زوال کا روتا دھوتا جنوبی ایشیائی بیانیہ


ajmal kamalانور غازی صاحب کی بات بالکل درست ہے۔ سائنس وغیرہ کی باتیں غیرمابعدالطبیعیاتی اور احمقانہ ہیں اور سائنس سے شعوری اجتناب کو مسلمانوں کے زوال کا سبب قرار دینا محض افلاطونیت ہے۔ غازی صاحب کا مضمون برصغیر کے مسلمانوں میں پائے جانے والے ایک مختلف نقطہ نظر کی نمائندگی کرتا محسوس ہوتا ہے۔ جو موقف اب تک نسبتاً زیادہ مقبول رہا وہ یہ تھا کہ مغرب کی سائنسی ترقی دراصل مسلمانوں (گویا عربوں) کی ماضی میں کی گئی تحقیق کی بنیاد پر ہے۔ غازی صاحب نے بتا دیا ہے کہ ہمارے زوال میں اس بات کا کوئی ہاتھ نہیں کہ عربوں نے اپنے سائنس دانوں کو سب و شتم اور تشدد کر کے ان کے علوم سمیت ٹھکانے لگا دیا، اور ہم برصغیر کے مسلمانوں نے کبھی اس کوچے کا رخ کیا ہی نہیں۔ سائنس کی جو خرابیاں انھوں نے گنوائی ہیں وہ دراصل ہمارے اسی محتاط دینی رویے کا جواز پیش کرنے کے لیے ہیں، چنانچہ ان کو زیربحث لانا گویا سورج کو چراغ دکھانا ہے۔

مسلمانوں (عربوں) کے زوال کی اصل وجہ وہی ہے جس کی طرف غازی صاحب نے اشارہ فرمایا ہے، یعنی فتوحات کا سلسلہ روک دینا، جس کے نتیجے میں وہ غیرعربوں (ترکوں) کے غلام بن گئے جنھوں نے جاتے جاتے انھیں یورپی نوآبادیاتی طاقتوں اور پھر یہودیوں کے سپرد کر دیا۔ رہے ہندوستان کے نومسلم تو ان بیچاروں نے سوائے باری باری عربوں، وسط ایشیائیوں، افغانوں وغیرہ کا مفتوح ہونے کے غازی ہونے کا کبھی کوئی ثبوت دیا ہی نہیں۔ (صرف غازی جنرل حمید گل نے جلال آباد فتح کرنے کی مبارک کوشش فرمائی تھی لیکن ان کا جہاد شاید غیرعرب ہونے کے باعث کامیاب نہ ہو سکا۔) چنانچہ جب تک عرب افواج پہلے غیرعرب نومسلم دنیا اور پھر باقی غیرمسلم دنیا کو فتح کر کے اپنا غلام نہیں بنا لیتیں، اس وقت تک اسلام کو دوبارہ عروج حاصل نہیں ہو سکتا۔

لیکن جس طرح ہم جنوبی ایشیائی نومسلم اپنے مقامی زوال کو بیان کرتے ہیں، کیا دنیا کی دیگر مسلمان آبادیاں بھی اس بیان یا احساس میں شریک ہیں؟ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ احساس اور بیان صرف ہمارا ہے۔ اختر حمید خاں ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ جمال الدین افغانی جب اپنا پان اسلام ازم کا منجن بیچنے کی غرض سے مسلمان ملکوں کا دورہ کر رہے تھے تو اپنے ہم عصر ایرانی بادشاہ کے دربار میں بھی پہنچے اور مسلمانوں کے زوال پر ایک دردانگیز تقریر کی۔ عظمت رفتہ کا دلآویز نقشہ کھینچنے کے بعد جب نہایت جوش سے سوالوں کا ایک خطابی سلسلہ پیش کیا کہ عظمت کو؟ حشمت کو؟ دولت کو؟ (یعنی عظمت، حشمت، دولت وغیرہ اب کہاں ہیں) تو بادشاہ کی بے اختیار ہنسی نکل گئی، اور اس نے ارشاد فرمایا: ”چرا مثلِ فاختہ کو کو می کنی؟“ یعنی فاختہ کی طرح کو کو کیوں کرتے ہو؟

بھائی غازی صاحب، ایرانیوں کا بیانیہ زوال کا ہرگز نہیں ہے؛ ترک تو باقاعدہ ایک سلطنت چلا چکے ہیں، اور ان کے وطن کو کبھی مفتوح یا غلام نہیں کیا گیا۔ رہے عرب تو انھوں نے ترک نوآبادیاتی تسلط کے خلاف جدوجہد کر کے اسے اکھاڑ پھینکا، اور پھر برطانیہ اور دیگر یورپی طاقتوں کی مہربانی سے اپنی اپنی بادشاہتیں اور آمریتیں قائم کر لیں۔ تیل نکل آنے کے بعد تو ایران کی طرح ان کی بھی موجاں ای موجاں ہو گئیں اور وہ تیل کی کمائی سے امریکہ اور یورپ کے قحبہ خانوں اور قمارخانوں کی ٹھاٹ سے سرپرستی کرتے ہیں۔ ذائقہ بدلنے کے لیے پاکستان جیسے مسکین ملکوں سے اپنے لیے نایاب پرندے، نومسلم کنیزیں اور اونٹوں کی دوڑ میں استعمال ہونے والے کم وزن نومسلم بچے داہنے ہاتھ سے حاصل کرتے ہیں۔ ان کے سامنے زوال کا ذکر تو کر کے دیکھیے، وہ آپ کی جذباتیت پر کم اور اس خیال کی حماقت پر زیادہ ٹھٹھے لگائیں گے کہ آپ خود کو مسلم امّہ کا بڑا ماما اور اس کے نام نہاد زوال کو عروج میں بدلنے کی دینی ذمے داری کا حامل سمجھتے ہیں۔

عربوں اور ایرانیوں کے لیے اصل حقیقت شیعہ سنی کشمکش ہے جو خلافت کے پہلے دن سے جاری ہے۔ (ترک اس بنیادی اسلامی جہاد کے معاملے میں عربوں کے ساتھ ہیں۔) یقین کیجیے، ان دونوں طاقتور مسلمان فریقوں کے نزدیک ہم مساکین اور ہمارے حقیر مسائل کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ (یہی وجہ ہے کہ کوئی واحد مسلمان ملک ایسا نہیں جو ہماری غیرموجود شہ رگ یعنی کشمیر کے معاملے میں ہمارا ساتھ دینے کو تیار ہو۔) زوال کا روتادھوتا بیانیہ دراصل صرف جنوبی ایشیائی نومسلموں کا اپنا ہے جس پر باقی سب ہنستے ہیں۔ عرب اس کوشش میں ہیں کہ سنی شیعہ جہاد میں ہم ان کے چھوٹے بنیں اور نومسلم غازی ہونے کا حق ادا کریں۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “زوال کا روتا دھوتا جنوبی ایشیائی بیانیہ

  • 19-02-2016 at 1:32 am
    Permalink

    شائد کہ رینگ جائے ترے کاں پہ کوئی جوں

  • 19-02-2016 at 11:10 am
    Permalink

    بالکل درست تجزیہ ہے۔ اصل میں ہمارے لوگ مختلف خطوں اور ممالک کے کلچر، تہذیبی پس منظر،طرزِ معاشرت و معیشت اور سیاست سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتے، نہ اتنا مطالعہ ہوتا ہے نہ ذاتی تجربہ نہ مشاہدہ۔ مفروضوں اور سطحی پروپیگنڈے کی بنیاد پر ایک مائنڈ سیٹ بنا لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عرب ممالک، ایران، وسطی ایشیائی ممالک ہیاں تک کہ امریکہ اور یورپ کے بارے میں بھی ہمارے بیشتر دانشوروں کی سوچ اور آرا کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ہر معاملے میں ایک نوع کی سطحی جذباتیت اور ‘مسلمانیت’ حاوی رہتی ہے۔

  • 19-02-2016 at 11:40 am
    Permalink

    Isn’t it time to start thinking about ourselves? Let’s talk about our country, our culture, our society. If we are strong, the so called Ummat-e-Muslima will take care of itself. By the way, who cares !

  • 19-02-2016 at 11:55 am
    Permalink

    True sir. We live in make-belief world and consider our perspective is the sole and whole reality.

Comments are closed.