پھول والوں کا میلہ اجڑ گیا ….


 

shehnilaحکومت نے لاہور ادبی میلے سے غالب اور ضیا محی الدین کو نکال باہر کیا۔۔ کئی ہفتوں سے میلے کا انتظار تھا۔ ویسے تو میلے میں شامل تمام ایونٹس ہی ایسے تھے کہ ’ہر اک پر دم نکلے‘ مگر جس کا بے تابی سے انتظار تھا وہ ضیا محی الدین صاحب کی آواز میں غالب کا کلام تھا۔ میلے کو 3 دن سے کم کر کے 2 دن کا کر دیا گیا۔ ظاہر ہے بہت سارے ایونٹس کو شیڈول میں سے نکالنا پڑا ہوگا۔ کن ادبی شخصیات نے اس بنا پر میلے میں شرکت سے انکار کیا اور کس کس سے معذرت کی گئی، اس کا پتہ بھی وقت کے ساتھ چل جائے گا۔
دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے حکومت اپنی مرضی کے معاملے میں تو آہنی ہاتھوں سے نمٹ لیتی ہے لیکن جہاں دلچسپی نہ ہو وہاں معاملہ ہی لٹک جاتا ہے۔ ورنہ ایک دن پہلے انہی سیکیورٹی خدشات کی موجودگی میں استنبول کے میئر پورا لاہور گھوم کر گئے ہیں نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے تو میٹرو میں بھی سفر کیا ، ظاہر ہے حکومت نے دہشت گردی کے خدشے سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا تبھی تو میئر استنبول کا دورہ کامیاب ہو پایا۔
کیا ایسا ادبی میلے کے لیے ممکن نہیں تھا؟
ایسا پہلی بار نہیں ہوا جنوری کے مہینے میں بھی حکومت پنجاب نے دہشت گردوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے تھے اور سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اسکولوں میں چھٹیاں کر دی گئی تھیں، اور بہانہ شدید سردی کو بنایا گیا ، لیکن شاید قدرت بھی چھوٹے میاں کے فیصلے میں ان کے ساتھ نہیں تھی۔ جس دن سے ’سردیوں کی دوبارہ چھٹیاں ‘ شروع ہوئیں اسی دن لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر شہروں میں سورج نے اپنا چہرہ مبارک لوگوں کو دکھایا۔ سردی کی لہر میں کمی آ ئی اور چھٹیوں کے جواز پر سے کمبل اتر گیا۔
پھر لاکھ رانا و¿ں اور چودھریوں نے معاملہ سنبھالنے کی کوشش کی لیکن سوشل میڈیا سے شروع ہونے والی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔ واٹس ایپ پر اسکولوں کی انتظامیہ اور والدین کی جانب سے بنائے گئے اکاو¿نٹس پر باوثوق ذرائع سے ایک دوسرے کو بتایا گیا کہ اسکول سردیوں کی وجہ سے نہیں دہشت گردوں کی دھمکیوں کی وجہ سے بند کیے گئے۔ ایک واٹس ایپ پیغام میں تو یہ بھی بتا دیا گیا کہ 13 خودکش بمبار پنجاب میں پھٹنے کو بے قرار ہیں۔ ایک ہفتے کی چھٹی کی گئی کہ اس دوران خودکش بمبار تنگ آ کر جیکٹ کسی نہر میں پھینک دیں یا پھر جنگل و بیاباں میں جا کر خود کو اڑا دیں، یوں سیکیورٹی خطرات ختم ہو جائیں گے۔
حکومت کے جھوٹ کے تابوت میں آخری کیل اسکول مالکان کی پریس کانفرنس نے ٹھونکی۔ سیکیورٹی فراہم کرنا سرکار کی ذمہ داری ہے اسکول مالکان کی نہیں، لہٰذا ناکافی سیکیورٹی اقدامات پر چھاپوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔
پہلے حکومتوں نے روٹی، کپڑا اور چھت فراہم کرنے کی ذمہ داری سے پہلو تہی اختیار کی۔ یہ معاملات ایسے تھے کہ ان کے لیے حکومت کے ہاتھ پاو¿ں ہلانے کا انتظار نہیں کیا جا سکتا۔ آخر روٹی بھی کھانی ہے،تن پر کپڑا بھی ضروری ہے اور کم از کم رات کو سونے کے لیے تو چھت کی ضرورت ہے۔ لہٰذا جو لوگ مجبور اور بے آسرا تھے انہوں نے بھی روٹی، کپڑا اور مکان کا بیڑا اپنے ذمے لے لیا۔ حکومت کی جان چھوٹی
دہشت گردی کے اڑدھے نے پھن پھیلائے تو حکومت ’اپنوں ‘ کو تو ناراض نہیں کر سکتی۔ لہٰذا جسے جان پیاری ہے وہ اپنا انتظام خود کرے۔
پنجاب حکومت جس انداز میں اپنی ذمہ داریوں سے “عہدہ برآ “ہو رہی ہے اسے ڈنگ ٹپاو¿ کے علاوہ کیا کہا جا سکتا ہے ؟


Comments

FB Login Required - comments

شہنیلہ فرحان

شہنیلہ فرحان دنیا ٹی وی میں اسسٹنٹ ایگزیکٹیو پروڈیوسر ہیں۔روح اور پیٹ دونوں کے لیے بہترین غذا کی دلدادہ ہیں۔ انہیں سیاحت پسند اور کتابوں سے دوستی ہے۔

shehnila-farhan has 2 posts and counting.See all posts by shehnila-farhan

2 thoughts on “پھول والوں کا میلہ اجڑ گیا ….

  • 19-02-2016 at 11:34 pm
    Permalink

    خوش آمدید

  • 20-02-2016 at 10:49 am
    Permalink

    جمہوری معاشروں میں ریاست شہریوں کے حقوق کی ذمہ دار ہوتی ہے لیکن پاکستانی ریاست نے اپنی ترجیحات بدل رکھی ہیں۔ اب اسے ممتازقادری، اکرم لاہوری، مُلا لدھیانوی، مسعود اظہر اور ان جیسے دیگر افراد کی سلامتی کی فکر ہے۔ حافظ سعید ریاستی اداروں کے جلو میں ادھر سے ادھر گھومتا ہے۔ اسے تو کوئی کچھ نہیں کہتا لیکن ریاست کتاب اور قلم کی حفاظت نہیں کرسکتی۔

Comments are closed.