شہزادی شہر زاد اور خیبر پختوںخوا کا شہزادہ


ammar masood

یہ قصہ نہ ثمر قند کا ہے نہ اس داستان میں کوئی وزیر زادی ہے کہ نام جس کا شہر زاد تھا۔ نہ بادشاہ وہ ہے جو اپنی بیوی کی بے وفائی کے بعد ہر رات ایک شادی کرتا اور صبح اپنی نویلی دلہن کو قتل کروا دیتا ۔ نہ وزیر کی بیٹی اس میں اپنی ہمشیرہ کے مشورے سے بادشاہ کے حبالہ عقد میں آتی نہ ہر رات نئی کہانی سناتی اور نہ ہی کہانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوتا ۔ یہ قصہ آج کے دور کا قصہ ہے۔ کیونکہ ہر عہد میں ایک شہر زاد ہوتی ہے، ہر عہد میں ہر رات ایک نئی کہانی ہوتی ہے ، اور ہر عہد میں ایک شہزادہ نیند سے پہلے ایک نئے خواب کی تلاش میں ہوتا ہے۔

تو صاحبان ، قدردان، مہربان وزیر زادی شہر زاد نے ہر رات کی طرح آج کی رات بھی کہانی کا سرا پکڑا اور شہزادے کے ہاتھ میں تھما دیا۔ شہرزاد شہزادے کی برہم طبیعت پر نظر رکھتے ہوئے گویا ہوئی کہ ایک غریب ملک کے ایک زرخیز صوبے میں ایک شہزادے نے عنان حکومت سنبھال لی۔ لوگ بھوک سے تنگ تھے، افلاس دلوں تک گھر کر گیا تھا۔ امن و امان کی حالت تباہ حال تھی، صحت عامہ کا برا حال تھا ۔ شہزادے نے حکومت سنبھالنے کے بعد پہلا اعلان کیا کہ اس کی رعایا کے لئے فی الفور ایک ارب درختوں کا اہتمام کیا جائے۔ اس اعلان سے علاقے کے سب مسائل حل ہو گئے ۔بے لباس لوگ پتوں کا لباس پہننے لگے ، خوراک میں پھل سبزی دستیاب ہونے لگا، لوگوں کی صحت تازہ خوراک سے بہتر ہونے لگی، آب و ہوا بھی پہلے سے بہتر ہونے لگی۔ کہانی کے اس موڑ پرشہرزاد نے شہزادے کی طرف نگاہ کی ۔ شہزادے کی آ نکھوں میں لہلاتے کھیتوں کے خواب اتر چکے تھے۔ شہزادے نے نیند کے جنگل میں جانے سے پہلے شاہی قوام کو سونگھا اور گہری نیند میں چلا گیا۔ دن کا تیسرا پہر چڑھا تو شہزادہ نیند سے بیدار ہوا ۔ ادھر ادھر نگاہ کی نہ جنگل نہ نظر آئے نہ کھیت۔ چٹیل میدان اور فاقہ مست لوگ چاروں اورسے فریادیں لئے امڈ آئے۔ شہزادہ اس صورت حال پر بہت بدظن ہوا اور قتل کے ارداے سے شہرزاد کا انتظار کرنے لگا۔

تو صاحبان ، قدردان، مہربان وزیر زادی شہر زاد نے رات کے پہلے پہر شہزادے کے مزاج کوبھانپ کر ایک نئی کہانی کا آغاز کیا۔ کہنے لگی درخت تو لگ ہی جاتے ہیں ۔ اصل مسئلہ پانی کا ہے۔ تو اس علاقے کے عادل اور عقیل حکمران نے فیصلہ کیا کہ تین سو پچاس پانی کے بند بنائیے جائیں گے۔ یہ بند توانائی کے سرچشمے ہوں گے۔ توانائی اتنی ہو گی کہ ہر شخص تندرست و توانا ہو گا۔ اور اس کے بعد بھی جو توانائی بچ جائے وہ دساور کے ممالک میں بر آمد کر دی جائے گی۔ خوشحالی کے چشمے چارسو پھوٹ رہے ہوں گے۔لوگ شہزادے کی دریا دلی پر عش عش کریں ۔ سارے علاقے میں شہزدے کے گن گائے جائیں گے۔ شہزادہ جو رات کے آغاز میں برہم تھا۔ عادل اور عقیل والی توجیہہ سن کر مسکرایا ۔ شاہی قوام کو سونگھا اور گہری نیند میں چلا گیا۔دن چڑھے جو آنکھ کھلی تو کچھ نہیں بدلا تھا۔ توانائی کے چشمے تو کجا پینے کو بوند میسر نہیں تھی۔ اندھیرا سا چھایا تھا۔ چراغ تک میں روشنی نہ تھی۔ دساور کو توانائی کیا بھیجتے اپنے گھر میں اندھیر مچا ہوا تھا۔ شہزادہ حسب عادت اس صورت حال پر بہت سیخ پا ہوااور ایک بار پھر شہر زاد کے قتل کے ارادے سے رات کا انتظار کرنے لگا۔

تو صاحبان ، قدردان، مہربان وزیر زادی شہر زاد نے رات کے آغاز میں ہی بھانپ لیا کہ مزاج گرامی برہم ہیں۔شہرزاد نے کہانی کا آغاز اس طرح کیا کہ توانائی تو کوئی بھی حاصل کر سکتا ہے اصل چیز ہے انصاف۔ تو اس علاقے کا حکمراں دراصل اپنی رعایا کو انصاف دینا چاہتا تھا۔تاکہ وہ منصف حکمران کے طور پر تاریخ میں مانا جائے۔شہزادے نے اعلان کیا کہ نوے دن کے اندر انصاف قائم ہو گا۔ہر بے کس و بے سہارا کو انصاف ملے گا۔ امیر غریب کے لیئے ایک ہی قانون ہو گا۔ انصاف مل جائے گا تو سب مسائل کا حل مل جائے گا۔ معاشرتی تفریق مٹ جائے گی۔ غربت ختم ہو جائے گی۔عوام خوش حال ہو ں گے ۔ لوگ شہزادے کے گن گائیں گے اور اس کو عادل بادشاہ کے نام سے پکاریں گے۔

کہانی کے اس موڑ پر پہنچ کر شہرزاد نے کنکھیوں سے شہزادے کی طرف نظر کی تو وہ عادل بادشاہ کے فلک شگاف نعروں کی آواز میں کھویا ہو ا تھا۔ شہرزاد نے لپک کر شاہی قوام شہزادے کے حوالے کیا۔شہزادے نے اسے سونگھا اور گہری نیند میں ڈوب گیا۔ نہ جانے اپنے عادل ہونے کی خوشی تھی یا شاہی قوام کچھ تیز تھا ۔ شہزادہ سورج ڈھلنے سے ذرا پہلے بیدار ہوا۔ جاگنے کے بعد جو نگا ہ کی تو سارے علاقے میں بے انصافی کا دور دورہ تھا۔ امیر غریب کو کاٹ رہا تھا۔ رہزن راہگیروں کو لوٹ رہے تھے۔ قانون طاقتور کی ڈھال بن چکا تھا۔ فریادی نوح کناں تھے۔ غرض کہ ریاست بدامنی کا گہوارہ بن گئی تھی۔ شہزادہ اس صورت حال کو دیکھ کر جلال میں آگیا اور شہرزاد کے قتل کے ارادے سے رات کا انتظار کرنے لگا۔

تو صاحبان ، قدردان، مہربان وزیر زادی شہر زاد نے ہر رات کی طرح اس رات اور آنی والی ہر رات شہزادے کو رام کرنا شروع کر دیا۔ ابتداءمیں شہزادہ جن باتوں پر سیخ پا ہوتا تھا اب ان باتوں کو سن کر اس کو نیند آجاتی تھی۔ہر رات وہ بادشاہ بننے کا خواب آنکھوں میں سجائے گہری نیند میں چلا جاتا تھا۔رفتہ رفتہ یہ خواب اس پر اتنا اثر کرنے لگا کہ وہ خود کو بادشاہ سمجھنے لگا اور ہذیان کی حالت میں بادشاہ بن کر عوام سے فرضی خطاب کرنے لگا۔

خدا جانے سچ ہے کہ جھوٹ لیکن کہنے والے کہتے ہیں کہ شہرزاد درحقیقت درپردہ ایک وزیر خاص کی کنیز خاص تھی جو ہر رات شہزادے کو نت نئے خواب دکھاتی تھی۔ اور جب شہزادہ اپنے خوابوں میں مگن ہوتا تو وہ وزیر خاص جو پرواز کے لیئے اپنے اڑن کھٹولے کی وجہ سے معروف تھا ساری ریاست میں لوٹ مار کیا کرتا تھا۔جنگلات کی کٹائی سے لے کر سونے کی کانوں تک،وزارتوں کی اکھاڑ پچھاڑ سے لے کروزیر عدل کے استعفے تک،سرکاری خزانے کو جوئے میں لگانے سے لے کرایکٹروں کے حساب سے سرکاری اراضی کو اپنے نام کرنے تک ہر بدعنوانی اس وزیر خاص کی مرہون منت تھی۔وزیر خاص کی کنیز خاص ہر رات شہزادے کو نئے خواب دکھاتی اور شہزادہ بے خبر گہری نیند میں سو جایا کرتا تھا ۔ نیند اتنی گہری ہوتی کہ شہزادے کو احساس تک نہیں رہتا تھا کہ اس کے سونے کے ساتھ ہی اس کی رعایا کی قسمت بھی ہر رات سو جاتی ہے۔بد قسمتی اس علاقے کی رعایا کی یہ تھی کی کہ گرانی کے اس دور میں انہیں شاہی قوام بھی دستیاب نہیں تھا۔ ورنہ وہ بھی اپنے پھٹے پرانے کپڑوں ، ٹوٹے گھروندوں اور مدقوق بچوں کے ساتھ ہذیان کے عالم میںبادشاہ وقت کی حیثیت سے عوام سے خطاب کرتے ۔


Comments

FB Login Required - comments

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 42 posts and counting.See all posts by ammar