انسانی دماغ کا صرف 10 فی صد استعمال؟ (دوسرا حصہ)


waqar ahmad malikدماغ کا دس فی صد استعمال کا مغالطہ تو بعد میں زباں زد عام ہوا، یہ معاملہ کسی زمانے میں سنجیدہ حلقوں میں زیر بحث رہا۔

دماغ کے کچھ حصوں کو باقاعدہ خاموش حصے کہا جاتا تھا بالخصوص فرنٹل لوب اور پیریٹل لوب کو ۔ اور شاید اس کی وجہ میں اہم کردار فانیئس گیج کا مشہور زمانہ واقعہ ہو سکتا ہے جس نے کئی دہائیوں تک دماغ کے متعلقہ ماہرین کو الجھائے رکھا۔

گیج ، ایک ریلوے مزدور تھا اور ایک دن ایک حادٹے کے نتیجے میں ایک راڈ جس کی لمبائی ایک میٹر اور چوڑائی تین سینٹی میٹر تھی اس کے سر کے بائیں حصے میں گھسا اور دوسری طرف کی آنکھ کو تباہ کرتے ہوئے کان کے نزدیک سے نکلا۔ گیج اس حادثہ کے بعد بھی گیارہ سال تک زندہ رہا۔

اس طرح کے کچھ واقعات نے ماہرین کو یہ یقین دلا دیا کہ شاید دماغ کے کچھ حصے خاموش حصے ہوتے ہیں اور اسکی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہر انسان دماغ کا بھرپور استعمال نہیں کرتا۔

جن حصوں کو خاموش حصے تصور کیا جاتا رہا ، وہ حصے اتنے اہم ہیں کہ انسان کی شناخت کہلاتے ہیں۔ دلائل، منصوبہ بندی ، حرکت، طویل مدتی یادداشت کا مرکز ہیں ۔

1875 میں علم نفسیات کی بنیاد پڑی ۔ لیکن شروعات میں فرائیڈ کا نکتہ نظر چھایا رہا جس کی بنیاد کچھ مفروضے تھے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں نیورو سائیکالوجی کی جانب پیش رفت ہوئی۔ آلات سے دماغ کے کچھ حصے بعض اوقات کام کرتے دکھائی نہیں دیتے تھے ۔ ایک تو آلات بہت محدود صلاحیت رکھتے ہیں اور دوسرا اس بات کا ابھی واضح انکشاف نہیں ہوا تھا کہ دماغ کے مختلف حیاتیاتی مراکز ، مختلف امور کے لیے سپیشلائزڈ ہیں۔ اور Parse Coding کا علم تو سرے سے ہی نہیں تھا۔

44307_oآج حیاتیاتی دماغ ہمارے سامنے ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ہر انسان دماغ کا سو فی صد استعمال کرتا ہے ۔ اس سو فیصد استعمال کے لیے توانائی کا پورا ہونا ممکن نہیں اس لیے ارتقائی سفر میں دماغ نے Parse Coding سیکھ لی ۔ یعنی کسی ایک لمحے میں ایک سے سولہ فیصد حصے کو جگمگاتا رکھنا۔ لیکن اگلے ہی لمحے کچھ اور حصے متحرک ہوں ۔ مختصرا انتہائی پیچیدہ بات ہے اور اس پیچیدگی کو دماغ نے زندہ رہنے کے لیے وقت سے ساتھ ساتھ اپنایا ہے یہ بہت حیرت انگیز بات ہے۔

آگ کی دریافت اور اس پر کھانا پکا کر کھانے نے ہمیں باقی انواع پر ایک بہت بڑی جست سے نواز دیا ۔

تصور کیجیے کہ ایک بندر کو روزانہ آٹھ گھنٹے کھانا پڑتا ہے تب کہیں جا کر مطوبہ توانائی پوری ہوتی ہے ۔

تمام انسانوںمیں دماغ اپنی حیاتیاتی ساخت میں کافی حد تک ایک سا ہے ۔ اور تمام انسان دماغ کا سو فیصد استعمال کرتے ہیں ۔

لیکن یہاں سوال پیدا ہو تا ہے کہ آخر فرق کہاں ہیں کیونکہ یہ ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ انسان ذہانت میں یکساں نہیں ہوتے ۔

کیوں نہ ہم دنیا کے ایک ذہین انسان کے دماغ کا مطالعہ کریں۔

آئن سٹائن کا دماغ ان کے مرنے کے بعد محفوظ کر لیا گیا۔

ہاروے نے آئن سٹائن کا دماغ ان کے مرنے کے سات گھنٹے بعد نکال لیا تھا۔بعد میں ان کے دماغ کے 240 ٹکڑے کیے گئے ۔

کیا اس اقدام کے لیے آئن سٹائن سے اجازت لی گئی تھی ، تحقیق بتاتی ہے کہ ایسی کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی۔ جب آئن سٹائن کو دفنایا گیا تو کسی رشتہ دار کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کا دماغ نکال لیا گیا ہے ۔ 1955میں دماغ نکالا گیا اور اس راز سے پردہ 1978میں اٹھا۔

بہر حال ہاروے کے اس اقدام کی اخلاقی گنجائش پر بحث ہمارا موضوع نہیں ہے ۔

آئن سٹائن کے دماغ کو نکالنے کے بعد اس کا وزن کیا گیا ، جو 1230 گرام تھا۔ ایک عام جوان انسان کے دماغ کا اوسط وزن 1400گرام ہوتا ہے لیکن یہ کوئی ایسی حیرت انگیز بات نہیں ہے ۔ آئن سٹائن 76برس کی عمر میں فوت ہوئے اور اس عمر تک دماغ اس قدر سکڑ چکا ہوتا ہے۔

3307953_o

1980 میں گلیل خلیوں Glial cellsکے حوالے سے تحقیق کی گئی ۔ ان کے دماغ کا موازنہ گیارہ اور افراد کے نمونوں سے کیا گیا کہ اتنے ہی نمونے دستیاب تھے۔ ان خلیوں کی تعداد میں واضح فرق تھا۔ آئن سٹائن میں یہ خلیے زیادہ تھے۔ یہ خلیے دماغ کی خوراک کے ذمہ دار ہیں، نیوران میں مائلن جو Axon میں سگنل کی حفاظت اور اس کو تیز کرنے کی ذمہ دار ہے کو بناتے ہیں ۔ کیا اس فرق کی وجہ سے آئن سٹائن ذہین تھا؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کے دماغ کا جن دماغوں سے موازنہ کیا گیا وہ ہم عمر نہیں تھے ۔ موازنہ کیے جانے والے دماغوں میں عمر میں سب سے بڑا چونسٹھ سال کا تھا۔ جبکہ ان خلیوں کی تقسیم عمر کے ساتھ بڑھتی رہتی ہے ۔

ایک بہتر تحقیق ہمارے پاس 2013 میں سامنے آتی ہے ۔ اس تحقیق میں آئن سٹائن کے دماغ کا موازنہ 15بڑی عمر کے اور 52 نوجوان دماغوں سے کیا جاتا ہے ۔

اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ آئن سٹائن کے دماغ میں corpus callosum زیادہ مضبوط اور مربوط ہے ۔

یہ حصہ دائیں اور بائیں دماغ کے درمیان ابلاغ کا ذمہ دار ہے ۔

کچھ اور ایسی تحقیقات بھی ہیں جن میں کچھ مزیدفرق نوٹ کیے گئے ہیں۔ لیکن بجائے ان ’غیر دلچسپ‘ تحقیقات میں سر کھپانے کہ ہم نتیجہ کی جانب آتے ہیں۔

آئن سٹائن کی زندگی کوئی ایسی سیدھی سادھی زندگی نہیں ہے ۔

آئن سٹائن ایسا مایوس نوجوان جو گھر میں کسی کو لکھے ایک خط میں اس حسرت کا اظہار کرتا ہے کہ ”کاش وہ پیدا ہی نہ ہوتا“ اور بعد میں وہ ایک انشورنس ایجنٹ کو بطور کئیریر اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔

01905کو ان کی زندگی کا معجزاتی سال تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اسی سال ان کے پہلے چار انقلابی تحقیقات شائع ہوئیں ۔ آئن سٹائن کی عمر اس وقت صرف 26 سال تھی اور خصوصی نظریہ اضافیت وہ پیش کر چکے تھے۔ لیکن ان کے ان انقلابی تصورات کو کچھ پذیرائی حاصل نہ ہوئی ۔ بھلا ہو پلانک کا جنہوں نے سب سے پہلے جانا کہ آئن سٹائن کوئی اہم بات کر رہے ہیں۔ خصوصی نظریہ اضافیت میں مستقل ایک ہی سمت میں رفتار کی بات کی گئی ہے اور کشش ثقل اس نظریہ میں شامل نہیں تھی اسی لیے آئن سٹائن نے عمومی نظریہ اضافیت 1911میں دیا۔ لیکن کچھ اہمیت یا توجہ حاصل نہ ہوئی ۔

آپ اس کرب کا اندازہ کریں کہ ایک انسان علمی تاریخ کادھارا تبدیل کر رہاہے اور وہ خود اس بات کو جانتا بھی ہے لیکن دنیا توجہ نہیں دے رہی۔

دنیا کا سب سے بڑا اعتراض اس کو ثابت کرنے کے حوالے سے تھا۔

کیونکہ سورج ایک بڑا ستارہ ہے اور زمان و مکان کی چادر کو زیادہ گہرا کرتا ہے تو اس لیے آئن سٹائن کا خیال تھا کہ دور دراز سے آنے والی روشنی سورج کو عبور کرتے ہوئے ضرور ہلکی سی مڑتی ہو گی۔ لیکن سورج کی اپنی روشنی اس قدر ہے کہ دیکھے کون؟

ایک ہی حل تھا کہ مکمل سورج گرہن ہو تو ہی ایسا ممکن ہے۔ حساب لگایا گیا کہ اگلا مکمل سورج گرہن 1914 کو کریمیا میں ہو گا۔

ساتھ ساتھ اس بات کا بھی تذکرہ ضروری ہے کہ آئن سٹائن کو کائنات کا مطالعہ کرنے والے دوربین کے مراکز اہمیت نہیں دیتے تھے ۔

کریمیا میں آئن سٹائن اس لمحے کا بے تابی سے انتظار کر رہے تھے کہ سورج گرہن لگے اور ان کے پاس اپنے نظریہ کو ثابت کرنے کے شواہد ہاتھ لگیں۔

عین اس وقت دوسری جنگ عظیم چھڑ گئی اور روسی فوجیں اس کیمپ تک پہنچ گئیں۔ انہوں نے سب کو گرفتا رکر لیا ۔

ان کو بتایا گیا کہ یہ لمحے کس قدر قیمتی ہیں اس لیے انہیں صرف سورج گرہن دیکھنے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے صرف ایک امریکی نیشنل کو جنگ کا حصہ نہ تصور کرتے ہوئے چھوڑا اور کام کرنے کی اجازت دی ۔

لیکن کیا آپ یقین کریں کہ عین سورج گرہن کے وقت ، آسمان بادلوں سے ڈھک گیا۔

آئن سٹائن کی زندگی کو لمحہ بہ لمحہ پڑھیں تو آپ کو یقین ہو جائے گا کہ اگر آپ ہوتے تو ایسے بہت سے لمحے ہیں جہاں آپ یہ سب چھوڑ دیتے۔

کہانی طویل ہو جائے گی لیکن صرف اتنا عرض کرتا چلوں کہ اگر آئن سٹائن اس دن سورج گرہن کا مطالعہ کر لیتے تو یہ ان کی بد قسمتی ہوتی کیونکہ ایک سال بعد انہوں نے جب ریاضیاتی مساواتوں کو دوبارہ غور سے دیکھا تو ان میں غلطیاں تھیں۔

آئن سٹائن کا دماغ اگر کچھ حصوں کے حوالے سے غیر معمولی تھا بھی تو کیا وہ پیدائشی تھا؟

نہیں آپ بھی ان حصوں کے مالک بن سکتے ہیں لیکن اس کے لیے آئن سٹائن کی سی غیر معمولی کمٹمنٹ چاہیے ۔ جس دن نظریہ اضافیت ان کو سوجھا وہ ناشتہ کی میز پر تھے ۔ بقول ان کی بیوی کے وہ دن مجھے یاد ہے کہ آئن سٹائن کھڑکی کے پار دیکھ رہے تھے اور دنیا و مافیہا سے بے خبر تھے پھر اوپر کی منزل پر اپنے کمرے میں گئے جہاں ہفتوں بند رہے۔

انسانی دماغ کی یہ غیر معمولی خصوصیت ہے کہ آپ جہاں اور جس معاملے یا صلاحیت پر ارتکاز کریں گے وہ اپنے آپ کو اس حوالے سے بہتر کرنا شروع کر دے گا۔

مثال کے طور پر میرے اور کسی کھیل میں بین الاقوامی شہرت کے حامل کسی کھلاڑی کے دماغ کو مطالعہ کریں تو ممکن ہے کہ آپ کو کھلاڑی کا Motor Cotexمجھ سے زیادہ تربیت یافتہ ملے۔

آپ کی خبر نہیں لیکن مجھے نہیں یاد پڑتا کہ میں نے کسی معاملے پر اس قدر غورو فکر کیا ہو اور اس قدر ارتکاز کیا ہو کہ ہفتوں مہینوں کے لیے کمرے میں بند ہو جاتا۔

آئن سٹائن کے نظریات میں تخیل imagination کا بہت بڑا کردار ہے ۔ بد قسمتی سے ہمارا تدریسی نصاب بنانے والے اس نکتہ کو فراموش کر دیتے ہیں کہ دنیا کے تمام بڑے نظریات اپنی ابتدا میں تخیلاتی تھے ۔ ان کو ریاضیاتی سپورٹ بعد میں حاصل ہوئی ۔

تخیل بہت اہم ہے ۔ خیالات میں غرق رہنا بہت اہم ہے ۔ ایسے انسان دماغ کی صلاحیت Attention یا توجہ میں کمزور ہوتے ہیں ، آپ کو آئن سٹائن کے حوالے سے اس بات کا علم تو ہوگا کہ ان کو ایک بس کنڈیکٹر نے غلط ریز گاری گننے پر طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ بڑے میاں اگر بنیادی حساب بھی نہیں جانتے تو گھر بیٹھا کریں۔

یہ بہت اہم بات ہے یہ صرف لطیفہ نہیں ہے ۔ اگر آپ کا کوئی بچہ تخیلاتی ہے تو غالب امکان ہے کہ وہ سکول یا کالج کے نصاب میں نمایا ں کامیابی حاصل کرنے والا نہیں ہو گا۔ ایسے بچوں کو تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ آپ کو کیا معلوم کہ ایک بس کنڈیکٹر کی طرح آپ کسی آئن سٹائن کو تضحیک کا نشانہ بنا رہے ہوں ۔

تخیل کو تیز کرنے کے لیے بچوں کو ٹارزن ، عمرو عیار یا ہیری پوٹر کی کہانیاں پڑھنے دیں ۔ ان کو ٹی وی کم سے کم دکھائیں ۔ ٹی وی اور فلم کی قباحت یہ ہے کہ کہانی کے حوالے سے کسی کا ’بنا بنایا‘ تخیل ہم دیکھ رہے ہوتے ہیں ہمارے دماغ کو کوشش نہیں کرنی پڑتی ،

جیسے ٹارزن کی کہانی پڑھنے سے آپ کو ٹارزن کا سارا سراپا تخیل میں خود بنانا پڑتا ہے لیکن ٹارزن کی کوئی فلم ایک بنا بنایا ٹارزن آپ کے سامنے لے آتی ہے ۔

حیا تیاتی نکتہ نظر سے مختلف دماغوں میں کہیں انیس بیس کا فرق ہو سکتا ہے اور بعض اوقات زیادہ بھی ہو جاتا ہے لیکن اس کی وجوہات ناقابل سمجھ نہیں ہیں۔ دوران حمل ماں کی خوراک سے لیکر معاشرتی اور ثقافتی رسوم تک اہمیت رکھتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ’بچوں کا سر گول‘ کرنے کی ایک خواہش پائی جاتی ہے چاہے اس سے بچے کی آنے والی زندگی کے معاملات گول ہو جائیں۔ بہرحال یہ وہ تغیرات ہیں جن کی وجہ ہم خود ہی ہیں ۔

86 ارب نیورانز آپ کی دسترس میں ہیں، یہ سو فیصد اپنے آپ کو استعمال کرتے ہیں ۔

آپ کس قدر تخیلاتی بنتے ہیں ، سیکھنے کے حوالے سے آپ کے تجربات میں کس قدر رنگا رنگی اور تنوع ہے ، یہ سب آپ کے بس میں ہے۔

86 ارب نیورانز کو کیسے استعمال کرتے ہیں یہ آپ پر منحصر ہے ۔


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 62 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

One thought on “انسانی دماغ کا صرف 10 فی صد استعمال؟ (دوسرا حصہ)

  • 24-02-2016 at 5:23 pm
    Permalink

    I feel pity on myself that I couldn’t read it before. More strange is that after 4-5 days not a single comments this piece of writing get. Very good compilation of some researches. Dear Waqar Sb, do you have any info about thinking process? In this context, although its childish question but still fascinate me that why Newton feel it strange when apple fell down? Why not the same was felt his own father?. What is it we call ‘thought’? Does it originate inside human brain or some where else? Any scientific research?

Comments are closed.