دائیں اور بائیں بازو کی تفریق کیوں ؟


wajahat’ہم سب‘ یوں تو ہم سب کا ہے۔ ارے بھائی، ہم سب نے تو یہ نام تجویز کرنے ہی میں یہ التزام کیا تھا کہ کوئی خود کو اجنبی نہ سمجھے۔ جو آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں۔ خانہ ما خانہ تست۔ یہ بھی برملا کہا کہ کوئی دائیں بازو سے تعلق کا دعویدار ہو تو ہم سب کو اپنا تکیہ بنا لے، کسی کو بائیں بازوسے رغبت ہو تو اسے اپنا ٹھکانہ بنا لے۔ کوئی قدامت پسند ہو، کوئی جدت پسند ہو، دیسی لبرل ہو، ولایت پلٹ اسلامسٹ ہو، ترقی پسند ہو، رجعت پسند ہو، کوئی سیکولر ہو، کوئی مذہب پسند ہو، ہم سب کو پاکستان کا اثاثہ سمجھتے ہیں۔ مقصد صرف ایک ہے کہ پاکستان میں دلیل سے مکالمے کی روایت پیدا ہو۔ اختلاف رائے کے لیے ضروری نہیں کہ مخاطب کو جاہل، غدار، متعصب، ملک دشمن ، مذہب بے زاراور کم عقل وغیرہ ہی قرار دیا جائے۔ ہم میں سے کسی عقل کل ہونے کا دعوی زیب نہیں دیتا۔ ہم میں سے کوئی ایسا نہیں کہ اس کی سوچ نے کبھی ٹھوکر نہ کھائی ہو۔ علم میں ہم سب کوتاہ ہیں۔ اگر ہم زندہ ہیں تو ہمارے لئے سوچنے سمجھنے اور اپنی غلطیاں دور کرنے اور نئی بات سیکھنے کی صلاحیت بھی زندہ ہے۔
مکالمہ ہمیں نئی بات سیکھنے کا موقع دیتا ہے۔ سیاست، سماج ، فلسفے میں ہمارے رجحانات اکتسابی ہوتے ہیں۔ ہم نے جو دیکھا، جو پڑھا اور جو برتا، اس کی روشنی میں ہماری رائے بنتی ہے۔ اور سینے پر ہاتھ رکھ کر سوچیے کہ ہم سے کون ایسا ہے جو دعوی کر سکے کہ اس نے سب کچھ دیکھ رکھا ہے، سب کچھ پڑھ رکھا ہے اور سب کچھ سمجھ رکھا ہے ۔ ایسا سوچنا خبط عظمت تو ہو سکتا ہے، علمی رویہ نہیں۔ ’ہم سب ‘ کے پلیٹ فار م پر ہم سب ایک دوسرے کی بات سنیں گے، اپنی کہیں گے اور مخاطب کو شرمندہ کرنا، لاجواب کرنا تو بہت آسان ہے۔ گالی دینے میں تو بس زبان ہلانا پڑتی ہے۔ لطف تو یہ ہے کہ اختلاف رائے کے باوجود مخاطب کا دل جیتا جائے۔ تبادلہ خیال میں وہ مرحلہ نہ آئے کہ ایک فریق دل برداشتہ ہو کر رخصت ہو جائے۔ بحث ہو رہی ہے تو علم کے کچھ دروازے کھلیں، سوچ کے کچھ نئے زاویے سامنے آئیں۔ پڑھنے والے کو معلوم ہو کہ محض ایک دوسرے پر چوٹیں نہیں ہو رہیں، مسئلے کو سمجھنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ہمارا ملک علمی اعتبار سے کچھ پیچھے ہے اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم نے علمی تبادلہ خیال ، تحقیق اور جستجو کے آداب نہیں سیکھے۔ علمی انکسار ہم میں کم ہے۔ اور ہمیں عام طور پر یہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ سچائی پر ہمارا اجارہ ہے۔ حقیقت ہمارے قبضے میں ہے ۔ اب دوسروں کو چاہیے کہ ہماری اطاعت کریں، ہمارے سامنے زانوئے تلمذ طے کریں۔ اور جو ہم سے اختلاف کی جسارت کرتا ہے وہ یا تو بدباطن ہے، یا بد نیت ہے ورنہ عقل سے عاری ہے۔

لیجئے یہ تو ہو گئیں کچھ روکھی پھیکی اور بے رنگ باتیں، واعظ کے لہجے میں۔ آئیے اب آپ کو ایک پیغام پڑھواتے ہیں۔ درویش کے نام یہ پیغام آیا۔ پہلی نظر میں تو محسوس ہوا کہ شاید کسی بھائی نے طنز کیا ہے۔ مگر دوبارہ سہ بارہ پڑھ کر انکشاف ہوا کہ عزیزمحترم سنجیدہ ہیں اور ان کا شکوہ دل سے نکلا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:

”وجاہت مسعود صاحب، آپ کی تحریریں بہت سے لوگوں کیلئے یقینا قابل ستائش ہیں لیکن برا نہ مانیں تو عرض کروں کہ ہمارے جیسے افراد آپ کی گفتگو سمجھنے سے ہی عاجز ہیںَ آپ نہ کہیں کارل مارکس کا حوالہ رہتے ہیں نہ لینن کاَ آپ نے تو لگتا ہے اپنے آپ کو ان زنجیروں سے بالکل آزاد کرلیا ہے۔ آپ داس کیپیٹول کا دوبارہ مطالبہ کیجئے تاکہ آپ کی بات میں کچھ وزن پیدا ہو سکے۔ ہمارا تو ایمان ہے کہ جو مارکس، لینن، اینجلز اور ماﺅ کہہ گئے ہیں، وہ حرف آخر ہے ۔ باقی (سب)کو صرف دیوانے کی بڑ ہی کہا جاسکتا ہے۔“

یہ پیغام دینے والے برادر بزرگ سے تیس برس پرانی نیاز مندی ہے۔ ان کا گلہ آپ نے ملاحظہ کر لیا۔ نام لینے کی ضرورت نہیں ۔ اسی طرح ہمارے ایک برادر عزیز اپنی چشم کشا تحریروں میں دائیں بازو کے ساتھ التزاماً اسلامسٹ لکھتے ہیں۔ گویا حضرت نے سیاسی اصطلاحات کی تاریخی تقسیم کو ارکان دین کا حصہ بنا رکھا ہے۔ غالب نے کہا تھا ، ’اصطلاحات اسیران تغافل مت پوچھ…‘۔ ایک صاحب کا پیغام ملتا ہے کہ ’تم لبرل ہو یا لیفٹسٹ؟‘پوچھا حضور، آپ کو اس شناخت پریڈ کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ فرمایا ’تجسس‘۔ دل میں آئی کہ حسرت موہانی کا مصرع لکھ بھیجا جائے۔صوفی مومن ہوں، اشتراکی مسلم … پھر خیال آیا کہ حسرت موہانی تو حریت اور درویشی کا نمونہ تھے۔ ان کے ’فاسقانہ‘ کلام سے جو زاویے نکلیں گے، کیسے سنبھالے جائیں گے۔ کیوں نہ مولانا صلاح الدین احمد کا سہارا لیا جائے۔ اود ھ کے ایک بزرگ لاہور تشریف لائے۔ انارکلی میں ’ادبی دنیا‘ کے دفتر پہنچے۔ مولانا صلاح الدین احمد سے تادیر ملاقات رہی۔ آخر میں دریافت کیا کہ ’مولانا، آپ کہاں سے ہیں؟ لہجے سے تو دلی کے معلوم ہوتے ہیں‘۔ مولانا صلاح الدین احمد نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا۔ ’حضرت، اب تو کہیں کے نہیں رہے‘۔

جب اس طرح کی صور ت سامنے آتی ہے تو بظاہر بحث بری طرح الجھ جاتی ہے۔ تاہم امید کا پہلو یہ ہے کہ ایسی فکری افراتفری ہی سے اجتماعی شعور میںبالغ نظری پیدا ہوتی ہے۔ پختہ سوچ وہی ہے جو اپنے مطالعے، اپنے مشاہدے اور اپنے غور و فکر سے جنم لیتی ہے۔ دوسروں سے سیکھنا اور چیز ہے اور دوسروں کی سوچ کے اینٹ پتھر اٹھا کر اپنی عقل پر رکھ لینا اور ہے۔ دوسری صورت میں جلد یا بدیر سر جھٹک کر دوبارہ سے گزشتہ حالت کی طرف رجوع کر لیا جاتا ہے۔ آج کی نشست میں ارادہ ہے کہ دوستوں کے ساتھ دائیں اور بائیں بازو کی اصطلاحات پر کچھ بات ہو جائےکہ ان اصطلاحات پر ہمارے ہاں بہت الجھاﺅ پایا جاتا ہے۔

دائیں اور بائیں بازو کی اصطلاحات انقلاب فرانس کی دین ہیں۔ 20 جون 1789 ءکی صبح فرانس کے بادشاہ لوئی چہاردہم نے اسمبلی کے دروازے بند کر کے پہرہ بٹھا دیا تھا۔ عوامی نمائندے ایک ٹینس کورٹ میں جمع ہوئے اور آئینی حکومت کا مطالبہ کیا۔ شرفا اور علمائے کرام تو بادشاہ سلامت کے ساتھ تھے۔ ٹینس کورٹ میں جمع ہونے والے عامی اور اجلاف بھی باہم پوری طرح متفق نہیں تھے۔ کچھ بادشاہت میں اصلاحات چاہتے تھے اور کچھ مکمل جمہوری حکومت کا قیام۔ ٹینس کورٹ کے اس تاریخی اجلاس میں بادشاہت کے حامی اسپیکر کے داہنی طرف بیٹھے اور ہیئت مقتدرہ کے مخالفوں نے اسپیکر کے بائیں ہاتھ کی نشستیں سنبھالیں۔ آج تک دنیا کی ہر پارلیمنٹ میں حکومتی ارکان اسپیکر کے دائیں طرف اور حزب اختلاف بائیں طرف بیٹھتی ہے۔ غریب کارل مارکس تو کہیں تیس برس بعد 1819ءپیدا ہوا۔ کمیونسٹ مینی فیسٹو ستر برس بعد 1949ءلکھا گیا تھا۔ کارل مارکس کے افکار سے اتفاق رکھنے والوں کو بائیں بازو کا نام اسی طرح دیا گیا تھا جیسے ہمارے ملک میں معزز کالم نگار اپنے مخالفین کو ’لبرل فاشسٹ‘ کہتے ہیں۔ تاریخی طور پہ بائیں بازو سے وہ سیاسی گروہ مراد لیا جاتا ہے جو اقتدار ، طاقت اور رسوخ کے رائج ڈھانچوں سے انحراف کرے۔ محض اشتراکی افکار سے وابستگی بائیں بازو کی تہمت کی سزا وار نہیں۔ بایاں بازو ہونے کا اعزاز سائبیریا کے برف پوش عقوبت خانوں میںحرف انکار بلند کرنے والوں کے حصے میں آئے گا ،ا سٹالن کے مقتدر ٹولے کو یہ منصب زیب نہیں دیتا۔ بائیں بازو کے لقب کا سزاوار بریزنیف نہیں، سخاروف تھا۔ ’بائیں بازو‘ کی اصطلاح کا سیاسی مرکزیت اور معاشی مداخلت کے اس نمونے سے کوئی تعلق نہیں جو بیسویں صدی میں اشتراکی بلاک میں پیش کیا گیا۔ اسی طرح دائیں اور بائیں بازو کی تقسیم کا سیکولرازم سے کوئی بدیہی تعلق نہیں۔ امریکہ اور برطانیہ میں دائیں اور بائیں بازو کی تمام سیاسی جماعتیں سیکولر بندوبست سے وابستہ ہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس میں پنڈت نہرو بائیں بازو کے رجحانات رکھتے تھے اور ولبھ بھائی پٹیل دائیں بازو کی طرف جھکاﺅ رکھتے تھے۔سیکولر ہونا اور بائیں بازو سے تعلق ہونا دو الگ الگ معاملات ہیں۔

بائیں بازو کو مذہب کی مخالفت سے منسوب کرنا بھی تاریخی ارتقا کا حصہ ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ کی قیادت میں سرمایہ دار بلاک نے اشتراکی بلاک کے خلاف سرد جنگ میں یہ مقدمہ قائم کیا تھا کہ اشتراکیت مذہب کی دشمن ہے چنانچہ جان فاسٹر ڈلس اور جوزف میکارتھی دین کے محافظ قرار پائے۔ 1954ءمیں امریکی ڈالر پر عقیدے کا اعلان کیا گیا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب پاکستان میں مذہبی حکومت کے داعیوں کا مغرب کے سرمایہ دار حلقوں سے اشتراک ہوا۔ پنجاب میں ’انجمن تحفظ حقوق زمینداراں تحت الشریعہ‘ قائم ہوئی۔ رسالہ در مسئلہ زمین لکھا گیا نیز ’سمر قند و بخارا کی خونیں سرگزشت‘ کے ہزاروں نسخے بڑے پیمانے پر تقسیم کئے گئے۔ لطف یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ میں یہ زمانہ مذہبی اقدار سے برگشتگی کا عہد تھا۔ جنسی آزادی ، ہپی ثقافت اور طالب علموں کی بغاوت کی تحریکیں یورپی تاریخ کے انہی برسوں میں پھلی پھولیں۔ کبھی محترم الطاف حسن قریشی اور بھائی مجیب الرحمن شامی کی اس زمانے کی تحریریں نکال کے پڑھئے گا جب رونلڈ ریگن افغان مجاہدین کو بانیان امریکہ کے ہم پلہ قرار دے رہا تھا۔ ربع صدی پہلے سرد جنگ ختم ہو گئی۔ اب رچرڈ نکسن کی طرح کوئی امریکی رہنما جمہوریت کو مذہب پسندی سے منسلک نہیں کرتا۔ عالمی سیاسی کشمکش کا وہ عہد تمام ہوا۔ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوا۔ ہماری ہیئت مقتدرہ نے مذہبی سیاست کو قومی تشخص کے برخود غلط نمونے میں شامل کر کے جمہور دشمنی کے ہتھیار میں بدل دیا۔ تمام نظریاتی سیاست کی طرح مذہبی سیاست بھی بالآخر تشدد اور مسلح انتہا پسندی پر ختم ہوتی ہے۔ دہشت گردی کا یہ نسخہ ہم عصر دنیا سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ چنانچہ پاکستان میں دو دہائیوں سے ایک کشمکش جاری ہے۔ ہمارے کچھ مہربان دوست جمہوریت سے عداوت رکھتے ہیں اور ہمارے مذہب پسند احباب جمہور دشمن ہیئت مقتدرہ کی چھتر چھایا تلے سکون محسوس کرتے ہیں۔ دوسری طرف ہم سڑکوں، کارخانوں اور روزگار کی صورت میں دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کا عزم بھی رکھتے ہیں۔ طریقہ کار اور نصب العین میں یہ فاصلہ ہی ہمارے فکری تشنج کا سبب ہے۔ ایک طرف علمی ترقی، معاشی خوش حالی اور سماجی ہم آہنگی کا خواب ہے جو مادی طریقہ کار کا تقاضا کرتا ہے۔ دوسری طرف ہم فکر، سیاست اور معیشت پر وہی اجارہ چاہتے ہیں جسے پاکستان میں ریاستی نظریے کا چولا پہنایا گیا ہے۔ اس میں کھانے پینے، رہن سہن اور لباس کی غیر اہم تفصیلات شامل کرلی گئی ہیں جن کا مقصد غیر ضروری اشتعال انگیزی کے سوا کچھ نہیں۔پاکستانی شہری، دائیں بازو سے تعلق رکھتے ہوں یا بائیں بازو کے رجحانات، پاکستان کا سرمایہ ہیں۔ جمہوری نظام میں دونوں زاویوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جمہوریت کا بنیادی اصول فیصلہ سازی اور وسائل میں شہریوں کی وسیع تر شرکت ہے۔ آمریت استخراج اور اجارے کا نام ہے۔ دائیں اور بائیں کا فیصلہ آپ خود کیجئے۔ گورکی نے کہا تھا۔ ’تہذیب کے علمبردارو، تم لکیر کے کس طرف کھڑے ہو‘۔

پرویز مشرف نے اپنی آمریت میں روشن خیالی کا مردہ بھی خراب کیا۔ ماننا چاہیے کہ ہمارے ملک کے تعلیم یافتہ طبقے نے بڑی حد تک ٹھوکر کھائی اور حضرت کی حاشیہ نشینی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ روشن خیالی کا تعلق مسٹر یا ملا ہونے سے نہیں۔ آمریت کی آرزو اور حمایت تاریک خیالی ہے۔ یہ مطالبہ بادہ احمر سے فروغ پا کر کیا جائے یا عربی لغت میں اس کا اظہار کیا جائے۔ خیال کی روشنی یا تاریکی کا فیصلہ وضع قطع کی بنیاد پر نہیں ہو گا۔ روشن خیالی کے پانچ بنیادی اصول ہیں …آزادی ، انصاف، علم، محبت اور تخلیق۔ جب تک ایک ماں اپنے بچے کو پالتی رہے گی، ایک ڈاکٹر انسانوں کو کسی دکھ سے نجات دلانے کے لئے رات گئے تک لیبارٹری میں تحقیق کرتا رہے گا، شاعر معصوم بچے کی طرح خوبصورت خیال کا تعاقب کرتا رہے گا۔ محبت کرنے والے ایک دوسرے کی بانہوں میں جھولنے کے لئے لپکتے رہیں گے، سکھ نوجوان شعلوں کی طرح بھڑک کر غاصب جنرل ڈائر کی بندوقوں کو للکارتے رہیں گے۔ جب تک نذیر عباسی اور حمید بلوچ کسی سرکاری باگھ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی سیاسی وابستگی کا اعلان کرتے رہیں گے۔جب تک آزاد خیال فلسفی ہسپانوی احتساب کی عدالتوں میں، جمہوریت پسند اشتراکی عقوبت گاہوں میں اور یہودی پروفیسر نازی اذیت گاہوں میں ایذائیں سہتے رہیں گے، گورو تیغ بہادر اور سرمد مغل دربار میں سزائیں پاتے رہیں گے، دنیا میں روشن خیالی کا چراغ جلتا رہے گا۔ مگر ہم تو ایک طرفہ کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ ہمارے بہت سے مہربان کالم نویس محنت شاقہ سے قوم کی جڑوں میں پانی ڈال رہے ہیں۔ خاکم بدہن، ان کی امیدیں بر آئیں تو دایاں اور بایاں بازو پہچاننے کے مواقع بہت آئیں گے۔ دھرا کیا ہے زبانی پیار کے جھوٹے فسانوں میں۔ ابھی تو بینر پہ حرف خوشامد لکھنے کے دن ہیں، ابھی دیوار پر لکھی ہوئی تحریر کا اعلان باقی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “دائیں اور بائیں بازو کی تفریق کیوں ؟

  • 19-02-2016 at 10:47 pm
    Permalink

    بڑے اہم سوالات اٹھائے۔ کوشش کرتے ہیں کہ اس حوالے سے ہمارا بیانیہ بھی واضح آئے۔ آخر یہ بحثیں کیوں چھیڑی جاتی ہیں، اختلاف ہے کس بات کا۔۔۔۔۔۔ اس پر بات ہونی چاہیے اور کھل کر ہونی چاہیے تاکہ بہت سے دوست جن کے زہنوں میں یہ سوال ہے، انہیں اس کا جواب مل سکے۔ دیکھیں، اللہ نے ہمت دی تو اپنا نقطہ نظر واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

  • 20-02-2016 at 5:11 pm
    Permalink

    “ہم سب” میں “وہ سب” شامل ہیں جو کسی بھی ازم کو سبز پرچم ہلالی میں لپیٹ کر پیش کرنے کا ہنر جانتے ہوں اگر سچ اور تاریخ جوکہ ظاہر ہے کسی پرچم میں لیپٹنے کا محتاج نہیں ہوتے اس لیے وہ کچھ ایڈیٹ کے ساتھ شاہع تو پوجاتے ہیں لیکن وہ وجاھت وصاحب کے وال پہ جسطرح دوسرے مضامیں پوسٹ کیے جاتے پیں یہ مضامیں پوسٹ نہیں کیے جاتے بلکہ اک دن بعد ویب سایٹ سے بھی غاہب ہوجاتے ہیں…اب سچ کو ہم کسی پرچم میں لپیٹ کے پیش کرنے سے قاصر ہے

    • 20-02-2016 at 6:34 pm
      Permalink

      سر کیا کسی بھی ادارے کو چلانے والے کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے ادارے میں چھپنے والی ہر شے کو اپنی وال پر شیئر کرے؟

      ایسی کوئی مثال آپ دے سکیں تو سبحان اللہ۔ بلکہ جزاک اللہ۔

      اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو یہ اس کی جذباتیت اور بچکانہ منطق ہے۔

      اور اگر آپ اس دعوے کی مثال بھی دے سکیں کہ کوئی تحریر چھپنے کے بعد ڈیلیٹ کی گئی ہو، تو کیا کہنے ہیں۔ آپ غالباً یہ جاننے سے بھی قاصر ہیں کہ کوئی بھی چیز فرنٹ پیج پر مستقل نہیں رہتی ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ نیچے جا کر بالآخر مصنف اور کیٹیگری کے آرکائیو میں چلی جاتی ہے۔

Comments are closed.