جہالت بال کھولے ناچتی ہے….


muhammad Shahzadانہیں ویلنٹائن ڈے میں انتہائی بے حیائی دِکھتی ہے۔ مگر جب ان ہی کا ایک گروہ ایک ہاتھ شلوار میں ڈالے دوسرا ازاربند پکڑے سرِ بازار استنجا کر رہا ہوتا ہے تو اس عمل میں انہیں کوئی فحاشی نظر نہیں آتی۔ سڑک کے کنارے کسی بھی دیوار کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہیں مگر کوئی شرم نہیں آتی۔ یہ غیرت کے نام پر اپنی لڑکیوں کو قتل کر دیتے ہیں مگر انہیں جائیداد میں حصہ نہیں دیتے۔ اس بے غیرتی پر ان کا خون نہیں کھولتا۔ ذات پات برادری زبان علاقے نسل جیسے تعصبات کی خدمت کرتے ہوئے یہ لوگ اپنی بیٹیوں کی شادی نہیں کرتے اور انہیں گھر بٹھا کر بوڑھا کر دیتے ہیں۔ مگر ان کو کوئی شرم نہیں آتی۔ بیٹیوں کی شادی زبردستی کر دیتے ہیں حالانکہ اسلام انہیں اپنی مرضی سے شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ مگر یہ نہیں دیتے۔ اسلام کی اس توہین میں انہیں کوئی بے حیائی نظر نہیں آتی۔ بیٹی کی پیدائش پر ان میں صفِ ماتم بچھ جاتی ہے۔ اس پر کوئی بھی شرم سے ڈوب کر نہیں مرتا۔

اسلام حکم دیتا ہے کہ ہر انسان تعلیم حاصل کرے۔ ایک معصوم بچی ثاقبہ کاکڑ تعلیم کے حق کے لئے لڑتی ہے۔ اس کی پرنسپل بھی ایک عورت ہوتی ہے۔ جو اسے یہ حق نہیں دیتی ۔ ثاقبہ بطورِ احتجاج خودکشی کر لیتی ہے۔ سب کی غیرت سوئے رہتی ہے۔ کوئی باہر نہیں نکلتا اس معصوم کے حق میں۔ شادی کی تقریب میں لڑکیاں گا بجا رہی ہوتی ہیں۔ اسلام کے ’علمبرداروں ‘کو اس خوشی کے اظہار سے اسلام خطرے میں پڑتا نظر آتا ہے اور وہ ان لڑکیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ یہی سفاک لوگ لڑکیوں کے چہرے تیزاب پھینک کر مسخ کرتے ہیں۔ اسلام کے سب ہی ’محمد بن قاسم‘بے غیرت ڈھیٹ بن کر تماشا دیکھتے ہیں۔

’عاشقانِ اسلام ‘کے اس ملک میں جسے یہ اسلام کا قلعہ کہتے ہیں کسی بھی عورت کی عزت محفوظ نہیں۔ اسی اسلام کے قلعے میں عورتیں سرِ بازار ننگی کی جاتی ہیں اور بازاروں میں گھمائی جاتی ہیں۔ اس کی ابتدا اسلام کے ایک مردِ مومن مردِ حق کے دور میں80ءکی دہائی میں ہوئی۔ جب عورتوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوتی ہے تو سب کے سب جنہیں ویلنٹائن ڈے اسلام کے خلاف ایک سازش نظر آتا ہے دم دبا کر بھاگ جاتے ہیں۔ کاٹنا تو دور کی بات یہ تو بھونکنا بھی بھول جاتے ہیں۔ البتہ ویلنٹائن ڈے کی آمد سے کئی دن قبل ان کی چیخ و پکار شروع ہو جاتی ہے۔ کسی ’انصاری‘ یا ’سنگساری‘ یا مذہب کے ’پنساری‘ کے قلم سے مذمت کا ایک لفظ تک نہیں نکلتا۔ مگر ویلنٹائن ڈے پر ان کے کالم پر کالم چھپتے ہیں۔ کیا اسلام اتنا نازک ہے کہ ایک ویلنٹائن کا تہوار اس کی جڑیں کھوکھلی کر دے؟

بے غیرت لڑکے اور ان کے بے غیرت ماں باپ ڈھٹائی سے جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں۔ باقاعدہ لکھ کر فہرست بنا کر لڑکی والوں کے ہاتھ میں تھماتے ہیں۔ کوئی ان بے شرموں کو حیا نہیں دلاتا۔ مسجد میں ایک شخص آٹھ سالہ بچے کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بناتا ہے۔ پھر اس کا گلا گھونٹ کر اسے قتل کر دیتا ہے۔ پھر اسکی برہنہ لاش کو مسجد کے پنکھے سے لٹکا دیتا ہے۔ یہ تصویر سارے جہاں میں چھپتی ہے۔ مگر کسی جہادی یا فسادی کا دل نہیں روتا۔ ایسا بدبخت قبیلہ کیا جانے پیار، محبت، احساس؟ گدھا کیا جانے زعفران کی قدر و قیمت۔ ان درندوں نے تو ویلنٹائن ڈے پر اپنی خضر صورتیں لے کر میڈیا پر ہی آنا ہے اورآفرین ہے ہمارے میڈیا پر جو انہیں بریکنگ نیوزبنا کر پیش کرے۔

کچھ ذکر اس طبقے کی منافقت کا بھی ہو جائے جو ویلنٹائن ڈے منانے کے لئے ایسا مچلتا ہے جیسے یہ دن ان کے گھر کی لونڈی ہو۔ ذاتی حیثیت میں ہمیں ویلنٹائن ڈے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ مدر یا فادر یا ٹیچر ڈے سے کوئی سروکار نہیں۔ عید یا شبِ برات سے کچھ لینا دینا نہیں۔ ان سب کا تعلق دل سے ہے۔ سازِ دل جب صدا نہیں دیتا کوئی نغمہ مزا نہیں دیتا۔ اپنا کچھ ایساہی حال ہے۔درست تو معلوم نہیں مگر یہی سنتے آ رہے ہیں کہ پاکستان کی آبادی اس وقت لگ بھگ بیس کروڑ ہے۔ کتنوں کو معلوم ہو گا کہ ویلنٹائن ڈے کیا ہے؟ کتنے اسے مناتے ہوں گے؟ آٹے میں نمک کے برابر سے بھی کئی گنا کم ایسے ہوں گے۔ پھر اتنا شور و غوغا کیوں؟ اس ملک میں شراب پر پابند ی ہے۔ مگر یہ پینے والے پیتے ہیں۔ غریب جو ویلنٹائن تو نہیں مناتے اور جنہیں اس کا علم بھی نہ ہو گا وہ بھی پیتے ہیں۔ سپرٹ پیتے ہیں اور مرتے بھی ہیں۔ شراب پر پابندی کا تو ظاہری وجود ہے۔ پھر بھی پابندی نہ لگ سکی۔ ویلنٹائن ڈے تو ایک احساس اور سوچ ہے۔ بھلا سوچ کو کیسے پابند کیا جا سکتا ہے؟ جو طبقہ ویلنٹائن ڈے منانے کیلئے مرا جا رہا ہے اندر سے اس کی سوچ بھی اتنی ہی ایسی ہی ہے جیسی ایک مولوی کی یا ایک نام نہاد جہادی یا فسادی کی۔ اپنی ماں یا بہن یا بیٹی یا بہو کو ویلنٹائن ڈے مناتے تو برداشت نہ کر پائے گا۔ پرائی لڑکیوں پر خوب نظر گاڑی ہو گی۔ ایک سماجی محفل میں ہماری ملاقات ایک ایسی خاتون سے ہو گئی جو ان لڑکیوں کے حقوق میں آواز بلند کیا کرتی تھیں جو گھر سے بھاگ کر پسند کی شادی کر لیتی تھیں۔ ان خاتون نے ہمیں باقاعدہ گالیاں دیں جب ہم نے ان سے یہ پوچھا کہ آپ کیا کریں گی اگر آپ کی بٹیا رانی بھاگ جائے گھر سے اور پسند کی شادی کر لے۔ گھٹن ، بدصورتی اور جہالت میں ڈوبی قوم کیا جانے محبت کتنا حسین احساس ہوتا ہے۔ ایسی قوم نے تو محبت کو دیکھ صرف بھونکناہے۔ بھونکنے پر کوئی پاپندی نہیں۔ لگائی بھی دی جائے تو عمل نہیں کروایا جا سکتا۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “جہالت بال کھولے ناچتی ہے….

  • 20-02-2016 at 1:02 am
    Permalink

    محمد شہزاد صاحب
    معاف کیجئے گا آپ نے جنرالایز کیا ہے کیا سارے ایک جیسے ہیں. اور اگر مسلمان برے ہیں تو اس میں اسلام کا کیا قصور ہے.
    یاد رہے
    Two wrongs can’t make one right

Comments are closed.