خدا کی قسم ! میں مولوی نہیں …


\"haseebخودی اور خود بینی \” autoscopy \” کے درمیان کے باریک سی لکیر ہے جو شعور ذات اور حصار ذات کے درمیان تفریق کرتی ہے کبھی نجانے کس کیفیت میں کہا تھا

میں خود سے دور نکلنے کے فن سے واقف ہوں

میں اپنے آپ میں رہتا ہوں ضم نہیں ہوتا

خیام قادری مرحوم کہا کرتے تھے

صوفی ہیں اور عشق ہے آل سعود سے

حضرت نکل گئے ہیں حدود و قیود سے

سو زندگی میں کبھی حدود و قیود کی پابندی نہ کی یا یوں کہیے پابندی ہو نہ سکی

نسبی تعلق بنی اسرائیل کی بچھڑی ہوئی بھیڑوں سے ہے اجداد نے ہندوستان کی ریاست محمد آباد ٹونک کو اپنی آماجگاہ بنایا کہ جو تیر کابل سے نکلا تھا ہندوستان کی قلب میں پیوست ہوا ……

اختر شیرانی ، مشتاق احمد یوسفی ، عیش ٹونکی اور مفتی ولی حسن خان ٹونکی جیسی علمی و ادبی شخصیات کی ریاست سے تعلق قابل فخر تو ضرور ہے لیکن اگر خود کو دیکھوں تو شرمساری بھی ہوتی ہے کہ میں کہاں کھڑا ہوں ……….

اپنے بارے میں بات کرنا انتہائی آسان بھی ہے اور انتہائی مشکل بھی

لیکن بات یہ بھی ہے کہ آخر اپنے بارے میں بات کی ہی کیوں جاوے ..؟!

گو کہ تعارف وہ کھڑکی ہے کہ جو بیرونی دنیا کو آپ کے اندر جھانکنے کا موقع فراہم کرتی ہے لیکن اندر کا منظر وہی دکھائی دیتا ہے کہ جو آپ انھیں دکھلانا چاہیں ہاں جب تعارف پہچان میں بدل جاوے تو حقیقت سامنے آتی ہے ……

طالب علم ہوں اور طالب علموں کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہوں گو کچھ لوگوں کو یہ مغالطہ ضرور ہے کہ \” ٹیچر \” ہوں لیکن حقیقت میں پھٹیچر ہوں لکھنے کا شوق رکھتا ہوں اس لیے لکھتا ہوں اور اس بات کا طالب نہیں کہ میرے لکھے ہوے کو پڑھا بھی جاوے ہاں اگر کوئی پڑھ لے تو بالکل برا نہیں مانتا ……

لنگڑی لولی شاعری بھی کر لیتا ہوں وہ بھی استاد محترم اعجاز رحمانی صاحب کا ہی اعجاز ہے

محترم دوست حسن علی امام صاحب فرماتے ہیں

مولانا عموما ًگفتگو کم کرتے ہیں زیادہ تر بحث ہی کرتے ہیں اور یہ مباحثے اس وقت زور پکڑ جاتے ہیں جب مخالفین کو یہ احساس ہو جائے کہ وہ غلطی پر ہیں – مولانا تقریبا چالیس ہزار کتابیں پڑھ چکے ہیں \”

مولانا غصہ بہت کم کرتے ہیں غصے کی جگہ بھی وہ بحث ہی کر لیتے ہیں –

اب اس مولانا کے الزام سے کون جان چھڑا ئے اور کیسے چھڑا ئے

ہم دینی وضع قطع کے لوگوں کا المیہ یہ ہے گناہ کی تہمت بھی ہم پر ہوتی ہے اور نیکی کی امید بھی ہم سے اب لاکھ  یقین دلائیں اجی ہم مولوی نہیں ہیں بھلا کوئی مانے ہے …..

اچانک جب بحث کے دوران نازک صورت حال آجاتی ہے اور گفتگو کا رخ تلخی کی جانب بڑھنے کا احتمال ہوتا ہے تو مجھے اندازہ ہو جاتا ہے ……

یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہمارے محترم صحافی دوست سہیل جمالی بھائی طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوۓ ہمیں حسیب میاں سے \” مولانا \” کر دیتے ہیں اور یقین جانئے ان کے اس \” مولانا \” میں بڑی کاٹ ہوتی ہے اس کی چبھن اندر تک محسوس ہوتی ہے ……

اور پھر ہمارے شیخ الفدوی کا تنبیہی لہجہ

اچھا تو آپ بھی مولانا ہیں ہم تو پہلے ہی آپ کی علمیت کے قائل تھے

مجھے شرم سے پانی پانی کر دینے کیلئے کافی ہوتا ہے

اگر \” مولانا \” ایک گالی ہے تو بسر و چشم قبول ہے

لیکن اگر یہ ایک عالی رتبہ ہے اور بےشک ہے تو میں اس کے قابل نہیں …….

کبھی کبھی میں سوچ کر دیر تک ہنستا ہوں عجیب مخمصہ ہے

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

نہ ادھر کے رہے   نہ ادھر کے رہے

نہیں جناب میں مولانا نہیں مجھ سے تو چند سلیس عربی جملے بھی نہ جوڑے جاویں

شیخ الجوجل کی مدد سے ٹوٹی پھوٹی عربی سمجھتا ہوں

کیا ہوا جو جامعہ کراچی میں رسرچ اسکالر ہوں ابھی ڈاکٹریٹ کی تہمت تو نہیں لگی

اور کیا ہوا جو او لیول کے برگر بچوں کو پڑھاتا ہوں

\” قال الله اور قال الرسول \” کا بلند مرتبہ تو میری پہنچ سے کافی دور ہے

جب میرے ادبی دوست مجھے مولانا سمجھ کر اپنی توپوں کا رخ میری جانب کرتے ہیں تو سوچتا ہوں

ارے میرے یارو … ! میں شاعر بھی تو ہوں گو غیر معروف ہی سہی

کالم نگار بھی تو ہوں گو فیس بکی ہی سہی

اور فسانے چند بھی لکھ چھوڑے ہیں

گو کوئی پڑھتا نہیں

نہیں نہیں میں مولانا نہیں

ہاں میری داڑھی ہے تو یہ تو سنت رسول علیہ سلام کی علامت ہے

میرے سر پر ٹوپی بھی ہے مگر صرف رواجی ہے

میرا یہ ملبوس بظاہر مجھے متقی دکھاتا ہے مگر دھوکے میں مت آجانا

رند ہوں رند

مگر کیا کروں جب کوئی دینی طبقے پر پھبتیاں کسے تو برداشت نہیں ہوتا نجانے کون سی قوت قلم اٹھانے

اور قلم سے سروں کو توڑنے پر مجبور کرتی ہے ….

مگر ڈرتا ہوں کہیں کوئی یہ نہ کہ دے

ارے او ظالم تو کون سا عالم ہے جو اپنی علمیت جھاڑتا ہے گستاخ ……..

پھر میرے ادبی دوست مجھے کانٹوں میں گھسیٹتے ہیں

جمالی بھائی کی طنزیہ مسکراہٹ اور جگر کو چیرتی آواز \” مولانا  \”

اور شیخ الفدوی کا استفسار  \” اچھا آپ بھی مولوی ہیں ………. ؟؟؟

خدا کی قسم میں \” مولانا \” نہیں ہوں .

حسیب احمد حسیب


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

7 thoughts on “خدا کی قسم ! میں مولوی نہیں …

  • 19-02-2016 at 8:20 am
    Permalink

    حسیب میاں،
    گر مولوی کہے سے برا مانتے ہیں آپ
    میری طرف تو دیکھئے، میں مولوی سہی

    آپ کا تعارف حاصل کر کے خوشی ہوئی. صرف ایک بات کی تصحیح ضروری سمجھی. اس خادم کا تعلق بھی اسی نسل سے ہے جس پر بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تہمت چسپاں ہے. یقین رکھیے کہ یہ بے پر کی ہے اور ایک مرد مجہول نعمت اللہ ہروی کی تراشی ہوئی ہے. اسے مغل (در حقیقت تیموری) دربار میں کسی نے افغان قوم کے بے نام نسل ہونے کا طعنہ دیا تو اس نے راتوں رات یہ کہانی گڑھی اور ایک افسانوی کردار قیس عبدالرشید کو بھی تخلیق کر کے اسے افغانوں کا جد امجد قرار دے دیا. اس نام نہاد جد امجد کی قبر آج کے ضلع شیرانی میں “کیسہ” نام کے پہاڑ کی چوٹی پر بتائی جاتی ہے. اس خادم نے اس کی زیارت کر رکھی ہے. وہ قبر جس کی بھی ہے، شرقا غربا، آریائی قبروں کی سمت میں ہے. اگر آپ کو اس موضوع سے دل چسپی ہے تو سعد اللہ جان برق کی کتاب “پشتون نسلیات..” اور راج موہن گاندھی کی باچا خان کی سوانح کا دیباچہ مفید ثابت ہوگا. اس بنی اسرائیل مفروضے کو اہل علم مدت ہوئی مسترد کر چکے ہیں. ہاں، احمدی حضرات اس کی صحت پر شد و مد سے اصرار کرتے ہیں اور اسے اپنے بانی سلسلہ کی ثقاہت کے لئے ایک بالواسطہ دلیل کے طور پر اختیار کرتے ہیں.

    اعجاز رحمانی صاحب.. کیا نام یاد دلا دیا. ان کا ترنم یہ مطلع پڑھتے ہوۓ، آج بھی ذہن میں گونج رہا ہے:

    لاکھ زباں پر نام نبی ہے، ناو مگر طوفان میں ہے
    سوچ رہا ہوں، اپنے یقینا، کوئی کمی ایمان میں ہے

  • 19-02-2016 at 9:19 am
    Permalink

    “اور کیا ہوا جو او لیول کے برگر بچوں کو پڑھاتا ہوں”

    یہ جملہ ہی کہے دیتا ہے کہ آپ مولوی ہی ہیں حسیب بھائی. کہاں وہ نابکار بچے جو گمراہ والدین کی اولاد ہیں کہ خیراتی مدرسے کی بجائے مہنگے سکول میں پڑھتے ہیں اور بن کباب کی بجائے برگر کھاتے ہیں، کہاں نیک لوگ. غالباً ان برگروں کا جرم یہی ہے کہ ان کے والدین نے ہاتھ پاؤں مار کر اتنے رزق کا بندوبست کر لیا کہ بچوں کو ان اداروں میں معیاری تعلیم دلوا سکیں جہاں یونیورسٹی کے ریسرچ سکالر پڑھاتے ہیں، بجائے گلی محلے میں واقع ایک خیراتی مدرسے میں پڑھانے کے جہاں ایک دیہاتی مدرس انہیں زیور تعلیم سے آراستہ کرتا ہے. اور اپنے کچے پکے خیالات کو اسلام کی تعلیمات بتا کر پڑھاتا ہے.

    بخدا آپ مولوی ہی ہیں.

  • 19-02-2016 at 12:14 pm
    Permalink

    یقین رکھیے کہ یہ بے پر کی ہے اور ایک مرد مجہول نعمت اللہ ہروی کی تراشی ہوئی ہے. اسے مغل (در حقیقت تیموری) دربار میں کسی نے افغان قوم کے بے نام نسل ہونے کا طعنہ دیا تو اس نے راتوں رات یہ کہانی گڑھی اور (یقین رکھیے کہ یہ بے پر کی ہے اور ایک مرد مجہول نعمت اللہ ہروی کی تراشی ہوئی ہے. اسے مغل (در حقیقت تیموری) دربار میں کسی نے افغان قوم کے بے نام نسل ہونے کا طعنہ دیا تو اس نے راتوں رات یہ کہانی گڑھی اور ایک افسانوی کردار قیس عبدالرشید کو بھی تخلیق کر کے اسے افغانوں کا جد امجد قرار دے دیا)
    This Qais Abdul Rasheed has no mention in any Hadeeth or other authentic book. Most of the researchers agree today that Pathans are Aryan and their language Pashto is amember of the Indo-European languages family, other members of this language family include almost all the languagaes spoken in the Sub-contonent and in Europe Thus by default, it is the largest family of lanuages in the world today.

  • 19-02-2016 at 1:28 pm
    Permalink

    Adnan Sb, Itni Chirchirahat?. Burgur Bachchey” kia Koi Gaali Hey, Koi Tohmat Hey? Aor Agar Hey Bhi Tou Fidvi Ney Kissi Molvi Se Ziyada Issey ZIayada Tar Lower & Lower-Middle Class Parhey Likho Ke Mun Hi Se Suna Hey. Uff Bechara Molvi.

  • 19-02-2016 at 3:33 pm
    Permalink

    اجی عدنان خان تو ہماری جان ہیں ……

    جہاں تک پٹھانوں کے بنی اسرائیل سے ہونے کی بحث ہے تو یہ جملہ تحقیق کے نہیں بلکہ مزاح کے تناظر میں کہا ہے اور پوری تحریر کی بنت ہی مزاح کا رنگ لیے ہوۓ ہے …….

    اور جہاں تک بات ہے ” برگر بچوں ” کی تو جناب من مجھے ان برگر بچوں سے اتنی ہی محبت ہے جتنی مدرسے کے بچوں سے ہے ہاں یہ اشارہ اس مخصوص سوچ اور کلچر کی طرف ہے کہ جو فرق پیدا کرتا ہے …….

    (Fast Food Nation: The Dark Side of the All-American Meal) ایک معروف کتاب جو
    ( Eric Schlosser) کی تحریر کردہ ہے اسی فلم پر (٢٠٠٦) میں ایک مووی بھی بنی تھی سو جب ایک اصطلاح وہ استعمال کر سکتے تو ہم اگر کر لیں تو کوئی گناہ تو نہیں …….

    جہاں تک آپ نے خیراتی مدرسوں پر پھبتی کسی ایک لطف کی بات سنیے گزشتہ کئی سالوں سے کہ جب دینی جامعات کی ڈگری ایم اے کے مساوی قرار دی جا چکی ہے ، ایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلے کیلیے ہونے والے امتحان کو پاس کرنے والوں میں ٨٠ فی صد سے زیادہ ان ہی خیراتی مدرسوں کے طالب علم ہیں اور آپ کی عصری علوم کی جامعات سے نکلنے والے پوزیشن ہولڈرز بھی فیل ہوتے دکھائی دیتے ہیں …..

    دوسری طرف ٩٠% کیمبرج اداروں کے معیار کا معاملہ یہ ہے کہ ہمارے میٹرک اور انٹر بورڈ سے پاس ہونے والے طلباء ہمیشہ مقابلے کے امتحانات میں چاہے وہ جامعہ کراچی کیلیے ہوں آئی بی اے کیلئے یا این ای ڈی کیلیے کیمبرج سے بچوں سے آگے دکھائی دیتے ہیں …….

  • 22-02-2016 at 4:41 pm
    Permalink

    “مگر کیا کروں جب کوئی دینی طبقے پر پھبتیاں کسے تو برداشت نہیں ہوتا نجانے کون سی قوت قلم اٹھانے

    اور قلم سے سروں کو توڑنے پر مجبور کرتی ہے”

    مولانا قلم اٹھانے تک تو چلو ٹھیک تھا۔ مگر یہ سر توڑنے کی خواہش۔ مانیں نہ مانیں اندر کہیں مولوی ہے ضرور۔

  • 07-03-2016 at 12:14 pm
    Permalink

    حسیب صاحب!
    بہت دلچسپ اور طنزو مزاح سے بھرپور تحریر۔ کیا کہنے آداب جی۔

Comments are closed.