ہم بدعنوان کیوں ہیں؟ (1)


  mujahid hussain01قومی احتساب بیورو، ایک بار پھر موضوع بحث ہے۔ مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی دونوں احتساب گزیدہ ہیں جب کہ پاکستان فوج یہ بھی نہیں چاہتی کہ اس کے کسی سابق عہدیدار کو بھی قومی احتساب بیورو طلب کرے۔ پیچھے رہ جاتے ہیں تحریک انصاف والے ، وہ ابھی اقتدار کی اس سطح سے نیچے ہیں جہاں اِنہیں قومی سطح پر احتساب نامی مصیبت سے ڈرایا جائے۔ وزیراعظم نواز شریف بہت زیادہ دباﺅ میں ہیں کیوں کہ پارٹی کے اندرونی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ان کی حکومت کے لیے ایک اور پھندا احتساب بیورو کے نام پر تیار ہورہا ہے اور کئی ممکنہ گرفتاریاں ان کے لیے مشکلات کھڑی کردیں گی۔ دنیا میں کہیں بھی اقتدار بدعنوانی کی آلودگی سے مکمل پاک نہیں اور بڑے عہدیداروں کی مالی وابستگیاں اُن کے سیاسی حریفوں کے لیے قوت کا باعث ہوتی ہیں۔ پاکستان میں بدعنوانی اور اقتدار کا تعلق نسبتاً زیادہ عریاں ہے کیوں کہ ہمارے سامنے ایسی لاتعداد مثالیں موجود ہیں، جو مقتدر لوگوں کی بدعنوانی کی داستانوں کو سچ ثابت کرتی ہیں۔ ایسے کرداروں کی گنتی بھی ایک مشکل کام ہے جو اقتدار میں ہوتے ہوئے یا دوران اعلیٰ ملازمت ناجائز طریقے سے بے تحاشہ دولت مند بن گئے اور یہی دولت اُن کو کسی قسم کے احتساب سے ماورا رکھنے میں معاون ثابت ہوئی۔ اقتدار بھی لگ بھگ اِنہی کے اردگرد گھومتا رہا اور عام آدمی کے لیے سیاست، اعلیٰ ملازمت اور دیگر ایسے امور جو فیصلہ سازحلقوں کی ذیل میں آتے ہوں، بدعنوانی اور بے ضابطی کا موجب ٹھہرے۔ آج اگر عام آدمی یہ کہتا ہے کہ سب چور ہیں تو اُس کا یہ کہنا بلاوجہ یا کسی ذاتی دکھ کا شاخسانہ نہیں بلکہ وہ عمومی روایت کا اسیر ہے۔

پاکستان میں اگر کوئی مقتدر یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ بدعنوانی میں ملوث نہیں تو وہ غلط کہتا ہے۔ ہاں اگر وہ یہ دعوی کرے کہ وہ قواعد و ضوابط کے تحت کام کرتا ہے تو بالکل ٹھیک کہتا ہے۔ بدعنوانی کو باقاعدہ ایک تکنیک کے ذریعے قواعد و ضوابط میں لپیٹ دیا گیا ہے کہ دونوں کو الگ کرنا ممکن نہیں رہا۔ بظاہر ایک ذمہ دار شخص بالکل ایماندارانہ انداز میں اپنا کام کرتا نظر آتا ہے لیکن اِسی’ایماندارانہ‘ انداز کی تہہ کے نیچے بدعنوانی دھیرے دھیرے رواں رہتی ہے۔ سیاسی دباﺅ اور کسی دوسری سمت کی خواہش کے زیر اثر کام کرنے والے انسداد بدعنوانی کے ادارے بھی اپنا کام جاری رکھتے ہیں اور اکثر اوقات کچھ بھی ثابت نہیں ہوپاتا۔ نتیجے کا صفر ثابت ہونا عام آدمی کی سیاسی لغت مرتب کرتا ہے اور وہ بدعنوانوں اور چوروں کی فہرست جاری کرتے ہوئے آسانی کے ساتھ اس میں ’سب‘ کو ہی شامل کرلیتا ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں طاقت کے دو بالادست مراکز پائے جاتے ہیں۔ پہلا مرکز فوج کا ادارہ اور دوسرا مرکز تمام ایسی سیاسی جماعتیں جو وقتاً فوقتاً اقتدار میں آتی ہیں۔ دونوں مراکز عمومی طور پر ایک دوسرے سے رنجیدہ نظر آتے ہیں لیکن حکومت کاری اور ریاستی امور کے بہت سے اجزا میں باہم جڑے ہوئے بھی ہوتے ہیں۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بعض بڑی مدت کے دورانیوں میں صرف فوجی مرکز ہی تمام حکومتی و ریاستی امور کا براہ راست ذمہ دار رہا لیکن وقفے وقفے سے سیاسی جماعتیں بھی شامل اقتدار رہیں۔ بعض بظاہر خوشگوار دورانیے ایسے بھی آئے کہ سیاسی جماعتیں بھی کامل اقتدار کی حامل نظر آئیں لیکن کلیدی فیصلوں میں فوجی مرکز بھی شانہ بشانہ کھڑا ہوا ملا۔ تو یہ کہہ دینا کہ صرف سیاسی مرکز ہی پاکستان میں پائی جانے والی بدعنوانی اور کرپشن کا ذمہ دار ہے بالکل جانبدارانہ سوچ ہے۔ فوجی مرکز سے جڑے لاتعداد ایسے کردار ہماری قومی تاریخ کا حصہ ہیں جنہوں نے بدترین کرپشن کی مثالیں قائم کیں۔ واضح رہے کہ سیاسی مرکز کی یہاں تراشیدہ اصطلاح میں ہماری مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیں جو سیاست کے میدان میں اترتی ہیں اور اقتدار میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔

اگر جان کی امان پاوں تو عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ہاں بدعنوانی کو ایک سراہے جانے والی دلیری کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے اور سماجی سطح پر بدعنوانوں سے کسی قسم کے گریز کا تکلف نہیں برتا جاتا۔ ایک بدعنوان آدمی سماجی طور زیادہ پر کشش نظر آتا ہے کیوں کہ وہ اپنی لوٹ کھسوٹ کی طاقت سے دوسروں کو مسحور کردیتا ہے اور اُس کی طاقت سے پھوٹنے والی خوفزدگی کی لہریں دوسروں کو اس لیے جھکا دیتی ہیں تاکہ وہ اس کے شر سے محفوظ رہیں۔ شر سے محفوظ رہنے کے لیے اس کا ساتھی ثابت ہونا زیادہ فائدہ مند نظر آتا ہے، اِسی لیے انتخابات میں لوگ تکلیف پہنچنے کے خوف سے، سماجی طور پر طاقت ور قرار دیئے گئے کرداروں کو ہی ووٹ ڈالتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ سماجی سدھار کے خدائی فوجدار قرار دئیے گئے مذہبی و مسلکی کردار بھی ایسے طاقت وروں کے دسترخوانوں پر پائے جاتے ہیں اور یوں کاروبار زیست چلتا رہتا ہے۔

پاکستان میں بدعنوانی کا کاروبار کیسے چلتا ہے، اس کا اندازہ لگانا بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ اب آپ کہیں گے کہ تحفے اور رشوت میں فرق کرنا بہت ضروری ہے۔ یہاں میں ایک ایسی مثال پیش کرنا چاہتا ہوں جس کا خود عینی شاہد ہوں۔ یہ فیصلہ آپ خود کرلیں کہ یہ تحائف تھے یا رشوت کی ایک کراہت آمیز شکل۔ 1996ءمیں اپنے ایک سرکاری ملازم عزیز کی وساطت سے مجھے سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور پیپلزپارٹی کے موجودہ رہنما میاں منظور احمد وٹو، جو اس وقت وزیراعلیٰ تھے اور ان کا بیٹا’پسر اعلیٰ‘ تھا، اس کی شادی میں شرکت کا موقع ملا۔ لاہور ماڈل ٹاون میں پسر اعلیٰ کی شادی کے لیے وزیراعلیٰ ہاوس کے ملازمین اور ایل ڈی اے کا تقریباً تمام عملہ ایک مہینہ پہلے ہی تیاریوں میں جت گئے۔ شادی کے دن دس ہزار مہمانوں کے لیے پرتکلف کھانوں کا اہتمام کیا گیا۔ اگلے روز ولیمہ کی تقریب تھی۔ ایک رات پہلے وزیراعلیٰ کے سیکرٹری نے صوبائی اسمبلی کے ان تمام ارکان سے رابطہ کیا کہ وہ برائے مہربانی اپنے ساتھ دولہا کے لیے تحفہ نہ لے کر آئیں، صرف چابیاں کسی لفافے میںڈال کر اور اُس پر اپنا نام لکھ کر اسٹیج پر جمع کروا دیں۔ چھانوے ماڈل کی نئی نویلی کار کی ایک سو چالیس چابیاں وزیراعلیٰ کے سیکرٹری نے اسی رات جھک کر وزیراعلیٰ کو پیش کردیں۔ نہ کوئی مقدمہ ہوا، نہ کسی اخبار میں کچھ شائع ہوا اور نہ ہی اپوزیشن نے اگلے روز کوئی تحریک اسمبلی میں پیش کی۔ چابیوں کا وہ تھیلا اگلے روز لاہور کے کار ڈیلروں کے ہاں پہنچا اور کرنسی کی صورت میں تبدیل ہوکر پسراعلیٰ کے اکاونٹ میں جذب ہوگیا۔ (جاری ہے)


Comments

FB Login Required - comments