پھانسی گھاٹ پہ گھاس


zeeshan hashimخبر ہے کہ گزشتہ سال پاکستان میں 324 افراد کو سزائے موت دی گئی جن میں سے ایک بڑی تعداد کا تعلق دہشت گردی کے مقدمات سے نہیں تھا – دو ہزار پندرہ میں کل 39 افراد کو دہشت گردی کے مقدمات میں پھانسی دی گئی یوں 285 افراد ایسے تھے جن پر دہشت گردی کے مقدمات نہیں تھے – جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پھانسی پانے والوں میں سے اکثریت کم عمر نوجوانوں پر مشتمل تھی ،یا وہ لوگ نفسیاتی امراض کا شکار تھے یا ان کا عدالتی ٹرائل کسی حد تک مشکوک تھا-

آرمی پنلک سکول پشاور پر حملہ کے بعد پھانسیوں پر پابندی کو ہٹایا گیا اور یہ دعوی کیا گیا کہ اس عمل سے دہشت گردی کے خاتمہ میں مدد ملے گی – ابتدا میں پھانسیوں کی یہ سزا محض دہشت گردی میں ملوث افراد کے لئے مختص کی گئی مگر بعد میں اس کا دائرہ کار پھیلا دیا گیا – اس وقت پاکستان عالمی درجہ بندی میں چین اور ایران کے بعد تیسرے نمبر پر ہے جہاں اتنی بڑی تعداد میں پھانسیاں دی گئیں –

پاکستان کا رویہ ہنوز جرائم کی سزا کے باب میں جہالت پر مبنی ہے – ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سخت سزاو¿ں سے جرائم کم ہو جایا کرتے ہیں – برطانیہ میں ایک دور میں جیب کاٹنے پر سزائے موت مقرر کی گئی تھی – دلچسپ یہ کہ ملزم کو سزا دینے کے دوران جو مجمع اس کا مظاہرہ دیکھنے کو اکٹھا ہوتا اسی مجمع میں ایک بڑی تعداد کی جیبیں کٹ جایا کرتی تھیں –

جرم کا بنیادی سبب ہمیشہ نفسیاتی ہوتا ہے – اس کے ٹھوس اسباب ہوتے ہیں – جب تک ان اسباب کا قلع قمع نہیں ہوتا اس وقت تک جرائم کو ختم نہیں کیا جا سکتا – جرم ایک ایسی کیفیت ہے جس میں آپ کا امن و رواداری سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور آپ اپنی منزل تشدد سے حاصل کرنا چاہتے ہیں – سوال سوچنے کا یہ ہے کہ آخر ہمارے افراد تشدد پسند کیوں بنتے ہیں ؟ وہ کونسی سماجی سیاسی اور معاشی وجوہات ہیں جن کے سبب ان کا امن و رواداری سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور وہ تشدد پسندی کی طرف راغب ہو جاتے ہیں ؟

جس ملک میں بے روزگاری اپنی بلندی پر ہو اور نوجوان روزگار کا کوئی بہتر متبادل نہ رکھتے ہوں وہاں بنیادی ضروریات و خواہشات کی جبلت کے تحت جرائم نہیں ہوں گے تو اور کیا ہو گا ؟

اسی طرح غیرت کے نام پر قتل ہمارے ہاں معمول کی بات ہیں ، اس قتل میں قاتل ہمارے روایتی سماج میں ہیرو سمجھا جاتا ہے ، اس نفسیات کو سمجھے بغیر اور اس کا خاتمہ کئے بغیر محض پھانسیوں سے مسائل کا حل سوچنا ذہن پسماندگی کے سوا کچھ نہیں –

ایک اور مثال سے مدد لیتے ہیں ، ہم خود کش حملہ آوروں کو محض پھانسیوں کا ڈراوا دے کر روکنا چاہتے ہیں – کیا ایسا ممکن ہے ؟ ایک شخص جو مر کر اور مار کر اپنی منزل حاصل کرنا چاہتا ہے اسے آپ محض پھانسیوں سے کیسے روک سکتے ہیں ؟ مذہبی شدت پسند اور دہشت گردی کا خاتمہ بغیر اس بیانیہ کو ختم کئے ناممکن ہے جو دہشتگردی پر اکساتا ہے –

ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اسباب کا خاتمہ ہو جو انسان سے اس کا ذہنی سکون چھین لیتے ہیں اور اسے تشدد کی طرف مائل کرتے ہیں – اس میں ریاست کا بھی کردار ہے تو سماج کا بھی اور یہ ہر فرد کی انفرادی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ ایسے تشدد پسند رویوں کے خلاف امن رواداری برداشت تعلیم و تربیت اور بھائی چارہ سے آگے بڑھیں – ایک روادار معاشرہ سب شہریوں کو امن و سکون سکون دیتا ہے اور اسی میں ہی سب کا فائدہ ہے –

ریاستی سطح پر ضروری ہے کہ ہم دنیا سے سیکھیں کہ امن و رواداری کے استحکام میں سیاسی و ریاستی بندوبست کیسے قائم کئے جاتے ہیں – تجزیاتی طریقہ کار متعارف کروائے جائیں جن میں ہر جرم و مجرم کا تفصیلی تجزیاتی مطالعہ ہو اور اسباب کا کھوج لگا کر ان کا خاتمہ کیا جائے – مجرمان کی دوران قید تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائے اور انہیں بہتر ہنر سکھائے جائیں تاکہ وہ معاشرہ کے کارآمد شہری بن سکیں – تعلیم و تربیت کے اس عمل میں ماہرین نفسیات کی مدد لی جائے – مواقع کی مساوات پر قائم معیشت کو ترقی دی جائے تاکہ بے روزگار نوجوان اس میں جذب ہو سکیں – غیرت کا قتل قسم کی فرسودگیوں کی خلاف ہر محاز پر جدوجہد کی جائے – ریاست ہر شہری کی تعلیم و تربیت اور صحت کی لازمی ضمانت دے – بچوں کو دوران تعلیم کوئی ایک مخصوص نظریہ یا عقیدہ نہ رٹوایا جائے بلکہ مہذب شہری اقدار سکھائی جائیں –

یہ اور بہت سارے اقدامات اس وقت ممکن ہیں جب ریاست اس بنیادی نقطہ کو سمجھ لے کہ اس کے وجود کا بنیادی سبب ہی شہریوں کی آزادیوں کا تحفظ ہے ، کاروبار کرنا یا بیانیے درآمد و برآمد کرنا نہیں – جب تک ریاست اپنے بنیادی عزائم و ترجیحات میں تبدیلی نہیں لائے گی ایسا ہونا ناممکن ہے –


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

One thought on “پھانسی گھاٹ پہ گھاس

  • 21-02-2016 at 5:45 am
    Permalink

    محترم ذیشان ہاشم صاحب نے ایک اہم موضوع پر بہت مفید اور کارآمد تحریر لکھی ہے. نیز انہوں نے ارباب اختیار کو بہت قیمتی مشورے دئیے ہیں. میں ان کی بھرپور تائید کرتا ہوں. ابتدا میں مذھبی تعلیمات کے زیر اثر میں بھی سزائے موت کے حق میں تھا. لیکن جرائم کے موضوعات پر مضامین اور کتابیں پڑھنے اور ماہرین نفسیات کے تجربات اور مشاہدات سے آگاہی کے بعد میرا موقف تبدیل ہو گیا. ماہرین نفسیات تو سیریل قاتلوں کو بھی زندہ رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے دماغوں کا معائنہ اور مطالعہ کرکے معلوم کیا جائے کہ وہ سیریل قاتل کیوں بن گئے. اب تو ماہرین نفسیات جان چکے ہیں کہ جو بچے چھوٹی عمر میں جانوروں مثلا” کتوں یا بلیوں کے بچوں کو اذیت دے کر یا مار کر خوش ہوتے ہیں وہ بڑے ہو کر سیریل قاتل بن جاتے ہیں. نیز یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ غربت ہی نہیں ذہنی اور نفسیاتی امراض کی وجہ سے بھی انسان چوری، قتل، اور دوسرے جرائم کا مرتکب ہو سکتا ہے. یہاں ایک مثال کافی ہو گی.
    ہمارے علاقے میں ایک چور پکڑا گیا. اس کا طریقہ واردات یہ تھا کہ جرمن ٹاؤن کے ٹارگٹ اسٹور سے قیمتی چیزیں مثلا” ٹی وی، کیمپوٹر، کمیرے اٹھا لیتا اور اسٹور ملازمین کی نظروں سے بچ کر قیمت ادا کئے بغیر اسٹور سے نکل جاتا. پھر وہ یہ چوری شدہ مال لے کر نزدیکی شہر کے ٹارگٹ اسٹور پہنچ جاتا اور کیشیر سے کہتا کہ رسیدیں گم ہو گئی ہیں. یوں وہ چوری شدہ مال اسٹور کو واپس کرکے نقد رقم وصول کر لیتا. بالاخر اسٹوروں کے سیکورٹی کیمروں نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا. آپ حیران ہوں گے کہ یہ چور وائٹ ہاؤس میں ایک اعلی عہدے پر فائز تھا اور اس کی تنخواہ تقریبا” دو لاکھ ڈالر تھی یعنی صدر اباما کی تنخواہ کا نصف. ظاہر ہے گرفتاری کی خبر نشر ہوتے ہی وائٹ ہاؤس نے اسے ملازمت سے فارغ کر دیا.

Comments are closed.