سیکولرازم اور’مسلمانی‘ غلط فہمیاں


Israr aHmd khanسیکولرازم کا سادہ سا مفہوم ہے۔ مذہب تمہارا ذاتی شوق، مشغلہ، شغل تو ہوسکتا ہے مگر اتنی’سیریس‘ چیز نہیں کہ ریاستی اہم معاملات میں اسے عمل دخل کی اجازت دی جائے بلکہ سیکولرازم کی نصیحت،مشورہ یہی ہو گا کہ ذاتی زندگی میں بھی مذہب جیسی’توہم پرستانہ‘ چیز جتنی کم رہے اتنا ہی اچھا ہے تو پھر سیکولرازم سے سوال ہوا نظام ریاست کیسے چلایا جائے؟ تو اس کا جواب ملا جمہوریت سے۔

جمہوریت کے قانون،پالیسیاں بنانے کے طریقوں میں کہیں بھی ماخذ مذہب نہیں۔کوئی دیوانہ شراب کو بیچنے پر پابندی لگوانے کا بل لے آئے مذہبی حوالے کے ساتھ تو نمائندہ جمہور کے ووٹوں کی تعداد اس کا وہی حشر کرے گی جو حال ہی میں پاکستانی پارلیمنٹ میں ہو چکا ہے-نمائندوں نے اسے معیشت کو برباد کرنے کی سازش کہہ کر کوڑے دان میں پھینک دیا- اس بل کا حوالہ قرآن ،سنت تھا یا بائبل یہ سرے سے غیراہم سوال ہے-ان معصوموں کی سادگی پر صرف ہنسا جاسکتا ہے جو لوگ عمرؓ, علیؓ سے سیکولرازم ،جمہوریت ثابت کرنے میں لگے ہیں یا تو وہ بہت سادہ ہیں یا بہت چالاک۔ وہ تو اس سے بھی بڑے لطیفے ہیں جو سیکولرازم کی کامیابی کو مولانا مدنی کے نظریے کی کامیابی بتا رہے ہیں مولانا مدنی نہ ہوا جارج ہالیوک ہو گیا۔ مزید آگے آئیں سیکولرازم کسی کے لیے لاشعوری الحاد ہے اور کسی کے لیے شعوری -گو کہ سیکولرازم مکمل الحاد نہیں لیکن آدھے الحاد سے پورے الحاد کا سفر ضرور ہے۔اگر کل کو ساری کی ساری دنیا مکمل سیکولر / ملحد ہو جائے تو یہ بھی عین ممکن ہے بلکہ یہی اس سفر کی منزل ہے ۔سیکولر ازم کا بنیادی عقیدہ یہی تھا کہ پرسنل خدا رکھو نہ رکھو تمہاری مرضی ہے مگر اجتماعی خدا کوئی نہیں ہو گا۔ یعنی آدھا الحاد۔ اب پرسنل خدا رکھنے کا مسئلہ یہ ہے کہ اجتماعی معاملات میں جگہ جگہ اس کا حوالہ آجاتا ہے اب اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ پرسنل خدا کو بھی کھڈے لائن لگا دیا جائے ،مغرب اب اسی چکر میں ہے جو کہ سیکولرزم کا فطری سفر اور ارتقا ہے۔اسی لیے کوئی کسی بھی قسم کی کتاب لکھتا ہے کہ ’خدا نہیں ہے‘ یا ’ایمان کا اختتام’ یا’مذاہب کا اختتام‘ یا ’شیطانی ورسس‘ قسم کی تو اسے میڈیا بہت پروجیکشن دیتا ہے اور بیسٹ سیلر بنا کر چھوڑتا ہے۔یہ پروجیکشن اتفاقیہ نہیں اسی منزل کی طرف سفر ہے۔- اب یہاں سے کیمرا گھما کر پاکستان کی طرف موڑ دیں-یہاں ہمارا سفر آدھے الحاد تک پہنچا ہے – ابھی یہ طے پارہا ہے کہ اجتماعی معاملات میں خدا نہیں ہونا چاہیے۔ پریکٹیکلی تو یہ ہو چکا ہے اب اسے ڈیکلیئر بھی کروانے پر زور ہے۔اسی سین میں آپ کو غامدی میڈیا پر نظر آجائے گا جو دین کو اجتماعی معاملات سے باہر نکالنے کی دعوت دے رہا ہے -آپ کو مذہبی، سیاسی’دانشوروں’ کا ایک جم غفیر بھی اسی طرف بلاتا نظر آتا ہے۔

ہمارا’ارتقا‘ ابھی یہاں تک پہنچا ہے-آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔


Comments

FB Login Required - comments

8 thoughts on “سیکولرازم اور’مسلمانی‘ غلط فہمیاں

  • 19-02-2016 at 11:51 pm
    Permalink

    ایک عام قاری کسی بهی تحریر میں تنقید کے بعد تجویز کا منتظر ہوتا هے، اس تحریر میں نا صرف تجویز کی کمی تهی بلکہ ارتقاء اور سیکولرازم کو من چاہا معنی دے کر پیش کیا گیا جسے عام الفاظ میں intellectual dishonesty کہا جاسکتا هے.

  • 20-02-2016 at 1:12 am
    Permalink

    اسرار صاحب نے بلکل واضح کر دیا ہے کہ سیکولرازم فیل ہو گیا ہے. اب اگر کسی کو یہ intellectual dishonesty لگے تو مجھ سے رابط کرسکتے ہیں

  • 20-02-2016 at 4:14 pm
    Permalink

    اس ملک میں “اسلام” اور “اقبال” تو پہلے ہی مظلوم تھے کہ ہر کوئی اپنی مرضی کا نقاب ان پر منڈھ کر ان کی تعریف کرنا یا کوسنے دینا شروع کر دیتا تھا. اب خیر سے سیکولرزم بھی اسی صف میں شامل ہوگیا ہے. نہ تو اجتماعی خدا کو ریاستی قوت کے ذریعے لوگوں پر تھوپنا مذہب کا مطمح نظر ہے، نہ ہی الحاد پر لوگوں کو مجبور کرنا سیکولرزم کا مقصد. یہ محض مذہب/ نظریات کی تجارت اور اسے بنیاد بنا کر عوام کی امنگوں کے علی الرغم ان پر سواری کرنے کے شوقینوں کے تراشے ہوۓ ڈھکوسلے ہیں. آپ اسلام کی کسی بھی تعبیر کے نام لیوا ہوں، آپ کا اصل کام دعوت الی اللہ ہے. اور یہ کام ہو ہی ایک سیکولر سماج میں سکتا ہے. ورنہ سعودی عرب میں شیعوں پر، ایران میں سنیوں پر وہ قدغنیں نہ ہوتیں جو یورپ اور امریکہ میں مفقود ہیں.

  • 20-02-2016 at 9:25 pm
    Permalink

    دعوت الی اللہ ہے ہی یہی کہ سیکولر سماج کا خاتمہ اور اسلامی معاشرے کا قیام – کاؤنٹر- فورسز میں اس کے کوئی شرکیہ مذہبی ریاست ہے یا لا دین / سیکولر ریاست اس سے فرق نہیں پڑتا

    معاشرتی ، مورال ویلیوز معاشرے پر مذہب کی ہی ” تھونپی ” جائیں گی یہی مذہب کا مطمع نظر ہے اور اس کے علاوہ مذہب ہے کیا –

  • 22-02-2016 at 9:12 am
    Permalink

    بھائی صاحب، لوگ اپنی مرضی سے ہی اپنے اوپر ’تھوپیں‘ گے نا یا کسی اسرار احمد خان کے ہاتھ پر بیعت کر لیں تاکہ وہ باہر سے آ کر تھوپے؟ دعوت الی اللہ کا یہی مطلب ہے کہ اسرار احمد خان سماج کو اپنی مذہبی تعبیر کی دعوت دے گا۔ جن مذہبی دانشوروں پر آپ کو بہت ہنسی آ رہی ہے، ان کو اگلا حل بھی تو بتائیے یا پھر ہمیں سمجھائیے تاکہ ہم بھی آپ کے ساتھ لطیفوں کا مزہ لے سکیں۔ یعنی آپ مذہبی بنیادوں پر سیاست کرنے والوں پر بھی ہنس رہے ہیں تو پھر خود ہی بتائیے کہ سماج میں اس کے علاوہ مذہبی تعبیر کو رائج کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ یہاں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ سیکولر سماج کے خاتمے کے لئے کوئی اسرار احمد خان کہہ رہا ہے کہ میری بات مان لو تو سارا معاشرہ اسلامی ہو جائے گا۔ اب جو نہیں مان رہے ان پر وہ دیوانہ ہنس رہا ہے۔

  • 22-02-2016 at 6:18 pm
    Permalink

    اگل حل طلب کے بعد ہی بتایا جاہے گا پہلے لوگوں کو یہ تو سمجھا لیں سیکولر ازم کی دعوت نبیوں کی دعوت نہیں تھی – سیکولر ازم بھی تو مرضی تھوپنے کا نام ہی ہے مذہبی ریاست کی طرح — آزادی کا خیالی تصّور تو بیچوں(بیچس) پر بھی میّسر نہیں ہوتا

  • 22-02-2016 at 10:24 pm
    Permalink

    سمجھانے، قائل کرنے اور تھوپنے وغیرہ کے فرق لغت میں تلاش کریں۔ نبیوں کی دعوت آپ سے ہزار گنا بہتر انداز میں قرآن اور الہامی کتابوں میں محفوظ کر دی گئی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ آپ اپنی تعبیر تھوپنے کے لئے راہیں ہموار کر رہے ہیں لیکن جب آپ پر یہ ظاہر کیا گیا تو اب آپ کہتے ہیں کہ سیکولرازم بھی مذہبی ریاست کی طرح اپنی مرضی تھوپنے کا نام ہے۔ اپنے پچھلے تبصرے میں آپ مذہبی تعبیر کو معاشرے میں تھوپنے کا دفاع کر رہے تھے۔ اس تبصرے میں اب آپ ایک قدم پیچھے ہٹ کر کسی اور ہی طرف نکل گئے ہیں۔ بھائی آپ کسی جامعہ میں طالبعلموں کے سوالوں کا جواب تو نہیں دے رہے۔ اپنا مقدمہ پیش کر رہے ہیں تو اس کے سقم دور کیجئے اور یہ اسلوب پر توجہ دینے سے ہی ممکن ہے۔ صرف اصرار سے تو سنجیدہ سماجی مکالمہ ممکن نہیں۔

  • 25-02-2016 at 9:39 pm
    Permalink

    سیکولر ازم کا مرضی تھوپنا سمجھانا ہے اور مذہب کا سمجھانا تھوپنا ہے- تو پہلے کمینٹ میں تھوپنا طنزیہ تھا ” ” میں –
    دوسرے تھوپنے سے مراد قوانین تھا جو ہر ریاست کا کام ہے چاہے مذہبی ہو یا سیکولر

    رہا باقی تبصرہ تو وہ ان دونوں باتوں کو غلط سمجھنے کی وجہ سے تھا

Comments are closed.