طلبا سیاست! لینے کے دینے نہ پڑجائیں


 kaleemگزشتہ کچھ عرصے سے پیپلزپارٹی اورجماعت اسلامی کے علاوہ بعض دوسری سیاسی جماعتوں کوبھی اس بات کی بہت فکر ہے کہ طلبہ سیاست پر پابندی سے ملک و قوم کا بہت نقصان ہورہا ہے۔ وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ طلبہ سیاست پر پابندی ایک آمر نے عائد کی تھی اور اس پابندی کی وجہ سے سماج میں سیاست کے لئے پڑھے لکھے طبقے کی تربیت نہیں ہو رہی جس سے سیاست کا معیار گراوٹ کا شکار ہے۔ بلوچستا ن کے قوم پرست سیاسی رہنما میر حاصل خان بزنجو اور پیپلزپارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد نے سینیٹ میں اس معاملے پر تفصیلی بحث کے لئے ایک تحریک بھی پیش کی جس پر بہت سے سینیٹرز نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس معاملے پر بحث کے دوران سینیٹ میں حکومتی اور اپوزیشن بنچوں سے طلبا سیاست کی بحالی کے حق اور مخالفت، دونوں میں دلائل کے لئے قائد اعظم محمد علی جناح کی تقاریر کا حوالہ دیا جاتارہا بعد میں سینیٹ نے ایک متفقہ قرارداد بھی پاس کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ طلبہ سیاست پر عائد پابندی ختم کی جائے اور چیئرمین سینیٹ نے یہ معاملہ سینیٹ کی پورے ہاو ¿س کی کمیٹی کو بھجوا دیا جو اس پورے معاملے کا جائز ہ لے کر اپنی تجاویز ایوان میں پیش کرے گی۔ اب پورے ایوان کی کمیٹی بھی ایک دلچسپ موضوع ہے لیکن اس پر بات پھر کبھی سہی۔

بعد میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے بھی روبینہ خالد کو بھرپور مبارکباد دیتے ہوئے آزادکشمیر اور سندھ کی حکومت کو حکم دیا کہ وہ طلبہ یونین فوری طو ر پر بحال کردیں۔ اب اگر سائیں قائم علی شاہ اور چودھری عبدالمجید نے حکم کی تعمیل نہیں کی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدانخواستہ اپنے رہنما کی حکم عدولی کر رہے ہیں بلکہ اس کی کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے جو یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ بہت سے دوستوں کو اس کا اندازہ ہے۔ ایک بات پر حیرت مجھے ضرور ہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں طلبہ سیاست کی بحالی کی بات بلاول زرداری کر رہے ہیں جن کو نہ تو پاکستان کے تعلیمی اداروں کے حدود اربعہ کا کچھ علم ہے اور نہ ہی خارزار سیاست میں وہ کچھ تجربہ رکھتے ہیں۔ ہاں!خاندانی سیاسی میراث کی ان کو منتقلی کا عمل ابھی جاری ہے۔

مسئلہ اب یہ ہے کہ قائد اعظم تو اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ قوم کی رہنمائی فرما سکیں کہ اس وقت پاکستانی سماج میں طلبہ سیاست کی اجازت ہونی چاہیے یا ایک آمر(ضیاءالحق) کی عائد کی ہوئی پابندی ہی بہتر ہے نہ ہی ہم اس قابل ہیں کہ قائد سے کوئی رابطہ کر کے ان کی حتمی رائے طلب کریں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والی جماعت اسلامی کے موجودہ سربراہ اور مولانا مودودی کے روحانی فرزند سراج الحق آج قائد کے پاکستان میں ان ہی کے نام پر طلبہ سیاست کی بحالی کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلی خیبر پختونخواہ پرویز خٹک کو خط بھی تحریر کیا ہے کہ وہ سینیٹ کی قرارداد کی روشنی میں صوبے کے تعلیمی اداروں میںطلبہ یونین کے انتخابات کروائیں۔ اللہ کی شان ہے جس جماعت کے وزیراعلی سے وہ طلبہ یونین کے انتخابات کروانے کی فریاد کر رہے ہیں کبھی اس کے سربراہ کو جماعت کے پیروکار وں نے پنجاب یونیورسٹی سے ڈنڈا ڈولی کر کے باہر پھینک دیا تھا۔

سراج الحق صاحب کے اس خط سے مجھے پنجاب کے مرحوم وزیراعلیٰ غلام حید رو ائیں یا دآگئے۔ ہو ا کچھ یوں کہ اسی کی دہائی میں گورنمنٹ کالج فیصل آباد (اب یونیورسٹی) میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا سربراہ امین گجر ہوا کرتا تھا۔ جس نے شہر کے مشہورگلستان سینما روڈ (اب میلاد ) پر میرے سامنے ایک طالب علم نعیم کا قتل کیا تھا۔ نعیم کی لاش پر بعد میںجمعیت نے بہت سیاست کی۔ نعیم ہمارے ساتھ والے محلے کا رہائشی تھا اور اس کے بھائی کے مطابق اس کا جمیعت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ بعد میں امین گجر بھی ایک تنازعے میں قتل ہوگیا اور اس تنازعے کوکامیابی کے ساتھ طلبہ سیاست کا رنگ دیا گیا، مرحوم غلام حید ر وائیں نے بھی پولیس کو کافی کھینچا اور امین گجر کے وارثوں کو پچاس ہزار روپے (جو اس وقت بڑی رقم ہو ا کرتی تھی ) دینے کا اعلان کیا۔ لیکن بعد میں جب اصل واقعات ان کے علم میں لائے گئے تو پچاس ہزار روپے بھی روک لیے گئے اور پولیس پر بھی قتل کی تحقیقات کے لئے وہ دباو ¿بھی نہ رہا کیونکہ مخا لف پارٹی کافی تگڑی تھی۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ طلبہ سیاست نے پاکستانی معاشرے کو کیا دیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ تحریک پاکستان میں طلبہ کا کردار ناقابل فراموش تھا اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن نے قیام پاکستان کی جد و جہد میں قائد کے ہراول دستے کا کردار ادا کیا تھا لیکن قیام پاکستان کے وقت اور اب کے حالات میں بہت زیادہ فرق ہے۔ اس وقت پاکستان کا قیام ہرمسلم مردو زن بچے اور بڑے کے لئے زندگی موت کا سوال تھا تاہم اس وقت ہم ایک ریاست کے معاملات کی بات کر رہے ہیں۔

کچھ دن پہلے سینیٹر میر حاصل خان بزنجو سے بھی اس معاملے پربات ہوئی تو انہوں نے یہ استدلال پیش کیا کہ طلبہ سیاست پر پابندی کے بعد سیاست دانوں کی جو کھیپ سامنے آئی ہے اس کا اور اسی کی دہائی سے پہلے کے سیاست دانوں کا موازنہ کریں تو آپ کو فرق واضح نظر آئے گا لیکن اس بات پر وہ مجھے مطمئن نہیں کر سکے کہ طلبا سیاست میں جو برائیاں درآئی ہیں اور ان کی وجہ سے سماج میں جو بگاڑ پیدا ہوا ہے اسے آپ کیسے دور کریں گے۔ دو جامعات کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ ماد ر علمی بہاءالدین زکریا یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی !کسی کی تذلیل مقصود نہیں لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ پنجاب یونیورسٹی جیسے تاریخی ادارے کا بیڑہ غرق کرنے میں سب سے بڑا کردارطلبا یونین کا ہے۔ کالجوں اور جامعات کے کیمپس اور ہاسٹلز میں طلبہ یونین کے عہدیدار کیا کیا گل کھلاتے ہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ضیا ءالحق کی آمریت کے خلاف جدو جہد کرنے والے طلبا خراج تحسین کے مستحق ہیں لیکن اگراس دور کہ طالب علم رہنما(جو آج ملکی سیاست میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں) اگر ٹھنڈے دل و دماغ سے جائزہ لیں تو آج کی طلباسیاست میں وہ تہذیب، رکھ رکھاو ¿ اور اد ب آداب باقی نہیں رہے بلکہ طلبہ یونین کے عہدیداروں کے مقاصد اور مفادات بدل چکے ہیںاور اس کے ذمہ دار صرف طالب علم ہی نہیں ہیں۔ طلباکو ان کے والدین کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم کے حصول کے لئے بھیجتے ہیں نہ کہ سیاسی تربیت کے لئے۔ لیکن وہ طلبا سیاست کے نام پر مختلف سیاسی جماعتوں یا گروہوں کے زیر اثر تعلیمی اداروں میں حکمرانوں کی طرح اپنا من پسند نظام نافذ کرنے پر تل جاتے ہیں۔ کوئی اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لئے شتربے مہاری کا پرمٹ چاہتا ہے تو کوئی اسلام اور اخلاق کے نام پر اس قدرگھٹن زدہ ماحول نافذ کرنا چاہتا ہے کہ لڑکا لڑکی مل کر بیٹھ بھی نہ سکیں۔ یعنی طلبا سیاست مکالمے، رواداری اور برداشت کی بجائے مختلف جھگڑوں اور تنازعات میں گھر چکی ہے۔

تھوڑی سی تحریف کے ساتھ عرض کروں کہ آج کے حالات کم و بیش اس طرح ہیں کہ

شہر میں جا کر ”لڑنے“والے بھول گئے

کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا

کوئی مجھے سمجھائے کہ پاکستان کی کتنے فیصد آبادی ہے جسے کالج اور یونیورسٹی میں تعلیم کی سہولت میسر آتی ہے؟

مشکل سے آٹھ فیصد!حیران مت ہوں کوشش کے باوجود یہ تعداد دوہزار پندرہ میں اپنے کم از کم ہدف پندرہ فیصد تک بھی نہیں پہنچی۔ اب آپ ہی بتائیں کہ معاشرے کے دس فیصد افراد کا ارتکاز آپ تعلیم سے سیاست کی طرف کرنا چاہتے ہیں لیکن باقی نوے فیصد سے زائد کی اعلیٰ تعلیم کے لئے آپ کو کوئی فکر نہیں، اس کے لئے کوئی قرارداد کوئی خط کوئی واویلا نہیں ہوتا۔ اور اگر یہ خواندہ یا نیم خواندہ عوام کسی سیاسی جماعت کے رکن بنیں تو وہاں ان کی سیاسی تربیت کے لئے انتخابی عمل کی کوئی گنجائش ہی نہیں بلکہ نامزدگیوں سے کام چلایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود یہ عوام اگر مقامی حکومتوں کے عمل میں حصہ لے ہی لیں تو انہیں اختیارات منتقل نہیں کئے جاتے۔

ذرا سوچئے !کالج میں حصول علم کے لئے آنے والا سولہ سترہ برس کی عمر کا طالب علم جسے معاشرے کی اونچ نیچ کا بھی پورا ادراک نہیں ہے اسے سیاست میں ملوث کرنا کہاں تک درست ہے؟اس کا ذہنی ارتکاز تعلیم پر ہونا چاہیے یااسے مبہم سیاسی نظریا ت کے تابع ایک کٹھ پتلی بنادینا چاہیے؟ ویسے بھی طلبہ سیاست میں تفرقہ بازی اس قدر سرایت کرچکی ہے کہ ہر سیاسی جماعت کے علاوہ مختلف لسانی اور گروہوں کے زیر اثر طلبہ تنظیموں کے ساتھ ساتھ ذات برادری کے نام پر بھی طلبہ تنطیمیں وجود میں آچکی ہیں۔ قوم پہلے ہی ہر قسم کی تفرقہ بازی سے تنگ ہے اور معاشرے سے اس ناسور کے خاتمے کے لئے کوشاں ہے۔ ا س لئے طلبا سیاست سے پابندی ہٹاتے وقت یہ خیال رکھئے گا کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “طلبا سیاست! لینے کے دینے نہ پڑجائیں

  • 20-02-2016 at 5:55 pm
    Permalink

    معاف کیجئے گا، مضمون نگار کا تعلق یقینا اس نسل ہے جس نے طلبا یونین پر پابندی کے بعد کے دور میں ہوش سنبھالا ہے. مضمون کے آخر میں کی گئی اور قائد اعظم کے فرمودات کے ضمن میں لکھی گئی غیر عبارت سے قطع نظر، وہ تعلیمی اداروں میں جاری جس غنڈہ گردی، تشدد اور غارت گری کا ماتم کر رہے ہیں، وہ پیدا ہی طلبا یونین کے جمہوری انتخابات پر پابندی کی کوکھ سے ہوئی ہے. سادہ سی بات ہے، اگر طلبا تنظیموں کو طلبا میں مقبولیت حاصل کرکے انتخابات میں ان سے ووٹ لینے ہوں تو ان کا طرز عمل آج سے یکسر مختلف ہوگا، جب کیمپس پر قبضہ رکھنے کے لئے ان کے پاس تشدد کا ہی ہتھیار ہے. تعلیمی اداروں میں سن اسی سے پہلے اور اس کے بعد کے ماحول میں زمین آسمان کا فرق اسی پابندی کے سبب ہے.

Comments are closed.