’’رول ماڈل‘‘ افسران !!


بیوروکریسی میں لطیفہ چل رہا ہے کہ وزیراعظم سیکرٹریٹ سے ایک خط سنٹرل سلیکشن بورڈ کو بھیجا گیا ہے کہ افسران کو پروموٹ کرنے سے پہلے دیکھا جائے کہ وہ ایماندار ہیں یا نہیں ۔
یہ خط اس وقت لکھا گیا جب وزیراعظم کو چار سو افسران کی فہرست بھیجی گئی جنہیں سلیکشن بورڈ نے پروموشن دی تھی۔ وزیراعظم ہائوس پر تین ڈی ایم جی کے بڑے سینئر بیورو کریٹس کا قبضہ ہے جو اپنے علاوہ کسی کو نہ انسان سمجھتے ہیں اور نہ ہی ان سے بڑھ کر کوئی سمجھدار پیدا ہوا ہے۔ سلیکشن بورڈز پہلے بھی ہوتے تھے، نام پہلے بھی پروموشن کے لیے بھیجے جاتے تھے لیکن جب سے موجودہ حکومت آئی ہے ہر سال پروموشن کا سکینڈل ضرور بنتا ہے۔
نواز شریف وزیراعظم بنے تو ایک دن اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے دھواں دھار تقریر کی کہ وزیراعظم صرف پنجابی افسران کو ہی آپ ترقیاں دے رہے ہیں، باقی صوبوں کے افسران پر نظرکرم نہیں پڑتی۔ وزیراعظم اتفاقاً موجود تھے‘ جواب ملا شاہ صاحب آپ کے پاس کوئی نام ہیں تو بھجوادیں ۔ مطلب یہ تھا رولا کیوں ڈال رہے ہو۔آپ نے کوئی اپنے پسندیدہ بندوں کو ترقی دلانی ہے تو نام دے دو۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی اور پتہ نہیں ان ترقیوں کا کیا بنا۔ اس کے بعد خورشید شاہ نے کبھی کوئی شکایت نہیں کی جس سے اندازہ ہوا کہ شاید کام ہوگیا ہوگا ۔
اب کی دفعہ بھی یہی کچھ ہوا ہے۔ حیرت ہوتی ہے چار سو افسران میں سے صرف 94کی ترقی کی سفارش ہی قبول نہ کی گئی؟ یہ کیسا سلیکشن بورڈ اور اس کے ممبران ہیں جنہوں نے وزیراعظم کو تین سو افسران کی تو درست سفارش کی لیکن چورانوے کے بارے میں وہ غلطی پر تھے اور وزیراعظم نے وہی سفارشات مسترد کردیں ۔ ویسے سلیکشن بورڈ اور ان کے ممبران کے سامنے کئی رپورٹس ہوتی ہیں، جن افسران کو پروموشن ملنی ہوتی ہے ان محکموں کے سربراہ ہوتے ہیں، کئی وفاقی سیکرٹری ہوتے ہیں جن میں کابینہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹری اور آئی جی ہوتے ہیں۔ ایم این اے اور سینیٹرز ہوتے ہیں جو کئی دن تک بیٹھ کر افسران کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کس کو ترقی دینی ہے اور کس کو نہیں۔اس طویل مرحلے کے بعد سب کی پرفارمنس کا باری باری جائزہ لینے کے بعد افسر کی پروموشن کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ہر افسر کی کئی برسوں کی محنت اور کارگردگی کو جانچا جاتا ہے۔ سلیکشن بورڈ اگر کسی کو قبول کرے یا مسترد کرے تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ بہت سارے لوگ ہوتے ہیں، رپورٹس ہوتی ہیں، اس محکمے کے سربراہ بیٹھے ہوتے ہیں جن کی سفارش کو اہمیت دی جاتی ہے کہ اسے ترقی دینی ہے یا نہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا وزیراعظم آفس اور ان کے تین بڑے ڈی ایم جی کے موجود اور پرانے زکوٹا جنوں کے پاس کون سی ایسی گیدڑسنگھی ہوتی ہے کہ وہ بیٹھ کر چار سو افسران میں سے چورانوے کو ٖڈھونڈ لیتے ہیں کہ فلاں بندہ فٹ نہیں ہے؟ اسے کیوں پروموشن ملی۔ پھر ان تین سو افسران کے بارے میں کیسے سب اچھا ہے کی رپورٹ مل جاتی ہے؟کیا وزیراعظم آفس کے چند افسران جو تین ڈی ایم جی سے تعلق رکھتے ہیں وہ سب جانتے ہیںکون اس ملک میں اچھا بیوروکریٹ ہے اور کون نہیں جب کہ سلیکشن بورڑ کے ممبران جھک مارتے ہیں؟
اگر سلیکشن بورڈ کے ممبران اور چیئرمین نوید اکرم چیمہ نااہل ہیں اور وہ اچھے افسران چننے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو پھر یہ سب ڈرامہ کیوں رچایا جاتا ہے اور ان ممبران پر وقت اور پیسہ ضائع ہورہا ہے۔ یہ کیسا بورڈ ہے جو تین سو افسران تو اچھے چن لیتا ہے لیکن چورانوے کے بارے میں یہ غلطی پر ہوتا ہے ؟ ویسے اس ڈرامے سے جان چھڑانے کا ایک ہی حل ہے نواز شریف اور ان کے ساتھی اپنی مرضی کی فہرست بنا کر انہیں پروموٹ کردیا کریں تاکہ اس مشق سے جان چھوٹے اور گلیاں ہوجان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے۔
ویسے نواز شریف اور ان کے ساتھی سینئر بیورو کریٹس نے94 نااہل افسران تو فہرست میں سے ڈھونڈ لیے جو ان کے نزدیک پروموشن کے لائق نہیں تھے لیکن کسی کو اس فہرست میں ڈاکٹر توقیر شاہ کا نام نہیں آیا جن پر ماڈل ٹائون میں ہونے والے قتل عام پر ایف آئی آر کٹ گئی تھی ؟
چلیں مان لیتے ہیں کہ ایف آئی ار جھوٹی ہوگی، آسمان سے جنات اترے اور بندے مار کر غائب ہوگئے لیکن جسٹس قاضی فائز عیسی کی اس عدالتی رپورٹ کا کیا کریں جو انہوں نے چند برس پہلے لکھی تھی ۔ یہ عدالتی کمشن دراصل اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بنایا تھا جب یہ خبر لگوائی گئی کہ لاہور کی سپیشل برانچ نے ایک بہت بڑی سازش پکڑ لی تھی جو اس وقت کے چیف جسٹس لاہور خواجہ شریف کو قتل کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس خبر کے مطابق اس وقت کے صدر، گورنر اور وزیرقانون نے چیف جسٹس لاہور کو قتل کرانے کے لیے کرائے کے قاتل لاہور سے منگوائے تھے۔
جب عدالتی تحقیقات شروع ہوئی تو خوفناک انکشافات ہوئے تھے وہ خبر نہ صرف جھوٹی تھی بلکہ وزیراعلیٰ کے سیکرٹریٹ کے اعلیٰ افسران نے سنسنی پھیلانے کے لیے پلانٹ کرائی تھی ۔ اس خبر کے پلانٹ کرانے کا مقصد پیپلز پارٹی کی وفاق میں حکومت اور پنجاب میں شہباز شریف میں سخت اختلافات پیدا کرنا تھا۔ اس عدالتی کمشن رپورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا تھا اگر ان کے پاس ثبوت تو نہیں لیکن بظاہر لگتا ہے سپیشل برانچ نے خود ہی چیف جسٹس کو قتل کر کے یہ کریڈٹ لینے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا کہ انہوں نے پہلے خبردار کردیا تھا کہ حملہ ہونے والا تھا۔رپورٹ کا کہنا تھا بظاہر لگتا تھا سپیشل برانچ خود چیف جسٹس خواجہ شریف کو قتل کرنا چاہتی تھی۔
اس کمشن میں یہ بھی سامنے آیا تھا کہ یہ جھوٹی خبر ڈاکٹر توقیر شاہ نے لگوائی تھی ۔کمشن نے اپنی فائنڈنگ میں لکھا تھا کہ ڈاکٹر توقیر شاہ جیسے اعلیٰ پوزیشن پر فائز افسر سے یہ توقع نہ تھی کہ وہ جان بوجھ کر ایک صحافی کو یہ خبر دے کر لگوائیں گے اور اس میں ملک کے صدر، گورنر پنجاب اور وزیرقانون پر چیف جسٹس کی قتل کی سازش کا الزام لگوائیں گے۔ کمشن نے اپنی سفارشات میں لکھا تھا کہ ڈاکٹر توقیر شاہ نے انتہائی غیرذمہ دارانہ کام کیا تھا جس سے وفاق اور صوبے میں کشیدگی بڑھ سکتی تھی ۔ وہ اس قابل نہیں ہیں کہ وہ کسی بڑے عہدے پر کام کرسکیں یا ذمہ داری نبھا سکیں ۔ اس لیے جسٹس عیسیٰ نے لکھا تھا کہ آئندہ ڈاکٹر توقیر شاہ کو کوئی اہم عہدہ نہ دیا جائے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کی جائے۔
آج اسی ڈاکٹر توقیر شاہ کو پہلے سلیکشن بورڈز کے چیئرمین نویداکرم چیمہ اور ان کے ممبران نے کمشن رپورٹ کو ردی میں پھینک کر کلین چٹ دے کر پروموشن کے لیے فٹ قرار دیا تو وزیراعظم نواز شریف اور ان کے ساتھی ڈی ایم جی کے بااثر اور سینئر بیوروکریٹس کو بھی توقیر شاہ کے خلاف کوئی بات نظر نہ آئی اور اسے پروموشن دے دی گئی۔اس طرح ایک فارن آفس کے افسر کو پروموشن دی گئی جس کے خلاف انکوائریاں ہوئی تھیں اور ابھی پچھلے دنوں تک پنجاب میں ایک بڑے ادارے کے سربراہ تھے۔ اور بہت سارے ایسے نام ہیں۔ویسے کمال نہیں ہوگیا۔۔۔جن کے خلاف سپریم کورٹ کے تین رکنی عدالتی کمشن نے یہ کہا تھا کہ انہیں زندگی بھر بڑا عہدہ نہ دیا جائے وہ اس وقت نہ صرف جینوا میں بڑے عہدے پر فائز ہیں بلکہ ماشاء اللہ نوید اکرم چیمہ سے لے کر وزیراعظم نواز شریف نے انہیں پروموشن کا تمغہ بھی ان کے سینے پر سجا دیا ہے۔سیاستدانوں کو بھی ایسے ڈمی افسران اچھے لگتے ہیں جو سر جھکا کر عمل کریں۔ اپنے ایک پائو گوشت کے لیے پورا اونٹ ذبح کردیں ۔
ویسے لطیفہ یہ ہے جس وزیراعظم کے خلاف چھ ماہ عدالت میں پاناما کا مقدمہ چلا اب انہی کے دفتر سے خط سلیکشن بورڈ کو لکھا گیا ہے کہ ایماندار اور ساکھ والے افسر چنیں ۔ شاید وزیراعظم کہنا چاہ رہے ہیں کہ ترقیاں لینی ہیں تو سب افسران ڈاکٹر توقیر شاہ کو رول ماڈل بنائیں اور خدمات کے عوض جنیوا میں پوسٹنگ پائیںاور اپنی عدم موجودگی میں پاکستان میں اگلے گریڈ میں ترقیاںپائیں!

(بشکریہ روزنامہ دنیا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔