ارسطو کے دفاع میں


یہ ابتدائی دو چار سطریں ویسے تو مضمون کے آخر میں درج کرنی چاہیے تھیں لیکن ذہنی خاکہ بنانے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ بات طویل ہو جائے گی لہٰذا انہیں پہلے ہی گوش گزار کر دینا مناسب ہے تاکہ ایک مجموعی تناظر قائم کرنے میں آسانی ہو۔ اول تو یہ کہ برادرِ گرامی جمشید اقبال صاحب اپنے مضمون ’’انتہا پسندی کی منطقی بنیادیں‘‘ پر مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس موضوع کو اردو میں اٹھانے کی ہمت کی ۔ دوم، وہ یہ دکھانے میں سو فی صد کامیاب رہے کہ منطق کے بدیہی اصول اور ان سے برآمد ہوتے قضایا کس طرح سماجی رویوں کی تہہ میں موجود ہوتے ہیں ۔ سوم، انہوں نے کچھ نہایت اہم اشارات پیش کئے جو نہ صرف ہم جیسے فلسفہ و سماجیات و سائنس کے طالبعلموں کے غیر رسمی غور و فکر بلکہ خود جمشید صاحب جیسے اہلِ علم کی رسمی تحقیق کے لئے بھی بنیادی مال مسالہ فراہم کرتے ہیں۔اس لئے ارادہ تو یہ تھا کہ ان کے مضمون پر مبارکباد کا مختصر سا تبصرہ کرنے پر ہی اکتفا کیا جائے اور کسی حتمی رائے کی غیر موجودگی میں صریح اختلاف یا اتفاق سے پرہیز کیا جائے لیکن پھر خیال آیا کہ اگر کچھ ٹوٹے پھوٹے نامکمل نکات پیش کر دئیے جائیں تو شاید غور و فکر کی مزید راہیں تلاش کرنے میں آسانی ہو۔

 اس لئے شروع ہی میں یہ واضح کر دینا لازم ہے کہ راقم تاحال اس موضوع یعنی ’’انتہا پسندی کی منطقی بنیادوں ‘‘ پر اس کے علاوہ کوئی حتمی رائے نہیں رکھتا کہ یقیناً اگر انتہا پسند رویوں پر کسی منطقی پیراڈائم کا اطلاق لازم ہو تو وہ ثنائی منطق (Binary Logic)ہی کا ہو گا۔ اس حد تک یقیناً جمشید بھائی کی بات سے مکمل اتفاق ہی کیا جا سکتا ہے لیکن یہ سوالات کہ اس میں ارسطو کے بدیہی منطقی اصولوں کا کتنا عمل دخل ہے؟ یا ان منطقی اصولوں کو مذہبیات کے نصاب میں جگہ دینے سے کیا مسائل واقع ہو رہے ہیں؟ متبادلات کیا ہیں؟ متبادل منطقی نظام کس طرح اور کس حد تک مذہبیات اور کلامی و فقہی مسائل میں اطلاق کے قابل ہیں؟ وغیرہ وغیرہ تاحال جواب طلب ہیں اور مزید سنجیدہ تحقیق کے متقاضی ہیں۔ چونکہ راقم باقاعدہ فلسفے کا طالبعلم نہیں ، لہٰذا اس سلسلے میں غیر حتمی نوعیت کے کچھ تفہیمی تاثرات پیشِ خدمت ہیں جن میں مزید مطالعے سے مسلسل تبدیلی واقع ہوتی رہتی ہے۔ہاں جہاں تک اصولِ منطق کے رسمی اطلاقات کی بات ہے وہاں رائے کسی حد تک حتمی تصور کی جا سکتی ہے کیوں کہ راقم کا یہ ماننا ہے کہ سائنس ، فلسفہ، معاشیات، ادب ، سماجیات اور مذہبیات غرض علم کے تمام گوشوں میں مشترکہ منطقی بنیادیں تلاش کرنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ عصرِ حاضر میں تحقیقی رویوں کا ایک لازمہ بن کر سامنے آ رہا ہے۔

اس سلسلے میں اول گزارش تو بنیادی طورپر اس تناظر سے تعلق رکھتی ہے جس میں بالعموم ارسطو کے ہاں طبیعات اور مابعدالطبیعات اور بالخصوص منطق کی ماہیت اور دائرۂ کار کے بارے میں ماہرین کے ہاں تعبیرات کا تنوع ہے۔ اس سلسلے میں ماہرین اب اس بات پر تقریباً متفق ہیں کہ ارسطو کے ہاں ’’مابعد الطبیعات‘‘ نام کی کوئی ایسی حتمی اقلیمِ علم نہیں پائی جاتی جسے قدیم معنوں میں’’طبیعات‘‘ (بشمول کیمیا اور حیاتیات وغیرہ) یا ماقبل جدید معنوں میں ’’نیچرل سائنس‘‘ کے مقابل فرض کیا جا سکے۔ ہماری رائے میں جمشید بھائی مابعدالطبیعات کے آگے قوسین میں ’’تجریدی فکر‘‘ لکھ کر شاید اسی جانب اشارہ کرنا چاہ رہے ہیں لیکن شاید کئی قارئین کے لئے یہ اشارہ مبہم ہو۔ لہٰذا یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ جسے شارحین و مؤلفینِ ارسطو ’’مابعدالطبیعات‘‘ کہتے ہیں وہ جدید معنوںمیں محض ایک ایسا تجریدی نظامِ فکر نہیں جسے مثال کے طور پر طبیعات یا حیاتیات وغیرہ جیسے تجربی نظامِ فکر کے برعکس تصور کیا جا سکے۔ تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ارسطالیسی مابعدالطبیعات کی ’’تجریدیت‘‘ نظری ریاضی یا طبیعات وغیرہ سے مماثلت رکھتی ہے؟ ہماری طالبعلمانہ رائے میں ( اعتراف لازم ہے کہ جوارسطو سے زیادہ ارسطو کے مختلف مستند شارحین کے تفہیمی مطالعے پر مبنی ہے) یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ اس ’’تجریدیت‘‘ کی مماثلت زمانۂ جدید کے علمی مقولات میں تلاش کرنا کارِ عبث ہے۔ شارحین اس بات پر متفق ہیں اور ارسطو کے سرسری مطالعے سے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ نام نہاد مابعد الطبیعات دراصل وسیع اور متنوع  موضوعات کا پھیلاؤ ہے جو فلسفے کے اولین (یا دوسری معنوں میں بدیہی) اصولوں سے متعلق ہے۔خود ارسطو کے مطابق یہ ایک ’’فلسفۂ اول‘‘یا ’’جوہرِ حیات فی نفسہٖ جوہرِ حیات‘‘ ہے یعنی یہ کم و بیش وہی روایت ہے جس میں قرونِ وسطی کےیہودی، عیسائی اور مسلمان مذہبی شارحینِ ارسطو ’’فلسفۂ الہیات‘‘ یا ’’مطالعۂ علتِ اول ‘‘ وغیرہ کہتے ہیں۔ یوں ارسطو اس جدیدعلمی روایت کا اولین قدیم موجد ٹھہرتا ہے جس میں دیکارت کے فلسفۂ اول پر تفکرات سے لیکر ہائیڈیگر وغیرہ تک ایک طویل تجریدی روایت پھیلی ہوئی ہے۔خود ارسطو کے مطابق بھی ’’الٰہیات‘‘ نامی یہ وہ ارفع ترین علم ہے جو اولین اور بدیہی اصولوں اور علتوں کو اپنا موضوع بناتا ہے۔ ہماری رائے میں ارسطو کی مابعدالطبیعات کے حتمی موضوع کا احاطہ شارحین کے لئے ایک مسلسل تحقیقی مسئلہ رہا ہے اور زیرِ بحث موضوع میں اولاً تواس نکتے کو اٹھانا اس لئے اہم ہے کہ یہاں تجرید شاید اس طرح واقع نہیں ہو رہی جیسا کہ ہم جدید معنوں میں طبیعات (تجربی)اور مابعدالطبیعات(تجریدی) کے درمیان فرض کرتے ہیں۔ دوم ، اسی ذیل میں یعنی ارسطو کی مابعدالطبیعات کے ضمن میں ایک اہم بحث صورت و مادے (Form/Matter) کی کلاسیکی ارسطالیسی دوئی کا ایک اور ارسطالیسی دوئی یعنی واقعیت و قوائیت (Actuality/Potentiality) کا تعلق ہے۔ اس دوئی کا ہماری بحث سے کیا تعلق ہے؟ اس جواب کے لئے کچھ دیر انتظار کیجئے۔

اسی بارے میں: ۔  پانامہ کا ہنگامہ اور گئے دنوں جیسے آنے والے دن

دوسرا اہم نکتہ ارسطو کی منطق یعنی اس کے مکمل فکری نظام میں عمومی طور پر منطق کی ماہیت اور تناظر کا ہے۔یہاں کئی اہم سوال پیشِ نظر رہنا ضروری ہیں۔ پہلا سوال تو یہ ہے کیا ارسطو کے منطقی تفکرات یااستدلالی ڈھانچے کو بعد میں ’’روایتی منطق‘‘ کے نام سے رسمی تعارف پانے والی کسی حد تک متنوع روایت کا اٹل ماخذ قرار دیا جا سکتا ہے؟ ہمارا طالبعلمانہ مطالعہ یہ کہتا ہے کہ سوال بہت تفصیلی اور دقیق بحث کا متقاضی ہے جو تاحال محققینِ تاریخِ منطق کے درمیان جاری ہے۔ یہاں نہ صرف تعبیرات بلکہ ترجمے کے بھی بہت سے مسائل موجود ہیں۔ لیکن کسی بھی سطح پر اگر منطق کے ’’روایتی مکتبِ فکر‘‘ کو ارسطو کے مقلدین میں شمار کیا گیا ہے تو وہ روایتی مکتبِ فکر بالمقابل جدید ریاضیاتی منطق یا جدید رسمی منطق کے پیراڈائم میں ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یقیناً بھائی جمشید اقبال یہ بخوبی جانتے ہیں لیکن ان کی تحریر کے نتیجے میں ان کے نکتہ جُو قارئین کے اس ممکنہ مغالطے کو دور کرنا لازمی ہے کہ روایتی یا ارسطالیسی منطق(Traditional or Aristotelian Logic ) بالمقابل جدید رسمی منطق(Modern Formal Logic) کے معنی ثنائی منطق (Binary Logic) بمقابل تکثیری منطق(Many-Valued Logic) ہر گز نہیں ہے۔

ایک اور امکانی مغالطہ ارسطو کے مکمل نظامِ فکر میں منطق کے اطلاق کا ہے جس کی وجہ ہمارے جدید ذہن میں رسمی منطق کا ایک مخصوص تصور ہے جو سائنسی علوم اور تحقیقی تجزیات کی تہہ میں کار فرما عملی اصولوں سے تعلق رکھتا ہے۔ اسے زائل کرنے کے لئے کسی حد تک یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ ارسطالیسی یا کلاسیکی منطق پر تمام تر تنقیدیں جدید رسمی منطق کے آغاز کے بعد پیش کی گئی ہیں لہٰذا اپنا ایک مخصوص تناظر رکھتی ہیں جو عملی اطلاقات کے امکانی دائروں سے تعلق رکھتا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ امکانی دائرے ریاضیاتی علامات کے فریم ورک آنے کے بعد دائرۂ فہم میں وارد ہوئے ہیں اور تنقیدیں بھی کم و بیش اسی تناظر میں ہیں۔ اگر زمانۂ ما قبل جدید میں دیکھا جائے تو کانٹ کا قول ارسطالیسی منطق پر ما قبل جدید ذہنی یقین کی درست عکاسی کرتا ہے جس کے مطابق ’’ارسطو کی منطق میں دو ہزار سال سے مزید کچھ نیا اضافہ نہیں ہو سکا‘‘۔اس پس منظرمیں طویل خاکہ بندی کا کام شوقین قارئین پر چھوڑتے ہوئے فی الوقت اشارتاً صرف اتنا سوال اٹھانا مقصود ہے کہ کیاعمومی اعتبار سے ارسطو کی مجموعی فکر یا ذہنی و فکری رویوں کی تہہ میں کارفرما منطقی ڈھانچوں کو اٹل ثنائیت پسندی یاایک نیم مبہم تکثیریت پسند ی میں سے کس کے قریب تر سمجھنا زیادہ معقول ہے؟

ہمارا یہ سوال ہمیں اپنے تیسرے اور آخری اشارے تک لے آتا ہے جو ’’اصولِ خارج الاوسط ‘‘ (Law of Excluded Middle) کےجدید تفہیمی گوشوں سے تعلق رکھتا ہے۔ برادرِ مکرم جمشید صاحب کا اٹھایا گیا یہ نکتہ بھی بہت معنی خیز ہے کیوں کہ اب تک پیش کئے گئے تاثرات کے پس منظر میں ارسطالیسی فکر کے ایک قدرے لاینحل ابہام اور تحقیقی اعتبار سے تاریخِ منطق میں ایک نہایت دلچسپ تناقض کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ ارسطو کے ہاں منطق، لسانیات اور عقلِ عامہ کا گہرا تعلق ہے جس میں ناگزیر ابہامی کیفیات کی تکثیریت کسی ثبوت کی محتاج نہیں۔ لیکن دوسری طرف اصولِ خارج الاوسط اور اصولِ مانع اجتماعِ نقیضین (Law of Non-Contradiction) جیسے اساسی اصول زبان (اور یوں فکر)کی ایک ایسی ماہیت کی جانب اشارہ کرتے ہیں جو ایک اٹل یقین کی فضا قائم کرتے ہوئے ابہام کا انکار کرتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ارسطو کے شارحین اس بات پر قریب قریب متفق ہیں کہ یہ تناقض زمانۂ جدید تک موجود رہا ہے کیوں کہ کسی متبادل اصولی نظام کی جانب پیش قدمی ممکن نہیں ہو سکی۔ لیکن جارج بُول،گوتلوب فریگ، چارلس پرس اور ہلبرٹ وغیرہ تک آتے آتے اس تناقض کو ایک طرف تو جدید رسمی منطق سے واضح کیا گیا اور دوسری طرف تکثیری منطق سے اس کے حل کی کوشش کی گئی۔

مزید طویل نظر خراشی کا موقع نہیں لیکن ہماری رائے صرف اتنی ہےکہ ایل ای جے برور وغیرہ کی تنقیدوں کو ارسطالیسی منطق کے بالمقابل فرض کرتے ہوئے ہمیں اس تناظر کو نہیں بھولنا چاہیے جس میں وہ تنقیدیں پیش کی جا رہی ہیں۔ یہ تناظر خالص ریاضیاتی (یعنی رسمی) دائرے میں ایک جانب تو ریاضی کے وجدانیت پسند مکتب ِ فکر (Intuitionist School) اور رسمیت پسند مکتب ِ فکر (Formalist School) کے باہمی مناظروں اور دوسری طرف فلسفۂ ذہن میں لسانیات اور منطق کے گنجلک رشتوں سے متعلق مباحث پر مشتمل ہے۔ یہ وہ تناظر ہے جس میں ہلبرٹ اور برور کی بحث پر نظر ڈالنا لازمی ہے۔ لیکن فی الوقت ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ بیسویں صدی کے آغاز کے ان مباحث میں خالص ارسطالیسی فکر پر تنقید کس حد تک اور کس تناظر میں مطالعے کی متقاضی ہے؟

ان تینوں اشاروں سے صرف ایک عمومی تناظر کی دریافت مقصود ہے جس کا تعلق تاریخِ منطق اور فلسفۂ منطق کےعلاوہ منطقی کے عملی اطلاقات سے بھی ہے۔ عصر حاضر میں ساٹھ کی دہائی میں لطفی زادہ کی منطقِ فازی (Fuzzy Logic) سامنے آنے سے لے کر اکیسویں صدی کے آغاز تک اب کئی نئے تنقیدی زاویے سامنے آ چکے ہیں کیوں کہ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) میں فکر کے اساسی اصولوں اور فلسفۂ ذہن سے جڑے کئی نئے مسائل پر بحث کے نئے در کھلے ہیں۔اس سلسلے میں اب یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ خود ارسطو کے مطابق اصولِ خارج الاوسط واقعیت (Actual States or Actuality)پر تو وارد ہوتا ہے لیکن قوایت(Potentiality) پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں اب ارسطو کے کچھ شارحین کا یہ دعوی بھی سامنے آ چکا ہے کہ ارسطو کی ماقبل حالتیں یا قوائیت دراصل منطقِ فازی کے اصولوں ہی کی جانب اشارہ ہے۔

اسی بارے میں: ۔  11 اگست: یومِ اقلیت یا یومِ سیاہ

 بہرحال صاف ظاہر ہے کہ یہ اشارہ قدیم طرزِ فکراسلوب میں ہے اور جدید دور کے رسمیت پسند تقاضوں میں تشریح و تعبیر کا ہدف ہی رہے گا۔ اگر خود ارسطو کی مثالیں دیکھی جائیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ اپنی سمندری جنگ جیسی مثالوں سے واقعاتی احتمال (Contigency) کے منطقی مسائل سلجھا رہا ہے اور قوائی معاملات پر ان اصولوں کا اطلاق تو خیر ممکن ہی نہیں۔ اس سلسلے میں ان دونوں اساسی اصولوں پرجان لوکاشی وچ (جس کا حوالہ جمشید صاحب نے بھی دیا) کے دونوں اہم مقالے بھی مدنظر رہنے چاہیں جن میں سے اصولِ خارج الاوسط پر اس کا یہ نتیجہ چشم کشا ہے کہ ایک رسمیت پسند خالص منطقی تناظر میں یہ اصول نہ تو بدیہی ہے اور نہ ہی منطقی فریم ورک میں تجریدی عمومیت سے ثابت کیا جا سکتا ہے لیکن عملی طور پر اس سے چھٹکارا پانا ناممکن ہے لہٰذا اس کا جواز موجود ہے۔اس کی سادہ وجہ یہی ہے کہ ایک عملی اور واقعیت پسند تناظر میں ہم ایک ذہین و فعال ہستی (Intelligent Agent) کے طورپر اپنے ابہام (Vagueness) کو اس سے ماڈل کرنے پر مجبور ہیں۔ اسی لئے اگر لوکاشی وچ (Jan Łukasiewicz) کی تکثیری منطق (Many-Valued) کو رسمی تناظر میں دیکھا جائے تو وہ ثنائی منطق کا انکار نہیں اورتاریخ منطق کے کئی ماہرین کے مطابق دراصل ارسطالیسی فکر ہی کی بڑھوتری ہے۔ ہاں منطقِ فازی (Fuzzy Logic) چونکہ ایک لامتناہی تکثیریت (Infinite-Valued Logic) کو لازم کرتی ہے اس لئے اسے کم از کم ایک دہائی قبل تک کلاسیکی منطق کے مقابل ہی مانا جا رہا تھا لیکن اس فکرمیں بھی اب تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔

اس قدرے طویل عبارت آرائی کے پس منظر میں ہماری رائے اتنی ہے کہ یہ کہنا تو یقیناً درست ہے کہ اگر سماجیات میں انتہا پسند رویوں کو ماڈل کرنے کا مسئلہ درپیش ہو تو وہ یقیناً ثنائیت پسند ہیں اور سیاہ و سفید کے درمیان کسی بھی میدان کے انکار سے عبارت ہیں لیکن اس سوال پر ہم اپنی رائے محفوظ رکھتےہیں کہ کیا یہ رویے ارسطالیسی منطق کے مرہونِ منت ہیں؟ ہماری رائے میں علت و معلول کے کسی ایسے رشتے کو نصاب اور ا س سے جنم لیتے فکری نظام میں تلاش کرنا اگر ناممکن نہیں تو ایک مشکل کام ہے۔

 شاید اس سے زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ مذہبیات کے کسی بھی نصاب میں تاریخِ منطق یا تاریخِ فکر و فلسفہ کو جگہ دینی چاہئے یاعلمِ منطق کو؟ رسمیت پسند ریاضیاتی نظاموں کے بعد اب یہ زیادہ سود مند معلوم ہوتا ہے کہ تاریخِ فکر کا ایک ایسا نصاب مرتب کیا جائے جو کلاسیکی اور جدید کلامی مباحث کو ایک بڑے فکری کینوس پر منتقل کر سکے۔ اس سلسلے میں منطق یقیناً ایک دلچسپ مضمون ہے کیوں کہ یہ فکری ابہام اور قضایا کی خاکہ بندی اور تجزیے کے رسمی آلات پر مشتمل ہے۔ دلچسپ سوالات یہ ہیں کہ ہماری فقہی اور قانونی روایات کی تہوں میں کس قسم کے منطقی رویے کارفرما ہیں؟ معلوم تو یہی ہوتا ہے کہ نصاب میں (مبینہ)ارسطالیسی ثنائیت پسندی پڑھانے کے باوجود ہماری فقہی روایت میں حلال وحرام کے درمیان ایک تکثیری میدان موجود ہے جو یقینا لامتناہی نہیں لیکن کم از کم تکثیری ضرور ہے۔ اسی طرح عقیدے اور ایمان کے مسائل میں بھی ہمارے ہاں اس قسم کے کئی ابہام موجود ہیں جو مذہبیات کے فارغ التحصیل اہلِ علم کے ذریعے خالص منطقی مطالعوں کا تقاضا کرتے ہیں۔

ان سوالات کے تناظر میں ہمیں اپنی طالبعلمانہ حیثیت میں خالص منطقی بنیادوں پر ان مفتی صاحب سے کسی قدر اختلاف ہے جو ارسطالیسی منطق کو اشارتاً انتہا پسند رویوں کی جڑ قرار دے رہے ہیں۔ اگر مفتی صاحب کی رائے میں یہ مسئلہ موجود ہے تو پھر شاید مدارس میں منطق ایک مکمل تناظر میں نہیں پڑھائی جا رہی۔ ارسطو کے ہاں منطق حق کی دریافت کا نہیں بلکہ تجزیے اور دوسرے ذریعوں سے حاصل کردہ حق پر اصرار اور اس کے دفاع کا ایک ذریعہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ مکالمے کا آلہ ہے نہ کہ سچائی کی تلاش یا درپیش مسائل کے حل اور تجزیےکا۔زمانۂ قدیم سے تعلق رکھنے والے اس دقیق تناظر کی بازیافت اور عصرِ حاضر میں اس کی مماثلتوں کی دریافت سے قبل حتمی طور پر کوئی دعوی کرنا مشکل ہے۔

انتہا پسندی کی منطقی بنیادیں


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 66 posts and counting.See all posts by aasembakhshi