مسلمانوں کے خلاف نفرت کا طوفان


mujahid aliبرطانیہ کے شہر راچڈیل سے ایک معمر امام مسجد قاری جلال الدین کی پراسرار موت کی خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جبکہ یورپ بھر میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا طوفان اٹھا ہو¿ا ہے۔ سماجی ماہرین سے لے کر سیاستدان تک اپنے اپنے طور پر مسلمانوں کی شدت پسندی اور مغربی معاشروں میں ان کے لئے عدم قبولیت کے رویہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ یوں تو یورپ کے اکثر ملکوں میں دیگر ملکوں سے آئے ہوئے تارکین وطن کے حوالے سے تعصبات اور مشکلات کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن گزشتہ چھ ماہ کے دوران اس نفرت اور بے چینی میں جس تیزی سے اضافہ ہو¿ا ہے، وہ مسلمانوں اور باشعور قومی سیاستدانوں کے لئے یکساں طور سے پریشانی کا سبب ہونا چاہئے۔ تاہم فی الوقت بحث ان عناصر کے ہاتھ میں ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو یورپی تہذیب اور ثقافت کے علاوہ ان ملکوں کی سکیورٹی کے لئے بہت بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ ان شدت پسند آوازوں کے مقابلے میں افہام و تفہیم اور قوت برداشت کی بات کرنے والے عناصر کی آواز کمزور ہے۔ مین اسٹریم سیاستدان بھی فی الوقت اس پر توجہ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یورپ میں ساڑھے چار کروڑ مسلمان آباد ہیں لیکن ان نفرت انگیز مباحث میں ان کا رول بھی دفاعی سے زیادہ نہیں ہے۔
راچڈیل میں کل رات امام مسجد کی ہلاکت اس پس منظر میں ایک نہایت سنگین معاملہ ہے۔ قاری جلال الدین نامی امام مسجد نماز عشا کے بعد اپنے گھر جانے سے قبل ایک دوست سے ملنے گئے تھے۔ وہاں سے وہ گھر روانہ ہوئے اور راستہ مختصر کرنے کے لئے انہوں نے ایک چلڈرن پارک میں سے گزرنے کا فیصلہ کیا۔ رات 9 بجے کے قریب راہ گیروں نے ایک شدید زخمی شخص کے ملنے کی اطلاع دی۔ انہیں سر پر شدید چوٹ آئی تھی۔ اسپتال پہنچنے کے باوجود وہ زخموں کی تاب نہ لا سکے اور اللہ کو پیارے ہو گئے۔ پولیس اس ہلاکت کی تفتیش کر رہی ہے لیکن اس نے ابھی تک اسے قتل کی واردات قرار نہیں دیا ہے۔ البتہ راچڈیل کی بلال جامع مسجد کے انتظامی امور کے نگران محمد شفیق نے بتایا ہے کہ امام مسجد پر حملہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس شہر کی دیگر مساجد کو نمازیوں اور اماموں کی حفاظت کے بارے میں چوکنا رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قاری جلال الدین شریف النفس اور مقبول انسان تھے۔ ان کی کسی سے لڑائی نہیں تھی۔ تاہم پولیس کی حتمی تفتیشی رپورٹ سامنے آنے سے پہلے اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے کہ یہ حملہ اسلام دشمنوں نے کیا ہے یا کسی ذاتی رنجش کی وجہ سے امام مسجد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ پارک میں کسی حادثہ کا شکار ہو گئے ہوں۔ یورپ کے مختلف ملکوں میں قائم مساجد میں گروہی اختلافات بھی عام ہیں۔ کئی مواقع پر مساجد پر کنٹرول کے حوالے سے بھی متحارب گروہ ایک دوسرے کے سامنے آتے رہے ہیں۔ لیکن یورپ میں اس وقت اسلام اور مسلمان دشمنی کا جو ماحول پیدا کیا جا رہا ہے، اس کی روشنی میں اس شبہ کو مسترد کرنا ممکن نہیں ہے کہ قاری جلال الدین کو بعض نسل پرست اور مسلمان دشمن لوگوں نے نشانہ بنایا ہو۔

یورپ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی موجودہ لہر دو وجوہات کی وجہ سے شدت اختیار کر رہی ہے۔ گزشتہ سال موسم بہار سے کئی لاکھ مسلمان پناہ گزین ترکی سے یونان کے راستے یورپ کی طرف روانہ ہوئے ہیں۔ ان میں سے اکثریت کا تعلق شام سے ہے لیکن ان میں افغانستان اور صومالیہ کے جنگ زدہ علاقوں کے لوگ بھی شامل ہیں۔ اس بحرانی صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انسانوں کو اسمگل کرنے والے جرائم پیشہ گروہوں نے بعض دور دراز ملکوں کے لوگوں کو بھی یورپ پہنچانے کا دھندا شروع کیا ہو¿ا ہے۔ ان لوگوں میں خاص طور سے پاکستان ، بنگلہ دیش اور دیگر مسلمان ملکوں کے لوگ شامل ہیں۔ پناہ گزینوں کے بارے میں 2015 کے موسم خزاں تک عوامی رائے موافق اور دوستانہ تھی۔ لیکن نومبر میں پیرس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد یہ صورتحال پوری طرح تبدیل ہو گئی۔ ان حملوں میں جن کی ذمہ داری شام و عراق میں ابھرنے والے دہشت گرد گروہ داعش نے قبول کی تھی، 130 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس ایک واقعہ کے بعد یورپ میں صرف انتہا پسند گروہوں کے خلاف ہی کارروائی شروع نہیں ہوئی بلکہ شام کی جنگ سے فرار ہونے والے مظلوم اور جنگ زدہ لوگوں کے خلاف بھی فضا ہموار کرنا شروع کر دی گئی۔ تمام یورپی ملکوں کے سیاستدانوں نے اس بحث کو شدید بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ لیکن چیک ری پبلک ، ڈنمارک اور برطانیہ کے لیڈروں نے خاص طور سے اشتعال انگیز بیانات دے کر اور تجاویز سامنے لا کر مسلمانوں کے خلاف ماحول میں گھٹن پیدا کی ہے۔

ڈنمارک نے حال ہی میں ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت ملک میں پناہ کے لئے آنے والے لوگوں کے دس ہزار مالیت سے زائد اثاثے ضبط کر لئے جائیں گے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون انگریزی زبان سے نابلد تارکین وطن کے خلاف کئی بیانات دے چکے ہیں جبکہ چیک ری پبلک کے صدر میلوس زیمان کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا عقیدہ اور رہن سہن یورپی ثقافت کے برعکس ہے اس لئے انہیں اس براعظم میں رہنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ اس منفی اور شدت پسندانہ پروپیگنڈا مہم کی وجہ سے صرف یورپ آنے والے دس بارہ لاکھ پناہ گزین ہی متاثر نہیں ہو رہے بلکہ کئی کئی نسلوں سے یورپین ملکوں میں آباد مسلمان بھی اس کی شدت کو محسوس کر رہے ہیں۔ انہیں روزگار کے حصول اور سماجی میل جول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پناہ گزینوں کی اچانک آمد کی وجہ سے مختلف یورپی ملکوں کو جس چیلنج اور مالی و انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، ان کی وجہ سے سیاستدان ان مباحث کو متوازن رکھنے اور سماج میں بین النسلی اور بین العقیدہ انتشار کو روکنے میں کامیاب نہیں ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بیشتر یورپی لیڈر پناہ گزینوں کی آمد سے پریشان ہیں اور ان کے خلاف ابھرنے والی رائے عامہ کو سخت فیصلے کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کی وجہ سے ان مسلمانوں کے لئے بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں جو کروڑوں کی تعداد میں ہیں اور جنہوں نے مختلف یورپی ملکوں کی تعمیر میں اہم کردار بھی ادا کیا ہے۔

اس صورتحال میں ایسے ماہرین شہرت پا رہے ہیں جو مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے یا یورپ سے باہر دھکیلنے کی باتیں بھی کرتے ہیں۔ ناروے میں اسی قسم کی ایک نام نہاد ماہر ہیگے ستورہاﺅگ نے اسلام کے خلاف جھوٹ اور نفرت پر مبنی ایک کتاب لکھی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف پھیلنے والی بے چینی کی وجہ سے اس کتاب کو ناروے میں بے حد پذیرائی بھی حاصل ہوئی ہے۔ حالانکہ متعدد ماہرین اس میں شامل کئے گئے ”حقائق“ اور اعداد و شمار کو غلط ثابت کر چکے ہیں۔ اب اسی خاتون نے ناروے کو مسلمانوں سے پاک رکھنے کے لئے سات تجاویز بھی دی ہیں جو نسل پرستی اور اسلام دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ لیکن ملک کے سب سے بڑے اخبار آفتن پوستن نے انہیں نمایاں کر کے شائع کیا ہے۔ ان تجاویز میں کہا گیا ہے کہ:
1) ناروے کو مسلمانوں اور اسلام کے برے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے قرآن سے وہ ساری آیات نکال دی جائیں جن میں جنگ اور قتل و غارتگری کا ذکر کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو قرآن کے تحریف شدہ نسخے فراہم کئے جائیں اور انہیں مکمل قرآن پڑھنے کی اجازت نہ ہو۔
2) حکومت کو مساجد کا سو فیصد کنٹرول حاصل ہونا چاہئے۔ تا کہ وہاں پر معاشرے کے مسلمہ اصولوں کے خلاف بات نہ ہو سکے اور مسلمانوں میں انتہا پسند عناصر نہ پنپ سکیں۔ ستورہاﺅگ کا کہنا ہے کہ مساجد میں اکثر مدرس اور امام انتہا پسندانہ خیالات کا پرچار کرتے ہیں۔
3) مسلمانوں کی کئی مساجد کو بند کر دیا جائے اور نئی مساجد کی تعمیر پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔
4) نرسری سے لے کر یونیورسٹیوں تک میں مسلمان طالبات پر حجاب پہننے کی پابندی عائد کی جائے۔
5) ملک میں پناہ گزینوں کی آمد کو روکنے کے لئے سرحدوں پر دیوار تعمیر کی جائے اور فوج متعین کر دی جائے۔ پناہ گزینوں کو ان کے ملکوں یا ان کے قریبی ملکوں میں قائم مراکز میں روانہ کر دیا جائے۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے کنونشن میں فوری تبدیلی کی جائے کیونکہ وہ موجودہ صورتحال میں یورپ کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔
6) صرف چند ایسے پناہ گزینوں کو ملک میں آنے کی اجازت دی جائے جو سیاسی اختلافات اور آزادءاظہار کی وجہ سے اپنے ملک میں مشکلات کا شکار ہوں لیکن انہیں صرف اسی صورت میں آنے دیا جائے اگر وہ بنیادی مغربی اصولوں اور روایات کو تسلیم کرتے ہوں۔
7) حکومت ایسے تمام تارکین وطن کو ملک سے نکالنے کے لئے رقوم ادا کرے جو طویل عرصہ یہاں رہنے کے باوجود معاشرے میں ضم نہیں ہو سکے اور اب بھی جذباتی طور سے اپنے اصل ملکوں سے وابستہ ہیں۔ ان لوگوں کا ناروے میں کوئی کام نہیں ہے۔ البتہ اگر ان کے بچے مقامی روایات پر عمل کرتے ہیں تو انہیں رہنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

ان سات اہم تجاویز کے علاوہ ستورہاﺅگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو والدین اپنے بچوں کو طویل مدت کے لئے اپنے اصل ملک بھیجتے ہیں، ان کی شہریت منسوخ کی جائے۔ نقاب اور برقع پر مکمل پابندی عائد ہو۔ بچوں کی قرآن کی تعلیم محدود کی جائے۔ کام کی جگہوں پر نماز پڑھنے کی ممانعت کی جائے اور انتہا پسند مبلغوں کا داخلہ اور تقریروں کا سلسلہ بند کیا جائے۔

ان باتوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سماج اور اسلام کی یہ نام نہاد ماہر آزادی اور اظہار رائے کے جن مغربی اصولوں کے تحفظ کے لئے مسلمانوں کے خلاف اقدامات کی تجاویز دے رہی ہے، وہ بجائے خود ان تمام اصولوں کے خلاف ہیں جو انسانوں کو آزادی سے اپنے عقیدہ پر عمل کرنے اور اظہار رائے کا حق دیتے ہیں۔ ان تجویزوں پر عمل کرنے سے مغربی معاشرے ان خصائص سے محروم ہو سکتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ اخلاقی لحاظ سے دنیا کے کم ترقی یافتہ ممالک سے بلند ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس کے باوجود نہ صرف ناروے بلکہ یورپ کے بیشتر ملکوں میں ایسی باتیں کی جا رہی ہیں اور انہیں غور سے سنا جا رہا ہے۔ یہ مباحث لوگوں کے سماجی رویوں اور سوچ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ سلسلہ اگر اسی طرح جاری رہا تو یورپ میں گروہی تصادم کی کیفیت پیدا ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔

ان حالات میں اگرچہ بنیادی ذمہ داری مغربی ممالک اور ان کے اہم سیاسی لیڈروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ آزادءاظہار کو عذر بنا کر اقلیتی گروہوں کے خلاف نفرت اور تعصبات کو عام کرنے کی اجازت نہ دیں۔ معاشروں میں مباحث کو متوازن رکھنے اور طرفین کو یکساں طور سے اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ مسلمانوں کو صرف اقلیت ہونے کی وجہ سے اس قسم کے مباحث اور اہم سیاسی فیصلوں سے الگ رکھنے کے دور رس اور سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یورپ میں آباد مسلمانوں اور ان کے لیڈروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشروں میں ہونے والی باتوں سے آگاہی حاصل کریں۔ غلط فہمیاں دور کریں۔ مسلمان نوجوانوں میں انتہا پسندی ختم کرنے کے لئے کام کریں اور یہ پیغام عام کیا جائے کہ یہی ملک اب مسلمانوں کے اصل وطن ہیں اور انہیں اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے بھی مقامی اقدار کے ساتھ مل کر رہنے کے لئے کام کرنا ہو گا۔

اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں سامنے آنے والی صورتحال بے حد سنگین ہے اور مغربی معاشروں اور اقلیتوں کو مل کر اس چیلنج کو قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ یورپ ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ آبادیوں کے ممالک پر مشتمل ہے۔ طویل فکری اور سیاسی جدوجہد کے بعد آزادی اور بقائے باہمی کے اصولوں پر استوار معاشروں کے تحفظ کے لئے اقلیتوں کو احترام اور حفاظت فراہم کرنا بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “مسلمانوں کے خلاف نفرت کا طوفان

  • 20-02-2016 at 11:52 am
    Permalink

    ارے بھائی! اسلام اور مسلمانوں سے نجات ہی کے لیے تو آزادی کے یہ پھندے تیار کیے گئے تھے۔ اب جب اسلام اور مسلمان دونوں مغربی معاشرے میں گھسے آرہے ہیں اور اس خطرے کی گھنٹیاں بجارہے ہیں کہ مغرب کا انسان بھی اپنے اصل خالق اور مالک کو پہچان نہ لے تو پھر ضروری ہوگیا ہے کہ “آزادی کے ان کھلونوں” کو توڑ دیا جائے یا مسخ کیا جائے۔ بس اب ترقی کا معکوس سفر شروع ہوچکا ہے۔

Comments are closed.