈیا کو ان کے سر پہ سوار کر رکھا ہے۔ آپ ذرا ان کو دم لینے دیجئے۔ عارضی طور ہی سہی، ان کے پرانے کھاتے کسی طور بند کیجئے۔

آپ اداروں کو حقیقی آزادی دیں۔ آپ دیکھیں گے کہ آپ کے کہے بنا، میڈیا اور عوام یکجا ہوجائیں گے اور یہی پارلیمنٹ ، ہر قسم کی فلاحی قانون سازی پہ مجبور ہوجائے گی۔

آپ ذرا جمہوریت کو موقع تو دیجئے حضور! شاید کہ وقت کے ساتھ ساتھ، پرانا مال بھی برآمد ہوجائے ۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “کرپشن: سنتا جا شرماتا جا…

  • 19-02-2016 at 11:48 am
    Permalink

    A bitter truth

Comments are closed.