ماما قادر بمقابلہ حافظ شاکر اللہ گینڈا


zafar kakarماما قادر سے تو اب ایک جہان واقف ہے البتہ حافظ شاکر اللہ گینڈا کا تعارف لازم ہے۔حافظ صاحب، اسد محمد خان کے افسانے ’غصے کی نئی فصل‘ کے مرکزی کردار ہیں۔ ان کے تعارف میں مصنف لکھتے ہیں، ’ حافظ شاکر اللہ خان اچھا خاصا صاحب علم اور کم گو آدمی تھا، اس لئے اپنی بات اجمالاَ کہنا پسند کرتا تھا، چنانچہ اسے تفصیلات سے اور وقت ضائع کرنے سے الجھن ہوتی تھی‘۔ شاکر اللہ صاحب گینڈا پر اب زمانے بیت چکے ہیں۔ بڑھاپے کا چل چلاﺅ ہے۔ یادداشت بھی ساتھ نہیں دے رہی۔ تب کے برعکس اب حافظ شاکر اللہ خان صاحب اچھے خاصے باتونی واقع ہوئے ہیں۔ اپنی بات پوری تفصیل سے اور تمام جزیات کے ساتھ بیان فرماتے (بات کرتے ہو ئے کہتے ہیں میں فرما رہا ہوں) تھے۔ اپنے وسیع تجربے کی بنیاد پرفریق مخالف کی بات اب ان کو جہالت ، مضحکہ خیزی اور بچگانہ معلوم ہوتی ہے۔ ماما کے بقول حافظ شاکر اللہ گینڈا صاحب کو بچپن سے ہی ایک بیماری جسے عرف عام میں خبط عظمت کہتے ہیں لاحق تھی مگر حافظ شاکر اللہ صاحب اسے علمی معراج سمجھتے ہیں۔ اپنی بات کرتے ہیں دوسروں کی بات سننے سے پہلے رد کر دینے کے عادی ہیں۔ جہاں پھنس جائیں وہاں بات اگلی نشست پر موخر کر دیتے ہیں۔ اسد محمد خان لکھتے ہیں ،’ یہ بات حافظ شاکر اللہ خان کے علم میں تھی کہ اسے حافظ گینڈا کہا جاتا ہے۔ مگر وہ ایک نوع کے حلم اور درگزر سے کام لیتا تھا‘۔ البتہ ماما چونکہ ان کے دوست ہیں اس لئے ماما کے کہنے کا برا نہیں مناتے۔ قصہ مختصر، پچھلے دنوں ان دونوں بزرگوں کی محفل نصیب ہوئی۔ مکالمہ پیش خدمت ہے۔

شاکر صاحب:۔ہاں بھئی ماما کیا حال ہیں۔

ماما:۔بس جی مالک کا کرم ہے۔ آپ کی دعائیں ہیں۔ جی رہے ہیں۔

شاکر صاحب:۔ ہاہاہا۔۔تم دعاﺅں پر کب سے یقین رکھنے لگے ہو؟

ماما:۔ کیوں میں مسلمان نہیں ہوں؟

شاکرصاحب:۔ ہو گے برائے نام۔

ماما:۔چلو برائے نام سہی لیکن دعا تو مانگ سکتا ہوں۔

شاکرصاحب:۔ یار ماما ایک بات بتاؤ۔ کیا تم لوگ سچ میں دعا مانگتے ہو؟

ماما:۔ ہم تو ٹھیک ہے لیکن یہ لوگ کون ہیں۔

شاکرصاحب:۔ وہی تمہارے پیٹی بند بھائی لبرل، سیکولر، سرخے، این جی اوز کے گماشتے، مذہب بیزار وغیرہ وغیرہ۔۔

ماما:۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ میرے اتنے بھائی نہیں ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ سب الگ الگ باپوں کی اولاد ہیں۔ آپ ان سب کو ایک ساتھ کیسے ملا لیتے ہیں؟

شاکرصاحب:۔ ایک ہی ہیں۔ سب کا ایک مقصد ہے مذہب بیزاری۔

ماما:۔ اچھا۔۔تو آپ کے پیٹی بند بھائی کب پاکستان کا تختہ الٹ کر وزیراعظم کو کسی کھمبے سے لٹکانے والے ہیں؟

شاکر صاحب:۔ کیا مطلب؟ کونسے پیٹی بند بھائی؟

ماما:۔ بھئی وہی داعش، القاعدہ، ٹی ٹی پی، جماعت اسلامی، تنظیم اسلامی، تبلیغی جماعت وغیرہ وغیرہ۔۔

شاکرصاحب:۔کیا احمقانہ بات ہے۔ ماما سٹھیا گئے ہو کیا؟ تم کہاں متشدد داعش، ٹی ٹی پی وغیرہ کو جماعت اسلامی اور تبلیغی جماعت جیسی اسلامی تحریکوں سے جوڑ رہے ہو؟

ماما:۔ بھائی شاکر اللہ صاب۔ مقصد تو سب کا ایک ہے۔ مذہب پسندی۔۔

شاکرصاحب:۔ بہت مضحکہ خیز بات ہے۔ یہی گلہ ہے تم لوگوں سے۔ تم لبرل فاشسٹوں کی محبت میں متشدد لوگوں کو اسلام سے ملا کر اپنی مذہب بیزاری کی راہیں ہموار کرتے ہو۔

ماما:۔ جانتا ہوں مضحکہ خیز بات تھی۔ ایسی ہی مضحکہ خیز بات وہ ہے جب آپ لبرل ، سوشلسٹ، اور این اوز کو ایک ساتھ ملا کر ان کو مذہب بیزار ثابت کرتے ہیں حتیٰ کہ گماشتے کہتے ہیں۔ آپ انسانی آزادی اور انصاف کے خواب کو فاشزم کہتے ہیں تو مجھے بھی اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے۔

شاکرصاحب:۔ کیا انسانی آزادی کا خواب ہے؟ کہاں کی انسانی آزادی؟ تمہارے سب سے بڑے لبرل و سیکولرممالک امریکہ ، برطانیہ اور ان کے ہمنواوں نے دنیا میں قتل و غارت گری کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اس نے تمہارے لبرل ازم کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

ماما:۔ بھئی شاکرصاحب! کتنی بار عرض چکا ہوں کہ ساری دنیا امریکہ کو معاف کر دے ایک قادر زندہ رہے تو معاف نہیں کرے گا۔ امریکہ کے گن تو آپ گاتے تھے جب وہ ڈالر اور اسٹینگر میزائل دے رہا تھا۔ ہمارا امریکہ سے کیا تعلق۔ لبرل ازم اور سیکولر ازم کا تعلق امریکہ و برطانیہ سے نہیں ہے۔ انسانی آزادی اور انصاف تو انسانیت کے مشترکہ اقدار ہیں۔

شاکرصاحب:۔ لبرل ازم یا سیکولرازم تمہاری تعریف سے نہیں جانچے جائیں گے۔ جن ممالک میں یہ نظام ہو گا انہی کو دیکھ کر بتایا جائے کہ وہ کیا ہے؟

ماما:۔ اچھا۔۔چلو یوں ہی سہی۔ پھر یہ بتاؤ کہ کیا اسلام وہی ہے جو دولت اسلامیہ عراق و شام، ملا عمر کے افغانستان، خمینی کے ایران یا کا خادمین شریفین کے سعودی عرب میں ہے؟

شاکرصاحب:۔ فضول بچگانہ باتیں ہیں یہ ساری۔ اس میں اور بہت سے عوامل شامل ہیں جن پر اگلی نشست میں بات کریں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ بس کسی طرح مذہب کو انسان کا اندورنی معاملہ قرار دے کر ریاست کے سیکولر ہونے کا خواب دیکھ رہے ہو۔

ماما:۔ہم نے کہاں دیکھا تھا یہ خواب۔ یہ تو ملک بنانے والے قائد کا فرمان ہے۔

شاکرصاحب:۔ پھر وہی عیاری۔ اب بات قائد کی طرف لے جا کر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش ہے۔قائد نے گیارہ اگست کے علاوہ جو باتیں اسلام کے نفاذ کے لئے کی تھیں تم لوگ ان سے کیوں منہ موڑ کر صرف رٹو طوطوں کی طرح گیارہ اگست کی تقریر کو اہم مقدمہ سمجھ کر ریاست کو سیکولر بنانے کی بات کرتے ہو۔ اس کے علاوہ کوئی دلیل ہے تمہارے پاس سیکولرازم کے حق میں؟

ماما:۔ دیکھو شاکر بھائی ہمیں قائد کی علی گڑھ یونیورسٹی والی باتیں یاد ہیں۔ مسلم لیگ کنونشن دہلی والی باتیں یاد ہیں۔ امریکی عوام سے ریڈیو خطاب والی باتیں یاد ہیں۔ ان سب کو چھوڑ دیتے ہیں۔ دوسری دلیل لے لو۔ دیوبند ہندوستان میں سیکولر ریاست کی پرزور حامی ہے۔

شاکرصاحب: ۔ہندوستان کے اپنے سیاسی حالات ہیں وہاں ان کی بات ٹھیک ہے۔

ماما:۔ تو گویا ہندوستان کے مسلمانوں کا سیکولر ہونا ٹھیک ہے؟

شاکرصاحب:۔ بالکل ٹھیک ہے۔

ماما:۔ لیکن آپ نے تو کہا تھا کہ آدمی یا سیکولر ہو سکتا ہے یا مسلمان؟

شاکرصاحب:۔ہم نے کسی سیاق و سباق میں فرمایا ہو گا۔

ماما:۔ اچھا چلو اس کو چھوڑ دو لیکن افغانستان کے اپنے سیاسی حالات ہیں وہاں افغان عوام کی بات غلط کیسے ہو سکتی ہے؟

شاکرصاحب:۔یہ کیا کج بحثی ہے؟ افغانستان کہاں سے آ گیا بیچ میں؟

ماما:۔ بھئی آپ ہی تو عرصہ بیس سال سے ملا عمر کی حمایت کر رہے ہیں۔ تو کیاا فغانستان کے عوام کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ جو چاہیں اپنے ملک میں نظام نافذ کریں؟

شاکرصاحب:۔ بے معنی بات ہے۔ یہ بات میں تم کو سو سے زیادہ مرتبہ سمجھا چکا ہوں لیکن تم سمجھتے ہی نہیں ہو۔

ماما:۔ میں سمجھ لوں گا لیکن آپ ایک کام نہیں کر لیتے؟

شاکرصاحب:۔ کونسا کام؟

ماما:۔ سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا چھوڑ دیں۔ خود کو دین دار اور دوسروں کو لادین سمجھنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ میں ایک سکہ بند مسلمان ہوتے ہوئے لبرل بھی ہو سکتا ہوں اور سیکولر بھی ہو سکتا ہوں۔ سیاست میں مکالمہ ہوتا ہے۔ ایک سیاسی فکر کے لوگ کسی کے گماشتے نہیں ہوتے۔ یہ انسانی زندگی کی بہتری کے خواب ہیں۔ یہ سمجھانے کے منصب سے اتر آئیں۔ مکالمہ کے منصب پر آئیں تاکہ تفیہم میں آسانی ہو۔

شاکرصاحب:۔ اس پر اگلی نشست میں بات کریں گے۔ فی الحال میں میچ دیکھنے جا رہا ہوں کیونکہ کل مجھے ایک جگہ شاہد آفریدی کے کمزور تیکنیک پر خطاب فرمانا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 83 posts and counting.See all posts by zafarullah

2 thoughts on “ماما قادر بمقابلہ حافظ شاکر اللہ گینڈا

  • 20-02-2016 at 7:37 pm
    Permalink

    بہت عمدہ لکھا ۔ یہ طرز تحریر کافی عام ہوتا جا رہا ہے ۔ برادر عدنان خان نے اس طرز کی بنیاد رکھی تھی ۔ انہوں نے ملا ڈھکن فسادی ، اور اسی طرح کے سوال و جواب پر مشتمل کئی تحریریں لکھی ہیں ۔ مجھے خوشی ہوئی کہ فاضل مصنف نے بھی اسی طرز کو اپنایا ۔

  • 08-03-2016 at 7:53 pm
    Permalink

    Wonderful piece

Comments are closed.