واشنگٹن میں آئندہ ماہ پاک بھارت وزرائے اعظم ملاقات متوقع


nawaz moodiامریکا، پاکستان اور ہندوستان نے دبے لفظوں میں آئندہ ماہ واشنگٹن میں پاکستان اور ہندوستان کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات کا امکان ظاہر کیا ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے ہندوستانی ہم منصب نریندر مودی نے امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے 31 مارچ سے یکم اپریل تک ہونے والے ‘نیوکلیئر سمٹ’ میں شرکت کی دعوت کو قبول کیا ہے۔
ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘پاک ہند وزرائے اعظم کی ملاقات کے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں، لیکن چونکہ دونوں ممالک میں مذاکرات کی تاریخ سب جانتے ہیں، اس لیے جب تک یہ منعقد نہ ہوجائیں، امریکا میں ہونے والی ملاقات کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا’۔
خیال رہے کہ امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے 2010 ءمیں آغاز کیے جانے والے جوہری سمٹ میں پہلی بار دونوں ممالک کے وزرائے اعظم ایک ساتھ شریک ہوں گے۔
سمٹ کا ایک مخصوص ایجنڈا ہے، یعنی جوہری ہتھیاروں کو دہشت گردوں کی پہنچ سے دور رکھنا اور اس حوالے سے دنیا بھر کی قیادت مختلف تجاویز پر بحث میں شرکت کے لیے واشنگٹن میں جمع ہوگی۔
واضح رہے کہ اس حوالے سے پہلا سمٹ واشنگٹن میں 12 سے 13 اپریل 2010 میں منعقد ہوا تھا۔ دوسرا سمٹ جنوبی کوریا میں 2012 اور تیسرے سمٹ کا انعقاد ہیگ میں 2014 میں کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ رواں سال براک اوباما کا امریکی صدر کے طور پر آخری سال ہے، اس لیے اوباما انتظامیہ چوتھے سمٹ میں واضح نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے۔ادھر امریکی حکام کی جانب سے جاری ایک بیان میں جنوبی ایشیا میں چھوٹے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاو¿ پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے.
امریکا کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے پاکستان کی جانب سے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں میں ممکنہ اضافے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ ‘ہم ان جوہری ہتھیاروں کی سکیورٹی کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں، جو ہماری اور پاکستان کے درمیان ہونے والی ہر بحث کا حصہ ہوتے ہیں’۔
انھوں نے کہا ‘لیکن ہمیں خطے میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان موجود کشیدگی کے حوالے سے بھی تشویش ہے اور ہم ان دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، تاکہ ، واضح طور پرکشیدگی میں کچھ کمی لائی جاسکے’۔


Comments

FB Login Required - comments